بھوک

اللہ نے انسان اور جانور میں فرق رکھنے کے لئے انسان کو عقلِ سلیم عطا کی جبکہ شکل وہئیت میں بھی فرق دیا باقی جبلتیں تقریباُ ملتی جلتی ہی دی ہیں۔ ایک جبلت ہے بھوک، جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تواسکی پہلی پکاراپنے زندہ ہونے اور بھوکے ہونے کا اعلان کرتی ہے یعنی کہ پیدائش سے لیکر موت تک بھوک کا رونا جاری رہتا ہے۔ بھوک کی بھی بہت سے اقسام ہیں، اگر ہم نسل انسانی کی ابتداء دیکھیں تو شائد بابا آدم اور اماں حوا کی اللہ کے حکم کی نافرمانی کے پیچھے بھی پابندی کے پیچَھے چھپے راز کو جاننے کی بھوک ہی کارفرما تھی یعنی کہابھوک کا عمل جنت سے بے دخل کئے جانے سے پہلے ہی وجود میں آچکا تھا۔ جب اس دنیا میں انسان نے قدم جمانے شروع کئے تو پہلے پہل اپنے شکم پری کی فکراسکی پہلی ترجیح رہی اسکے بعد جیسے جیسے دنیا کی آبادی بڑھتی گئی اور انسانی زندگی میں سمجھ بوجھ معاشرت وغیرہ نے جنم لیا تو بھوک کی قسمیں بھی بڑھنے لگیں۔  کسی کو صرف کھانے کے بھوک ہوتی تو کسی کو بڑا گھر بنانے کی توکسی کو اپنے اردگرد کے لوگوں پرحکمرانی کی بھوک ہوتی، غرض یہ سلسلہ ابتداء انسانی سے اب تک بہت زوروشور سے جاری ہے۔ بس اب بھوک کی قسموں اور انکی حد سے نکل ہوس کی شکل میں ڈھلنے کا عمل جاری ہے۔ کبھی جانوروں کودیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ وہ آج تک اللہ کے نظام کے مطابق اپنے پیٹ کوایک خاص حد تک بھرنے پرعمل پیرا ہیں جانور شکاری ہے تواپنے شکارکو اتنا کھا کرچھوڑ دیتا ہے جتنا اسکا پیٹ یا اسکے خاندان کا پیٹ اجازت دیتا ہے پھراسکے بچے کھچے پردوسرے جانورہلا بول دیں تووہ انکو آنکھ اٹھا کرنہیں دیکھتا ہے اگر جانور پالتو ہے یا انسانی زندگی کے کام آنے والا ہے تواسکا بھی اللہ نے ایک نظام رکھا ہے کہ وہ اتنا ہی کھاتا ہے جتنا کہ اسکو ضرورت ہے۔ اور اگر ہم انسان جنہیں اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے اپنی بھوک کا موازنہ ان جانوروں سے کریں توشائد ہمارے سرشرم سے جھک جائیں۔ ہم اب بھوک کی حدیں پھلانگ کر ہوس کی حدود کوبھی پھلانگنے کے لئیے تیار بیٹھے ہیں۔ زندگی میں پہلی سانس کے ساتھ روکراپنی زندہ ہونے کی دلیل دینے اور بھوک کا اعلان کرنے والا انسان آج بھوک کی ایسی ایسی قسموں کے درمیان بنٹ گیا ہے کہ اسکواسوقت اس بات کااندازہ ہوتا ہے جب اسکے پاس اپنی ملامت کاوقت کم رہ جاتا ہے۔ آج ہم پیٹ کی آگ بجھانے کے علاوہ مادی پرستی کی بھوک میں اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ سیاِہ سفید اچھا برا سب کی تمیز بھلا بیٹھے ہیں، آج ہمیں صرف یہ فکر ہے کہ اگر فلاں نے اچھا کپڑا پہنا ہے توہم اس سے بھِی زیادہ مہنگا اور اچھا کپڑا پہنیں اگر کسی کے پاس اچھی گاڑی ہے توہمارے پاس اس سے زیادہ اچھی اور مہنگی گاڑی ہو، اگر فلاں کے بچے کسی اچھے اسکول میں پڑھتے ہیں توہمارے بچَے اس سے زیادہ اچھے اور مہنگے اسکول میں پڑھیں اگر کوئی اچھے عہدے پرہے تو بھئی اس سے بڑا عہدہ ہونا چائیے اگرچہ کہ یہ سب باتیں حسد اور جلن کے زمرے میں آتی ہیں مگر اگرغورکریں تویہ بھوک ہے جو اپنی حد چھوڑکرہوس اور پھرحسد کاروپ دھارچکی ہے۔ہم معاشرتی طورپرانتہائی بھوکے ہیں کہ اپنے فائدے کے لئے اپنی عزت اپنی ماں بہن ملک تک کوداو پرلگا دیتے ہیں مگرپھربھی ہماری بھوک نہیں مٹتی ہے۔ یہ کبھی نا ختم ہونے والی بھوک کازہر صرف نچلے یا درمیانے طبقے میں نہیں بلکہ معاشرے کے ہرطبقے میں عام ہوچکا ہے۔ صرف وہی بچے ہوئے ہیں جنکے شائد پیٹ توخالی ہیں مگر انکے ضمیر انکی نظریں آسودہ ہیں انکے نزدیک ان دنیاوی چیزوں کی کوئی حیثیت نہیں یہ سب  مایا ہیں جنکا انکی زندگی میں صرف اتنا عمل دخل ہے کہ زندگی عزت سے ایمان پر تمام ہوجائے ۔ جبکہ ہمارے ہی معاشرے میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جوحکمرانی کا تاج سجا کر عوام کا خون چوسنے کے لیے اپنے ڈنک عوام اور ملک میں گھونپ کربیٹھے ہیں مگر انکی بھوک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انکی بھوک آج کی نہیں صدیوں سے انکے ہاں نسل درنسل منتقل ہوتی آئی ہے۔ جس طرح سے ملک کی دولت اور عوام کے پیسے پر یہ لوگ بادشاہوں کی طرح عیاشی کر رہے ہیں جبکہ ملک میں لوگ مہنگائی ، بے روزگاری اور قحط سالی سے مررہے ہیں ملکی ادارے تباہ ہو رہے ہیں اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خاندانی بھوکے ہیں انکی نظریں انکی شکلیں  بتاتی ہیں کہ ان صدیوں کے بھوکوں کی  بھوک  اب اپنی  حدوں سے نکل کرہوس کی آخری حدوں پرہے مگر انکی یہ بھوک کبھی ختم نہیں ہونی ہے بلکہ انکی آئندہ آنے والی نسلوں میں منتقل ہونی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایس-گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s