خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں کھیلوں کی سہولیات کاایک مختصر جائزہ

نئے اسپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر

پرانے اسپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر ِنواورتزئین ِنو

اکتوبر 2016 میں حیات آباد پشاور میں   انڈور اسپورٹس جیسے اسکوائش ، بیڈ منٹن ، جم، سوئمنگ پول، ٹیبل ٹینس ، وولی بال اور باسکٹ بال کے الگ الگ کورٹس   پر مشتمل اور فلڈ لائیٹ سے آراستہ نئے اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر۔

پشاور اسپورٹس کمپلیکس سے متصل قیوم اسٹیڈیم کی تزئینِ نو ۔ پرانی پویلین کی جگہ نئی پویلین کی تعمیر کے علاوہ باکسنگ رنگ کی تعمیر۔

مردان میں نئے ہاکی گراؤنڈ کی تعمیر –

جمنیزیم، ہاسٹل ، اسکوائش  اور بیڈ منٹن کورٹس ، ہاکی اور فٹبال گراؤنڈز  پر مشتمل اُنسٹھ کنال پر محیط چارسدہ اسپورٹس کمپلیکس۔

حیات آباد میں سات  ٹینس کے ہارڈ کورٹس کی تعمیر۔

پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں خواتین کے لئے نئے جمنیزیم اور ہاسٹل کی تعمیر۔

337  میلین کی لاگت سے مردان میں نئے اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر تکمیل کے آخری مراحل پر۔ کمپلیکس  مین انڈور اور آؤٹ ڈور سہولیات کے لئے 52 ہزار اسکوائر فٹ  کا رقبہ مختص –

صوابی میں 200 ملین کی لاگت سے بننے والا اسپورٹس کمپلیکس –

10 ملین فی کس کے حساب سے پشاور اور مردان میں نیو جوان مراکز کی تعمیر-

کوہاٹ  اسپورٹس کمپلیکس کوہاٹ کی تعمیر جاری ہے ۔ کمپلیکس میں  18 مختلف  انڈور اور آؤٹ ڈور کھیلوں کی سہولیات مہیا کی جائینگی –

3 سال میں 1.4 بلین  کی لاگت سے  ارباب نیاز اسٹیڈیم  تماشائیوں کی استعداد 17 ہزار سے بڑھا کر 32 ہزار اور فلڈ لائٹس لگائی جائیں گی۔ پروجیکٹ کی شروعات کے لئے 13 کروڑ روپے کا اجراء۔

ٹانک، سرائے نورنگ لکی مروت میں نئے اسپورٹس گراؤنڈز کی تعمیر۔

ہنگو، ڈومل، بنوں ، ٹانگی چارسدہ میں نئے اسپورٹس گراؤنڈز کی تعمیر-

تخت بائی مردان ، لاچی کوہاٹ میں نئے اسپورٹس گراؤنڈز کی تعمیر-

بُونی چترال میں نئے اسپورٹس گراؤنڈ کی تعمیر۔ اسکے علاوہ درُوش چترال کے پولو گراؤنڈ کی تزئین ِ نو۔

خانسپور ایوبیہ میں اسپورٹس گراؤنڈ کی تعمیر ۔

12 ملین کی لاگت سے ہریپور کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر۔

ڈیرہ اسماعیل خان، کرک میں منی اسپورٹس گراؤنڈ، اسلامیہ اسپورٹس گراؤنڈ،کی تعمیر۔

بنوں میں ہاکی اسٹیڈیم کی مکمل تعمیر نو اور تزئین و آرائش جاری ہے۔

ٹوپی ، لاہور صوابی میں نئے گراؤنڈز کی تعمیر –

مردان  اسپورٹس کملپلیس کی بحالی کا کام جاری ہے-

232 ملین کی لاگت سے نوشہرہ میں انڈور جمنیزیم کی تعمیر کا افتتاح-

204 ملین کی لاگت سے ایبٹ آباد میں جمنیزیم کی تعمیر کا افتتاح-

مجموعی طور پر تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونواہ میں عمران خان کے وعدے کے مطابق اسپورٹس کی سہولیات کے تحت 100 سے زیادہ  اسپورٹس گراؤنڈز جن میں 65 نئے اسپورٹس گراؤنڈز اور 35 پرانے گراؤنڈز  بحالی و تزئین و آرائش کے بعد عوام کے استعمال کے لئے مکمل طور پر فنکشنل کردئیے۔

خیبرپختونخواہ حکومت نے اپنے پانچ سالہ دورِ حکومت میں  کھیلوں کے کئی مقابلے و تقریبات  صوبے میں منعقد کروائیں۔  جیسے انڈر 23 گیمز، زلمی اسکول لیگ ، کیلیگرافی کے مقابلے،  مالم جبہ میں اسکینگ کے مقابلے وغیرہ وغیرہ۔

Advertisements
Posted in Uncategorized | Leave a comment

خیبرپختونخواہ میں صحت کے میدان میں تحریکِ انصاف حکومت کے پانچ سال – ایک جائزہ

خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی  پانچ سالہ دورِ حکومت میں صحت کے شعبے میں کارکردگی کا ایک  مختصر جائزہ

نئے اسپتالوں کی تکمیل  ( زیرِ تعمیر کی مکمل تعمیرات  اور توسیع)

صحت سہولت کارڈ کا  اجراء

نئی بھرتیاں اور تنخواہوں میں اضافہ

ایم ٹی آئی اور صحت کے شعبے سے متعلق  اصلاحات

—————————————————————————————————————-

قاضی حُسین احمد میڈیکل کمپلیکس  نوشہرہ کی تکمیل اور افتتاح ۔ قاضی حُسین احمد میڈیکل کمپلیکس تین سو پچاس  بستروں پر مشتمل اسپتال  اور تین سو پچاس نشستوں پر مشتمل میڈیکل کالج بھی ہے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایک نئے سات منزلہ  بلاک کی تعمیر جو آٹھ سو بستروں اور بتیس  آپریشن تھیٹر ز پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ آٹھ فلورز پر مشتمل میڈیکل اور الائیڈ وارڈز  کی تعمیر۔

خیبر ٹیچنگ اسپتال میں  نو منزلہ  ، دو سو پنسٹھ بستر،  بیسمینٹ پارکنگ ، ماس ایمرجنسی فلور اور اسپیشلائیزڈ یو  نٹس پر مشتمل کیجولٹی بلاک کی تعمیر – حادثاتی ایمرجنسی، نیوروسرجردی  اور کارڈیالوجی  کے بیش قیمت آلات کی خریداری۔

آپریشن تھیٹرز اور چار عدد کیتھیٹر لیبارٹریز پر مشتمل پشاور انسٹییٹیوٹ آف کارڈیالوجی- اسپتال سو بستروں پر مشتمل ہے بشمول کارڈیک اور تھیوریکیک سرجری ۔ اس کے علاوہ اسپتال میں کارڈیک ڈے کئیر یونٹ ، آڈلٹ انٹینسیو کئیر یونٹ اور ٹرانسپلانٹ یونٹ بھی شامل ہیں

مانکی شریف نوشہرہ میں چالیس بستروں پر مشتمل اسپتال کی تعمیر مکمل ۔ اسکے علاوہ  ہری پور  میں  خیبر پختونخواہ کی جانب سے بنایا گیا چالیس بستروں پر مشتمل  ٹراما سینٹر مکمل طور پر کام کررہا ہے۔ 

ایک سو دس بستروں پر مشتمل شہید فرید خان ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کا ہنگو میں افتتاح کیا گیا۔

راجر چارسدہ میں دو سو بستروں پر مشتمل میٹرنٹی اور چلڈرن اسپتال کی تعمیر۔

صوابی میں چالیس بستروں ، نرسز اور پیرامیڈک ہاسٹل پر مشتمل یار حُسین اسپتال

بٹخیلہ مالاکنڈ میں دو سو بستروں سے زائد کی  استعداد رکھنے والا اسپتال

صوابی میں ایک سو پچاس بستروں پر مشتمل سول اسپتال کی تعمیر۔

مولوی امیر اسپتال  کو اپ گریڈ کرکے کیٹیگری “بی”  اور ایک سو آٹھ مزید بستروں میں اضافہ۔

سیدوشریف اسپتال میں پانچ سو بستروں پر مشتمل نئے بلاک کا افتتاح۔ تعمیرا ت جاری ہیں۔

سعودی حکومت کے تعاون سے کنگ عبدالللہ اسپتال (ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر مانسہرہ) کی تعمیر جو خیبرپختونواہ حکومت کے زیرنگرانی کام کرے گا۔ 

صوابی، شانگلہ، نوشہرہ اور مردان میں  14 -14 بستروں پر مشتمل رورل ہیلتھ سینٹرز کی تعمیر۔

مردان میڈیکل کمپلیکس  کی جدید میڈیکل آلات اور مریضوں کی سہولیات کی اپ گریڈیشن۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال بٹگرام کی تزئین ِ نو۔

نوشہرہ میں چالیس بستروں پر مشتمل زیارت کاکا صاحب اسپتال کی تعمیر

حیات آباد میں  ساٹھ   سے ایک سو بیس  بستروں پر مشتمل برن اور ٹراما  سینٹر۔

ایوب میڈیکل ٹیچنگ اسپتال کی  تزئین ِ نو ۔ اسپتال کی  آئی سی یو، سی سی یو اور ایمرجنسی وارڈز میں بستروں کی تعداد میں اضافہ ، فری لیبارٹری ٹیسٹ کو سہولت اور انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے ساتھ اپ گریڈیشن

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کی تزئینِ نو ۔ نئے او پی ڈی بلاک کا  اضافہ، جدید میڈیکل آلات ، جنرل وارڈز کی تزئین نو۔ وفاقی حکومت کی مدد سے ساٹھ بستروں پر مشتمل برن یونٹ

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کی تزئین ِ نو ۔ ایم آرآئی اور اینجیو پلاسٹی کی جدید ترین مشینز کی خریداری۔ نئے آئی سی یو اور دوسرے وارڈز، نئی لائبریری ، فارمیسی ، پیشنٹ ٹرانسفر سسٹم اور ایمپلائی اٹینڈینس سسٹم کا اجراء۔

مردان میں دو سو بستروں پر مشتمل بینظیر چلڈرن اسپتال ۔ (اسپتال کا سنگ ِ بنیاد پچھلی حکومت کے دور میں رکھا گیا تھا)

معاشرے میں غریب طبقے کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہیلتھ انشورنس “صحت سہولت کارڈ” کا اجراء – اس اسکیم کے تحت دو اشاریہ پانچ فیصد  بلین روپے خرچ کئے گئے ۔ ایک اشاریہ پانچ فیصد افراد کا  اس سہولت کے تحت اندراج کیا گیا ۔ چوالیس ہزار اسپتال کے وزٹس  ریکارڈ کئے گئے ، بانوے ہزار اسپتالوں میں داخلہ ریکارڈ کیا گیا ۔ اس سہولت کارڈ کے تحت ایک سو چھ اسپتالوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتاہے۔

اپنی پانچ سالہ حکومت میں تحریکِ انصاف نے صوبے میں ڈاکٹروں کی تعداد میں تقریبا” دوسو فیصد اضافہ کیا۔ ڈاکٹروں کی تعداد میں 2500 سے  بڑھ کر 6500 ہوئی۔ تقریبا’ پندرہ ہزار نئی اسامیاں  صرف 2016-2017 میں پیدا کی گئیں۔ جبکہ  میڈیکل ٹیچنگ اسپتال کے تحت پے اسکیل میں بھی 10-15 ہزار سے بڑھا کر 42-80 ہزار تک اضافہ کیا گیا۔

بہترین ماحول، اچھی تنخواہوں اور سہولیات کے سبب  وہ پاکستانی ڈاکٹرز اور اسپیشلسٹس جو بیرون ملک خدمات انجام دے رہے تھے  ، انہوں نے  وطن واپس آکر لیڈی ریڈینگ اسپتال کو جوائن کیا۔

سالِ گُزشتہ خیبرپختونخواہ حکومت نے  ڈاکٹرز، پیرا میڈکس، نرسوں اور ڈینٹل سرجنز کی تنخواہوں اور سہولیات میں اضافہ کیا۔

خیبرپختونواہ حکومت نے ٹرانس جینڈرز کو صحت انشورنس کی سہولت فراہم کی۔ اس اسکیم کے تحت  ٹرانس جینڈرز سالانہ پانچ لاکھ چالیس ہزار تک کی صحت سے متعلق سہولیات  کے حقدار ہوں گے۔

خیبر پختونخواہ حکومت کی طرف سے خیبر پختونخواہ کے ٹیچنگ اسپتالوں میں ریڈیولوجی  اور پیتھالوجی سروسز میں لائی گئی بہتری کے سبب پرائیویٹ ڈائیگنوسٹک سینٹرز میں کمی واقع ہوئی۔

خیبرپختونخواہ حکومت کی   صحت کے شعبے میں اصلاحات اور مدد کے سبب لیڈی ریڈنگ اسپتا ل  اب دہشتگردی، جنگی اور ٹراما کا شکار مریضوں سے متعلق اپنے تجربے اور گائیڈ لائنز سے دنیا بھر میں ٹیچنگ اسپتالوں  کو مدد  فراہم کررہا ہے۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

تاریخ کے اوراق سے ۔۔بھاٹو/بھٹو خاندان کی مختصر تاریخ

آج بہت دِنوں کے بعد موقع مِل رہا ہے کہ اپنے دوستوں سے کُچھ تاریخی صفحات میں چُھپی  ہوئی  اصلیت کو شئیر کیا جائے۔ میں یہاں یہ بتانا مناسب سمجھوں گی کہ جو کُچھ بھی یہاں بیان ہوگا وہ  سب اُن فائلوں اور سرکاری کاغذات میں دفن ہے جس تک ہم اور آپ جیسے لوگوں کی پہنچ تقریبا” ناممکن ہے۔ یہ تھوڑی بہت جو بھی داستان ہے ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے لیکن سب کُچھ بیان کرنا ممکن نہیں ہے لہٰذا صرف چیدہ چیدہ باتیں ہی بیان کی جارہی ہیں۔ اس معلومات کے لئے میں اپنے دوست اسپارٹکس اصلی (جو کہ ٹوئیٹر پر بہت مشہور ہیں) کی شُکر گُزار ہوں جنہوں نے یہ معلومات ہم سےشئیر کی اور اجازت دی کہ یکجا کرکے بلاگ کی زینت بنایا جائے۔ ہماری کہانی  کے دو  مختلف ورژنز ہیں جنہیں  میری کوشش ہوگی کہ دو حصوں میں شئیر کرسکوں۔

پہلا ورژن

ہماری کہانی شروع ہوتی ہے  متحدہ ہندوستان کے گاؤں “بھاٹو کالان” سے جو کہ ضلع ہریانہ میں تھا۔ بھاٹو کالان میں  ایک شاہنواز نام کا غریب لڑکا رہتا تھا۔ خاندان بہت زیادہ کسمپرسی کا شکار تھا لیکن شاہنواز ایک چالاک لڑکا تھا اور اسی چالاکی کے سہار ے کہہ سُن کر ایک انگریز بہادر کے گھر کُتے اور گھوڑے نہلانے اور انکی مالش کرنے کے کام پر مامور ہوگیا۔ چُونکہ شاہنواز کافی چالاک تھا تو اُس نے صرف کُتے اور گھوڑے نہلانے تک ہی اپنی چالاکی اور محنت کو محدود نہ رکھا بلکہ اس دور میں جب مسلمان اپنی بقاء کی جنگ لڑرہے تھے تو حُریت پسندوں کی مخبری کرنا بھی اپنی ذمہ داریوں میں شامل کرلیا۔  چُونکہ مُسلمان شاہنواز کی چالاکی اور جاسوسی سے واقف نہیں تھے تو اُنہوں نے شاہنواز کو اپنی زیرزمین تحریک میں شامل کرلیا ۔ مُختلف کاروائیوں کے بعد جب مُسلمانوں نے ضلعے کے انگریز حاکم پر حملے کا منصوبہ بنایا  تو عین وقت پر سب پکڑے گئے  سوائے شاہنواز کے ، کیونکہ اُس دِن حیرت انگیز طور پر شاہنواز غائب تھا۔ اِس منصُوبے کے ناکامی کے نتیجے میں تمام حُریت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی۔ اور پِھر شاہنواز کو انعام کے طور پر جُونا گڑھ اسٹیٹ بھیج دیا گیا۔

شاہنواز جب جُونا گڑھ پہنچا تو اُس نے انگریز بہادر کا سفارشی خط نواب آف جُونا گڑھ کو پیش کرنے کے دوران اپنا تعارف   بطور شاہ نواز آف بھاٹو کروایا .  شاہنواز کو انگریز سرکار کے حکم کے مطابق   جُونا گڑھ اسٹیٹ کے نوابی محل کا “پرسر” مقرر کیا گیا۔   یہاں بھی شاہنواز نے اپنی چالاکی اور سازشی ذہن سے نواب محل میں بہت جلد سازشی تانے بانے بُن لئے۔   اُنہیِ دِنوں نوابی چپقلش میں نواب آف جُونا گڑھ پر جانی حملہ ہوا ، اس حملے کی سازش میں شامل شخص کو شاہنواز بھاٹو کی مخبری پر گرفتار کرلیا گیا۔   نواب آف جُونا گڑھ نے بھاٹو کی وفادار ی سے خوش ہوکر اُسے شاہی محل کی کوتوالی کا انچارج مقرر کردیا۔ اس طرح شاہنواز بھاٹو کی نوابی محل میں آمدورفت آسان ہوگئی ۔

چونکہ نواب محل تھا ، مہمانداری کی محافل عام تھیں تو اسی طرح ایک محفل میں شاہنواز بھاٹو کو ایک ہندو خاتون لکھی بائی پسند آگئی  جو بعد میں خورشید بھاٹو کے نام سے مشہور ہوئی۔  لکھی بائی کا خاندان امیر اور انگریز سرکار کے بہت قریب تھا ، شاہنواز اس موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا لہٰذا لکھی بائی سے شادی کرنا لازمی تھا۔ شادی کے نتیجے میں شاہنواز بھاٹو کو جُونا گڑھ اسٹیٹ کا دیوان یعنی وزیراعٰظم کا عہدہ دیا گیا ۔

بھاٹو عملی طور پر میدان میں جُونا گڑھ اسٹیٹ کا وفادار دیوان /وزیراعٰظم تھا لیکن درپردہ انگریز سرکار کا مکمل طور پر وفادار اور جاسوس تھا۔ اُنہی دِنوں تحریک آزادی ِ پاکستان زوروں پر تھی اور جُونا گڑھ اسٹیٹ کو 23 مارچ 1940 کو قرارداد کے تحت پاکستان میں شامل ہونا  تھا۔ لیکن شاہنواز بھاٹو جُونا گڑھ اسٹیٹ کی پاکستان میں شمولیت کا سخت مخالف تھا لہٰذا اُس نے ایک خط ہندو اسٹیبلشمنٹ کو لکھا۔  

اس خط کا نتیجے میں جُونا گڑھ ریزیڈنسی کو پاکستان کے متوقع نقسے سے الگ کردیا گیا اور انڈیا میں شامل کردیا گیا۔ مُسلمان بِپھر گئے اور گورا پلٹن پر حملہ آور ہوئے۔ شاہنواز بھاٹو کو جب موت سامنے نظر آنے لگی تو فورا” بمبئی  میں  لکھی بائی کے گھر یعنی اپنے سسرال  چلے گئے جہاں کُچھ دِن چُھپے رہنے کے بعد دوستوں کے صلاح مشورے کے بعد مسلم لیگ کے ممبر بن گئے۔

اُس وقت تک قائد اعٰظم محمد علی جنا ح کے علم میں نہیں تھا کہ موصوف شاہنواز بھاٹو جو اب خود کو شاہنواز بُھٹو کہہ کر متعارف کرواتے تھے پاکستان کی تحریک کی پیٹھ میں کِتنا بڑا خنجر اُتار چُکے تھے۔ جُونا گڑھ سے بھاگتے ہوئے شاہنواز بھاٹو/بھٹو نے اسٹیٹ کے خزانے سے کافی سارے ہیرے جواہرات و زیوارت چُرا لئے تھے جو پہلے بمبئی  اور پھر کراچی اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ موصوف اُنہی چوری کے زیوارت و جواہرات کو بیچ بیچ کر مُسلم لیگ کو چندہ دیکر اپنی وفاداری ظاہر کرتے رہے۔ اُنہی دِنوں میں کراچی کے ایک کیفے میں موصوف کی مُلاقات حاکم علی زرداری سے ہوئی ۔

اُنہی دِنوں کسی مُسلم لیگی نے شاہنواز بھاٹو/بھٹو کو پہچان لیا ، بات ہاتھا پائی تک پہنچی  تو قائد اعٰظم محمد علی جناح کو علم ہوا کہ یہ جُونا گڑھ اسٹیٹ کا مفرور دیوان شاہنواز بھاٹو یہی  شاہنواز بھٹو ہے مگر موقع کی نزاکت جان کر کُچھ نہیں کہا ۔ البتہ نجی محفل میں سخت نا پسندیدگی کا اظہار کیا ، ایک موقع پر جب شاہنواز بھاٹو/بھٹو نے محفل میں سندھی زُبان میں بات کی تو قائد اعٰظم محمد علی جناح سے جھڑکی کھائی کہ یہاں سب سندھی نہیں سمجھتے ہیں اس لئے اردو میں بات کیجیے۔

اِس  واقعے نے شاہنواز بھاٹو/بھٹو کو ڈرا دیا، ایک دفعہ پھر موصوف کراچی سے بھاگ کر گوٹھ لاڑکانو / لاڑکانہ منتقل ہوگئے۔  تاریخ بتاتی ہے کہ گوٹھ لاڑکانو کی زمین  مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں ایک ہندو “شیتو” جو ٹیکس بچانے کے لئے مسلمان ہوا تھا  ، اُسے دی گئی تھی۔

کہتے ہیں کہ جُونا گڑھ کے سمیٹے خزانے اور انگریزوں کی وفادار نے بہت ساتھ دیا اور کالان بھاٹو کا کُتے اور گھوڑے نہلانے والا شاہنواز بھاٹو ، گوٹھ لاڑکانو کا سر شاہنواز بھٹو خان بہادر بن گیا۔ تاریخ یہ بھی کہتی ہے کہ شاہنواز بھاٹو/بھٹو نے جُونا گڑھ بیچا پھر اُسکے بیٹے ذوالفقار بھٹو نے مشرقی پاکستان ۔۔۔بنگال ہی ڈبو دیا ۔۔۔

لو گ تو معاف کربھی دین لیکن تاریخ معاف نہیں کرتی ہے۔

نوٹ :  یہاں پر میں اور اسپارٹکس اصلی کسی بھی قسم کی ذمہ داری لینے سے مبرا ہیں ۔ تاریخ دن سال واقعات  وغیرہ میں فرق ہوسکتا ہے لیکن یہ تمام کی تمام تاریخ قائد اعٰظم لائبریری میں موجود ہے۔ بہت سی معلومات خفیہ ہیں جو سامنے نہیں لا ئی جاسکتی ہیں۔

 

Posted in Uncategorized | Leave a comment

From the House of Patwari SMT :D

Today, I just want to share some screen shots with my friends….. enjoy 😉

 

 

Posted in Uncategorized | 2 Comments

کچھ باتیں کچھ سوالات

آج بہت دنوں کے بعد کچھ لکھنے کا موقع مِل رہا ہے۔ زندگی کے جھمیلوں میں ہی زندگی اتنی مصروف ہوجاتی ہے کہ ذہن میں پکنے والی سوچوں کی کھچڑی کو بلاگ کی زینت بنانے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ سیاست ہو یا معاشرت ، آن لائن بلاگز نے ہمیں یہ سہولت دے دی ہے کہ ہم اپنی سوچوں کو اپنے سوالوں کو بلاگز کی صورت میں ڈھال کر دنیا کے سامنے پیش کردیتے ہیں اب یہ پڑھنے والو پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کسی کے لکھی گئی تحریر کو پڑھکر کیا تاثریا رائے قائم کرتا ہے۔ کم از کم میرا مقصد بلاگ لکھنے کا یہ ہوتا ہے کہ میں اپنا بلاگ پڑھنے والے کوکچھ سوچنے کا موقع دوں کہ آیا میری بات غلط ہے یا صحیح۔ سوال پیش کروں جن کے جوابات مجھے کہیں سے نہیں ملتے یا اگر ملتے بھی ہیں تومجھے منطقی طور پرمطمعئن نہیں کر پاتے ہیں۔ سیاست و معاشرت اور مذہب تو خیر اب آئے روز ہم سوشل میڈیا پر زیرِ بحث لاتے رہتے ہیں لٗہذا اب کچھ ایسے موضوعات کو اپنے بلاگ کا حصہ بنانا چاہتی ہوں جو انسانی سوچ کی وسعتوں کو جانچتے ہیں۔ میں فلسفی نہیں ہوں نہ ہی بہت زیادہ پڑھی لکھی لیکن سوچ اور اسکے ارتقاء پر بھی کسی قسم کا کنٹرول نہیں رکھتی ہوں۔ سوالات بے شُمار سوالات ہیں جو وقت بے وقت جنم لیتے رہتے ہیں دماغ کے نہاخانوں میں۔ کبھی توجوابات مل جاتے ہیں اور کبھی اُلجھ جاتی ہوں ۔ یہی سوچ کر کہ شاید مجھے میرے الجھے سوالات کے جوابات میرے قارئین و دوستو سے مل جائیں تو کیوں نا اپنے بلاگ “چائے گھر” کو چائے گھر بناتے اپنے سب دوستو کو دعوت دوں کہ میرے بلاگ پر بحث کرکے نا صرف میری بلکہ دوسرے پڑھنے والو کی بھی معلومات میں اضافہ کریں۔

جب کبھی مجھے زندگی کی رونقوں سے وقت ملتا ہے اپنے لئے جب میری پوری سوچ میری اپنی ذات کے محور کے اردگرد گھوم رہی ہوتی ہے تومیرے ذہن میں پہلا سوال آتا ہے کہ “میں” کون ہوں؟َ مطلب اس دنیا میں توبے شک میری ذات ، خاندان نام وغیرہ موجود ہے لیکن جب اس پوری کائنات کی بات کی جائے تو پھر سوال اُٹھتا ہے کہ “میں” کون ہوں؟ کیا ہوں؟ کیوں ہوں؟ کیا میں واقعی کوئی وجود رکھتی ہوں؟ جب مادی طور پر اس دنیا میں نہیں تھی تو کیا تب بھی میرا وجود موجود تھا؟ اگر تھا تو کس شکل میں اور کہاں؟ اگر عدم میں تھا تو یہ عدم کیا ہے؟ کب سے ہے؟

اگرچکہ یہ میرے سوالات بچکانہ ہیں لیکن انسانی سوچ بہت وسیع ہے جسکی کوئی حد نہیں ہے کبھی بھی کچھ بھی سوچ سکتی ہے کوئی بھی سوال اُٹھا سکتی ہے ۔ لٰہذا یہ بہتر ہوتا ہے کہ اُلجھنے کے بجائے ان سوالوں کے جوابات تلاش کئیے جائیں ۔

مجھے امید ہے کہ مجھے بھی جوابات ملیں گے۔ مذاق بھی اُڑایا جائے گا لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ سوالات کبھی نا کبھی آپ کے بھی ذہن میں آتے ہوں لیکن آپ انکو الفاظ کا جامہ نہ پہنا سکتے ہوں۔ ۔۔۔۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | 11 Comments

این سی سی

ابھی ہم سولہ دسمبر 2014 کے سانحے کی پہلی برسی گزرنے کے دکھ سے نہیں نکلے تھے کہ دشمن نے پھر وہیں وار کیا جہاں ہم کمزور تھے یعنی ہمارے مستقبل کے معماروں۔ 20 جنوری 2016 تقریبا” ٹھیک ایک ماہ اور کچھ دن کے بعد اُسی گروپ نے جِس نے اے پی ایس میں ہمارے بچوں کا قتلِ عام کیا تھا اُسی دشمن نے چارسدہ یونیورسٹی کے طالبعلموں پر وار کیا۔ عجب بات ہے کہ موسم بھی شدید سردی کا کہ دُھند کے لپیٹے میں ہاتھ کو ہاتھ سُجائی نا دے اور وقت بھی صُبح کا جب انسان نیند سے بیدار ہوکر اپنے دن کا آغاز کرتا ہے۔ اس دفعہ دُشمن نے لڑکوں کے ہوسٹل کا نشانہ بنایا جہاں پر اس وقت کافی طالبعلم موجود تھے کچھ اپنی اپنی کلاسسز لینے کی تیاری کررہے تھے تو کچھ چھٹی منا رہے تھے ۔ حملہ سخت تھا لیکن یہ بچے اے پی ایس کے بچوں سے عمر میں بڑے اور سمجھدار تھے ان میں سے کچھ نے تو بہادری کا تاریخ رقم کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا تو کوئی شدید زخمی ہوکر اسپتال پہنچایا گیا۔ ایک جواں سال استاد جو کہ آرگینک کیمسٹری میں پی ایچ ڈی تھا جس کے پاس اس وقت پستول موجود تھی اُس نے کافی دیر صرف اس ایک پستول کے بل بوتے پر اپنے طالبعلموں کو دہشتگردوں سے نا صرف دُوررکھا بلکہ بہت سے طالبعلموں کو اپنی جان بچانے کا موقع دیا اور پھر دہشت گردوں کی فائرنگ سے یہ جوان سال بہادر استاد جس نے پتہ نہیں کتنی نسلوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا اس نے اپنی جان اپنے طالبعلموں پر نثار کردی۔ اس حملے میں یونیورسٹی کے اپنے سیکیورٹی گارڈز، مالی، کینٹین والا، الغرض سب نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق طالبعلموں کی جانوں کو دہشتگردوں سے بچانے کی سعی کی اور وہ بہت حد تک کامیاب رہے، پولیس اور پھر فوج کے کمانڈو ایکشن نے تقریبا” حملے کے ڈھائی گھنٹے کے اندر اندر نا صرف طلبعلموں ، استادوں اور دوسرے اسٹاف کے مدد سے دہشتگردوں کو مار گرایا بلکہ آپریشن کلین اپ بھی کرکے یونیورسٹی کو سیکیور کیا۔

یہ سانحہ کیوں ہوا کیسے ہوا کس نے کیا، وہ سب کچھ میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچ رہا ہے۔ میرا آج یہ بلاگ لکھنے کا مقصد نیشنل ایکشن پلان یا ضربِ عضب کے افادیت یا عمل درآمد نہیں ہے بلکہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ایک تجویز دینا اور اپنے قارئین کی مدد سے ایک رائے عامہ تیار کرنا ہے۔ کسی زمانے میں ہمارے کالجز میں این سی سی کی ٹریننگ دی جاتی تھی جس کے باقاعدہ امتحانوں کی طرح نمبرز بھی ہوتے تھے جو کہ طُلبہ کے سالانہ امتحانات کے نمبروں میں شامل کئیے جاتے تھے۔ بہت سے طُلبہ اس ٹریننگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے لیکن پِھر 1994 میں یہ ٹریننگ پورے ملک میں بند کردی گئی مجھے نہیں پتہ کہ اس افادیت والی ٹریننگ جو نا صرف بچوں کو کسی بھی حادثاتی حالات میں مددگار ثابت ہوتی بلکہ اُنکی ذہنی و جسمانی نشورنُما کے لئیے بہترین ورزش اور امتحانات میں اضافی نمبروں کا باعث بنتی تھی ، اُسکو کس کے اشارے پر اور کیوں بند کیا گیا۔ آج ہم حالاتِ جنگ میں ہیں، اُس جنگ کو اپنی جنگ بنا چُکے ہیں جو کبھی ہماری تھی ہی نہیں، اگرچہ کہ شائد پہلے میری سوچ یہ تھی کہ نہیں ہم اگر شامل نا ہوتے تو ہم بھی امریکہ کے غصے کا شِکار ہوتے لیکن 2001 سے لے کر آج کے دن تک جو کچھ ہمارے مُلک میں ہوچُکا ہے اُس نے میری سوچ کو یکسر بدل دیا ہے۔ یہ جنگ ہماری نہیں تھی ہم پر مسلط کی گئی۔ اگر ہم حصہ نا بنتے توتب اگرچہ کہ یہی حالات ہوتے یا نا ہوتے اور جب بنے تو آہستہ آہستہ جس طرح سے اس جنگ میں ہمیں جھونکا گیا وہ دُنیا دیکھ رہی ہے۔ زخم بھی ہم نے کھائے ، جانیں بھی ہم نے دیں آپ کے لئے تب بھی ہم موردِ الزام ہی ٹھہرے۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ بحثیتِ قوم ہم بھی کُچھ اپنے لئے سوچیں کیونکہ جب تک یہ حکمران چاہے فوجی ڈکٹیٹر ہوں یا جمہوری ڈکٹیٹر یہ ہمارلے لئے فیصلے کرتے رہیں گے تب تک ہم اندھے کنوئیں میں ہی سڑتے مرتے رہیں گے۔

یہ وقت ہے کہ ہم عوام ان حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ ہمارے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ این سی سی کی لازمی ٹریننگ کو کالجز اور یونیورسٹیز کے نصاب کا حصہ بنائیں۔ مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ یہ اعتراض کریں گے کہ جی یہ علمی درسگاہیں ہیں یہاں سے علم بانٹنا چاہئے ، درست بات ہے یہ لیکن آپ کس کو علم بانٹیں گے جب ہمارے مستقبل ہماری نسلیں اس طرح سے دہشتگردی کا شکار ہوتی رہیں گی؟ ہم کب تک اپنے بچوں کے قتال کو شہادت کا نام دے کر دل کو تسلی دیتے رہیں گے؟ کب تک وہ مائیں جو اپنے بچوں کو اسکول پڑھنے بھیجتی ہیں اپنے بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں پر شہادت کا ٹیگ لگا کر اپنا دُکھ سینے میں دفن رکھیں گی؟ کب تک ہمارے باپ جو دن و رات ایک کرکے اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے اپنا آج ختم کر دیتے ہیں وہ اپنے بچوں کے لاشے کاندھوں پر اُٹھاتے رہیں گے؟ یہ بات یاد رکھیں کہ چیونٹی کی بھی جب جان پر بنتی ہے تو کاٹتی ہے۔ ہم اس وقت جنگی حالات میں زندگی گُزار رہے ہیں اور ہمیں ہرحال میں اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی بچانی ہے۔ اور یہ کام خالی آرمڈ فورسز یا سیکیورٹی ایجینسیز و اداروں کا نہیں ہے بلکہ عوام کا بھی ہے کہ وہ ان اداروں کی بھی مدد کرے۔ اگر ایسا نا ہوتا تو اس جدید دور میں اسرائیل اور ترکی جیسے ملکوں میں طالبعلموں کے لئے فوجی ٹریننگ لازمی قرار نا دی جاتی۔ ہمیں ہر بات کو منفی انداز میں سوچنے اور دیکھنے کی عادت ہوچکی ہے۔ ہم صرف یہ کیوں سمجھیں کہ این سی سی کی لازمی ٹریننگ بچوں کو کوئی غلط چیز سکھائے گی؟ سیلف ڈیفنس ، فرسٹ اید وغیرہ جیسی ٹریننگز تو امن کے حالات میں بھی بہت کارآمد ہوتی ہیں۔ زیادہ دُور کی بات نہیں کرتی یہی دیکھ لیں کہ اگر ہمارے گھر میں خُدانخواستہ آگ لگ جائے یا کسی کو فرسٹ ایڈ کی ضرورت پڑجائے تو ہم تب تک انتظار کرتے ہیں جب تک کوئی آئے اور ہماری مدد کرے، اگر ہمارے بچے ایسی ٹریننگز لئے ہوئے ہوں جو انسانی جانیں بچانے کے لئے ابتدائی طور پر مدد کرسکتی ہوں تو کیا بُرائی ہے اس میں؟ ہم ان ٹریننگز کو نصاب یا علم کا حصہ کیوں نہیں سمجھنے پر تیار ہیں؟ آج اگر ہماری بچیاں سیلف ڈیفنس کے علاوہ اسلحہ استعمال کرنے کی ٹریننگ بھی لی ہوئی ہوں تو وہ نا صرف اپنا دفاع کرسکتی ہیں بلکہ اپنے ساتھ موجود لوگوکا بھی دفاع کرسکتی ہیں۔ ایسی ٹریننگز میں ریفلیکسز کااستعمال سکھایا جاتا ہے جو اپنے دفاع میں انسان کا سب سے پہلا ہتھیار ہوتا ہے۔

اپنے ذہن کو وسعت دیجئیے اپنے ملک کے لئے ہی نا سہی ، اپنے بچوں کے لئے ہی سہی ان کو ایسی ٹریننگز کے لئے حکومت پر زور دیں ۔۔زرا سوچئیے۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | 2 Comments

کیوں

انڈیا میں اصلی گائے کے بعد اب نقلی گائے والا غبارہ اڑانے پر مقدمہ درج۔

انڈیا میں صرف شک کی بنیاد پر کہ گائے کا گوشت کھایا ہے مجمعے نے موت کی بھینٹ اتار دیا۔

انڈیا میں شک کے ہی بنیاد پر کہ گائے اسمگل کی جارہی ہے مجمعے نے ایک مسلمان ڈرائیور کو تشدد کرکے موت کی گھاٹ اتار دیا۔

برما میں روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم۔

ایک طویل فہرست ہے جو ہمیں آئے روز اخباروں، الیکٹرونک میڈیا یا سوشل میڈیا پر ایسے واقعات کی پڑھنی پڑتی ہے جس پر ہم اپنے غم و غصہ کےا ظہار کبھی الفاظ میں تو کبھی احتجاج سے کرتے ہیں۔ بہت تکلیف ہوتی ہے جب ہم دنیا کے کسی بھی حصے  میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی داستان پڑھتے ہیں۔ ہمارے علماء کرام بڑے بڑے جلسوں میں انسانیت اور مذہبی رواداری کے بیان دیتے نظر آتے ہیں۔ جمعہ کے خطبے میں امام صاحب اتنے رقت آمیز انداز میں مسلمانوں پر روا مظالم کے قصے بیان کرتے ہیں کہ سخت سے سخت جان بھی رو پڑے۔ سوشل میڈیا پر مذہبی جماعتوں کے متحرک سوشل میڈیا سیلز ایسی ایسی باتیں بذریعہ تصاویر ہم تک پہنچاتے ہیں کہ نا صرف ہمارے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں بلکہ جذبہء ایمانی بھی جوش مارنے لگتا ہے۔ مناسب۔

اب چلیں تصویر کا دوسرا رُخ دیکھتے ہیں، پاکستان ایک اسلامی ملک ہے چاہے کوئی کچھ بھی بولے قائد اعٰظم اور دوسرے رفقاء نے یہ ملک مسلمانوں کے لئے ہی بنایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہم اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں اُسے لاگوُ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن پتہ ہے یہ نظام کیوں لاگوُ نہیں ہوسکا یا ہوسکتا کیونکہ ہم دوغلے لوگ ہیں۔  ہمارے مذہبی رہنماء ، علماء کرام،مفتیانِ کرام آئے روز اسلامی نظام رائج کرنے کے بیانات داغتے رہتے ہیں کبھی اپنی سیاست چمکانے کے لئے تو کبھی انتخابات میں مذہب کا چورن بیچ کر نشستیں حاصل کرنے کے لئے۔ اس کے علاوہ اسلامی قوانین پر مزید بات کریں تو ان تمام علماء کرام، مفتیانِ کرام اور رہنماؤں کا اسلام صرف عورت کے پردے اور انکی سیاست چمکانے کی حد تک ہیں ورنہ ان لوگو کے نزدیک باقی کوئی قانون اسلام میں نہیں ہے جیسے اقلیتوں کے حقوق وغیرہ۔

میں ایک سُنی مسلم ہوں مجھے یہ تونہیں پتہ کہ میرا فرقہ کیا ہے یہ بات مجھے کہنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ہم فتوہٰ ساز فیکٹری میں بھی ماشاء اللہ سے خود کفیل ہیں۔ لہٰذا اپنا مذہب اور فرقہ بتانا لازمی ہے۔ اب میں کونسی سُنی ہوں یہ مجھےنہیں پتا کیونکہ میرے نزدیک بریلوی ہوں یا دیوبندی یا اہل حدیث ہر کوئی اپنے اپنے فرقے میں کچھ نا کچھ بدعات یا فضولیات رکھتا ہے جس کا اسلام سے دُور دُور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ میری اس بات سے اگر کسی کی دل آزاری ہوتی ہے تومیں کیا کہہ سکتی ہوں کیونکہ میرا مذہب “اسلام” مجھے سچ اور حق بولنے کی تلقین کرتا ہے اور جو صرف اللہ سے ڈرتا ہے وہ تلوار کی نوک پر بھی سچ بولتا ہے۔ مجھے آج اپنے مذہب یا اپنے فرقے کی بات کرنا کیوں سوجھی اسکی بھی ایک وجہ ہے اور وہ وجہ ہے ظلم۔ جو اس ملک خاص طور پر پنجاب میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے۔

ابھی دو تین دن پہلے جہلم میں ایک قادیانی/احمدی کی چیپ بورڈ کی فیکٹری کو آگ لگا دی گئی مجمعے کی طرف سے ۔اسی مشتعل مجمعے نے تین لوگ جن میں دو عدد معصوم بچیاں بھی شامل تھیں جن میں سے ایک بچی کی عمر سات سال اور ایک کی چار سال تھی۔ وجہ یہ پتہ چلی کہ پاس کی مسجد سے امام صاحب نے اعلان کرکے لوگو کو اُکسایا کہ فیکٹری میں قرآن کریم کے اوراق کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اور ہمارے ماشاءاللہ پکے سچے مسلمان بھائیوں نے بِنا تحقیق آؤ دیکھا نا تاؤ فیکٹری کو آگ لگا دی اور فیکٹری میں پھنسے لوگو کو باہر نکلنے کی بھی اجازت نا دی گئی۔ وہ تو خیر ہوئی کہ کاروائی ہوئی اور لوگو کو بچایا گیا ورنہ کافی نقصان ہوجاتا۔

اب بات ہوتی ہے کہ میں تو سُنی ہوں اور قادیانیوں کو مٗسلمان نہیں سمجھتی ہوں بے شک یہ میری سوچ ہی نہیں میرے ایمان کا تقاضہ بھی ہے تو پھرمیں کیوں آج انکی حمایت کررہی ہوں۔ میں حمایت نہیں کررہی میں صرف اپنے پکے سچے مسلمان بہن بھائیوں سے اپنے کُند ذہنی، اسلام سے بے خبری، ایمان کی کمزوری دُور کرنے کے لئے کچھ سوال کرنا چاہ رہی ہوں۔ کچھ سوالات ہیں اگرجوابات دے دیں تو یقین کریں آپ روزِمحشر کیا اللہ سے اسی دُنیا میں جزا پالیں گے۔

میرے سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. کیا وجہ ہے کہ صرف پنجاب میں ہی اقلیتوں کو مارا جلایا جاتا ہے؟

  2. اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق میں قادیانیوں کو مسلمان نہیں مانتی لہٰذا میرے لئے یہ اقلیت ہیں۔ تو مجھے یہ بتایا جائے کہ کیا اسلام میں اقلیتوں کو جلانے مارنے یا انکی عزت و مال کو برباد کرنے کا حکم ہے؟ ب

  3. کیا اقلیتوں کو اپنے مذہب پر پوری طرح عملدرآمد کرنے کی اجازت ہے ایک مسلمان ملک میں؟ 

  4. کیا اقلیتوں کو اسلامی ریاست میں اجازت ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کریں؟

  5. کیا اسلام میں اجازت ہےکہ بِنا تحقیق کے مسلمان اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں کےعزت جان و مال کو نقصان پہنچائیں؟

  6. کیا اسلام میں اجازت ہے کہ اگر ایک انتہائی قیمتی زمین جو کہ کسی اقلیتی فرد کی ملکیت ہے اس کو اگر وہ نہیں بیچ رہا ہے تو پھر مسلمان قرآن، یا آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کا نام لیکر تہمت لگوا کر نا صرف اس اقلیتی فرد کی جان کو خطرے میں ڈالیں بلکہ اسکی املاک کو نقصان پہنچا کر اس زمین پر قبضہ کریں؟َ

  7. کیا وہ بچے جو کہ اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں جنکی عمریں اسلام کی رُو سے نماز تک پڑھنے بلکہ مذہب تک کو سمجھنے کی نہیں ہیں ان کو صرف اس بناء پر موت کا سزاوار قرار دے دیا جائے کہ وہ اقلیت   تعلق رکھتے ہیں؟

  8. کیا ایک مسجد کے امام کو یہ حق اسلام دیتا ہے کہ وہ اقلیتوں کے خلاف جھوٹ اور تہمت گھڑنے کے لئے مسجد کے مقدس منبر کو استعمال کرے وہ بھی صرف اپنی ذاتی عناد کے لئے یا علاقے کے مقتدر حلقوں کو خوش کرنے کے لئے؟

  9. کیا اسلام مسلمانوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ جزا سزا زندگی اور موت کو اپنے وصف سمجھیں اور جس کو چاہے اللہ کے نام پر موت کی بھینٹ اُتار دیں؟

  10. اللہ اور رسول ص سے محبت صرف اقلیتوں کو مارنے جلانے کے لئے ہی کیوں یاد آتی ہے کہ غیرتِ ایمانی اتنا جوش مارتی ہے کہ لوگوکوزندہ جلادیں؟ کیا یہ غیرت نماز قرآن روزہ زکٰواۃ ، اسوۃ حُسنیٰ یا اسلام کے مکمل نظام پر عمل درآمد کے وقت سُلا دینا جائز ہے؟

نوٹ: راہ مہربانی مجھے صرف قرآنِ کریم کی سورۃ اور آیات مکمل سپارے اور آیت نمبر کے ساتھ ثبوت دیں اس سلسلے میں۔

غلطی سے میں اسلامی تاریخ اور اسلامک اسٹڈیز کے طالبہ ہوں اور آج بھی میں کوشش کرتی ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اپنے دین کی معلومات رکھوں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کروں ۔ کیونکہ میں یہ بات جانتی بھی ہوں اور ایمان بھی رکھتی ہوں کہ روزِمحشر مجھ سے یہ سوال ضرور پوچھا جائے گا کہ اگر فلاں معاملے پر علم نہیں تھا توکوشش کیوں نا کی جاننے کی یا اگر سچ پتہ تھا تو کیوں اپنے خالق سے تو  نا ڈری لیکن خالق کی مخلوق سے ڈر کر سچ نا بولیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں نے یہ کچھ سوالات جو ابھی میرے ذہن میں تھے پوچھے ہیں۔ اگر آپ کے پاس جوابات ہیں تو مکمل ریفرنس کے ساتھ دیجئیے گا۔

 

CUcGHBzWcAARqdk

ان ننھی بچیوں کا صرف یہ قصور تھا کہ یہ ایک قادیانی گھر میں پیدا ہوئیں، کیا یہ قصور انہوں نے جان کر کیا تھا؟

ایس گل

Posted in Uncategorized | Leave a comment