انفرادی فعل

لے کچھ سالوں سے میڈیا کی ترقی نے ایک طرح سے پوری دنیا سمیٹ کرہمارے گھروں کے سٹنگ رومز میں ایک چھوٹے سے ڈبے ٹی وی میں سمودی ہے اسطرح  نا صرف ہمیں تفریح میسرہوگئی ہے بلکہ پورے ملک اور دنیا میں ہونے والے تمام اہم واقعات تک رسائی بھی آسان ہوگئی ہے۔ اس معلومات کی رسائی میں ہمیں اپنے گردِوپیش ہونے والے جرائم سے آگاہی بھی شامل ہے۔ اگرغورکریں توکچھ سالوں سے ہمیں ان جرائم  کے واقعات میں معصوم بچوں اور بچیوں کی آبروریزی اورپھرقتل جیسی وارداتوں کاتواترسے خبروں میں آنا ایک خطرناک حد تک معاشرے کی ذہنی بے راہ روی کے اندھیروں میں ڈوبنے کا سگنل دے رہا ہے۔

اسکے کیا عوامل ہیں کیا نہیں ہیں کیسے معاشرے کو اس ذہنی بیماری سے نکالا جاسکتا ہے اورمزید پھیلنے سے روکنے کے لئیے کیا تدارک لازمی ہے یہ سب ایک الگ بحث ہے میرا مطمع نظریہاں اس انفرادی گھناونے فعل کے پیچھے کسی خاندان، طبقے یا ادارے کونشانہ بنا کرانکو ختم کرنے یا معاشرے  کا گلا سڑا حصہ قرار دیکر طنز ودشنام کرن ا،جبکہ اجتماعی طورپرانکا اس غلیظ فعل میں کوئی عمل دخل نا ہو، کی غلط سوچ کوزِیر بحث لانا ہے۔ آبروریزی بچوں کی ہویا کسی جوان کی ، مذہبی معاشرتی اور اخلاق طورپرناپسندیدہ اورگھناونا فعل ہے جسکی دنیا کاکوئی بھی مذہب، معاشرہ یا طبقہ اجازت نہیں دیتا ہے۔ یہ ایک فرد کاانفرادی فعل ہوتا ہے اگرایسے فردکو اسکے اس گندے عمل کی سزا وقت پردے دی جائے تونا صرف اس فردکوسبق حاصل ہوجاتا ہےبلکہ معاشرے میں بھی یہ یہ خوف رہتا ہے کہ ایسے عمل کی سزا کے ساتھ بدنامی کا دھبہ تاعمراور کبھی کبھی نسل درنسل ساتھ چلتا رہےگامگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم ایک اسلامی ملک ہوکربھی اسلامی سزاوجزا کے عمل سے ہزاروں میل دور ہیں۔ آبروریزی کرنے والاکسی خاص طبقے ےیا خاص فکری سوچ سے تعلق رکھنے والا نہیں ہوتا ہے اسکا یہ فعل خالص اسکا اپنا نفسی فعل ہوتا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں اگر کسی نے اس گھناونے انفرادی فعل کا عمل کیا ہے اوراگراسکا تعلق کسی مدرسے یا مسجد سے نکل آیا ہے توہمارے وہ حضرات جنکو اسلام اور پاکستان سے اینٹ کتے کا بیر ہے( یہاں اینٹ اسلام اور پاکستان سے ہے)  فوراً اسلام کواس انفرادی فعل کا موردِالزام ٹھرا کربرا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں یہ اور بات ہے کہ جس طبقے سے یہ نام نہاد لبرل ازم کا لبادہ اوڑے حضرات وخواتین تعلق رکھتے ہیں اور جن معاشروں یا ممالک کی مثالیں دے دے کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں وہاں پر آبروریزی کے واقعات  کا موازنہ پاکستان میں ہونے والے واقعات سے کیا جائے تو شائد یہ لوگ اپنا منہ چھپاتے پھریں۔ دو تین دن پہلے لاہور میں ایک معصوم بچے کی آبروریزی اورپھر قتل نے ان خواتین وحضرات کوموقع فراہم کردیا ہے کہ وہ آسمان سرپراٹھا کر مسجد، مولوی اسلام کوبدنام کریں اور اس ملک سے مذہب نام کی چیزکوختم کرنے کی واویلہ مچائیں مگر میرا ان سے یہ سوال ہے کہ مغرب میں اب یہ بات چھپی نہیں رہی ہے کہ چرچ وکلیسا میں بڑے بڑے پادری سینکڑوں بچوں کی آبروریزی جیسے گھناونے فعل میں ا بھِی سے نہیں شروع سے ملوث ہیں توکیا یہ لوگ شور مچائینگے کہ چرچ کلیسا عیسائیت ختم کی جائے؟ انڈیا جسکو یہ لوگ اپنی “مقدس گائے ” سمجھتے ہیں وہ تودنیا میں آبروریزی اور قتل کے واقعات میں اول نمبر پرہے جسکے مندروں میں داسیاں اور عبادت کرنے، منتیں مانگنے آنے والیاں اور والے کسطرح اپنی عزیتیں گنواتے ہیں وہ بھی دنیا جانتی ہے کیا یہ آزاد خیال لوگ یہ شور مچائینگے کہ ہندوازم ختم کیا جائے مندر بند کیا جائے؟ بات تھوڑی تلخ ہے مگریہ حقیقت ہے کہ ان خواتین وحضرات کو اس بات سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ ریپ جیسے گندے اور غلیظ فعل کو روکنے کے اقدامات  کے لئے کام کیاجائے اور لوگوں کو ذہنی علاج کی سہولتیں مہیا کرکے معاشرے کوصاف کیا جائے بلکہ انکا زور سارا اس بات پر ہے کہ ملک سے مذہب کوسرے سے ختم کردیا جائے کہ انکے نزدیک مذہب خاص طورپر اسلام  اس انفرادی فعل کی وجہ ہے باقی سب دودھ کے دھلے ہیں  ویسے بھی جنکے یہ پیروکار ہیں انکے اصول اس طبقے کے لئےاپنی نفسی بیماری کے لئے    ریپ کی ضرورت نہیں ہے  صرف میاں بیوی راضی توکیا کرے گا قاضی کا اصول پرعمل کرنا لازمی ہے۔

ایس-گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s