From the House of Patwari SMT :D

Today, I just want to share some screen shots with my friends….. enjoy 😉

 

 

Advertisements
Posted in Uncategorized | 2 Comments

کچھ باتیں کچھ سوالات

آج بہت دنوں کے بعد کچھ لکھنے کا موقع مِل رہا ہے۔ زندگی کے جھمیلوں میں ہی زندگی اتنی مصروف ہوجاتی ہے کہ ذہن میں پکنے والی سوچوں کی کھچڑی کو بلاگ کی زینت بنانے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ سیاست ہو یا معاشرت ، آن لائن بلاگز نے ہمیں یہ سہولت دے دی ہے کہ ہم اپنی سوچوں کو اپنے سوالوں کو بلاگز کی صورت میں ڈھال کر دنیا کے سامنے پیش کردیتے ہیں اب یہ پڑھنے والو پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کسی کے لکھی گئی تحریر کو پڑھکر کیا تاثریا رائے قائم کرتا ہے۔ کم از کم میرا مقصد بلاگ لکھنے کا یہ ہوتا ہے کہ میں اپنا بلاگ پڑھنے والے کوکچھ سوچنے کا موقع دوں کہ آیا میری بات غلط ہے یا صحیح۔ سوال پیش کروں جن کے جوابات مجھے کہیں سے نہیں ملتے یا اگر ملتے بھی ہیں تومجھے منطقی طور پرمطمعئن نہیں کر پاتے ہیں۔ سیاست و معاشرت اور مذہب تو خیر اب آئے روز ہم سوشل میڈیا پر زیرِ بحث لاتے رہتے ہیں لٗہذا اب کچھ ایسے موضوعات کو اپنے بلاگ کا حصہ بنانا چاہتی ہوں جو انسانی سوچ کی وسعتوں کو جانچتے ہیں۔ میں فلسفی نہیں ہوں نہ ہی بہت زیادہ پڑھی لکھی لیکن سوچ اور اسکے ارتقاء پر بھی کسی قسم کا کنٹرول نہیں رکھتی ہوں۔ سوالات بے شُمار سوالات ہیں جو وقت بے وقت جنم لیتے رہتے ہیں دماغ کے نہاخانوں میں۔ کبھی توجوابات مل جاتے ہیں اور کبھی اُلجھ جاتی ہوں ۔ یہی سوچ کر کہ شاید مجھے میرے الجھے سوالات کے جوابات میرے قارئین و دوستو سے مل جائیں تو کیوں نا اپنے بلاگ “چائے گھر” کو چائے گھر بناتے اپنے سب دوستو کو دعوت دوں کہ میرے بلاگ پر بحث کرکے نا صرف میری بلکہ دوسرے پڑھنے والو کی بھی معلومات میں اضافہ کریں۔

جب کبھی مجھے زندگی کی رونقوں سے وقت ملتا ہے اپنے لئے جب میری پوری سوچ میری اپنی ذات کے محور کے اردگرد گھوم رہی ہوتی ہے تومیرے ذہن میں پہلا سوال آتا ہے کہ “میں” کون ہوں؟َ مطلب اس دنیا میں توبے شک میری ذات ، خاندان نام وغیرہ موجود ہے لیکن جب اس پوری کائنات کی بات کی جائے تو پھر سوال اُٹھتا ہے کہ “میں” کون ہوں؟ کیا ہوں؟ کیوں ہوں؟ کیا میں واقعی کوئی وجود رکھتی ہوں؟ جب مادی طور پر اس دنیا میں نہیں تھی تو کیا تب بھی میرا وجود موجود تھا؟ اگر تھا تو کس شکل میں اور کہاں؟ اگر عدم میں تھا تو یہ عدم کیا ہے؟ کب سے ہے؟

اگرچکہ یہ میرے سوالات بچکانہ ہیں لیکن انسانی سوچ بہت وسیع ہے جسکی کوئی حد نہیں ہے کبھی بھی کچھ بھی سوچ سکتی ہے کوئی بھی سوال اُٹھا سکتی ہے ۔ لٰہذا یہ بہتر ہوتا ہے کہ اُلجھنے کے بجائے ان سوالوں کے جوابات تلاش کئیے جائیں ۔

مجھے امید ہے کہ مجھے بھی جوابات ملیں گے۔ مذاق بھی اُڑایا جائے گا لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ سوالات کبھی نا کبھی آپ کے بھی ذہن میں آتے ہوں لیکن آپ انکو الفاظ کا جامہ نہ پہنا سکتے ہوں۔ ۔۔۔۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | 11 Comments

این سی سی

ابھی ہم سولہ دسمبر 2014 کے سانحے کی پہلی برسی گزرنے کے دکھ سے نہیں نکلے تھے کہ دشمن نے پھر وہیں وار کیا جہاں ہم کمزور تھے یعنی ہمارے مستقبل کے معماروں۔ 20 جنوری 2016 تقریبا” ٹھیک ایک ماہ اور کچھ دن کے بعد اُسی گروپ نے جِس نے اے پی ایس میں ہمارے بچوں کا قتلِ عام کیا تھا اُسی دشمن نے چارسدہ یونیورسٹی کے طالبعلموں پر وار کیا۔ عجب بات ہے کہ موسم بھی شدید سردی کا کہ دُھند کے لپیٹے میں ہاتھ کو ہاتھ سُجائی نا دے اور وقت بھی صُبح کا جب انسان نیند سے بیدار ہوکر اپنے دن کا آغاز کرتا ہے۔ اس دفعہ دُشمن نے لڑکوں کے ہوسٹل کا نشانہ بنایا جہاں پر اس وقت کافی طالبعلم موجود تھے کچھ اپنی اپنی کلاسسز لینے کی تیاری کررہے تھے تو کچھ چھٹی منا رہے تھے ۔ حملہ سخت تھا لیکن یہ بچے اے پی ایس کے بچوں سے عمر میں بڑے اور سمجھدار تھے ان میں سے کچھ نے تو بہادری کا تاریخ رقم کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا تو کوئی شدید زخمی ہوکر اسپتال پہنچایا گیا۔ ایک جواں سال استاد جو کہ آرگینک کیمسٹری میں پی ایچ ڈی تھا جس کے پاس اس وقت پستول موجود تھی اُس نے کافی دیر صرف اس ایک پستول کے بل بوتے پر اپنے طالبعلموں کو دہشتگردوں سے نا صرف دُوررکھا بلکہ بہت سے طالبعلموں کو اپنی جان بچانے کا موقع دیا اور پھر دہشت گردوں کی فائرنگ سے یہ جوان سال بہادر استاد جس نے پتہ نہیں کتنی نسلوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا اس نے اپنی جان اپنے طالبعلموں پر نثار کردی۔ اس حملے میں یونیورسٹی کے اپنے سیکیورٹی گارڈز، مالی، کینٹین والا، الغرض سب نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق طالبعلموں کی جانوں کو دہشتگردوں سے بچانے کی سعی کی اور وہ بہت حد تک کامیاب رہے، پولیس اور پھر فوج کے کمانڈو ایکشن نے تقریبا” حملے کے ڈھائی گھنٹے کے اندر اندر نا صرف طلبعلموں ، استادوں اور دوسرے اسٹاف کے مدد سے دہشتگردوں کو مار گرایا بلکہ آپریشن کلین اپ بھی کرکے یونیورسٹی کو سیکیور کیا۔

یہ سانحہ کیوں ہوا کیسے ہوا کس نے کیا، وہ سب کچھ میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچ رہا ہے۔ میرا آج یہ بلاگ لکھنے کا مقصد نیشنل ایکشن پلان یا ضربِ عضب کے افادیت یا عمل درآمد نہیں ہے بلکہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ایک تجویز دینا اور اپنے قارئین کی مدد سے ایک رائے عامہ تیار کرنا ہے۔ کسی زمانے میں ہمارے کالجز میں این سی سی کی ٹریننگ دی جاتی تھی جس کے باقاعدہ امتحانوں کی طرح نمبرز بھی ہوتے تھے جو کہ طُلبہ کے سالانہ امتحانات کے نمبروں میں شامل کئیے جاتے تھے۔ بہت سے طُلبہ اس ٹریننگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے لیکن پِھر 1994 میں یہ ٹریننگ پورے ملک میں بند کردی گئی مجھے نہیں پتہ کہ اس افادیت والی ٹریننگ جو نا صرف بچوں کو کسی بھی حادثاتی حالات میں مددگار ثابت ہوتی بلکہ اُنکی ذہنی و جسمانی نشورنُما کے لئیے بہترین ورزش اور امتحانات میں اضافی نمبروں کا باعث بنتی تھی ، اُسکو کس کے اشارے پر اور کیوں بند کیا گیا۔ آج ہم حالاتِ جنگ میں ہیں، اُس جنگ کو اپنی جنگ بنا چُکے ہیں جو کبھی ہماری تھی ہی نہیں، اگرچہ کہ شائد پہلے میری سوچ یہ تھی کہ نہیں ہم اگر شامل نا ہوتے تو ہم بھی امریکہ کے غصے کا شِکار ہوتے لیکن 2001 سے لے کر آج کے دن تک جو کچھ ہمارے مُلک میں ہوچُکا ہے اُس نے میری سوچ کو یکسر بدل دیا ہے۔ یہ جنگ ہماری نہیں تھی ہم پر مسلط کی گئی۔ اگر ہم حصہ نا بنتے توتب اگرچہ کہ یہی حالات ہوتے یا نا ہوتے اور جب بنے تو آہستہ آہستہ جس طرح سے اس جنگ میں ہمیں جھونکا گیا وہ دُنیا دیکھ رہی ہے۔ زخم بھی ہم نے کھائے ، جانیں بھی ہم نے دیں آپ کے لئے تب بھی ہم موردِ الزام ہی ٹھہرے۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ بحثیتِ قوم ہم بھی کُچھ اپنے لئے سوچیں کیونکہ جب تک یہ حکمران چاہے فوجی ڈکٹیٹر ہوں یا جمہوری ڈکٹیٹر یہ ہمارلے لئے فیصلے کرتے رہیں گے تب تک ہم اندھے کنوئیں میں ہی سڑتے مرتے رہیں گے۔

یہ وقت ہے کہ ہم عوام ان حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ ہمارے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ این سی سی کی لازمی ٹریننگ کو کالجز اور یونیورسٹیز کے نصاب کا حصہ بنائیں۔ مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ یہ اعتراض کریں گے کہ جی یہ علمی درسگاہیں ہیں یہاں سے علم بانٹنا چاہئے ، درست بات ہے یہ لیکن آپ کس کو علم بانٹیں گے جب ہمارے مستقبل ہماری نسلیں اس طرح سے دہشتگردی کا شکار ہوتی رہیں گی؟ ہم کب تک اپنے بچوں کے قتال کو شہادت کا نام دے کر دل کو تسلی دیتے رہیں گے؟ کب تک وہ مائیں جو اپنے بچوں کو اسکول پڑھنے بھیجتی ہیں اپنے بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں پر شہادت کا ٹیگ لگا کر اپنا دُکھ سینے میں دفن رکھیں گی؟ کب تک ہمارے باپ جو دن و رات ایک کرکے اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے اپنا آج ختم کر دیتے ہیں وہ اپنے بچوں کے لاشے کاندھوں پر اُٹھاتے رہیں گے؟ یہ بات یاد رکھیں کہ چیونٹی کی بھی جب جان پر بنتی ہے تو کاٹتی ہے۔ ہم اس وقت جنگی حالات میں زندگی گُزار رہے ہیں اور ہمیں ہرحال میں اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی بچانی ہے۔ اور یہ کام خالی آرمڈ فورسز یا سیکیورٹی ایجینسیز و اداروں کا نہیں ہے بلکہ عوام کا بھی ہے کہ وہ ان اداروں کی بھی مدد کرے۔ اگر ایسا نا ہوتا تو اس جدید دور میں اسرائیل اور ترکی جیسے ملکوں میں طالبعلموں کے لئے فوجی ٹریننگ لازمی قرار نا دی جاتی۔ ہمیں ہر بات کو منفی انداز میں سوچنے اور دیکھنے کی عادت ہوچکی ہے۔ ہم صرف یہ کیوں سمجھیں کہ این سی سی کی لازمی ٹریننگ بچوں کو کوئی غلط چیز سکھائے گی؟ سیلف ڈیفنس ، فرسٹ اید وغیرہ جیسی ٹریننگز تو امن کے حالات میں بھی بہت کارآمد ہوتی ہیں۔ زیادہ دُور کی بات نہیں کرتی یہی دیکھ لیں کہ اگر ہمارے گھر میں خُدانخواستہ آگ لگ جائے یا کسی کو فرسٹ ایڈ کی ضرورت پڑجائے تو ہم تب تک انتظار کرتے ہیں جب تک کوئی آئے اور ہماری مدد کرے، اگر ہمارے بچے ایسی ٹریننگز لئے ہوئے ہوں جو انسانی جانیں بچانے کے لئے ابتدائی طور پر مدد کرسکتی ہوں تو کیا بُرائی ہے اس میں؟ ہم ان ٹریننگز کو نصاب یا علم کا حصہ کیوں نہیں سمجھنے پر تیار ہیں؟ آج اگر ہماری بچیاں سیلف ڈیفنس کے علاوہ اسلحہ استعمال کرنے کی ٹریننگ بھی لی ہوئی ہوں تو وہ نا صرف اپنا دفاع کرسکتی ہیں بلکہ اپنے ساتھ موجود لوگوکا بھی دفاع کرسکتی ہیں۔ ایسی ٹریننگز میں ریفلیکسز کااستعمال سکھایا جاتا ہے جو اپنے دفاع میں انسان کا سب سے پہلا ہتھیار ہوتا ہے۔

اپنے ذہن کو وسعت دیجئیے اپنے ملک کے لئے ہی نا سہی ، اپنے بچوں کے لئے ہی سہی ان کو ایسی ٹریننگز کے لئے حکومت پر زور دیں ۔۔زرا سوچئیے۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | 2 Comments

کیوں

انڈیا میں اصلی گائے کے بعد اب نقلی گائے والا غبارہ اڑانے پر مقدمہ درج۔

انڈیا میں صرف شک کی بنیاد پر کہ گائے کا گوشت کھایا ہے مجمعے نے موت کی بھینٹ اتار دیا۔

انڈیا میں شک کے ہی بنیاد پر کہ گائے اسمگل کی جارہی ہے مجمعے نے ایک مسلمان ڈرائیور کو تشدد کرکے موت کی گھاٹ اتار دیا۔

برما میں روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم۔

ایک طویل فہرست ہے جو ہمیں آئے روز اخباروں، الیکٹرونک میڈیا یا سوشل میڈیا پر ایسے واقعات کی پڑھنی پڑتی ہے جس پر ہم اپنے غم و غصہ کےا ظہار کبھی الفاظ میں تو کبھی احتجاج سے کرتے ہیں۔ بہت تکلیف ہوتی ہے جب ہم دنیا کے کسی بھی حصے  میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی داستان پڑھتے ہیں۔ ہمارے علماء کرام بڑے بڑے جلسوں میں انسانیت اور مذہبی رواداری کے بیان دیتے نظر آتے ہیں۔ جمعہ کے خطبے میں امام صاحب اتنے رقت آمیز انداز میں مسلمانوں پر روا مظالم کے قصے بیان کرتے ہیں کہ سخت سے سخت جان بھی رو پڑے۔ سوشل میڈیا پر مذہبی جماعتوں کے متحرک سوشل میڈیا سیلز ایسی ایسی باتیں بذریعہ تصاویر ہم تک پہنچاتے ہیں کہ نا صرف ہمارے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں بلکہ جذبہء ایمانی بھی جوش مارنے لگتا ہے۔ مناسب۔

اب چلیں تصویر کا دوسرا رُخ دیکھتے ہیں، پاکستان ایک اسلامی ملک ہے چاہے کوئی کچھ بھی بولے قائد اعٰظم اور دوسرے رفقاء نے یہ ملک مسلمانوں کے لئے ہی بنایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہم اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں اُسے لاگوُ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن پتہ ہے یہ نظام کیوں لاگوُ نہیں ہوسکا یا ہوسکتا کیونکہ ہم دوغلے لوگ ہیں۔  ہمارے مذہبی رہنماء ، علماء کرام،مفتیانِ کرام آئے روز اسلامی نظام رائج کرنے کے بیانات داغتے رہتے ہیں کبھی اپنی سیاست چمکانے کے لئے تو کبھی انتخابات میں مذہب کا چورن بیچ کر نشستیں حاصل کرنے کے لئے۔ اس کے علاوہ اسلامی قوانین پر مزید بات کریں تو ان تمام علماء کرام، مفتیانِ کرام اور رہنماؤں کا اسلام صرف عورت کے پردے اور انکی سیاست چمکانے کی حد تک ہیں ورنہ ان لوگو کے نزدیک باقی کوئی قانون اسلام میں نہیں ہے جیسے اقلیتوں کے حقوق وغیرہ۔

میں ایک سُنی مسلم ہوں مجھے یہ تونہیں پتہ کہ میرا فرقہ کیا ہے یہ بات مجھے کہنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ہم فتوہٰ ساز فیکٹری میں بھی ماشاء اللہ سے خود کفیل ہیں۔ لہٰذا اپنا مذہب اور فرقہ بتانا لازمی ہے۔ اب میں کونسی سُنی ہوں یہ مجھےنہیں پتا کیونکہ میرے نزدیک بریلوی ہوں یا دیوبندی یا اہل حدیث ہر کوئی اپنے اپنے فرقے میں کچھ نا کچھ بدعات یا فضولیات رکھتا ہے جس کا اسلام سے دُور دُور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ میری اس بات سے اگر کسی کی دل آزاری ہوتی ہے تومیں کیا کہہ سکتی ہوں کیونکہ میرا مذہب “اسلام” مجھے سچ اور حق بولنے کی تلقین کرتا ہے اور جو صرف اللہ سے ڈرتا ہے وہ تلوار کی نوک پر بھی سچ بولتا ہے۔ مجھے آج اپنے مذہب یا اپنے فرقے کی بات کرنا کیوں سوجھی اسکی بھی ایک وجہ ہے اور وہ وجہ ہے ظلم۔ جو اس ملک خاص طور پر پنجاب میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے۔

ابھی دو تین دن پہلے جہلم میں ایک قادیانی/احمدی کی چیپ بورڈ کی فیکٹری کو آگ لگا دی گئی مجمعے کی طرف سے ۔اسی مشتعل مجمعے نے تین لوگ جن میں دو عدد معصوم بچیاں بھی شامل تھیں جن میں سے ایک بچی کی عمر سات سال اور ایک کی چار سال تھی۔ وجہ یہ پتہ چلی کہ پاس کی مسجد سے امام صاحب نے اعلان کرکے لوگو کو اُکسایا کہ فیکٹری میں قرآن کریم کے اوراق کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اور ہمارے ماشاءاللہ پکے سچے مسلمان بھائیوں نے بِنا تحقیق آؤ دیکھا نا تاؤ فیکٹری کو آگ لگا دی اور فیکٹری میں پھنسے لوگو کو باہر نکلنے کی بھی اجازت نا دی گئی۔ وہ تو خیر ہوئی کہ کاروائی ہوئی اور لوگو کو بچایا گیا ورنہ کافی نقصان ہوجاتا۔

اب بات ہوتی ہے کہ میں تو سُنی ہوں اور قادیانیوں کو مٗسلمان نہیں سمجھتی ہوں بے شک یہ میری سوچ ہی نہیں میرے ایمان کا تقاضہ بھی ہے تو پھرمیں کیوں آج انکی حمایت کررہی ہوں۔ میں حمایت نہیں کررہی میں صرف اپنے پکے سچے مسلمان بہن بھائیوں سے اپنے کُند ذہنی، اسلام سے بے خبری، ایمان کی کمزوری دُور کرنے کے لئے کچھ سوال کرنا چاہ رہی ہوں۔ کچھ سوالات ہیں اگرجوابات دے دیں تو یقین کریں آپ روزِمحشر کیا اللہ سے اسی دُنیا میں جزا پالیں گے۔

میرے سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. کیا وجہ ہے کہ صرف پنجاب میں ہی اقلیتوں کو مارا جلایا جاتا ہے؟

  2. اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق میں قادیانیوں کو مسلمان نہیں مانتی لہٰذا میرے لئے یہ اقلیت ہیں۔ تو مجھے یہ بتایا جائے کہ کیا اسلام میں اقلیتوں کو جلانے مارنے یا انکی عزت و مال کو برباد کرنے کا حکم ہے؟ ب

  3. کیا اقلیتوں کو اپنے مذہب پر پوری طرح عملدرآمد کرنے کی اجازت ہے ایک مسلمان ملک میں؟ 

  4. کیا اقلیتوں کو اسلامی ریاست میں اجازت ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کریں؟

  5. کیا اسلام میں اجازت ہےکہ بِنا تحقیق کے مسلمان اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں کےعزت جان و مال کو نقصان پہنچائیں؟

  6. کیا اسلام میں اجازت ہے کہ اگر ایک انتہائی قیمتی زمین جو کہ کسی اقلیتی فرد کی ملکیت ہے اس کو اگر وہ نہیں بیچ رہا ہے تو پھر مسلمان قرآن، یا آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کا نام لیکر تہمت لگوا کر نا صرف اس اقلیتی فرد کی جان کو خطرے میں ڈالیں بلکہ اسکی املاک کو نقصان پہنچا کر اس زمین پر قبضہ کریں؟َ

  7. کیا وہ بچے جو کہ اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں جنکی عمریں اسلام کی رُو سے نماز تک پڑھنے بلکہ مذہب تک کو سمجھنے کی نہیں ہیں ان کو صرف اس بناء پر موت کا سزاوار قرار دے دیا جائے کہ وہ اقلیت   تعلق رکھتے ہیں؟

  8. کیا ایک مسجد کے امام کو یہ حق اسلام دیتا ہے کہ وہ اقلیتوں کے خلاف جھوٹ اور تہمت گھڑنے کے لئے مسجد کے مقدس منبر کو استعمال کرے وہ بھی صرف اپنی ذاتی عناد کے لئے یا علاقے کے مقتدر حلقوں کو خوش کرنے کے لئے؟

  9. کیا اسلام مسلمانوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ جزا سزا زندگی اور موت کو اپنے وصف سمجھیں اور جس کو چاہے اللہ کے نام پر موت کی بھینٹ اُتار دیں؟

  10. اللہ اور رسول ص سے محبت صرف اقلیتوں کو مارنے جلانے کے لئے ہی کیوں یاد آتی ہے کہ غیرتِ ایمانی اتنا جوش مارتی ہے کہ لوگوکوزندہ جلادیں؟ کیا یہ غیرت نماز قرآن روزہ زکٰواۃ ، اسوۃ حُسنیٰ یا اسلام کے مکمل نظام پر عمل درآمد کے وقت سُلا دینا جائز ہے؟

نوٹ: راہ مہربانی مجھے صرف قرآنِ کریم کی سورۃ اور آیات مکمل سپارے اور آیت نمبر کے ساتھ ثبوت دیں اس سلسلے میں۔

غلطی سے میں اسلامی تاریخ اور اسلامک اسٹڈیز کے طالبہ ہوں اور آج بھی میں کوشش کرتی ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اپنے دین کی معلومات رکھوں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کروں ۔ کیونکہ میں یہ بات جانتی بھی ہوں اور ایمان بھی رکھتی ہوں کہ روزِمحشر مجھ سے یہ سوال ضرور پوچھا جائے گا کہ اگر فلاں معاملے پر علم نہیں تھا توکوشش کیوں نا کی جاننے کی یا اگر سچ پتہ تھا تو کیوں اپنے خالق سے تو  نا ڈری لیکن خالق کی مخلوق سے ڈر کر سچ نا بولیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں نے یہ کچھ سوالات جو ابھی میرے ذہن میں تھے پوچھے ہیں۔ اگر آپ کے پاس جوابات ہیں تو مکمل ریفرنس کے ساتھ دیجئیے گا۔

 

CUcGHBzWcAARqdk

ان ننھی بچیوں کا صرف یہ قصور تھا کہ یہ ایک قادیانی گھر میں پیدا ہوئیں، کیا یہ قصور انہوں نے جان کر کیا تھا؟

ایس گل

Posted in Uncategorized | Leave a comment

ہنی ٹریپ “حصہ دوم”

قصہ مختصر، ریحام اورعمران خان کی شادی لالچ، شخصی کمزوریوں، سازشوں کا شاخسانہ تو تھی لیکن محبت کی بنیاد پر نہیں تھی۔ جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ میں اس معاملے میں عمران خان کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دونگی،کیونکہ عمران خان کوئی ٹین ایجر نہیں دنیا دیکھا عمر والا انسان ہے۔ ایسی کیا مجبوری تھی جو عمران خان نے ان لوگوں کی بات کونہیں مانا جو عمران خان کی ریحام سے شادی کے خلاف تھے جنہیں بعد میں ریحام نے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکنے کی حتٰی الامکان کوشش کی؟ عمران کو شادی سے پہلے ہی ایجنسیز نے آگاہ کردیا تھا کہ ریحام سے شادی نا کریں لیکن ایسا کیا ہوا کہ عمران بضد رہا شادی کرنے پر؟ کیا عمران کی وضع داری تھی یا پھر عمران خان کو کسی بات پر اتنا ذہنی طور پر پریشان کیا گیا کہ وہ بادل نخواستہ شادی پر راضی ہوگیا؟ شادی کے بعد یکے بعد دیگرے واقعات کو دیکھیں تو عمران خان کی سوشل میڈیا یا میڈیا پر باتوں کو نوٹ کیا جائے تو ان میں وہ قطعیت ناپید رہی ہے جو عمران خان کا خاصہ ہے، مثلا” ریحام کی جعلی ڈگری کا واقعہ ہو یا ہری پور کی کمپین پر عوامی ردعمل پر عمران خان کی ٹوئیٹ ۔۔کون تھا جو عمران خان کو مجبور کررہا تھا کہ وہ ایسی باتوں پر اپنا ردعمل ایسے الفاظ میں دے جو اس کے چاہنے والے سمجھ جائیں کہ یہ کن حالات میں کہے گئے ہیں؟ عمران خان جو کنٹینر پر کہتا تھا کہ سچ بولو توکس نے اس کو کہا کہ شادی کو چھپا جاؤ اور پھر خبر بھی لیک کروا دی گئی؟ اس ایک سال میں عمران خان جو کبھی لاہور سے اسلام آباد تک کا سفر گاڑی پر کرتا تھا اب ہیلی کاپٹر کے بنا کہیں بھی جانے سے انکاری ہوا؟ کیا وجہ تھی کون تھا جو ریحام کو بیس بیس باڈی گارڈ اور فُل پروٹوکول دیا جارہا تھا، جب کہ عمران خان ان سب باتوں کا مخالف تھا لیکن ریحام پر چپ تھا؟ ایسی کیا وجوہات تھیں کہ عمران اتنا بے بس ہوگیا تھا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی اپنی مرضی سے بھی گزارنے کا قابل نہیں رہا تھا؟ ریحام بے شک لالچی اور خراب عورت ہوگی، سازشی بھی ہوگی لیکن اتنا بڑا گیم کھیلنا ریحام کے بس کی بات نہیں ہے۔ اگر ہم دنیا کی تاریخ پڑھیں تو ایسی عورتوں کی مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے لیڈروں سے شادی کی اور انکو مروا تک دیا لیکن ان کی تمام ترسازشوں میں خالی انکا ذہن نہیں بلکہ وہ ہاتھ ہوتے ہیں جو ان عورتوں کو کٹھ پتلی کی طرح چلاتے ہیں۔ لہٰذا ریحام صرف ایک مہرہ تھی لیکن اس کے ذریعے چال کوئی اور چل رہا تھا۔ 

ایک ایسی سازش چلی گئی کہ تحریک انصاف میں دھڑے بندیاں ہوگئیں، شاہ محمود قریشی ، اسدعمر، عارف علوی، علی زیدی ، جسٹس وجیہہ الدین جیسے لوگوں کو سوشل میڈیا پر تختہ ء مشق بنایا جانے لگا جبکہ دوسری طرف جہانگیر ترین، چوہدری سرور، ڈار برادران ، علیم خان کی تعریفوں کے ڈونگرے برسائے جانے لگے ۔کیا یہ تقسیم بھی کسی سازش کا حصہ تھی یا ہے؟ تاکے دونوں دھڑے یا تو دل برداشتہ ہو کر پارٹی چھوڑ دیں یا پارٹی میں رہ کر ہی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچیں۔۔۔ دوسرا والا معاملہ ہم نے دیکھا کہ کیسے پے در پے ضمنی الیکشن ہارے ، بلدیاتی الیکشنز میں منہ کی کھائی ۔ پوری پارٹی کو آپس میں لڑادیا صرف ایک عورت کو اپنی شطرنچ کی چال کا مہرہ بنا کر۔

اگرچہ کہ ویسے ہم دیکھیں تو ہمیں جہانگیر ترین اور گروپ لگتے ہیں کہ وہ مفاد پرست ٹولہ ہیں کیونکہ ریحام سے شادی کے بعد یہ لوگ زیادہ آگے رہے لیکن اگر ہم غور کریں توریحام نے اپنے ہینڈلر کے اشارے پر اس گروپ سے زیادہ راہ و رسم اس لئے بڑھائی کہ یہ مالدار پارٹی تھی لاکھوں کروڑوں ان کے لئے پانی کی حیثیت رکھتے تھے ریحام کی لالچ اپنی جگہ لیکن اس راہ و رسم سے عوام میں یہ تاثر قائم کرنے میں کافی حد تک کامیابی ملی کہ عمران خان بھی صرف پیسے کا پجاری ہے جو کہ ایک لغو بات ہے۔ جبکہ شاہ محمود، اسد عمر جیسے لوگوں کے گروپ کو دور اس لئے کردیا گیا کہ یہ لوگ سیاست کو سمجھتے تھے اور عمران کو غلط فیصلوں سے روکتے تھے اگر یہ لوگ عمران کے قریب رہتے تو ریحام اور اسکے ہینڈلرز کو کامیابیاں نا ملتیں۔

معاملات شاید یوںہی چلتے رہتے اگر سازش رچنے والوں یا ریحام نے جلد بازی بلکہ اوچھے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے برطانوی اخبار میں جمائما پر الزام نا لگایا ہوتا۔ الزام لگانے والے بھول گئے کہ آپ کتنے بھی بڑے ہوجائیں کتنے ہی آپ کے برطانوی خفیہ ایجنسی سے تعلقات ہوجائیں جمائما وہاں کی نواب خاندان کی ہے اور شاہی خاندان سے کافی اچھے مراسم رکھتی ہے اس کے لئے اس لغو بات کی جڑ تک پہنچنا مشکل نہیں، اور وہی ہوا کہ اس آرٹیکل کے بعد عمران کو لندن جانا پڑا جہاں پر سب ثبوت عمران کے سامنے پیش کردیے گیۓ۔ بات یہیں تک ہوتی تو شائد عمران اتنا بڑا قدم نہیں اٹھاتا ہینڈلرز نے ریحام کے ذریعے زہر دلوانے کی جو سازش کی وہ بھی اللہ نے ایک لمحے میں افشاء کردی ، عمران کی زندگی تھی تبھی وہ بچ گیا ورنہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کیا ہوتا۔ اور بہت سے اسباب تھے جنہوں نے عمران کے صبر کا پیمانہ شاید لبریز کردیا تھا کہ تبھی عمران نے طلاق کا فیصلہ بنا کسی کو بتائے لیا اور وقت ضائع کئے بغیر طلاق دے دی۔ 

عمران کی شہرت، ساکھ اور پارٹی کو جو تباہی ہونی تھی وہ تو ہوئی وہ الگ بات ہے لیکن ریحام کو کیا ملا؟ پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے کیا؟ پاکستان میں ریحام کو کون پسند کرتا ہے مشکل سے چند لوگ یا پھر وہ جو عمران کی وجہ سے اسکو عزت دیتے تھے ۔۔سوچے اگر عمران خان کی موت ہوجاتی زہر سے اورپتہ چل جاتا کہ زہر دیا گیا ہے اور یہ بھی ثابت ہوجاتا کہ کس نے دیا ہے تو کیا ریحام کے ہینڈلرز اسکو بچاتے ؟ جواب ہے نہیں کیونکہ ریحام صرف ایک پیادہ تھی ان کے لئے کچھ پتہ نہیں اس کو بھی مروا دیتے۔

اس سازش کے تانے بانے پارٹی کے کسی دھڑے سے نہیں ملتے ہیں بلکہ یہ سازش رچنے والے کوئی اور ہیں جن کا لندن اصل گھر ہے جنہوں نے ہر ہر طریقے سے خان کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے ابھی بھی یہ ہینڈلر اپنے ایجنٹ کے ذریعے صلاح صفائی کروانے کی کوششوں میں ہیں افواہیں اڑوا کے عمران خان کو پریشر میں لانا چاہتے ہیں ۔ مائنس عمران فارمولے پر اب عمل کروایا جائے گا کیونکہ محلاتی سازش فیل ہوچکی ہے گندی سوچ کے گندے لوگ اب جب ٹیڑھی انگلی سے بھی گھی نا نکال سکے تو اب چمچ استعمال کررہے ہیں۔ افسوس سازشوں چالوں میں بھول رہے ہیں کہ خود بھی موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اور ریحام بی بی تم دو بیٹیوں کی ماں ہو کیوں ان بچیوں کے نصیب تباہ کرنے پر تُلی ہوئی ہو، تمہارے ہینڈلرز کی تو بات شروع عورت سے ہوتی ہے اور عورت پر ختم ہوتی ہے۔

 

Posted in Uncategorized | Leave a comment

ہنی ٹریپ – حصہ اول

ریحام آئی اور ریحام چلی گئی۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ کہانی اب شروع ہوئی ہے۔ ریحام کو کون لایا ؟ کیوں لایا؟ کس مقصد کے لئیے لایا؟ اور جب بھیج دی گئی توکون ہے جس کے مقاصد تقریبا” حل ہوچکے ہیں؟ یہ وہ باتیں ہیں جو ریحام کے لائے جانے اور اس کے چلے جانے کے درمیان ہونے والے واقعات سے تعلق رکھتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ جب آپ پر عزت شہرت کی دیوی مہربان ہوتی ہے تو پھر بہت سے طفیلیے بھی آپ سے دوستی کے دعوے کرنے لگتے ہیں یہی کچھ عمران خان کے ساتھ بھی ہوا، جب اکتوبر دوہزار  گیارہ میں عمران خان نے تحریک انصاف کا لاہور میں جلسہ منعقد کیا تو عوام کی پزیرائی نے بہت سے قوتوں کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ، یہ لوگ جسے کل تک معمولی کھلاڑی سمجھ رہے تھے اس کی مقبولیت نے انکو دن میں تارے دکھا دئیے اس جلسے کے بعد عوام کی جہاں حمایت میں اضافہ ہوا وہیں بہت سے سیاستدان اور دوسرے لوگ تحریک انصاف کو جوائن کرنے لگے۔کچھ لوگ جو پہلے سے تھے تحریک انصاف میں ان کے نام بھی عوام کو پتہ لگنے لگے۔ جن لوگوں نے اس وقت جوائن کیا ان میں شاہ محمود قریشی، مخدوم جاوید ہاشمی ، جہانگیر ترین جیسے لوگ شامل ہیں جبکہ اسد عمر ایک ایسا اضافہ تھے جسے عوام میں بہت پزیرائی ملی۔ تحریک انصاف جہاں جلسہ کرتی وہاں لوگوں کی بھیڑ ، الامان الحفیظ کہنا پڑتا کہ تل دھرنے کی جگہ نا ہوتی۔ یہ بات ملک کی دو بڑی جماعتوں کے لیے لمحہء فکریہ تھی۔ تحریک انصاف ملک کی سب سے مشہور جماعت بن کرابھری، ہر عمر کے لوگ خاص کر نوجوان نسل جس نے سیاست کے نام سے نفرت کی تھی وہ تحریک انصاف کی وجہ سے ملکی سیاست میں دلچسپی لینے لگی، الغرض ہر طبقہ ء فکر نے تحریک انصاف کا کھلی بانہوں سے استقبال کیا۔ تحریک انصاف میں بہت سے لوگ ایسے بھی شامل ہوئے جن کا اپنا ایجنڈا تھا کیونکہ وہ عمران خان کی سولہ سترہ سال کی محنت کو ناصرف کیش کروانا چاہتے تھے بلکہ اس محنت کی سیڑھی پر چڑھکر وہ مقام حاصل کرنا چاہتے تھے جو اگر وہ ویسے کوشش کریں تو انکو نا ملے۔ دوہزار بارہ میں تحریک انصاف عروج پر ہے، میڈیا میں ایک لندن پلٹ خاتون کی انٹری ہوتی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ بی بی سی پر کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں ، سوشل میڈیا پر انکی باقاعدہ پلاننگ سے ہائپ بنائی گئی وہ خاتون چینل پر چینل بدل رہی ہیں آہستہ آہستہ غیرمحسوس طور پر انکو سینئر اینکر بنایا جارہا ہے اور پھر باقاعدہ ان کو عمران خان سے متعارف کروایا جاتا ہے اور انٹرویو دلوایا جاتا ہے۔ دو ہزار بارہ میں ان خاتون کو لندن سے بلوا کر میڈیا میں اینٹر کروانے سے پہلے خاتون کو مکمل طور پر بریف کیا گیا ہے کہ عمران خان کی کمزوریاں کیا کیا ہیں کہ کیسے بات کی جائے کیا ڈریسنگ کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ اگرچہ کہ خاتون جو کہ سیاست کی ابجد سے بھی واقف نہیں لیکن بہت شوق رکھتی ہیں سیاست میں نام کمانے کا وہ اپے پروگرامز میں تحریک انصاف پر خوب تنقید کرتی ہیں لیکن پس پردہ پرائیوٹ طور پر تحریک انصاف کے حلقوں میں کافی متحرک ہیں۔ دوہزار تیرہ کے الیکشن ہوتے ہیں تحریک انصاف عروج پر ہے، خان زخمی ہوکرپھر سے سیاست میں ایکٹیو ہے جب کہیں انصاف نہیں مل رہا ہے تو خان لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان کرتا ہے ، اگست دو ہزار چودہ میں لانگ مارچ شروع ہوتا ہے، پورا ملک ایک اپنے حقوق کے لیۓ خان کے ہم آواز ہے اسلام آباد میں دھرنا شروع ہوتا ہے ایک طرف عمران خان ہے اور دوسری طرف طاہر القادری ، اچھنبے کی بات ہے کہ عمران خان نے جس دن لانگ مارچ کا اعلان کیا اسی دن کے لئے طاہر القادری بھی اعلان کردیتے ہیں۔ دھرنا جاری ہے عوام اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہے، مفاد پرست ٹولہ چونکہ سازش کا بیج بوچکا ہے تو اس کو اپنا کھیل کھل کر کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے خاتون اب تقریبا” روزانہ دھرنے میں جارہی ہیں ، انٹرویو بھی لے رہی ہیں جبکہ مفاد پرست ٹولہ خاتون کو مستقل مواقع فراہم کررہا ہے عمران خان سے قریب کرنے کے۔ جاوید ہاشمی اپنا کام کرکے تحریک انصاف چھوڑ کے جاچکا ہے ، عمران خان ایک دن اچانک دھرنے میں شادی کرنے کا اعلان کرتا ہے ۔ ہرطرف چہ مگوئیاں شروع ہیں ، مفاد پرست ٹولہ آہستہ آہستہ عمران خان کی آںکھ اور کان بن رہا ہے ۔ کہتے ہیں کہ اگر پتھر پر مسلسل پانی قطرہ قطرہ گرے تو اس میں بھی سوراخ ہوجاتا ہے یہ حال عمران خان کے ساتھ ہوا، جو لوگ ریحام خان کو لندن سے تربیت دے کر لائے تھے وہ مسلسل خان کو حیلے بہانوں سے شادی پر مجبور کرتے رہے  پھر اے پی ایس کے واقعہ ہوا اور دھرنے کو ختم کرنا پڑا۔

جنوری میں عمران خان کی ریحام نئیر سے شادی کا باقاعدہ طور پراعلان ہوجاتا ہے اگرچہ کہ شادی اکتوبر کے آخر میں ہوچکی ہے اور ریحام بنی گالہ شفٹ ہوچکی ہے۔ یہاں سے کہانی مزید بڑھتی ہے ریحام کے ذریعے سب سے پہلے بنی گالہ کے وفادار ملازمین کی چھٹی کروائی جاتی ہے اور دوسری طرف سوشل میڈیا جسے پوری دنیا میں اب اظہار رائے اور عوام کی رائے عامہ کو جاننے کے لیۓ ہر حکومت توجہ دیتی ہے، وہاں پر باقاعدہ سے ریحام اور کچھ رہنماؤں کے فین کلبز بنائے گئے جہاں پر کرائے کے لوگ رکھ کر چوبیس گھنٹے تعریفوں کے پُل باندھنا کی ذمہ داری دی گئی۔ جیسے ہر خاتون شادی کے بعد اپنے گھر کا کنٹرول سنبھالتی ہیں ویسے ہی ریحام نے بنی گالہ کا کنٹرول سنبھال لیا پرانا عملہ تو فارغ کرہی دیا تھا نیا عملہ ریحام نے اپنی مرضی یا جو اس کو کہاگیا اس کو منتخب کرکے رکھا۔ چونکہ ریحام شروع سے سیاست میں آکر شہرت ، پیسہ اور طاقت کے خواب دیکھ رہی تھی اسنے شادی کے بعد سے ہی تحریک انصاف کے معاملات میں دخل اندازی شروع کردی اگرچہ کہ عمران خان کئی دفعہ کہہ چکا تھا کہ فیملی پالیٹکس ہم پسند نہیں کرتے لیکن ریحام کا عمل دخل روز بروز بڑھتا جارہا تھا تنقید پر عمران کو مجبور کیا جاتا کہ وہ ریحام کو ڈیفینڈ کرے۔ اب چونکہ یہ مفاد پرست ٹولہ باقاعدہ اپنا مہرہ عمران خان کا شریک ہمسفر بنا چکا تھا جو ناصرف عمران کی بلکہ ریحام کی کمزوریوں سے بدرجہ اتم واقف تھا اسنے اب ریحام کی ڈوریاں ہلانا شروع کردیں عمران کے کئی ساتھی جن میں اسد عمر، شاہ محمود قریشی پس منظر میں جاتے چلے گئے۔ اب ہر جگہ جہانگیر ترین نظر آنے لگا۔سوشل میڈیا پر پیڈ ٹیم نے کراچی سے تعلق رکھنے والے عارف علوی اور علی زیدی کو نشانہ بنانا شروع کردیا ، شیرین مزاری کو بھی آئے روز گالیوں سے واسطہ پڑنے لگا ۔ پھر اینٹری ہوئی چوہدری سرور کی اب تحریک انصاف کی لیڈر شپ میں عمران خان کے بعد صرف جہانگیر ترین یا چوہدری صفدر نظر آتے ، شاہ محمود، عارف علوی ، شیرین مزاری یا اسد عمر شاذ ونادر ہی تحریک انصاف کی لیڈرشپ پلیٹ فارم کی زینت بنتے ۔ سوشل میڈیا ، میڈیا پر ان لوگوں کے بارے میں طرح طرح کی خبریں اڑائی گئیں۔ ایک طرح سے ان لوگوں کا رابطہ عمران خان سے ختم کردیا گیا جو انڈراسٹینڈنگ تھی اسکی ختم کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔

کراچی کے این اے دوسوچھیالس کی کمپین میں جب عمران خان اکیلا یہاں آیا تھا توایم کیو ایم کے الطاف حسین نے ریحام کو بھابھی کہہ کر عروسی جوڑے اور سونے کے زیورات تحفے میں دینے کا اعلان کیا، ادھر اعلان ہوا دوسرے دن صبح ریحام خان کراچی میں تھی۔ ریحام کو کس نے مجبور کیا یا مشورہ دیا کہ وہ کراچی آئے وہ بھی اس اعلان کے بعد؟ کیا ریحام خود آئی یا بھیجی گئی؟ عمران کو بات بنانی پڑی کہ کراچی کی خواتین کو خوف کے احساس سے نکالنے کے لئیے میں اپنی بیوی کو لایا ہوں کمپین کرنے کے لئے۔ میڈیا کا توکام تھا کہ وہ مرچ مصالحے والی اسٹوری چلائے لیکن ریحام بھی شہرت کی بھوکی تھی لیکن اس کو کون اکسا رہا تھا وہ تمام باتیں کرنے کو جو وہ کررہی تھی؟ وہ لوگ کون تھے جنہوں نے اسد عمر جیسے رہنما کو پریس کانفرینس میں تیسری صف میں کھڑے ہونے پر مجبور کیا جبکہ فیصل واڈوا جیسے بندے کو جو کوئی رہنما نہیں جسکو تحریک انصاف کے اپنے حلقوں میں پسند نہیں کیا جاتا وہ اسد عمر سے آگے کھڑا تھا؟ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے ووٹرز سپورٹرز جنکی تقسیم تو عمران کی ریحام سے شادی پر ہی واضح ہوچکی تھی وہ کراچی کمپین پر مزید گہری ہوگئی جب وہ لوگ جو اس شادی کے مخالف تھے انہوں نے اس بات پر برا منایا کہ کیوں سیاست میں ریحام حصہ لے رہی ہے۔ اسی طرح کئی مواقع پر ریحام کی مسلسل سیاست میں مداخلت نے پارٹی کو بیک فُٹ پرکھیلنے پر مجبور کردیا تھا۔ پارٹی کا ایک بہت بڑا گروپ جو ریحام سے شادی کا مخالف تھا اور جسے عمران خان سے ملنے اور تحریک انصاف کی فیصلہ سازی سے الگ کیا جارہا تھا وہ مجبور ایک طرف ہوکر بیٹھ گیا اور اس کا کام صرف یہ رہ گیا کہ وہ عمران خان کے ہر فیصلے کی تائید کرے یا صفائی دیتا پھرے۔ تحریک انصاف میں ہی نہیں بلکہ اسکی سپورٹ کے رضاکار بھی دھڑہ بندی کا شکار ہوچکے تھے۔ پھر ہری پور کے ضمنی الیکشن ہوا تو ریحام وہاں کمپین کرنے پہنچ گئی۔ خان کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ ہری پورجیسے علاقے میں اپنی بیوی کو کمپین کرنے بھیجے؟ کیا ریحام وہاں خود گئی تھی یا بھیجی گئی تھی؟ اور پھر جو کچھ ریحام نے کہا اور اس پر جو ہا ہا کار مچی وہ دنیا جانتی ہے جب الیکشن میں بری طرح شکست ہوئی تو عوامی ردعمل نے عمران خان کو مجبور کردیا کہ وہ کسی جگہ اپنا فیصلہ لے لہٰذا اس نے ریحام پر پابندی لگادی سیاست میں حصہ لینے کی۔ اس پر بھی اگرچہ کافی بحث ہوئی ۔ پھر برطانوی اخبار میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں جس میں عمران خان کی سابقہ بیوی پر عمران کا گھر توڑنے اور حسد کا شکار ہونے کا الزام لگایا گیا اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا عمران خان کو پوری دنیا کے سامنے اپنی سابقہ بیوی کی حمایت کا اعلان کرنا پڑا۔ ادھر ریحام جھوٹی عوامی حمایت کے لئے اپنے سابقہ شوہر پر الزام در الزام میں الجھ پڑی جس میں اس کا جواں سال بیٹا بھی شامل ہوگیا۔ تحریک انصاف کے سپورٹرز جو ان تمام باتوں اور اپنا غصہ نکالنے کے باوجود تحریک انصاف سے محبت کرتے تھے وہ ذہنی کوفت میں مبتلا ہوگئے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ کون تھا جو ریحام کو برطانوی اخبار کو خبریں لیک کرنے پر اکسا کر اپنا کام نکلوا رہا تھا؟ عمران خان اپنے عائلی مسائل میں اتنا الجھ گیا تھا کہ اس کی توجہ پارٹی معملات سے یکسر ختم ہوگئی تھی، کے پی حکومت کیا کررہی ہے کیا نہیں کچھ پتہ نہیں تھا، کچھ بھی ہوجائے عمران خان بنی گالہ میں قید ہوکررہ گیا تھا ایک وقت تو یہ آیا کہ بنی گالہ کو لوگوں نے فنی گالا کہنا شروع کردیا۔ بہت سے لوگ لندن سے واپسی پر اس بات سے واقف ہوچکے تھے کہ طلاق اب آخری حل ہے کیونکہ ریحام کی تمام حرکتوں سے خان واقف ہوچکا تھا اور سب سے بڑا جھٹکا جمائما پر بے جا الزام تھا۔ یوں یہ شادی ایک سال چل سکی اور خان نے اکتوبر کے آخر میں ریحام کو طلاق دے دی۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

 

Posted in Uncategorized | Leave a comment

اس کا سدباب کیا ہے

پھر ایک اور حوا کی بیٹی پہلے ہوس کی آگ کا نشانہ بنی اورپھر سچ مچ کی آگ میں جلا کرماردی گئی۔ یہ اس ملک یا دنیا میں کوئی پہلا یا انوکھا واقعہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ہر سیکنڈ میں پتہ نہیں کہاں کہاں عورت ذات ہوس کا نشانہ بنتی ہے کبھی تو جان بچ جاتی ہے توکبھی بے دردی سے مار دی جاتی ہے۔ ملک ترقیافتہ ہو یا ترقی پذیر ایسے واقعات ہر جگہ ہوتے ہیں ۔ یہ قصہ آج کا نہیں بلکہ جب سے دنیا پر انسان نام کا جانور پیدا کیا گیا ہے تب سے یہ سلسلہ جاری ہے اور شاید قیامت کے وقت تک جاری رہے۔ زمانہء جنگ میں تو دشمن کی عورتوں کو تو خیر مال مفت دلِ بے رحم کی طرح نوچا کھسوٹا جاتا ہے اور قدیم مصر کے بازار کی طرح بازار سجا کر مول لگایا جاتا ہے لیکن زمانہء امن میں دشمن نہیں بلکہ آپ کے اپنے پہلے آپ کو نوچتے کھسوٹتے ہیں پھر عورت کو جنس کے بازار میں تول کر بیچتے ہیں ایک دفعہ نہیں ہر دفعہ ۔ آج کل جب ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے تو پہلے عورت کی پامالی کی ویڈیو بنائی جاتی ہے بلیک میل کرکے اپنا اور اپنے دوستوں کا خوب جی بہلایا جاتا ہے اورپھریہ ویڈیوز انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرکے دنیا بھر میں اس زخم زخم عورت کو بار بار ننگا کیا جاتا ہے بار بار بیچا جاتا ہے۔ اگرچہ کہ میری بات بھی عورت دشمنی گردانی جائے گی لیکن میں سوال ضرور کروں گی کہ دوسروں کی عزتوں سے کھیلنے والے کیا اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں بھی روز ایسے ہی اپنے ہاتھوں پامال کرتے ہیں؟ کیا ایسے ہی اپنی بہنوں بیٹیوں کو اپنے دوستوں کا جی بہلانے کے لئے پیش کرتے ہیں؟ کیا ایسے ہی اپنی بہنوں بیٹیوں کی عزت تار تار ہونے کی ویڈیوز بنا کر پوری دنیا میں پھیلا کر اپنی مردانگی کا ثبوت دیتے ہیں؟ ویسے مجھے امید تو نہیں ہے کہ کبھی نماز پڑھتے ہوں تو کیا نماز پڑھتے ہوئے جب اُس پاک و بابرکت رب ذوالجلال کے آگے سر بسجود ہوتے ہیں توذرا بھی دل لرزتا ہے اس خیال سے کہ شرک کہ بعد سب سے بڑا گناہ زِنا کے مرتکب ہوئے ہیں اور ایک ایک انسان جسے اللہ نے آزاد پیدا کیا اسکو جنسی غلام بنانے کے مرتکب ہورہے ہیں؟ کیا کبھی سوچا ہے کہ روزِ محشر توچھوڑو بڑھاپے میں جب زندگی کے میلے ٹھیلے پھیکے پڑجائیں گے اور موت سامنے نظر آئے گی توضمیر اگر کہیں سے اُدھار مل گیا تو کیا آئینے میں اپنا منہ دیکھ سکیں گے؟ مجھے معلوم ہے کہ کئی لوگ کہیں گے کہ “اللہ نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے” بے شک اللہ نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے لیکن مرد کو بھی نظر کے پردے کا حکم دیا ہے کیا مرد اس حکم کو پورا کرتے ہیں؟ اغوا ہونے والی اور ہوس کا نشانہ بننے والی لڑکی ہمیشہ بے پردہ یا آوارہ لڑکی نہیں ہوتی ہے جو اپنے جرم پر یہ کہہ کر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے کہ لڑکی بے پردہ اور آوارہ تھی۔ میں یہ بھی مانتی ہوں کہ اللہ نے فطری ضرورتیں رکھی ہیں تو اللہ نے ان ضرورتوں کے حل کے لئے نکاح کی خوبصورت و پاک سنت بھی رکھی ہے اور تو اور مرد کو اسکی فطری ضرورت کےلئے چار شادیوں کی بھی اجازت دی ہے تو پھر دوسروں کی بیٹیوں کی عزت سے کھیلنا ۔۔یہ آپ کو درندے سے بھی بدتر نہیں بناتا ہے؟ میں سارا الزام ادھر مردوں کو بھی نہیں دونگی بلکہ عورت کو بھی دونگی خاص طور پر ماں کو کیونکہ بچہ کوئی ماں کے پیٹ سے بُرا پیدا نہیں ہوتا ہے لیکن اس کی پہلی تربیت گاہ اسکی ماں ہوتی ہے جب ماں ہی اپنے بچے کے ذہن میں یہ ڈالے گی کہ وہ مرد ہے اور اسے حق حاصل ہے عورت پر چاہے وہ اسکی بہن بیٹی کیوں نا ہو اس پر تشدد کرنے اس سے بہتر چیز استعمال کرنے یا اس کا حق مارنے کا تو یہ سوچ اس بچے کی عمر کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتی جاتی ہے اور یہ تو حقیقت ہے کہ ماں کو اللہ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو نظروں اور شکل سے اسکی حالت یا اسکی عادات کا اندازہ لگا لیتی ہے جب پہلی دفعہ آپ کا بیٹا غلط حرکت کرتا ہے تو آپ اس حرکت پر منع کرنے سمجھانے کے اسکی پردہ داری کرتی ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ کا بیٹے کی کچھ فطری ضروریات ہیں اسکے سدباب کے لئے اسکی شادی کردینے کے بجائے یہ ڈرامہ کرتی ہیں کہ لڑکی چاند کا ٹکڑا ہو اور اتنا جہیز لائے جس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ لڑکے کی غلط عادات اتنی پختہ ہوجاتی ہیں کہ وہ شادی کے بعد بھی گندی عادت سے نکل نہیں پاتا اور گناہ کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے ۔ اگر ماں سب سے پہلے بیٹے کو روک لے تو باپ بھی بیٹے کو شے دینے کا قابل نہیں رہتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ دیہات میں تو خیر عورت نے ہی عورت کو پیر کی جوتی بنانے کی روایت ڈالی ہوئی ہے لیکن شہروں کی پڑھی لکھی مائیں بھی دیہات کی خواتین کی طرح کی سوچ ہی رکھتی ہیں۔ جب کہ اگر ہم حکومتی سطح پر دیکھیں تو سر شرمندگی سے ہی جھکتا ہے کیونکہ جس کے پاس جتنا پیسہ اور طاقت ہے وہ دوسروں کی بیٹیوں کو راہ چلتے اغوا کرنے اور پھر عزت خراب کرنے کو اپنی طاقت کا مظاہرہ سمجھتا ہے کیونکہ حرام کے کمائی نے ان کے خون کا ایک ایک قطرہ حرام کردیا ہوتا ہے لہٰذا یہ حلال و حرام کی تمیز بھول کر صرف طاقت کے نشے میں ہر حرام کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمیں زنا بالجبر یا زنا بالرضا کی روک تھام کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضروت نہیں ہے ہمیں چوداں سو سال پہلے قرآن میں اسکی روک تھام کے لئے سزائیں بتا دی گئی تھیں ہمیں صرف ان سزاوّں پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ جس دن حکومت نے یہ سزائیں سرعام دینا شروع کردیں بلا کسی تخصیص کے اس دن سے یہ گھناوّنا کام اگر مکمل ختم نہیں ہوگا تو کم ضرور ہونا شروع ہوجائے گا۔ یہ ایک گندی بیماری ہے اس کو ختم کرنے کے لئے سب کو کام کرنا پڑے گا ورنہ اس گندگی کے جراثیم ہم سب تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | 1 Comment