قومی مزاج

نوٹ: یہ بلاگ تیرہ نومبرکولکھا گیا تھا

چھوٹے تھے تو بڑوں بزرگوں سے کبھی کسی رشتےدار یا کسی واقعے کے وقوع پذیرہونے پر”آنکھوں کا پانی خشک ہوگیا ہے” “خون سفید ہوگیا” ہے جیسے استعارے سنتے تھے، پھر وقت اور شعورکی منزلوں سے گزرتے ہوئے اکا دکا ہلکے پھلکے ان استعاروں کا استعمال ڈھکے چھپے انداز میں دیکھا بھی مگر کچھ عرصے سے جس انداز میں ان استعاروں کا استعمال کھلے عام ڈنکے کی چوٹ پر ملک کی معاشرتی اور سیاسی سطح پر ہوتے نظرآرہا ہے وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ یہ سوچا جائےکہ اس ملک کی عوام کی جو اجتماعی زیادتی اشرافیہ کے ہاتھوں کی جارہی ہے وہ ثابت کرتی ہے کہ اس ملک کے کرتاوں دھرتاوں اور انکے طفیلیوں کی “آنکھوں کا پانی خشک “ ہوگیا ہے۔ کسی معصوم غریب بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہو یا بے گناہ میاں بیوی کو انکے بچوں کے سامنے زندہ جلانا یا پھر خشک سالی سے بدحال غریب تھری ہوں انکی تکلیف اور دکھ کامداوا کرنے سے  ان اشرافیہ کا کچھ لینا دینا نہیں ہاں مگر اگر فوٹو سیشن ہو اور جیب کو مال سے بھرنے کا موقع مل سکتا ہے تو پھر ایک دو الفاظ بھیک کے طورپرپھینکنے کیلیے یہ اشرافیہ دن رات تیار ہے۔ یہی حال انسانی حقوق اور حقوق نسواں کے نام پر مال اور نام بٹورنے والی خواتین کا ہے فورن ٹرپس، تعلقات اور پیسہ ملتا ہے جہاں وہاں یہ واقعہ ہونے سے پہلے پہنچنے کو ہر گھڑی تیار ہیں۔

اس بیچارے پاکستان کی عوام کو بے حسی اور خودغرضی جیسے موذی مرض کا شکار کرنے میں فی الحال کوئی اور نہیں اپنے ہی پیش پیش ہیں  اور اب یہ ہمارے قومی مزاج بنتے جا رہے ہیں ۔

 

ایس۔گل 

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s