زمینی خدا

اگر ہم انسانی تاریخ اٹھا کردیکھیں توہمیں ہرتہذیب وقوم میں اسکی معاشرت میں مذہب کی مضبوط بنیاد لازمی ملتی ہے ، مذہب انسانی زندگی کا ایک لازمی جزہے اب چاہے ہم مانیں یا نا مانیں مگر کوئی بھی مذہب ہو وہ اپنے ماننے والے کو بہت سی حدود وقیود کا پابندکرتا ہے. اب یہ انسان پرمنحصرہے کہ وہ کتنا ان پابندیوں کے پس منظرکوسمجھتے ہوے ان پرعمل کرتا ہے یا نہیں کرتا ، کچھ لوگ مذہب کونارمل سمجھتے ہوے اسکے فرائض اور پابندیوں پرعمل کرتے ہیں کچھ بلکل ہی مذہب کوگھاس نہیں ڈالتے ہیں اور کچھ مذہب کی اصل سے بھی چارہاتھ آگے نکل کرمذہب کا مذاق بنا دیتے ہیں جبکہ اپنی طرف سے وہ خودکو عملِ کامل کی تصویرسمجھتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کے ہرمذہب کے ماننے والے اپنے اپنے مذاہب سے بدرجہ اتم دور ہوتے جارہے ہیں کیونکہ انکا رحجان مذہب کی اصل روح، بنیادی اصول، پابندیاں ، آزادیاں حقوق وغیرہ کو سمجھنے کے بجائے بس وہ سب کچھ اصل مذہب کا حصہ سمجھ لیا ہے جوکہ انکے ہی جیسے مذہبی عالم نے کہہ دیا ہو یا لکھ دیا ہو۔ اگر ہم آج اپنے مذہب اسلام کی بات کریں تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلام جو ایک کامل ضابطہ حیات اور مکمل مذہب ہے آج وہ ہم انسانوں نے اپنی نفسانیت، انا پرستی، مادیت اور دنیاوی فوائد کی دیمک سے لتھڑی دیواروں کے پیچھے چھپا دیا ہے ۔ آج ہم نے اپنی ازلی سستی اور بے راہ روی کی بدولت قرآن کو صرف پڑھنے کی حد تک محدود کردیا ہے(جبکہ بہت سے لوگ توقرآن صرف بچپن میں ایک دفعہ پڑھنے کا احسان کرنے کے بعدکھولتے بھی نہیں)  ہم نے قرآن میں دی گئی تعلیمات کو سمجھنےاور تحقیق کرنے کا عمل بلکل قطعہ کردیا ہے بس مسجد کے منبرسے جو سن لیا یا کسی نے چار باتیں کیا کرلیں اسلام کی اسکو حق سچ مان کر اسکی بات کو ہی قرآن سمجھ لینے کو ہم نے اپنا طرز عمل بنا لیا ہے۔ اگر کوئی ہمارے اس خودساختہ مذہب سے ہٹ کربات کردے تو ہمارے نزدیک وہ کبھی شاتم رسول ہو جاتا ہے تو کبھی شاتم مذہب، مزے کے بات یہ کہ ہم اس بندے کی کہی گئی بات کے پس منظرکو جاننا گوارہ ہی نہیں کرتے ہیں کیونکہ ہم اس خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ بس ہمیں جو پتا ہے وہی صیح ہے باقی دوسرے جو کہہ رہے ہیں وہ غلط ہے ہمارے مولوی حضرات تو اللہ معاف کرے کم از کم پاکستان میں تو خود کوزمینی خدا سمجھتے ہیں جب چاہیں کسی پر بھی کسی بھی وجہ سے کفر کا فتویٰ لگا دیں انکو اس بات کی بھی کوئی پروا نہیں ہوتی ہے کہ انکی اس حرکت سے کو ئی انسان بے گناہ اپنی جان سے بھی جا سکتا ہے کیونکہ  ان مولوی حضرات کے پیروکار ایسے بھی ہوتے ہیں جنکے نزدیک مولوی صاحب کی بات نعوزبااللہ، اللہ بھی رد نہیں کرسکتا۔ ہمارے ہاں یہ ایک عجیب رواج ہے کہ اگر ہم اپنے بچوں کو دینوی تعلیم دے رہے ہیں تو انکو دنیاوی تعلیم دینا غیرضروری عمل قرار دیتے ہیں ، جبکہ یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اگر علم حاصل کرنے کے لئے چین بھی جانا پڑے تو جاو، اگر اس حکم کے پس منظرکودیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ چین تو آج بھی مسلمان نہیں، آج سے چودہ سو سال پہلے کب مسلمان تھا تو پھر یہ حکم کیوں دیا گیا؟ اسکا صاف مطلب ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول مسلمانوں کو صرف دینی تعلیم نہیں بلکہ دنیاوی تعلیم سے بھی بہرہ مند دیکھنا چاہتے تھے۔ مگر اس حکم کو ہمارے زمینی خداوں نے  صرف اپنی نفسی خواہشاہت کی وجہ سے رد کردیا اور مسلمانوں کو صرف اور صرف دینوی تعلیم تک محدود رہنےپر ہی زور دیا یہ اور بات ہے کہ آج کل جو دینوی تعلیم دی جارہی ہے وہ کم از کم اسلام تعلیمات سے کافی دور نظر آتی ہے۔ آج ہم نے اپنی کم عقلی، کم علمی کی بنیاد پر اپنے ہاتھوں اپنے ہی مذہب کو دنیا کے آگے ایک مذاق بنا دیا ہے آج دنیا اسلام کو ایک پرامن مذہب نہیں بلکہ ایک پرتشدد مذہب سمجھتی ہےاور  اسکی وجہ اسلام نہیں بلکہ ہم اسلام کے ماننے والے ہیں جنہوں نے بس اس بات کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے کہ عقل استعمال نہیں کرنی ہے ایک کم علم کم عقل جاہل ملا یا عالم کی بات ماننی ہے بنا تحقیق اور منطق کے استعمال کے اب چاہے پھر اسلام کو کوئی بھی کچھ کہتا پھرے ہماری بلا سے۔ بس سچا جھوٹا کسی پر بھی کوئی بھی الزام لگا دو بنا کسی کواپنی صفائی دئے بنا اسکو کبھی جلا دو توکبھی گولی ماردو کیونکہ بھئ ہم سے توہین برداشت نہیں ہوتی ہے پہلے توہین اللہ اور رسالت پرشور ہوتا تھا پھر توہین صحابہ اور امہات المومنین تک بات آئی بہت جلد وہ وقت دور نہیں کہ جب ہم گلہ محلے میں قائم کسی بھی پیر فقیرکی توہین پر ایک دوسرے کی گردن مارنے پر تل جائینگے۔ کیونکہ مدعی بھی ہم وکیل بھی ہم منصف بھی ہم اور جلاد بھی ہم اسلئے کہ زمینی خدا ہونے کے دعوے داربھی تو ہم ہی ہیں۔

ایس۔گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s