توکون؟

ہمارے برصغیرمیں بہت سی کہاوتیں مشہور ہیں اور یہ سب کہاوتیں کسی نا کسی واقعے کے تناظر میں ہی کہی گئیں اور پھر روایات اورروزمرہ کی زندگی کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ اگرچہ کہ اسلام رنگ نسل کی کوئی تخصیص نہیں کرتا کہ اللہ کے نظرمیں صرف متقی انسان پسندیدہ ہے مگرپھر بھی اللہ نے اپنی حکمت سے انسان کو رنگ نسل قبیلے خاندان میں پیدا کیا ۔ یہ جو ہمارے ہاں بڑے بزرگ دوستی یا رشتے داری قائم کرنے سے پہلے جو نسل ، قبیلے خاندان کا ذکرکرتے ہیں تواسکے پیچھے بھی کوئی نا کوئی بات ضرورہوتی ہے جو اس نسل یا قبیلے یا خاندان کے لوگوں کی خصلت ہوتی ہے یا اسکواپنی زندگیوں میں اتنا شامل کرلیا جاتا ہے کہ وہ اس نسل، قبیلے یا خاندان کے لوگ قدرتی طورپر اپنا لیتے ہیں ۔ ہم مذہبی نکتہ نظرسے بے شک اس بات سے متفق نا ہوں مگرمذہب ہمیں معاشرت یا تہذیب وتمدن سے دور نہیں کرتا ہے  مذہب میں صرف تقوی کی اہمیت ہے ۔ آج کے معاشرے میں اب یہ رنگ نسل قبیلہ خاندان شہروں میں شائد اس شدت سے محسوس کیا نا جاتا ہو جتنا گاوں دیہات میں موجود ہے ۔ شہر وں میں یہ تخصیص ذرا مختلف انداز میں ہے کہ وہاں پر نسل پر اب سیاست کی جاتی ہے تو نسل کے بنیاد پر جو قبیلے یا خاندان ہوتے ہیں وہ سب اس نسل میں شمار ہوکر خود کودوسرے سے برتراور بالا ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ اسی طرح جو صدیوں سے نسلیں اور ان کے قبیلے و خاندان ہیں وہ اپنی جگہ ویسے ہی موجود ہیں اگرچہ کہ تعلیم کی وجہ سے کھلے عام اس بات کاذکر نہیں کیا جاتا مگر اندرون خانہ ہرکوئی کسی نا کسی نسل اور ذات برادری کی بری خصلت کو موضوع بحث لازمی بناتا ہے جب مذکورہ نسل، ذات برادری یا خاندان اپنے سے منسوب خصلت عادت یا بات کا اظہار اپنے عمل سے ظاہر کرے۔ ہمارا ملک و معاشرہ اس وقت جس دور سے گزررہا ہے وہ ایک ایسا وقت ہے جس میں برسوں سے قالین کے نیچَے چھپائی ہوئی گرد کے صاف کرنے کا وقت آچکا ہے زبردستی سلائی گئی عوام اب جب خواب خرگوش سے بیدار ہورہی ہے اور اپنے حقوق کوحاصل کرنے کی بات کررہی ہے تو صرف سیاسی مقاصد کے لئے نا صرف مذہبی فرقہ بندی کوہوا دیکر دوسرے فرقے کے افراد کوکافرقرار دیکر موت کا حقدار ثابت کیا جارہا ہے وہیں جمہوریت کے جذامی گندے سڑے جسم کے خدائی ٹھیکیدار اپنے مقابل کو نیچا دکھانے کے لئے اسکی نسل، ذات برادری پر تبرہ کررہا ہے۔ یہ ایک انتہائی رکیک کام ہے جوخود کواعلیٰ وارفع سمجھنے والے کررہے ہیں۔ یہ باتیں معاشرتی سطح پر توسمجھ آتی ہیں کہ پوری دنیا میں شروع سے ہیں اور شائد آخروقت تک رہیں مگر سیاست میں اس طرح سے کسی ایسے لیڈرپر چوٹ کرنا جوعوام میں مقبولیت کسی پر تبرہ کرکے یا پیسہ کھلا کرنہیں بلکہ اپنے عمل سے دنیا بھرمیں اپنے کام اور پھرعوامی خدمت کی وجہ سے حاصل کرچکا ہے  ایک نئی بحث کو نا صرف جنم دیگا بلکہ جو تبرہ کررہے ہیں انکے جد امجد کے نا صرف کارنامے بلکہ انکی نسل اور اس سے منسلک تمام قبل تبرہ باتیں و خصلتیں بھی زبان زدعام بنیں گی۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جب ہم کسی پرانگلی اٹھاتے ہیں توہاتھ کی باقی انگلیاں ہماری طرف اشارہ کررہی ہوتی ہیں۔ کسی کی ذاتیات پر صرف اس لئے بات کرنا کہ آپ کو سیاسی فوائد حاصل ہوں ایک انتہائی نیچ اور گھٹیا حرکت ہے مگر جب آپ ایسا کرینگے تو شائد جسکی ذات کواچھالاگیا وہ جواب نا دے مگر اسکے چاہنے والے چپ نہیں رہ سکتے ہیں ۔ آپ اگر خود کو منجھا ہوا سیاست دان سمجھتے ہیں تو ذاتیات پراترنے کے بجائے عوامی مسائل حل کرکےعوام کی خدمت کریں توشائد آپ کے پچھلے اعمال   بھولا کرعوام آپ کو اپنے  دل میں جگہ دےسکتی ہے ۔ آپ کسی کی ذات پر یا اسکے کردارپرکیچڑ اچھال کرتھوڑی دیرکے لئے اپنے دل کو جھوٹی تسلی تو دے لینگے مگر یہ سوچیں کے آج کے انفارمیشن کے دور میں جہاں شہر شہر گاوں گاوں انفارمیشن ہر کسی کے پاس پہنچ رہی ہے وہ آپ کا اور آپ کا مخالف کا موازنہ آپ کے قول وفعل سے کررہا ہے ۔ لہذا ذات برادری نسل قبیلہ خاندان پر جانے سے پہلے اپنے اجداد اور اپنے اعمال کا جائزہ لے لیا کریں ایسا نا ہو کہ  وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں کہ بیک فائر کرجانا ۔۔ہو جائے کیونکہ عوام آپ کے بھوکے خاندان ہونے کا توجانتی ہے آپ کی اس حرکت سے آپ کے بارےمیں نیچ ذات،گندی نسل، خاندان کا چشم وچراغ ہونے کا بھی سوچ سکتی ہے۔

ایس-گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

One Response to توکون؟

  1. عامرزیدی says:

    بہت خوب جی

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s