ہم مذہب بیچنے والے

آج بہت دنوں کے بعدموقعہ ملا کہ اپنی سوچ کا اظہارکروں اگرچہ کہ زندگی کی مصروفیات میں کئی دفعہ ایسے مواقعے آئے کہ دل چاہا کہ اپنی سوچ کوسُپردِ قرطاس کروں مگروقت نے اجازت نا دی کہ اپنی خواہش کوعملی جامہء پہنا سکوں۔ آج بھی شائد وقت مجھے اجازت نا دیتا اوریہ زیادتی ہوتی کہ میں ایک ایسے موضوع پربات نا کروں جوشائد قارئین کے لئے اتنی خاص اہمیت کا حامل نا ہو مگرمیرے لئے اہمیت رکھتا ہے کہ آج اس موضوع کا میں خود ایک کردار بنی ہوں٫

کراچی ہویالاہور،پشاورہویا کوئٹہ یا دارالحکومت، ہم سب کسی ناکسی وقت بڑے بڑے شاپنگ مالزیا بازاروں میں ایسے لوگوں سے مڈبھڑ ہوئے ہونگے جو قرآنی آیات، سورتوں کی کتابیں یا دوسری اسلامی کُتب چلتے پھرتے بیچتےنظر آتے ہیں۔ کئی لوگ توواقعتا” ایسی کُتب بیچ کراپنی روزی حلال کرتے ہیں جبکہ زیادہ ترلوگ ان کُتب کی آڑ میں بھیک مانگتے ہیں۔ وہی گِھسے پِٹے رٹے رٹائے جملے اورحد یہ کہ اگرکوئی اجتناب برتتے ہوئے پاس سے گُزرجائے تواُسکی جان کوآجاتے ہیں کہ چہ جائیکہ اگلا انکو ڈانٹ پھٹکار دے۔ آج میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ درپیش ہوا، میں عام طورپرمعذرت کرلیتی ہوں اگرزیادہ پیچھیں پڑیں توراستہ بدل لیتی ہوں مگرآج شائد صبرکابندھ یا توٹوٹ گیا یاپھر”ْقرآن” کی حرمت حاوی ہوگئی کہ میں ایسے ہی ایک شخص کولتاڑ بیٹھی۔ ہوسکتا ہے کہ میری حرکت آپ لوگوں کوبُری لگے مگرمجھے بتائیں کہ ایک توآپ قرآن شریف بیچ رہے ہیں وہ بھی چلتے پھرتے اوپرسے آپ قرآن تھامے بھیک مانگ رہے ہیں کہ میرے گھر راشن نہیں وغیرہ وغیرہ، جب بھیک ہی مانگنی ہے تو قرآن کی بے حرمتی کیوں کررہے ہو؟ جاوّ بھیک مانگومگرقرآن ہاتھ میں پکڑکر، اُس پاک ذات پرتوکل چھوڑ کرجس کے الفاظوں سے قرآن سجا ہے تم غیراللہ سے بھیک مانگ رہے ہو۔ چھ سات گھنٹے جوتم نے قرآن کو”بیچنے”کی آڑمیں بھیک کاکاروبارشروع کیا ہوا ہے کیا تم حوائج ضروریہ سے عاری ہوجوتم باوضورہواورمسلسل قرآن کے احترام کاخیال کرسکو؟ چلومان لیا کہ تم حوائج ضروریہ کے لئے بھی جاتے ہواورپھرباوضوہوتےہو توکہاں رکھتے ہوقرآن کو؟ جس جگہ رکھتے ہووہ صاف ہوتی ہے؟ اورپھریہ بتاوّ جب تم سمجھتے ہو کہ کوئی بھی مسلمان اللہ، آپ جناب رسول اللہ ص یا قرآن کی محبت اورنام پرتم سے قرآن خرید لے گا توپھر بھیک کیسی مانگ رہے ہو؟ کیوں اگلوں کوپریشان کرکے اتنا زِچ کررہے ہوکہ وہ تمہیں جھڑک دیں؟ یہ سب میری سوچ ہے، میں نے تنگ آکراس بندے کوصرف یہ کہا کہ بھائی یا توقرآن کا حدیہ لواوربھیک نا مانگو ورنہ بھیک تومانگومگرقرآن یوں نا بیچو، توآگے انتہائی بدتمیزی سے کہنے لگا کہ تودکان میں سجادو، دل توچاہ کہ اُسکا منہ توڑدوں مگرمناسب جانا کہ اسکوصرف یہ کہوں کہ بے شک دکان میں سجا دوقرآن مگرہاتھ میں لیکربھیک نا مانگوکیونکہ اس طرح تم قرآن ہی نہیں اللہ اور قرآن دونوں کی بے حرمتی کررہے ہو۔ یہ کہہ کرمیں آگے بڑھ گئی۔۔

میرے جہاں بہت سے سوال ہیں وہیں یہ سوال بھی ہے کہ کیا ہم اتنے نیچ ہوگئے ہیں کہ صحتمند ہوکربھی کوئی کام کاج کے بجائے آسان شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہوئے اپنے رب، اُسکے کلام اوراُسکے پیارے رسول، آپ جناب رسول اللہ ص کے نام کوجذباتی بلیک میلنگ کے لئے استعمال کریں بلکہ اُسکی آڑمیں ناپسندیدہ عمل یعنی بھیک کے عمل کواپنائیں؟ سوچیں کیا اسلام کے دشمن ہم خود نہیں جواسکواپنی ذاتی خواہشات کے پیچھے بیچ کرغیرمسلموں میں بدنام کررہے ہیں؟  

ایس گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s