شترمرغ

ہم بھی ایک عجیب قوم ہیں ہر اس چیز کوجو ہمیں چمکتی دمکتی دکھائی جائے اسکو حقیقت جان کر سونا سمجھ بیٹھتے ہیں اور پھر اسکی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ایسے ملاتے ہیں کہ اس چیز کو چکمتا دمکتا دکھانے والے بھی حیران رہ جاتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے کہ ہم نے اللہ کی دی ہوئی نعمت جسے” عقل” کہتے ہیں اسکو کسی مضبوط فولادی صندوق میں بندکرکے کے دماغ کے کسی تہہ خانے میں تالا بند کرے کے چابی کہیں پھینک دی ہے کیونکہ ہمیں جو کچھ میڈیا کے ذریعے دکھایا جاتا ہے ہم اسکی تحقیق کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے کہ آیا یہ سچ بھی ہے یا جھوٹ کو ملمح کاری کرکے ہماری برین واشنگ کی جارہی ہے۔ اگر غلطی سے کوئی ہمیں عقل دینے کی کوشش کرے توہم ایسی ایسی منطقیں اور دلیلیں ڈھونڈکراس عقل دینے والے کہ منہ پرمارتے ہیں کہ وہ بیچارہ اپنا خود کا منہ آئینے میں دیکھنے سے کترانے لگتا ہے۔ ہم حالات وواقعات کاجائزہ لینے کے لیے اپنی سوچ کو وسیع کرنے سے گریزپا رہتے ہیں کیونکہ ہمیں ڈر یہ بھی ہوتا ہے کہ کہیں ہماری سوچ غلط نا قرار پائے۔ ہمیں نظر آرہا ہوتا ہے کہ دو ایک ہی طرح کے واقعات ظہور پذیر ہورہے ہیں ایک کو بلاوجہ میں بڑھا چڑھا کر عزت و رتبے کے اس سنگھاسن پربٹھایا جارہا ہے جسکی شائد بیٹھنے والے کی اوقات نہیں ہے وہ  ہمارے لیے فخر کا مقام بن جاتا ہے مگردوسری طرف ویسے ہی واقعے کو حرف غلط کی طرح سے ایک کونے میں پھینک دیتے ہیں کہ اس واقعے کو ویسے بڑھا چڑھا کر نہیں پیش کیا گیا جیسے دوسرے کو کیا گیا۔ ہمارا ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ ہم احساس کمتری کے مارے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ بڑے گھروں میں رہنے والے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے فر فر انگریزی بولنے والے جو کچھ کہتے ہیں وہی سچ ہوتا ہے کیونکہ بھئی وہ تو مغربی ممالک میں آتے جاتے رہتے ہیں انکو زیادہ علم ہے اسی احساس کمتری کی وجہ سے ہم اپنی خود کی علمیت و عقلیت کو کسی بھی کسوٹی پرپرکھنے سے شرماتے ہیں۔ ہم نے اپنی خود کی سوچ کو بلاوجہ کے دئیے گئے احساس کمتری اور اپنی کوتاہ بین بے عقلی کا شکار بنا دیا ہے اور جب ہمیں ہمارے اپنوں میں سے وہ لوگ جو  اس شترمرغیت جیسی کیفیت کے باغی ہیں سچائی دکھانا چاہتے ہیں تو ہم کبوتروں کی طرح آنکھیں بندکر لیتے ہیںاور سب اچھا ہے کا نعرہ لگاتے ہیں کیونکہ ہم بزدل  شترمرغ ہیں  اس بات کے اعتراف سے ڈرتے ہیں کہ ہم غلط ہیں کیونکہ ہم اپنی عقل اور دوراندیشی کی صلاحیتوں کا استعمال کرنا بھول چکے ہیں  اور اسی سوچ نے اس ملک کو اس ملک کی عوام کو  تباہ ہی کیا ہے ۔

ایس-گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s