نسل کش مہربان

کچھ عرصہ پہلے تک جب سوشل میڈیا اور سینکڑوں چوبیس گھنٹے چلنے والے ٹی وی چینلزنہیں تھے تب اگر محلے میں  یا عزیز رشتے داروں میں کسی کی موت کی اطلاع ملتی تو ایک عجیب سی سراسیمگی کی لہر دوڑ جایا کرتی تھی ، کئی کئی دن تک دل پرایک خوف طاری رہتا اور اللہ سے توبہ استغفار کا سلسلہ جاری رہتا۔ موت ایکطرح سے عجوبے کا درجہ رکھتی تھی ۔ پھر ٹیکنالوجی کی ترقی نے اطلاعات کوگھر گھر پہنچاکر ایک معاشرتی انقلاب بپا کردیا جہاں لوگوں کی زندگی میں بہت تبدیلیاں رونما ہوئیں وہیں عمومی روئیے بھی بدلنا شروع ہوگئے ۔ ملک میں پچھلے دس گیارہ سال سے جاری دہشتگردی نے اگرچہ لوگوں کے ذہن پر بہت اثرات مرتب کئے ہیں مگر وہ طبقہ جوملک کی باگ دوڑ واسطہ و بلاواسطہ سنبھالتا یا اسکا حصہ دار بنتا ہے اور جس پراس دہشتگردی کا اثر اتنا رونما نہیں ہوتا اسکے بے حس روئیے نے عوام کوبھی بے حسی کی راہ دکھا دی ہے۔ آج ہم موت کی مختلف شکلیں اتنی دیکھ چکے ہیں کہ موت اب ہمارے لئیے کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔ ایک دن میں اگرسو لوگ بھی مرجائیں تو ہم کچھ دیرکیلئے تو دکھی ہونگے پھر چینل بدل دینگے کہ بھئی اب ہم کیا کرسکتے ہیں کہ انکی موت ایسے ہی لکھی تھی اور اسکے بعد وہی ہم ہونگے اور وہی زندگی کے کام دھندے۔ اسطرح رات گئی بات گئِ والی مثال پرہم پوری طرح عمل پیرا ہوتے ہیں۔ ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ آج تھر میں معصوم بچے جنہوں نے ابھی زندگی کیا ہے یہ سمجھا ہی نہیں ہے وہ بھوک کی شکنجوں میں جکڑکراپنی جان سے جا رہے ہیں سرگودھا اور فیصل آباد میں ہسپتالوں میں نومولود آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اپنے اصل مالک کی طرف واپس جا رہے ہیں اور ہمارے ارباب اختیار جن کوہم نے اپنی اور اپنے ملک کی باگ دوڑ کا اختیار دیا ہے وہ ایسے ایسے بہانے تراش رہے ہیں کہ دل چاہتا ہے کہ زمین میں زندہ گاڑ دیا جائے مگرشائدزمین انکو قبول نا کرے کہ وہ بے حس نہیں ہے۔کیا عجب تماشا ہے دنیا کہ لئے کہ ہمارے ملک میں ہمارے حکمرانوں اور انکے چیلوں چانٹوں کے سیاہ کرتوتوں کی بنا پر لوگ یا توسیلاب میں مرتے ہیں یا پھر قحط میں۔ اور یہ حکمران کبھی یہ کہہ کرجان چھڑوا لیتے ہیں کہ جی میڈیکل سہولیات نا ہونے کہ وجہ سے بچے زچگی میں مرجاتے ہیں بھوک کی وجہ سے نہیں اور کہیں یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ جی بچے تو وقت سے پہلے پیدائش پرمرے ہیں۔ واہ آپ کی سادگی اور ہماری بے حسی کہ آپ نے کہا اور ہم نے مان لیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ لاکھوں ٹن گندم چوہے کیڑے کھا جاتے ہیں  وہ انکی بھوک مٹا سکتے ہیں، لاکھوں کروڑوں روپیہ پلوں اور بسوں کے بجائے ہسپتالوں کو بہتربنانے میں لگایا جا سکتا ہے مگرنہیں۔۔۔ جیسے ہمارے بے حس مہربان ویسے ہم بے حس قدردان  ۔۔۔۔ اپنی ہی نسل کشی کرنے پر آمادہ ہیں ۔

 

ایس-گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s