عقل کل

ہم میں سے بہت سے لوگ ماضی میں زندہ رہنا پسند کرتے ہیں کچھ ماضی کوسوچنا بھی نہیں پسند کرتے اور کچھ ماضی سے رشتہ جوڑے رکھتے ہیں کچھ سیکھنے کیلِئے ۔ آخری بیان کی گئی قسم بہت متروک ہے، زیادہ تر لوگ پہلی دو اقسام میں وافرمقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اول الذکر قسم کے لوگ زیادہ ترماضی کی صرف وہ یادیں یاد کرتے ہیں ہیں جب وہ فاتح تھے یا انکا گزرا حال بہت روشن تھا، یہ قسم گزرے ماضی پرٹھنڈی آہیں تو بھرتی ہے مگر یہ تردد بلکل نہیں کرتی کہ ان اسباب کا جائزہ لے کہ ایسے کیا عوامل یا فیصلے تھے جنہوں نے انکو گزرے وقت کے حال میں خوشحالی اور خوشیوں سے دوچار کیا، یا وہ کیا محرکات یا  فیصلے تھے جو غلط ثابت ہوئے اور آپ موجودہ شکستہ حالات سے دوچار ہوئے۔ یہ قسم مثبت اور منفی دونوں عوامل کو سوچنا ہی نہیں چاہتی ہے اورسارا قصور بیچارے نصیب کے کھاتے میں ڈال کراسکو کوستی رہتی ہے۔ جبکہ دوسری قسم جو ماضی کوبلکل نہیں سوچتی ہے اس سے تو اس بات کی توقع ہی رکھنا عبث ہے کہ وہ اپنی گزری خوشحالی یا غلطیوں سے سبق حاصل کرے گی بلکہ اپنے گزرے وقت  سے کچھ سیکھنے کے بجائے یہ قسم پچھلی غلطیوں کو ناصرف دھراتی ہے بلکہ اپنی کوتاہ عقلی کا اعلیٰ مظاہرہ کرتے ہوئے مزید ایسی نسلی قسم کی غلطیوں پر غلطیاں اور غلط فیصلے کرتی ہے کہ انسان سرپیٹ کررہ جائے ۔ اگرچہ کہ ان لوگوں کو تجربہ کا ری کا وسیع وقت رکھنے کا دعویٰ ہوتا ہے۔ اگر اس قسم کے لوگ کسی ملک کی باگ دوڑ کے ذمہ دار قرار پائیں تو اس ملک کو کسی بیرونی دشمن نہیں بلکہ یہ لوگ ہی کافی ہوتے ہیں  ڈبوکرنیست و نابود کرنے کیلیے۔ آجکل ہمارا ملک ناصرف اس قسم کے حکمرانوں کے زیرسایہ ہے بلکہ عوام کا ایک طبقہ بھی اس قسم کی ترجمانی بہت زوروشور سے کرتا نظرآتا ہے۔ بحیثیت مجموعی ہم عوام اپنے ماضی کی تابناکی کے اسباب اور غلطیوں سے کچھ سیکھنا نہیں چاہتے کیونکہ ہمیں عقل کل ہونے کا کیڑا کاٹ چکا ہے۔

 

ایس-گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

4 Responses to عقل کل

  1. ماضی سے سیکھنا اور ماضی کی غلطیوں پر نادم ہونا یہ پماری قوم نے سیکھا ہی نہیں ہے بی بی

    Like

  2. اور یہ آخری کمنٹ ہے میرا تمھارے بلاگ پر کیونکہ “ماڈریشن حرام ہے”

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s