کچھ انکے بارے میں جن کے وجود سے ہیں کائنات میں رنگ

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ، یہ الفاظ سنا ہر خاتون کے کانوں کو بہت بھلے معلوم ہوتے ہیں، مگر ان الفاظ کے پیچھے چھپے مطلب کو کبھی ہم نے نا جانے کی کوشش کی ہے نہ ہی سمجھنے کی۔ بے شک جس گھر میں عورت کا وجود نہ ہو وہ گھر گھر نہیں صرف اینٹ اور گارے سے بنا ایک مکان ہوتا ہے۔ یہ عورت ہی ہوتی ہے جو ماں، بہن، بیوی، بیٹی جیسے مختلف روپ میں اس مکان کو ایک گھر کی شکل دیتی ہے۔ ان مختلف رشتوں کو کے پیچھے جو عورت ہوتی ہے وہ ہی گھر کہ جنت یا جہنم بناتی ہے۔ ہر رعورت چاہے وہ کسی بھی رنگ نسل مذہب سے تعلق رکھتی ہو وہ خوبصورت ہے کیونکہ اللہ نے اس پر پوری کائنات میں سب سے اہم ذمہ داری کا بوجھ ڈالا ہے اور یہ ہی ذمہ داری ایک عورت کو دنیا کی سب سے خوبصورت تخلیق کی معراج پر پہنچاتی ہے۔ ظاہری حسن وجمال گزرتے وقت کے تھپیڑوں میں ڈھل جاتےہیں مگر عورت کا کردار، عادات و اطوار، اخلاق، ایثار اور اسکی آئندہ آنے والی نسلوں کی تربیت تو اس دنیا تو کیا اس ابدی دنیا میں بھی اسکے ساتھ ہوتے ہیں مختلف صورتوں میں۔

عورت ہونا بذات خود ایک نعمت خداوندی ہے، ماں بنے تو پیروں تلے جنت، بہن بنے تو بھائیوں کیلے دائمی دوست و غمخوار، بیوی بنے تو زندگی کی ہمسفر، بیٹی بنے تو جنت کے دروازے کھلوانے والی رحمت،غرض اللہ نے ایک عورت کو ہر رشتے میں کچھ نا کچھ اعلٰی و ارفعٰ حیثیت سے نوازہ ہے جو وہ متعین کئے گئے رشتوں میں انجام دے تو زندگی جنت اسی دنیا میں بن جاتی ہے اور اسکی شکر گزاری میں اللہ اس جنت سے بھی نواز سکتا ہے۔ یہ خوبصورت و اعلٰی حسن و جمال عورت کو اللہ نے دائمی دیا ہے اگر وہ اس بات کو سمجھے اور ان رشتوں کو انہی اسلوب سے نبھائے جو ان رشتوں سے متقاضی ہیں۔

جہاں اتنا کچھ عورت کو اللہ نے نوازہ ہے وہیں کچھ ایسی خصلت و عادات بھی دی ہیں جو ایک طرح سے عورت کیلئے امتحان مسلسل کی مثل ہیں اور ہر عورت میں کم و بیش بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ مثلا” کوتاہ بینی، بے صبری، رشک و حسد، اور سب سے بڑھکر حکمرانی کی چاہ۔ اگر یہ باتیں کسی عورت میں اوج کمال پر پہنچ جائیں تو وہی عورت جو اپنی محبت، خلوص، ایثار، مامتا سے گھر کو جنت بناتی ہے، وہ اسی گھر کو تو کیا آنے والی پتا نہیں کتنی نسلوں کیلئے جہنم مسلسل کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ کیونکہ اس عورت سے جڑا ہر رشتہ براہ راست ان برائیوں کے زیر اثر آتا ہے اور پھر ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ تب تک جاری رہتا ہے جب کوئی اور عورت بہن، بیٹی بہو، بیوی کے روپ میں ان بری عادات و اطوار کے بلکل مخالف محبت، خلوص اور صبر سے اس بگڑے گھر کو پھر سےجنت کا نمونہ نا بنا دے۔

کہتے ہیں کہ عورت گھر کی ملکہ ہوتی ہے، کیونکہ مرد تو گھر سے باہر رہ کر روزی روٹی کیلئے نوکری یا کاروبار میں مصروف ہوتا ہے جبکہ گھر میں عورت نہ صرف مرد کی عزت کی نگہبان ہوتی ہے بلکہ اولاد کی تربیت کی بھی ذمہ دار ہوتی ہے جسکی حفاظت اتنی ہی ضروری ہے جیسے اپنی عزت۔ لہذٰا یہ رشتہ ماں کا ہوتا ہے، اس رشتے کو اللہ نے جو عزت دی ہے وہ ان الفاظ سے پتا چلتی ہے کہ “اللہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتاہے” یہ الفاظ ماں کے رشتے کے تقدس و احترام کو بیان کرنے کیلۓ ہی کافی ہیں۔ اور پھر یہ کہ “ماں کے قدموں تلے جنت ہے” سونے پر سہاگہ ہیں۔ اس کائنات میں اللہ نے جو سب سے اہم ذمہ داری عورت کو دی ہے وہ ایک انسان کی تخلیق سے لیکر پیدائیش کا عمل سے شروع ہوتی ہے۔ اللہ نے عورت کے پیٹ کو نو ماہ تک ایک انسان کی مکمل تخلیق کیلئے چنا ہے جس دوران پتا نہیں کتنے مراحل و تکالیف سے عورت کو دو چار ہونا پڑتا ہے، اور اسی اثنا میں وہ جز جو ایک عورت کا خاصا ہوتے ہیں وہ اسکے دل میں پنپتے ہیں محبت، ایثار، خلوص، مامتا۔۔۔ اور پھر پیدائش ۔۔۔ سمجھا جائے تو یہاں تک کی ذمہ داری عورت زندگی و موت کے بیچ پوری کرتی ہے، مگر اسکے بعد جو اصل ذمہ داری ہوتی ہے جو اصل امتحان ہے وہاں عورت کبھی کامیاب ہوتی ہے تو کبھی ناکام۔ ہم عورتیں اس غلط فہمی میں بھی مبتلا ہوتی ہیں کے تخلیق کے عمل سے گزر کر ہم بس اب اپنے پیروں تلے جنت کے مالک ہونے کے حقدار ہوگئے ۔ باقی اب ہم پر کچھ خاص ذمہ داری نہیں ہے۔ کیا واقعی ذمہ داری ختم؟ نہیں ایسا نہیں ہے کیونکہ تخلیقی عمل سے تو ہر چرند پرند بھی گزرتا ہے، تو کیا انکے پیروں تلے بھی اللہ نے جنت رکھی ہے؟ نہیں نہ؟ کیونکہ اصل کام تخلیق سے شروع ضرور ہوتا ہے مگر انجام پزیر اسی پر نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ بچے کے دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد اصل محنت شروع ہوتی ہے۔ بچا ایک خاص عمر تک اس دنیا سے روشناس ہونے تک کے لیے والدین خاص طور پر ماں پر انحصار کرتا ہے، یہی اصل وقت ہوتا ہے ماں کے پہلے امتحان کا کہ وہ بچے کو اپنے رشتوں ، زندگی اور آس پاس کے ساتھ کے لوگوں سے کیسے متعارف کرواتی ہے،اسکا زیادہ انحصار خود عورت کے اپنے رویے پر ہوتا ہے کہ وہ زندگی کو کیسے برتی ہے کیسے اپنے آس پاس کے رشتوں کو نبھاتی ہے۔ اور یہی تعارف جو کچی عمر میں بچے کو دیا جاتا ہے وہ ساری عمر بلکہ کبھی کبھی آخیر عمر تک ساتھ رہتا ہے۔

عورت ایک متضاد شخصیت کی مالک ہوتی ہے، جو کچھ وہ اپنی ذات کیلئے ضروری سمجھتی ہے یا پسند کرتی ہے وہ کابھی دوسری عورت کیلئے پسند نہیں کرتی،( آزمائش شرط ہے۔ ) یہی حال عورت سے وابستہ ہونے والے رشتوں کے ساتھ بھی وہ روا رکھتی ہے۔

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

2 Responses to کچھ انکے بارے میں جن کے وجود سے ہیں کائنات میں رنگ

  1. amirsyedzaidi says:

    ماشا اللہ ،،کیا خوب لکھا ھے،،اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    Like

  2. S.Gull says:

    شکریہ ، تنقید اور تجویزدونوں ہمیشہ ضرورت رہیں گی ۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s