اخلاقیات کے ارسطو

کسی زمانے مں جب میڈیا اتنا ایڈوانس نہیں تھا صرف ایک سرکاری چینل ہوتا تھا تو سیاست میں حکمران جماعت کا ہی نکتہ نظر پیش کیا جاتا اور حزب اختلاف کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا تھا یہی وجہ تھی کہ بہت سے لوگ جو مسلسل جھوٹ سچ کو سن کر اپنی سیاسی وفاداریاں بدل لیا کرتے تھے،  خال خال ہی مخالف پارٹیوں کے حامی ایک دوسرے کے مدمقابل آتے تھے جسکی وجہ سے بات نعروں سے شروع ہوتی ہوتی گالم گلوچ سے مار پیٹ اور پھر جیل میں بھری پر ختم ہوتی…  میڈیا کی ترقی اور پھر انٹرنیٹ نے نا صرف لوگوں کو پوری دنیا سے روشناس کروایا بلکہ سوشل میڈیا نام کی دنیا کا ورچوئل شہری بنا دیا.  یہ دنیا بھی سیاست سے پاک نا رہی نا صرف ذاتی لڑائیوں نے جنم لیا بلکہ ملک میں ہونے والی سیاست کی بساط بھی سوشل میڈیا پر بچھ گئی.  

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جس جماعت نے پاکستان بنایا اسکو قائد اعظم کے وفات کے بعد نا صرف ہائی جیک کرلیا گیا بلکہ اسکو ذاتی باندی بناکر استعمال کیا جانے لگا جس جماعت نے برصغیر کی مسلمان خواتین کو سیاست میں مقام حاصل کرنے کے لیے پلیٹ فارم دیا  اسی جماعت نے قائد کی آنکھیں بند ہوتے ہی نا صرف جماعت کے بنیادی اصولوں کو ٹھوکر ماری بلکہ خواتین جنہوں نے ملک کی آزادی میں ایک بڑا کردار ادا کیا تھا انکو سرعام بےعزت کرنا اور انکی کردار کشی کرنا شروع کردی. اس جماعت نے جسکی قیادت قائد نے کی تھی قائد کی اس بہن تک کو نا بخشا جس نے اپنی ذات پاکستان بنانے کے لیے بھائی کی مدد کے لیے وقف کردی تھی،  جس طرح تضحیک مادر ملت کی گئی شائد ہی کسی مہزب معاشر میں کسی محسن کی گئی ہو.. کتیا کے گلی میں لالٹین باندھ کر کتیا کو مادر ملت سے تشبیہ دی اسی جماعت نے… پھر یہ چلن شائد اس جماعت کا نام اور پلیٹ فارم استعمال کرنے والو کی سوچ اور چلن بن گیا کہ مخالفوں کی خواتین کی سرعام کردار کشی کی جانے لگی.. پھر ملکی سیاست نے جمہوریت اور آمریت کے ادوار دیکھے.. جمہوری دور میں مسلم لیگ اگرچہ ویسے کردار کشی نا کرسکی جو اسکا خاصہ تھا مگر آمریت کے دور میں جب اس جماعت کی باگ دوڑ ان لوگو نے سنبھالی جن کی اصلیت یہ تھی کہ سامنے آکر بہادروں کی طرح لڑنے کے بجائے دشمنوں کی عورتوں پر شب خون مار کر تیس مار خان بنتے تھے تو جو اس جماعت میں عورت کی حرمت کا تھوڑا بہت بچا کھچا جراثیم باقی تھا وہ بھی شرم سے ڈوب مرا.  اسلام کے دعوے دار بننے والے ان رہنماؤں نے اپنے مخالفت میں کھڑی ایک عورت کو کردار کشی جس طرح کی وہ آج بھی لوگو کی یادداشت میں زندہ ہے.  اٹھاسی کے انتخابات میں جس طرح بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کی واہیات تصویریں ہیلی کاپٹر سے مختلف علاقوں میں گرائی گئیں اور اس سے پہلے جلسے جلوس کے دوران نصرت بھٹو کی قمیض بھرے مجمع میں پھاڑی گئی، یہ سب انکی نیچ و غلیظ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے.  انہوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ الیکشن کے دوران ایسے ایسے اخلاق باختہ نعرے ایجاد کیے کہ آج اگر انکی خواتین کے لیے وہ نعرے لگائے جائیں تو انکی چیخیں نکلیں.

اس تہمید کا مقصد صرف یہ ہے کہ آج کل سوشل میڈیا پر اخلاقیات کے دورے اس جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو چوبیس گھنٹے میں کوئی چوبیس ہزار دفعہ پڑتے ہیں مگر صرف تب جب مخالفین انکو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں.  اس وقت تو ان پر مرگی کے دورے پڑنے لگتے ہیں جب کوئی ترکی با ترکی جواب صنف نازک کی طرف سے آئے. ان لوگو کی مردانگی جو صرف سوشل میڈیا پر شریں الفاظ میں لپٹی ہوس زدہ ذہنیت کی حد تک ہوتی ہے اس وقت مجروح ہوتی ہے جب کوئی مخالف جماعت کا لڑکا یا خاص طور پر کوئی صنف نازک انکے تضحیک کے آمیزے سے پکی اینٹ کو چکنے و سخت پتھر سے  جواب دے.  یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ شاید ابھی بھی اسی اور نوے کی دہائی میں رہتے ہیں لہذا یہ ارسطو،  سگمنڈ فرائیڈ، برٹریبڈ رسل یا دوسرے گزرے وقتوں کے فلسفیوں کی قبروں پر لات مارتے ہوئے انکے کہے نا کہے الفاظ کو اپنے مطلب کا جامہ پہنا کر اگلوں کو زیر کرلیں گے تو یہ انکی بھول ہے،  یہ اکیسویں صدی ہے آج کی نسل آپ کی لفاظی پر نہیں عمل کو مدنظر رکھتی ہے وہ اتنی بے خوف ہوچکی ہے کہ سچ نہ بولنے پر اپنے والدین تک کی پکڑ کرتی ہے،  بے انصافی پر آواز اٹھانا اپنافرض سمجھتی ہے،  آج سالوں کی مختلف حکومتوں کی طرف سے دی گئی ہر طرح کی محرومیوں کے خلاف اٹھ چکی ہے اور آپ اسکو لفظی ہیر پھیر کی لولی پاپ دینا چاہتے ہیں اور جب وہ آپ کو آئینہ دکھائے تو آپ اسکو ذہنی مریض بدتمیز اور پتا نہیں کیا کیا کہہ کر نوازیں اور پھر بھی یہ توقع کریں کہ وہ آپ کی عزت کرے تو آپ کی بھول ہے.  رہ گئی صنف نازک تو اسکی زبان کس نے گندی کی ہے؟  آپ جیسے اخلاقیات کے استادوں مگر ہوس کے پجاریوں نے.. آج وہ نازک اندامی چھوڑ کر سخت کلام ہوچکی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ چپ رہے گی تو اسکی آواز کو اور پھر اسکی انا اور عزت کو بھی لفظوں کی مدد سے روند دیا جائے گا.  اور پھر آپ کی اخلاقیات کے مروڑ صرف مخالف کی خواتین کی بات پر کیوں اٹھتے ہیں؟  آپ کی مقدس بی بیاں جون کھلے عام اخلاق باختہ لفاظی کرتی ہیں اس وقت آپ کی اخلاقیات کا جنازہ کہاں پڑا ہوتا ہے؟ اس وقت آپ کی اخلاقیات کا پردہ کیوں واجب ہوتا ہے جب ٹوئیٹر جیسے پلیٹ فارم پر یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ آپ کی ٹوئیٹ بیس سیکنڈ میں پورا ٹوئیٹر کمیونٹی پڑھے گی اسکے باوجود آپ انتہائی فحاش و ذو معنی گفتگو کھلے عام کرتے ہیں؟  اس وقت آپ کی اخلاقیات کہاں جا سو مرتی ہے جب آپ کے اپنے چیلے چانٹے مخالف خواتین کو ذومعنی انداز میں حسینہ بچیاں جیسے القابات سے نوازتے ہیں؟  آپ کا اخلاق اس وقت کس ہسپتال میں آخری سانس لے رہا ہوتا ہے جب آپ مخالفت میں مخالف پارٹی کی ذاتی زندگی پر کیچڑ خوشی خوشی اچھال رہے ہوتے ہیں

چلیں آپ کی بات مان لی کہ مخالف پارٹی کے سپورٹرز گالم گلوچ کرتے ہیں مگرکبھی کسی نے سوچا ہے کہ یہ اخلاقیات کے علامہ کس طرح کیسے کیسے الفاظ کی ملمع کاری سے مخالفین پرطنز کرتے ہیں اور انکو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں؟ اتنا زیادہ اگلے کو یہ اپنی طرف سے کی گئی علمی لفاظی سے مجبور کردیتے ہیں کہ وہ لگی لپٹی رکھے بنا اپنی بات ان الفاظ میں بیان کردیتا ہے جو یہ علامہ لوگ سمجھتے ہیں، مگر ٹھہریئے ۔۔۔۔ کیا ان پر ان باتوں کا اثر ہوتا ہے؟ یا انکو ان باتوں سے کوئی غیرت شرم نام کے چیز سے واسطہ پڑتا ہے؟ تو جواب ہے کہ نہیں ، کیونکہ پاپی پیٹ کا سوال ہے ، گھر کی دال روٹی کے لئے اگر سرعام بندر کی طرح بھی کرتب دِکھانا پڑے تویہ اخلاقیات کی ٹوئیٹری درسگاہیں وہ بھی کرینگی ۔۔ یہ لفظوں کے جغادری مسلم لیگ ن کے پے رول پر ہے اور اس میڈیا ٹیم کا حصہ ہے جو مخالف سے دلائل سے مقابلہ نہیں کرتا مگر بے غیرت و بزدل کی طرح لفاظی کا کھیل کھیلتا ہے۔ یہ پورا گروپ ایک پختہ عمر کے صاحب چلاتے ہیں ان صاحب کی ذہنی قابلیت اتنی ہے کہ بڑے بڑے دانشوران بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں۔ خیر سے موصوف اپنی ٹیم کے ممبران کی تربیت بھی کرتے ہیں بلکہ خود بھی بہت سکون سے اپنی دانش کا مظاہرہ بھی مختلف انداز میں کرتے ہیں۔ ان حضرت کو جو بقول شخصے ، ارسطو کی کوئی پچاسیوں پشت سے ہیں ایک شغل کا شوق بھی ہے،کہ جب بہت زیادہ دانش کا مظاہرہ کرکے تھک جاتے ہیں توپھر زنانہ جامہ زیب تن کرکے میدان میں آجاتے ہیں اور پھر جتنی بھی لفظی اخلاقیات ہوتی ہے اسکا جنازہ اٹھا تے ہیں ۔۔یعنی دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت۔۔۔ اسکے علاوہ ان صاحب کے کامریڈوں کا طریقہ کاریہ بھی ہے کہ نوجوان بچیوں کو اپنی لفاظی ، شاعری سے پھنسا تے ہیں اورپھر جب وہ انکے چکر میں پھنس جاتی ہیں توانکے پرائیویٹ میسجز کے اسکرین شاٹس لے کر انکو بدنام بھی کرتے ہیں اور اگر کوئی انکے جال میں نا پھنسے تو اسکے کھلے عام اخلاق سے گری ہوئی اور پتا نہیں کیا کیا کہہ کر بدنام کرتے ہیں۔ اگر انکا مقابلہ انکے ہی انداز میں کیا جائے توپھر انکی اخلاقیات کی معراج کُل دنیا دیکھتی ہے۔۔۔

اب خود سوچیں کہ جب اخلاقیات کے موجد، درسگاہیں اتنی اعلیٰ اخلاقیات کا نمونہ ہونگی توپھر آج کی نوجوان نسل سے جو آئیں بائیں شائیں پریقین نا کرتی ہو، جو اپنے حق کے لئے لڑنے مرنے پر بھی تیار ہوجاتی ہو، جو اتنے سالوں کی احساس کمتری کا شکار ہو، جسے گندی نالی کے کیڑوں سے آپ زیادہ نا سمجھیں، جنہیں آپ ذہنی مریض گردانیں توکیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ انکو ایک جوتا ماریں گے تو وہ چپ رہیں گے؟ نا بلکل نہیں کیونکہ آگے سے ہاتھ پکڑنا آپ نے خود سِکھایا ہے انہیں ان پڑھ رکھ کر انہیں محروم رکھ کر انہیں احساس کمتری کا شکار کر کے۔۔۔ جب آپ نے خود ببول بویا ہے توکیسے آپ توقع کرتے ہیں کہ آپ کو پھل آم ملے گا۔؟؟؟؟

زیرِ نظر کچھ نمونے ہیں اخلاقیات کے ارسطو ، انکی زنانہ آئی ڈی، انکی ایک طالبہ کے۔۔۔

IMG-20150427-WA0000 IMG-20150427-WA0001 IMG-20150427-WA0002 IMG-20150427-WA0003

جب انصافی بچوں نے اخلاق کے ارسطو کوانکی ہی دوا دی تو انکا کیا حال ہوا ۔۔ملاحظہ کیجیئے

IMG_20150428_235751 IMG_20150429_004004 IMG_20150429_010348 IMG_20150429_120751

ایس گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s