یہ کونسی راہ ہے؟

جیسے جیسے وقت گزررہا ہے دنیا کی معاشرت بھی اسی رفتارسے بدل رہی ہے۔ اگرغور کریں توپتہ چلتا ہے کہ آج پوری دنیا کو معیشت کے عفریت نے قابو کیا ہوا ہے، بڑے بڑے بین الاقوامی تجارتی ادارے جو مختلف مصنوعات تیار کرتے ہیں انہوں نے تجارت و معیشت سے لیکر اطلاعات ونشریات اور سیاست تک پر اپنے نوکیلے پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ جنگ ہو یا انسانی جان بچانے والی ادویات ، یہاں بھی ان تجارتی اداروں کا طوطی بولتا ہے۔ اگرچہ کہ یہ ایک طویل بحث ہے مگر اسکا ایک  بھیانک اثر نوجوان نسل پرپڑرہا ہے کہ کس طرح ان اداروں نے دنیا کے ہر عمر کے انسان خاص طورپرنوجوان نسل کو کس ڈگرپرچلا دیا ہے۔ آج ہماری دنیا مادیت پرستی میں اتنی گم ہوچکی ہے کہ اچھے برے کی تمیزکرنے کی صلاحیت اب ناپید ہوتی جارہی ہے۔ ایک بھیڑچال کا عالم ہے ، ہم بس ایک دوسرے کی نقل میں اپنی تمام ترصلاحتیں حتی کہ رشتے تک داو پر لگا دیتے ہیں۔ آج ہم نے سوچنے سمجھنے کی صلاحتوں کو صرف پیسہ کمانے ایک اسٹیٹس کو حاصل کرنے اور پھر اسکو مستحکم کرنے کے  استعمال پرلگادیا ہے یہ سوچے سمجھے بنا کہ ہم اپنےیا اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کوہم کس طرح سے تاریکی میں دھکیل رہے ہیں۔ آج شخصی آزادی کے نام پر جوکچھ ہم نے اپنایا ہوا ہے وہ شخصی آزادی دنیا کی کوئی بھی تہذیب یا تعلیم یا فتہ معاشرہ پسند نہیں کرتا ہے۔ ترقی کی جو منازل ہم طے کرنا ہی ترقی سمجھتے ہیں وہ ہماری ناقص عقلی ہے کیونکہ وہ  دراصل انسانی تنزلی ہے.  ہمیں مادیت کی چکا چوند نے بلکل اندھا کردیا ہے اور ہم ترقی کے  اصل میں کیا معنی  ہیں  اسکو بھلا بیٹھے ہیں۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے جب بچوں کی تعلیم و تربیت پروالدین کی گہری نظر ہوتی تھی، کس سے مل رہے ہیں کیا کررہے ہیں انکو اسکا بخوبی اندازہ ہوتا تھا زیادہ توجہ ظاہری دکھاوے کی ترقی کی بجائے باطنی و ذہنی ترقی پر توجہ دی جاتی تھی ادب و آداب ، سماجی و معاشرتی اونچ نیچ ، مذہبی اور اخلاقی ذمہ داریوں پرتب ہی کام شروع کردیا جاتا تھا جب بچہ تھوڑا بہت سیکھنے کی عمر پر پہونچتا۔ تعلیم کہ لئے اگرچہ کہ کوشش ہوتی کہ کسی اچھے اسکول سے حاصل کریں مگر اس بات کو مدنظررکھا جاتا کہ اسکول کا ناصرف نصاب کیسا ہے بلکہ تعلیم دینے والے اساتذہ کی علمی صلاحیات و کردار کو بھی چھان پھٹک کردیکھا جاتا تھا۔ جوان ہوتے بچے بچیوں کو انکی حدود کے تعین کا ادراک بھی دلایا جاتا تھا اگرچہ کہ بہت سے گھرانوں میں آزادی رائے اور شخصی آزادی بھی حاصل تھی مگر وہ بھی اس حد میں جو کسی بھی انسان کو انسان کا شرف دے سکے۔ اگرچہ کہ وہ وقت بھی برائیوں اور بے راہ روی سے پاک نہیں تھا مگر اسکا وہ حال بھی نہیں تھا جو آج کے معاشرے میں ہے۔  اب برائی برائی  کے طورپرنہیں بلکہ “ترقی یافتہ” ہونے کی دلیل بنتا جا رہا ہے۔ جب ہم نے رنگ برنگی نئی نئی اشیاء کودل لبھانے والے اشتہارات کی صورت میں دیکھا تو انکے حصول کی چاہ ہوئی گوکہ یہ ایک انسانی خصلت ہے جو ازل سے اور ابد تک رہے گی مگر یہ کہ ہم اپنی چادر کے مطابق پاوں پھیلاتے ہم نے قناعت کو فولاد کے صندوق میں بند کرکے سمندر کی تہہ میں پھینک دیا اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئےہراچھے برے کام کو اپنایا، رشوت ، کرپشن ، حقدار کا حق کھانا، کمیشن، الغرض جہاں سے پیسہ ملے اسے حاصل کرلو کا اصول اپنا لیا، یہ بھول گئے کہ اسکا اثر کہیں نا کہیں تو نکلے گا۔ جیسے جیسے دنیا ایک گلوبل ویلج بنتی گئی ویسے ویسے  لوگوں کو آئے روزمارکیٹ میں آنے والی اشیاء کی معلومات حاصل ہونا شروع ہوگئی ، جنکے پاس پیسہ تھا وہ تو خرید لیتے مگر جنکے پاس پیسہ نہیں وہ کف افسوس ہی ملتے۔ پھر ان اشیاء نے معاشرے میں طباقتی فرق کو اور گہرا کرنا شروع کردیا جسکی ابتداء گھر محلے حتی کہ اسکولوں سے شروع ہوئی ۔ مگر اس میں سارا ہاتھ صرف تجارتی اداروں کا ہی نہیں    ہے  بلکہ اسکی بھاری ذمہ داری والدین پربھی  عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو ہر دنیاوی چیزلیکر دینے کے لیے دن رات ایک کرنے کو تیار رہتے ہیں اچھا برا جیسے بھی بن پڑے کہ بس ہمارا بچہ فلاں کے بچے سے کسی بھی طرح کمترنظر نا آئے مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ والدین کی اصل ذمہ داری بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت ہے۔

آج یہ حال ہوچکا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے مصروفیات سے بلکل ہی لا تعلق ہوچکے ہیں، وہ کہاں جاتے ہیں کیا کرتے ہیں انکو کچھ نہیں پتا ہے۔ مادیت پرستی کی اس دوڑ میں اسکول جانے والی بچیاں اور بچے صرف ایک موبائل فون یا اچھے کپڑے کیلئے جنسی بے راہ روی کا شکار بہت تیزی سے ہورہے ہیں،۔ ٹیوشن سنٹرکا کہہ کر لڑکیاں اور لڑکے کہاں جاتے ہیں اسکا انکے والدین کو کوئی علم نہیں ہے بچوں کے پاس نئے نئے موبائل فون کہاں سے آتے ہیں یا انکے فون کا بیلنس ہروقت کیسے پورا ہوتا ہے اس سے والدین ناواقف ہیں کہنے کو باپ ایک لگی بندھی تنخواہ کماتا ہے اور ماں ہروقت مہنگائی کا رونا روتی ہے مگربچے اکیلے رکشوں ٹیکسیوں میں گھومتے ہیں کرایہ کہاں سے آتا ہے والدین پوچھنا گوارہ نہیں کرتے ہیں۔ چلیں مان لیں کہ باپ تو سارا دن روزی روٹی میں لگا ہوتا ہے مگر ماں کہاں ہوتی ہے؟ ویسے تو ماں بہت دعویٰ کرتی ہے کہ اولاد کے پاوں تو پالنے میں ہی پہچان لیتی ہے توپھر اسوقت پہچان کہاں چلی جاتی ہے جب بچہ یا بچی بے راہ روی کا شکار ہوجاتی ہے؟ خود سوچیں جو بچے اس عمر میں جسمیں انکو بہت سنبھال سنبھال کرچلانا پڑتا ہے جنسی بے راہروی، غنڈہ گردی اور دوسرے گندے کاموں میں پڑگئے توانکی کیا زندگی ہوگی اور یہ اپنی آنے والی نسلوں کوکیا دینگے؟

یہ توذمہ داری تھی والدین کی مگر اگرہم اجتماعی طورپر دیکھیں تو کیا کوئِی ایسی شخصیت موجود ہے جسکو مشعل راہ بنا کر نوجوان نسل کو بگڑنے سے بچایا جائے؟ آج میڈیا کی اس دور میں کیا کوئی ایسا پروگرام یا معلومات ہم پاتے ہیں جو ہماری نوجوان نسلوں کے سدھار میں کام آئے؟ جواب ہوگا نہیں کیونکہ ہمارا میڈیا جن لوگوں کو رول ماڈل بنا کرپیش کرتا ہے انکی ریاکاری اور سیاہ کار کارنامے ، آج کے اس انٹرنیٹ کے زمانے میں صرف ایک کلک سے دور ہوتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو اخلاق باختہ ہو اسکو کبھی مذہبی اسکالر تو کبھی کوئی اسلام پروگرام کا میزبان بنا دیا جاتا ہے جسکا کام اخلاق سدھارنا نہیں بلکہ پروگرام دیکھنے والے کی تھوڑی بہت بچی ہوئی عقل و عزت کو ٹھکانے لگانا ہوتا ہے، اسکے علاوہ چینلز پر چلنے والے اخلاق سے گرے انتہائِی بے ہودہ اشتہارات مزید زوال پزیری کی طرف دھکیلنے کا سبب بن رہے ہیں۔ آج آپ ٹی وی اپنے بہن بھائیوں یا والدین کے ساتھ بیٹھ کرنہیں دیکھ سکتے ہیں کیونکہ آپ کو نہیں پتہ کس وقت کوئی ایسا اشتہار آجائے جس سے باپ بھائی اپنے بیٹی بہن کے آگے شرمندہ یا بیٹی بہن باپ بھائی کے آگے شرمندہ ہوجائے۔ ہمیں بہت شوق ہے نا انڈیا کی پیروی کرنے کا توہمیں یہ بھی دیکھ لینا چائیے کہ وہاں کے مادرپدرآزاد  معاشرے نے انکو کتنا اخلاق باختہ کردیا ہے کہ آج پوری دنیا میں لڑکیوں سے جنسی زیادتی میں سب سے آگے شامل ملکوں میں درجہ رکھتا ہے انکی مثال ایسی ہی ہوگئی ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔اس سے پہلے کہ یہ مثل ہم پر لاگو ہو ہمیں اپنا قبلہ درست کر لینا چائیے ہے۔  ہم ایک اسلامی ملک ہیں اگر ہم سمجھتے ہیں کہ مولویوں اور ملاوں کی وجہ سے ہم اسلام سے دور ہیں تو معذرت یہ کوئی عذر نہیں ہے کیونکہ جب ہم اپنے مطلب حاصل کرنے کیلئے پوری ذہنی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر قرآن بھی خود پڑھکر رہنمائی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔۔اسلام انسانی ترقی سے نہیں روکتا ہے مگر ترقی وہ کرنی چائِے جو ہمیں انسان ہی رہنے دے جانور نا بننے دے۔ تجارتی اداروں سے تو توقع نہیں ہے کہ وہ بہتری کیطرف  کوئِی توجہ دیں کیونکہ دنیا کے تمام بڑا تجارت انکے ہاتھ میں ہے جو صرف خود کو خدا کی پسندیدہ قوم سمجھتے ہیں لہذٰا یہ ذمہ داری پھر والدین اور ہم پر خود پر لاگو ہوتی ہے کہ ہم دنیا میں ترقی یافتہ مادی طورپربعد میں مگر اخلاقی اور مذہبی طورپر پہلے نمبرپرپہچانے جائِیں۔ راہ میں بچھے کانٹے جو ہم نے خود بوئے ہیں ہمیں خود کاٹنے ہیں اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسلوں کیلئے 

 

ایس-گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s