سچ

آجکل ہر طرف میڈیا اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ لوگوں کو کسی بھی خبر کی ترسیل سیکنڈوں میں موصول ہو جاتی ہے۔ اگر ہم صرف الیکٹرانک میڈیا کی بات کریں تو میڈیا پر چلنے والی خبروں، تجزیوں سے تو ایسے لگتا ہے کہ پاکستان ایک ایسی دیگچی ہے جس میں حالات و واقعات ابلتے دودہ کیطرح ہیں جو کسی وقت بھی چھلک کر دیگچی سے باہر گر سکتا ہے۔ بریکنگ نیوز کے نام پر یا تو قتل و غارتگری کا ڈھول بجتا ہے یا پھر ہندوستان کی ننگی تھرکتی فلمی ہیروئنوں کا تذکرہ ہوتا ہے، خبریں ایسے جتا جتا کر پڑھی جاتی ہیں جیسےکسی سرکاری اسکول کے ماسٹر صاحب اپنے شاگردوں کو مولا بخش (ڈنڈے) کے زور پر سبق پڑھا رہے ہوں۔ جبکہ پرائم ٹائم میں پیش کیۓ جانے والے ٹاک شوز میں مختلف پارٹیوں کے نمائندگان اس انداز میں زبانی دست و گریبان ہوتے ہیں جیسے محلے کی ساری پھپھے کٹنیاں مل کر آپس میں لڑ رہی ہوں۔ ایک دوسرے پر ایسے ایسے تبرے کئے جاتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ تجزیہ  نگار پاکستان کی ایسی تصویر کشی کرتے ہیں کی ایسا لگتا ہے کہ جہنم کا دروازہ کھلتا ہی پاکستان میں ہے۔ الغرض ٹی وی جسکو حرف عام میں ایڈیٹ باکس بھی کہا جاتا ہے آجکل واقعی اسم باسمٰی بنا ہوا ہے۔ آپ میڈیا سے ہٹ کر اپنی عام زندگی میں دیکھیں تو آپ کو یہی لگے گا کہ میڈیا سےالگ زندگی ہے جو اپنی ڈگر پرروان دواں ہے۔ لوگ ویسے ہی اپنے اپنے کاروبار زندگی میں مصروف ہیں، بازاروں میں وہی چہل پہل ہے، لوگ گھومتے پھررہے ہیں، غرض زندگی اپنی پوری شان سے چل رہی ہے۔ اگر کوئی ایسا واقعہ ہو بھی جاۓ جس میں خدانخواستہ کوئی موت واقع ہو تو علاقے میں صرف اتنی دیر زندگی رکتی ہے جتنی دیر پولیس کاروائی کرتی ہے اور متوفی کی لاش کو اٹھایا جاتا ہے۔ اسکے بعد وہی رونق ہوتی ہے۔ اگر کسی علاقے میں کشیدگی ہو تو شہر کے دوسرے حصے میں زندگی اپنی پوری توانائی سے روشن ہے۔ ایک عجیب سی ذہنی بٹوارے کا شکارہوتے جا رہے ہیں اس ٹی وی پر بتائی جانے والی زندگی اور اصل زندگی میں موازنہ کرتے کرتے۔

چلیں مان لیتے ہیں ہم کہ جو کچھ میڈیا میں بتایا جا رہا ہے وہ صیح ہے اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہے پاکستان اور پاکستانی، کرپشن کی دیمک ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کرچکی ہے۔ دہشتگردی کا کینسر پھیل رہا ہے تو ان سب باتوں کا علاج کیا ہے؟ ہم یہ کہہ کر کہ یہ تو حکومت کی ذمہ داری ہے ہم کیا کر سکتے ہیں یا ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں ، اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ دنیا کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جب صرف ایک انسان کی تنہا کوشش سے پوری انسانیت نے فائدہ اٹھایا اور اٹھارہا ہے۔ ہمارے لیۓ تو سب سے بڑی مثال ہمارے پیارے رسول پاک آپ جناب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہے جنکے ہم امتی ہیں، بے شک وہ  ﷺ اللہ کے پیارے رسول ہیں مگر اللہ کیطرف سے دی گئی تکالیف و مصائب انﷺپر بھی آۓ تو کیا وہ پیچھے ھٹ گۓ؟ نہیں نہ ! بلکہ آپ جناب رسول اللہ ﷺ نے تو اللہ پر مکمل توکل کے ساتھ تکالیف کا مقابلہ کیا اور تاقیامت تک پوری دنیا کے لیۓ مثال چھوڑی تو کیا ہم اپنے پیارے نبیﷺ کے امتی ہونے کا ذرہ سا بھی حق ادا نہیں کر سکتے؟ لازمی نہیں ہے کہ ہم بندوق کے زور پر سب صیح کرلیں بلکہ شروعات ہمیں اپنے سے کرنی چاہیۓ ہیں۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنا کر خودکو اور معاشرے کو سدھار سکتے ہیں۔ اللہ نے ہر انسان کو اسکے ضمیر سے نوازہ ہے، اگر ہم اپنے ضمیر کو سنا شروع کردیں تو بہت سے ایسے کام جو بظاہر بہت معمولی لگتے ہیں مگر وہ دھیرے دھیرے معاشرے کا ایک رویۓ کا روپ دھار لیتے ہیں ان سے بچا جا سکتا ہے۔ ہم اپنے آپ سے سچ بولنا شروع کردیں اپناخود احتسابی کی عادت اپنا لیں تو ہم اپنی اسی عادت کی بدولت اپنی ذات کے اندر بہتری لاسکتے ہیں جو نادیدہ انداز میں پہلے گھر والوں ، آس پاس کے ملنے جلنے والوں سے ہوتےہوتے معاشرے کو ایک مثبت سوچ پر لا سکتا ہے شرط صرف خود کی ذات سے سچائی ہے۔ جس دن آپ نے خود سے سچ بولنے کی عادت اپنا لی، پھر آپ دنیا کے سامنے بھی سچ بولیں گے بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر سچ کا ساتھ دینگے۔ کوشش کیجیۓ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ اپنے حصے کے کام کو ہم نے خود ہی سر انجام دینا ہے تاکہ روز محشر کہہ سکیں کہ کم از کم ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش ضرور کی۔ ذرا سوچیۓ۔

ایس-گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s