کمرشلائزڈ موت

موت ایک حقیقت ہے جس سے انکار کوئی بھی نہیں کرسکتا ہے کس کا وقت کب  لکھا ہے اور کیسے لکھا ہے اس سے صرف اللہ کی ذات واقف ہے۔ کچھ لوگ بہت چھوٹی عمر میں اس دنیا سے چلے جاتے ہیں کچھ زیادہ وقت کچھ اچھا خاصا وقت اور کچھ اس دنیا میں سانس لینے سے پہلے  ہی اس دنیا سے ناتا توڑ لیتے ہیں۔ اسی طرح سے دنیا میں زندگی اور موت کا تعلق چل رہا ہے اور تب تک چلتا رہے گا جب تک اللہ کی پاک ذات روز محشر بپا نا کردے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جہاں دنیا کی تیزرفتار ترقی نے بہت سے معاملات کو مادیت پرستی کے ساتھ پنہا کردیا  ہے اسی طرح موت بھی آج کل ایک کمرشلائزڈ کوموڈٹی بن چکی ہے۔  آئے دن ہم اخبار اور ٹی وی چینلز کے ذریعے سے شہر ملک اور دنیا میں ہونے والی اموات سے واقف ہوتے رہتے ہیں۔ ہماری ذہنی سطح کا اندازہ موت کے بارے میں اس بات سے لگا لیں کہ اپنے ہی ملک کے ایک علاقے میں بچے غذائی قلت کے باعث دم توڑ رہے ہیں مگر ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے دوسرے علاقے میں شفا خانے موت کے زندان بن چکے ہیں معصوم بچوں کے لئے مگر مجال ہے جو ہم ایک لفظ بھی بول دیں عمل تو خیر بہت دور کی بات ہے مگر ہاں  ابھی کوئی ننگ انسانیت ماڈل یا ایکٹریس کی شادی ہو یا اسکو چھینک بھی آجائے تو ہماری صفوں میں ماتم بچھ جائے گا ، اگر کسی مشہور آدمی کی موت واقع ہو جائے تو ہم ایسے ہو جائیں گے جیسے کوئی ہمارا سگا اس دنیا سے چلا گیا ہے۔ میڈیا کا کام تو ہے ہی یہ کہ وہ اس مواد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے جس میں اسکو اشتہارات کی مد میں پیسہ ملے اسکی پاپولیرٹی میں اضافہ ہو مگر ہمارا کیا ہے کیا ہم میڈیا کے اتنے ذہنی غلام ہوگئے ہیں کہ انسانیت کی حس ہی بھلا بیٹھے ہیں؟ ہمارا ماتم کسی ایکٹر یا مشہور آدمی کی موت پرتو کئی کئی دن تک جاری رہتا ہے مگر جس طرح سے خاموشی سے ارباب اختیار ہماری نسل کشی کررہے ہیں اس پر ہمیں سانپ سونگھا ہوا ہے صرف اس لئے کے مرنے والے کسی زرداری بھٹو یا شریف خاندان کا نام اپنے ساتھ نہیں رکھتے ہیں یا وہ کوئی مشہور انسان نہیں ہیں جنکی تعزیت کرکے کچھ نام آپ بھی کما لیتے ہیں سوشل میڈیا اور میڈیا پر ؟ حقیقت تلخ ہے مگر سچ ہے کی ہم نے آج موت کو بھی صرف پیسہ اور مشہوری کے لئے اپنا ہتھیار بنا لیا ہے یہ بھول گئے ہیں کہ مقافات عمل بھی کچھ ہوتا ہے کیونکہ دنیا کی ہر چیز شائد بک جائے مگر اللہ کا نظام بکاو نہیں ہے۔

 

ایس-گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s