شخصیت یابُت پرست؟

ی جگہ پڑھا تھا کہ بُت پرستی کی ابتداء ایسے ہوئی تھی کہ ایک بستی میں ایک شخص رہتا تھا وہ بہت نیک اور پرہیزگارانسان تھا اسکی پوری زندگی میں کبھی اُسکے ہاتھوں انسان توکیا کسی جانورکوبھی کبھی کوزک نا پہنچی تھی اسکے گھر سے کبھی کوئی سوالی خالی ہاتھ نا جاتا مسافروں کی مہمانداری کرنا غریبوں کے کام آنا اسکی عادات واطور کاحصہ تھیں الغرض اس شخص میں اللہ نے اتنی خوبیاں رکھی تھیں کہ وہ ان پر صیح سے عمل پیرا ہوکر ولی کے درجے پرپہنچ رکھتا تھا وہ جو دُعا کرتا وہ پوری ہوتی ، جب وہ مرگیا تو بستی کے لوگ بہت ملول ہوئے کہ انکی بستی سے رحمت اُٹھ گئی ہے کئی دن تک بستی میں سوگ وماتم برپا رہا ایک دن بستی کے راستے پرایک بُزرگ شخص کاگُزرہوا یہ بزرگ شخص اصل میں شیطان تھا جوانسانی بھیس میں زمین پراپنے شکارکے لئے منڈلا رہا تھا، اُسنے بستی والوں سے پوچھا کہ کیوں روتے ہواگرچہ کہ وہ واقف تھا، بستی کے بڑوں نے بتایا کہ ہماری بستی کی رحمت اُٹھ گئی ہے فلاں شخص کا انتقال ہوگیا ہے، یہ سُن کرشیطان نے مکاری سے افسوس کااظہار کیا اورپھر تھوڑے توقف کے بعد بولاکہ اگرمیں تم لوگوں کوتمہاری بستی کی رحمت کااوتاردے دوں توتم لوگوں کے دلوں کوکچھ تسلی ہوگی، لوگ خوش ہوگئے ، یوں شیطان نے اس شخص کامٹی وپتھر سے پُتلا بنا کربستی والوں کے حوالے کردیا کہ یہ اس شخص کی یاد تم لوگوں کے دلوں میں ناصرف زندہ رکھے گا بلکہ تم لوگوں کے لئے رحمت کا باعث بھی ہوگا۔۔شروع شروع میں تولوگ اس پتلے کو دیکھ دیکھ کرخوش ہوتے پھر آہستہ آہستہ نذرنیاز اورپھر پوجا وغیرہ کاسلسلہ شروع ہوگیا۔۔یہ تواللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا سچ ہے کیا نہیں مگراس کہانی کوبیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کیا اُس بستی کے لوگوں کے طرح ہم بھی غیر ارادی طورپرشخصیت پرستی کو اتنا نہیں آگے لے جارہے ہیں کہ صرف ایک “بُت” کی کمی رہ جائے؟ ہمارا ملک پچھلے ارسٹھ سال سے جن حالات سے دوچاررہا ہے وہ ہم سب کوازبریاد ہیں کس طرح ہمارے نام پرسیاستدانوں نے ہمیں نوچا کھسوٹا ہے مگرکیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ان سیاستدانوں کواتنی طاقت ہم نے ہی دی ہے جب ہم نے انکی بُرائیوں پراس لئے آنکھیں بند کرلیں کہ ہم شخصیت پرستی کاشکارہوچکے تھے ان لوگوں کی چِکنی چُپڑی باتوں کی وجہ سے؟ اگرچہ کہ عقل ونظرسے اللہ نے ہم سب کونوازا ہوا تھا مگراُسکے باوجود ہم نے کسی اورکوآگے نہیں بڑھنے دیا کہ ہماری پسندیدہ شخصیت کووہ لوگ پسند نہیں تھے؟ کیا یہ ہماری عقل کی کوتاہی نہیں کہ ہم ان لوگوں کوعزت کے اُس سنگھاسن پربٹھا دیتے ہیں بنا سوچے سمجھے جنکے یہ حقدار نہیں ہوتے ہیں؟ ہم شخصیت پرستی میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ اگراس شخص کے سامنے فرشتہ بھی آجائے توہم فرشتے کوسنگسارکردیں مگراُس شخص میں ہمیں رتی برابربرائی نظرنا آئے۔  ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ کوئی بھی انسان کامل نہیں ہوتا ہے ایسے ہی توانسان کو غلطیوں کاپُتلا کہا جاتا ہے کیونکہ وہ غلطیاں کرتا ہے مگرہم اپنی کوتاہ بینی اورشخصیت پرستی میں اتنے مست ہوتے ہیں کہ اُسکی غلطی کے لئے بھی توجیحات دیتے نہیں تھکتے۔ آج ہمارے ملک میں یہ حال ہے کہ شخصیت پرستی کی آنکھوں پربندھی پٹی کی وجہ سے ملک کے ایسے اداروں کودُشنام طرازی کانشانہ بنا رہے ہیں کہ یہ ادارہ سازش کررہا ہے فلاں شخص کے لئے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ مجھے بتائیگا کوئی کہ دنیا کے کس ملک میں ایسے اپنے اُن اداروں کوتضحیک و دُشنام کانشانہ بنایا جاتا ہے جوملک کی سلامتی کے ذمہ دارہوتے ہیں؟ میری اس بات پرشائدبہت سے لوگ کہیں کہ جی اس ادارے نے اپنی ذمہ داری صیح سے پوری نہیں کی، اچھا جی، تویہ بتائیں آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کی اس ادارے کی ہمت بندھانے کی؟ہم لوگ توشروع سے اس ادارے کوبُرا بھلا کہتے ہیں صرف اس لئے کہ ہمارے پسندیدہ سیاستدان نے کہا ہے ، کیا کبھی ہم نے خود سے تحقیق کرنے یا سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ صرف اس ایک ادارے کو ہی کیوں موردِالزام ٹھہرایا جارہا ہے؟ ہمیں اس ادارے کی غلطیاں تونظر آرہی ہیں مگر اپنے  پسند کے سیاستدان کی کوئی غلطی نظراسلئے نہیں نظرآتی کہ وہ توشائد آسمان سے سیدھے زمین پراُتارے گئے ہیں اُن میں تو کوئی غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ کبھی ہم نے یہ سوچنے کی کوشش کی ہے کہ اس ادارے کو کون حکومتی امورمیں گھسیٹ کرلاتا ہے ؟ چونکہ ہم اتنے چُوچُو بچے ہیں ہمیں جو اخبار ، میڈیا یا ہماری سیاسی پارٹی اشاروں کنایوں میں سمجھاتی ہے ہم وہی آسمانی صحیفہ سمجھ کرورد کرنے لگتے ہیں ۔  الزام لگانا گالیاں دینا بہت  آسان ہے مگر کبھی اُنکے نقشِ پا پرچل کردیکھیں کہ اپنے سینوں پرگولی کیسے کھائی جاتی ہے، کیسے اپنے ساتھیوں کی ذبح کی ہوئی لاشیں اٹھائی جاتی ہیں جنہوں نے ہم جیسے احسان فراموشوں کے لئے اپنی جوانیاں تج دیں۔۔۔ہم لوگ توبے غیرتی کی اُس حدکوچُھونے لگے ہیں کہ آج دشمن ہمارے اس ادارے کوختم کرنے پردرپے ہے میڈیا کے ذریعے سرحدوں پراوردوسری سازشوں سے اس ادارے کوبدنام کرنے اورتباہ کرناچاہتا ہے  اورہم بنا کسی شرم کے اپنی عقل کوکچرے کی پیٹی میں پھینک کرسرِعام اپنے ہی اس ادارے کوگالیاں دے رہے ہیں جبکہ یہ اوربات ہے کہ اگرویسے ہی ایک گولی کی آواز آجائے توکپڑے گندےہوجاتے ہیں۔۔۔ میرا صرف یہ پُوچھنا ہے کہ کیا ہم واقعی توحید کے فلسفے پرعمل پیرا ہیں یا شخصیت پرستی میں اتنا اگے جاچکے ہیں کہ اب ہم میں اوربُت پرستوں میں فرق  صرف مِٹی اورپتھر کے بُت کا ہے؟ کیا ہم اتنے بے غیرت ہیں کہ اپنے گھرکے لوگوں کودنیا بھرکے سامنے گالیاں دینے میں خود کوحق بجانب سمجھتے ہیں؟ اگر آپ واقعی اتنے سچے عقلمند،غیرت مند اورمُحب وطن ہیں توسب سے پہلے اپنے گھرکے تمام راز، برائیاں ایک ایک کرکے دنیا کے سامنے عیاں کریں ورنہ آپ کوکوئی حق نہیں کہ ملک کے کسی بھی ادارے کودنیا کے سامنے صرف اپنے “بُت” کی خاطرذلیل ورُسوا کریں۔۔۔ کیونکہ پھرآپ راست نہِیں بے غیرت دوغلے کہلائینگے ۔

ایس-گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s