اقبال اور ہم

آج نو نومبر ہے شاعرمشرق علامہ اقبال کا یوم پیدائش ، سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر سیمینارمنعقد کئیے جارہے ہیں اور اقبال کی شاعری اور اس میں امت مسلمہ کو دئیے گئے پیغام پر تقاریر اور مضامین پڑھے جارہے ہیں ۔ میڈیا پربھی سیاسی قائدین کے بیانات چل رہے ہیں یعنی کافی شوروغوغا ہے۔ کچھ گھنٹوں کے بعد دس نومبرکی تاریخ شروع ہوجائیگی اور نیا دن طلوع ہوجائے گا اور پھر کون اقبال اور کونسا اقبال کا پیغام۔ سب کچھ بھول بھال کر پھر وہی ہم ہونگے اور وہی ہمارے کارنامے۔

اقبال کا شعر “خودی کوکربلند اتنا کہ ہرتدبیرسے پہلے خدا بندے سے پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے” کو اپنی تقاریر کا حصہ بنانے والے جسطرح سے خودی کو ردی کے بھاو بیچتے ہیں اس سے خودی بھی شرمندہ ہوجاتی ہے۔ اسکی عمدہ مثال ہمیں اپنے حکمران طبقے اور اشرافیائیہ کے کرپشن اور تواترسے عوام سے دروغ گوئی سے ملتی ہے۔ اگرچہ کہ میڈیا اور سوشل میڈیا نے اب کسی بھی جھوٹ کو انجان قبرکا حصہ بننے سے روک دیا ہے مگر یہ اشرافیائہ اسکے باوجود اتنی ڈھٹائی اور روانی سے اور متواتر جھوٹ بولتے ہیں کہ عوام کا صبرکا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور کبھی بھی چھلک کرتباہی لاسکتا ہے ان اشرافیائیہ کی۔ کرپشن کو چھپانے کیلئے جھوٹ کے زہریلے درخت کی جڑوں کومضبوط کرنے میں ہمارے حکمرانوں کو ہی مورد الزام قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ جب طاقت آپ کے ہاتھ میں ہو تو کس کی مجال جوآپ کے سامنے پربھی مارسکے، لہزا جھوٹ ملک کے اعلی ترین عہدے صدر اور وزیراعظم سے ہوتی ہوئی ایک چپڑاسی تک رگ و پے میں بس چکا ہے، یہاں تک کہ ہم اپنے بچوں کواسکول میں دینیات میں جو سبق پڑھاتے ہیں کہ اسلام میں جھوٹ بولنا گناہ ہے وہ بھی اب ایسا لگتا ہے کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ اس جھوٹ نے زندگی کے ہرشعبے کو اپنے غلیظ پنجوں میں جکڑا ہوا ہے۔ جھوٹ ہمارا قومی خصلت کا درجہ پا چکا ہے ۔ ہم بات تو جناح اور اقبال کی کرتے ہیں مگر صد افسوس اسوقت بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے ہیں۔ ایسی ایسی من گھڑت باتیں ان دو عظیم رہنماوں سے جوڑ دیتے ہیں کہ اگر ان دونوں رہنماوں کے دشمن بھی سنیں تو کف افسوس ملیں کہ کس قسم کی قوم ہے جو اپنے محسنوں سے بھی جھوٹ گھڑتی ہے۔ یہ تو ان رہنماوں کا حال ہے جوہم کرتے ہیں صرف اپنی ذاتی تسکین کی خاطر، ورنہ توہم نے اللہ اور آپ جناب رسول اللہ کی ذات اقدس سے بھی پتا نہیں کیا کیا بے سروپا باتیں منسوب کی ہوئی ہیں جو ہم بہت ڈھڑلے سے دنیا کو بتاتے اور عمل کرتے ہیں ۔ یہ جانتے ہوے بھی کہ دروغ گوئی کی سزا کیا ہے۔

خالی آج کے دن اقبال کی شاعری اور انکے پیغام پر آئیں بائیں شائیں کرنے سے کام نہیں بنے گا، ہمیں اپنا گریبان جھانکنا ہوگا ، نا صرف انفرادی طورپربلکہ قومی سطح تک ہمیں اپنا چلن ٹھیک کرنا ہوگا نا صرف اپنے لئیے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کیلے ۔۔۔

ذرا سوچئیے

نوٹ : یہ بلاگ نونومبرکولکھا گیا تھا ۔

ایس۔گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s