دھرتی ماں

نوٹ: یہ بلاگ گیارہ نومبرکولکھا گیا تھا۔ 

ایک عورت کے بہت سے بیٹے تھے ہر ایک کی عادت واطوار دوسرے سے مختلف تھی جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے اپنی ماں کی خدمت اپنے رنگ ڈھنگ سے کرتے رہے کبھی ماں عروج کے اعلی مقام پرہوتی توکبھی درمیانے درجے پر۔ پھرایک وقت آیا کہ عورت کہ دو بیٹوں نے اپنی ماں کی خدمت اپنے ذمہ لی ماں تھی تو سوچا کہ شائد یہ بھی اچھی نا سہی بری خدمت بھی نہیں کریں گے مگر افسوس اس عورت کو معلوم نا تھا کہ اسکے قسمت کا ایک بڑا حصہ پستگی کی اس نہج پرپہونچنے والا ہے جہاں کوئی بھی باشعور باعزت پہونچنا تو کیا سوچنا بھی نہیں چاہتا۔۔ ان دونوں بیٹوں نے ماں کی خدمت کی ذمہ داری ایک مخصوص وقت کے دوران آپس میں بانٹ لی کہ اتنا عرصہ تم خدمت کرو اور اتنا عرصہ میں۔ خیر پہلی باری چھوٹے بیٹے نے اپنی بیوی کے کاندھوں پرسوار ہوکر سنبھال لی، خدمت کا انوکھا طریقہ نکالا کہ ماں کے راز محلے داروں کو فروخت کرکے اپنی ماں کی عزت کو داو پرلگاتے رہے ماں کے خدمت کرنے کے عوض جو بھی ماں کے نام پر سامان خریدتے اس میں نوے فیصد اپنا رکھتے اور دس فیصد ماں کی خدمت میں لگانے کے بہانے اپنے نوکروں کے ذریعے اپنے ہی خزانے میں بھرتے ، جب یہ بات بڑے بھائی نے دیکھی تواس سے رہا نا گیا اسنے پورے محلے میں ڈھنڈورا پیٹ ڈالا برادری کے بڑھے بوڑھے آگئے پھر ماں کی ذمہ داری بڑے بیٹے کو دی گئ مگر شومئی قسمت بڑا بیٹا تو چھوٹے سے بھی چار  ہاتھ آگے نکلا اسنے تواپنی ماں کی عزت کا سودا ہی کرڈالا ماں کو مجبور کردیا کہ وہ اپنی عزت روز غیروں سے نچواتی اور بڑا بیٹا اسکی ساری کمائی دوسروں کی ماوں کے قدموں میں ڈال کر اپنی جگہ انکے گھروں میں بناتا انکے گھروں کو سجاتا سنوارتا ۔۔۔۔یہ سلسلہ پچھلے تیس سال سے مظلوم ماں جھیلتی آئی اب اس ماں کا ایک اور بیٹا جوان ہوگیا ہے مگر اسنے تو اس ماں کے بڑے بیٹوں کی اجارہ داری کے سنگھاسن کو ہلا کررکھ دیا ہے۔۔ ماں بھی اب اپنی لٹی عزت کو سمیٹنا چاہتی ہے کہ شائد پھر وہی عزت کا مقام مل جاے جو کبھی اسکا حق تھا۔

سمجھ تو گے ہونگے آپ لوگ ….

ایس-گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s