پاکستان کا قومی پیشہ

نوٹ : یہ بلاگ دس نومبرکولکھا گیا تھا۔ 

بچپن میں سنتے اور پڑھتے آئے کہ بھیک مانگنا بری بات ہے اور اب جب اپنے اردگرد دیکھتے ہیں تولگتا ہے کہ اس ملک کا قومی پیشہ شائد بھکاری ہونا بن گیا ہے۔ زندگی کے ہرشعبے میں بھیک مانگنے کے الگ الگ طریقہ کار مروج ہیں- بس یہ آپ کے اوپر منحصر ہے کہ آپ زندگی کے کس شعبے اور کس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اسی لحاظ سے بھیک مانگنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔

آپ گھر پرہوں تو ٹی وی پر مختلف اشتہارات اور بریکنگ نیوزکے پیچھے چھپے بھیک مانگنے کے مختلف طریقے نظر آئینگے گھرسے باہر قدم رکھیں توگلی محلے اسٹاپ، سگنل بازار الغرض بھانت بھانت کے دل کو پسیج دینے والے خوبصورت الفاظ اور حلئیے آپ کو مجبورکرتے نظرآئینگے کہ آپ انکو بھیک دے دیں۔

آوے کا آوا ہی بھکاری ہے، ہر لیول کا بھکاری آپ کو ملک میں وافرمقدار میں مل جائیگا، ضیاء اور بھٹو کا شکریہ کہ خود تو اوپر کے ٹکٹ کٹوا رکرچلے گئے مگر اپنے پیچھے اپنی گندگی ہمارے لئیے چھوڑ گئے ۔ اب پچھلے تیس سال سے ان دونوں کے باقیات اس ملک کے بچے بچے کو پیشہ ور بھکاری بنانے کے عملی مشق کروا رہے ہیں- ملک ملک اس قوم کے خون پسینے کی کمائی پر دورے کرکے بھیک مانگتے ہیں کبھی کسے کے نام پر کبھی کس کے نام پر۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ بھیک مانگی کسی اور کے نام پر جاتی ہے اور جیب میں داخل کسیاور کے ہوتی ہے۔

ایس-گل 

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s