خاکی

کچھ دن پہلے مجھے سپہر کی تپتی گرمی اور چلچلاتی دھوپ مین شاہراہ فیصل سے گزرنے کا اتفاق ہوا،  ٹریفک کی روانی دفاتر میں آنے جانے والو کی موجودگی مین مجھے رینجرز اور پاک فوج کے جوان تھوڑے تھوڑے فاصلے سے سیکیورٹی کی انجام دہی کرتے نظر آئے جن کو تھوڑا بہت سایہ میسر تھا وہ سائے میں تھے مگر ایک کثیر تعداد بنا کسی سائے کے اپنے فرض کی ادائیگی کرتے نظر آئی جتنی گرمی اور دھوپ تھی اس میں تو چرندپرند بھی سر چھپاتے پھررہے تھے مگر یہ لوگ اپنے اپنے یونیفارم میں اسلحہ تھامے چوکس اپنی ڈیوٹی دے رہے تھے،  انکو دیکھ کر مجھے وہ تمام باتیں صلواتیں یاد آنے لگیں جو میرے جیسے کی بورڈ جہادی،  سوشل میڈیا پر الفاظ کے غازی،  اپنے اییرکنڈیشنڈ ڈرائنگ رومز میں ایک ہاتھ میں  ولایتی وہسکی کا گلاس تھامے ولایتی سگریٹ کے مرغولے فضا میں اڑاتے فلسفیانہ انداز میں ان یونیفارم والو کو اس کائنات کی تخلیق کا ذمےدار گردانتے ہوئے٫٫٫ ان سیکیورٹی والو کو دیتے ہیں یا دیتے رہے ہیں.  بات یہی پرختم نہیں ہوجاتی ہے بلکہ ہمارے عوام کے غم میں گھُلنے والے حرام خور سیاستدان اپنی سیاست چمکانے ٫حرام خوری اور بدکاری سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے  اپنے ہی ملک کے سرحدوں کے محافظوں کے خلاف نا صرف اپنی تقریروں میں نازیبا الفاظ میں ہرزاہ سرائی کرتے ہیں بلکہ عوام کوبھی ذہنی طور پر اُکساتے ہیں کہ ان محافظوں کوہر اُس پلیٹ فارم سے ذلیل کروجہاں تمہیں پہنچ میسر ہو۔ بلکہ جسمانی تربیت بھی حاصل کروکہ اگر تمہارے لیڈر کے خلاف اسکی غداری پرکوئی ایکشن ہو تو تم ان محافظوں کے خلاف ہی ہتھیار اٹھا لو۔ اسی پر بس نہیں ان سیاستدانوں کی ذہنی گندگی ، طاقت اور مال کی ہوس پرستی کا یہ عالم ہے کہ اپنے ہی سیاسی ایوان میں کھڑے ہوکر اپنے ہی محافظوں کے خلاف وہ زبان استعمال کی جارہی ہے جوکسی بھی مہذب معاشرے میں ناپسند کی جاتی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ہم جمہوری سیاستدان ہیں ہم عوام کی آواز بلند کرتے ہیں۔ ان سیاستدان کی گیدڑصفتی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ویسے جب مسلح افواج کو نقصان نہیں پہنچا سکتے کسی بہانے سے تو میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے اس افواج کے خلاف اتنی زیادہ دشنام طرازی کرتے ہیں کہ دشمن بھی مذاق اڑاتے ہیں کہ ہمیں کیا ضرورت اس فوج سے لڑنے کی جب اسکے دشمن ہی اسکے اپنے ہوں۔

ہم عوام صرف وہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو ہمیں ہمارے نام نہاد سیاسی لیڈر ،میڈیا یا ان سیاسی لیڈروں کے کہنے پر لکھی گئی تاریخی کُتب میں بتایا جاتا ہے۔۔ہمیں ان سب عناصر نے ذہنی طور پراتنا مفلوج کردیا ہے کہ ہم اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں جب بات مسلح افواج کی آئے تو۔ ہم تحقیق کے بجائے ہمارے ذہنوں میں دوسروں کے ٹھونسے گئے زہریلے افکارو ارشادات کو ہی کامل یقین سمجھتے ہیں ہاں مگر، اگر ہمارے پیارے نام نہاد سیاسی رہنما پرکوئی ابرو بھی اٹھائے توہم اسکی نسلوں کی نسلوں کو بھی کھود کرنکال لیں گے۔

اگر ہم مسلم تاریخ پرنظر ڈالیں توسب سے پہلے ہمارے پیارے نبی، آپ جناب حضرت محمد مصطفیٰ ص ، مسلم فوج کے سپہ سالار نظر آتے ہیں غزوات و سریہ آپ ص کی ذاتِ اقدس کے ہی زِیر لڑی گئیں ، آپ ص کے بعد عمرفاروق رض کی سپہ سالاری کی مثال بھی مسلم تاریخ میں رقم ہے ان مقدس ہستیوں کےبعد کئی ایسے مسلم حکمران آئے جو بایک وقت نا صرف حکمران تھے بلکہ فوج کے سپہ سالار بھی تھے اور انہوں نے دونوں شعبے بخوبی نبھائے اگرچہ کہ انکے ادوار میں بھی اس وقت کے سیاستدانوں نے ہرزاہ سرائیاں کیں مگر ایسے نہیں جیسے آج کے دورمیں ہمارے سیاستدان کررہے ہیں۔

ہماری نوجوان نسل جو پیدا ہی اسی نوے کی دہائی میں ہوئی ہے مگر مسلح افواج کے خلاف بولتے ہوئے ایسے لگتی ہے جیسے اٹھاون میں بننے والی فوجی حکومت کے تانے بانے بنتے ہوئے وہ وہیں کسی غیر مرئی شکل میں سب کچھ ہوتا دیکھ رہی تھی یا ستر کی دہائی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ اور بنگلہ دیش کی تخلیق میں بھی آسمان پر بیٹھ کرسب سُن اور دیکھ رہے تھے ، اگر ان سے کہوکہ تحقیق کرو پڑھو تو کہتے ہیں کہ جی ساری تاریخ فوج نے لکھی توغلط ہی ہوگی جب کہوکہ بھئِ جسے تم سچ سمجھتے ہوتواسکی لکھی سچائی کوتوپڑھ لو تو پھر بغلیں جھانکنا شروع کردیتے ہیں۔ قصور اس نسل کا بھی نہیں کیونکہ ان سے پہلے کی نسل ہی ہے جوچند کتابیں پڑھ کر خود کوپروگریسو ظاہر کرتے ہوئے افواج کے خلاف لفاظی کا وہ جال بُنتی ہے کہ آپ حقیقت و سچائی جانتے ہوئے بھی انکے آگے بحث نہیں کر پاتے ہیں۔ یہ الفاظ کے غازی ایسے ایسے دلائل و واقعات جمع کرکے لاتے ہیں کہ ان کی سچائی پر خود دلائل و واقعات اگر مادی وجود رکھتے ہوتے تو حیرانی و پریشانی کے سمندر میں غوطہ زن رہتے ، انہی دلائل و واقعات کے گھڑت پن پر ہماری نئی نسل جو کیوں کیا کیسے کے مقولے پر عمل کرتی ہے الجھ کر اصلیت کی کھوج سے دُور نکل جاتی ہے۔

آج جس طرح سے ہمارے سیاستدان ، این جی او طبقہ  اور خودساختہ مادرپدر آزاد پروگریسو طبقہ ، آزادیِ رائے کے نام پر نا صرف مذہب اور ملک کوبدنام کررہے ہیں بلکہ ایک ایسے ادارے کو بھی بدنام کرنے میں پیش پیش ہیں جو اس ملک کی سالمیت کے لئے خدائے بُزرگ وبرتر کی طرف سے حفاظت کا وسیلہ ہے ۔ ان سب نے ملکر ایجنسیوں نے کروایا ہے کا ہسٹیریہ اس قوم میں پیدا کردیا ہے ، اگر گلی کا کتا بھی مرجائے تو انکا واویلہ شروع ہوجاتا ہے کہ ایجنسیوں نے آزادیِ رائے کا حق سلب کرتے ہوئے ہمارا کتا ماردیا ہے۔ اگر آپ کسی غریب سے پوچھیں گے تووہ کبھی اسے مسلح افواج کے خلاف اول فول بولتے نہیں سنیں گے مگر یہ اشرافیہ کا طبقہ جنکا مقصد صرف طاقت کا میزان اپنے حق میں رکھنا، تجوریاں ڈالرز سے بھرنا ، یورپ امریکہ کے فری فنڈ ٹورز کرنا اور وہاں جائیدادیں خریدنا ہے آپ انکو اپنے آقاوّں کے حکم پر مذہب، ملکی اساس اور افواج پر ہمیشہ طعنہ زن دیکھیں گے آپ کبھی انکے منہ سے نعرہ خیر بلند ہوتے نہیں سنیں گے۔ آج یہ سب اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے نوجوان نسل کو افواج کے خلاف تعصب کا جوزہر پِلارہے ہیں وہ اس ملک کی بنیادوں کوکھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔

میرا افواج کے خلاف سب زہر اُگلنے والوسے سوال ہے کیا آپ کی ماں میں اتنی ہمت ہے کہ وہ آپ کو سرحد کی حفاظت کے لئے بھِجے اورپھر ایک دن آپ کے گولیوں سے چھلنی یا سربریدہ لاش کو وصول کرے اورکہے کہ میرے اگر دس بیٹے بھی ہوتے تواس ملک پرقربان کردیتی؟ سرحدوں کی حفاظت چھوڑئیے کیا اتنی آپ میں ہمت ہے کہ تپتی گرمی میں بنا کسی سائے کہ دوسروں کی حفاظت کے لئے اپنی جان کوداوّ پرلگاتے ہوئے پہرہ دیں؟ کیا آپ منفی پچاس ،ساٹھ پر جب سب اپنے اپنے گرم گھروں میں سکون سے سورہے ہوں ، سرحدوں پرکھڑے ہوکردشمن کے سامنے سینہ سپر ہوں؟ یہ مت کہیئے گاکہ انکو پیسہ کس بات کا ملتا ہے، کیونکہ ایسا ہی ہے تواس ملک میں بہت لوگ ہیں جو آپ کو پیسہ دیکر کہیں گے کہ میری جگہ موت کوتم گلے لگاوّ توکیا آپ ایسا کرسکیں گے؟ اور اگرپیسے کی بات ہے تووہ توپھر اپنے روزی اور اس ملک سے کیا گیا وعدہ حلال کررہے ہیں اپنے خون کی قربانی دیکر تو آپ کیا کررہے یہں؟ کیا اپنے ہی ملک کے ایک ایسے ادارے کوجوآپ کی حفاظت پر معمور ہے اسکو گالیاں دے کر آپ اس ملک سے کیا نمک حلالی کررہے ہیں یا نمک حرامی؟ فیصلہ آپ کا ہے

جاتے جاتے ۔۔مجھے “بوُٹ لِکر” کے خطاب پرفخر ہے کیونکہ دشمنوں کے گندے کپڑے چاٹنے سے بہتر ہے کہ میں اپنے ملک کے اپنے ادارے کے میرے اپنے محافظوں کے جوتے چاٹ لوں۔

ایس گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

2 Responses to خاکی

  1. ahmad says:

    Buht khood dear God bless you keep it up na siraf hmari afwaj balay digar security ehlqar b salam k musthiq hin

    Like

    • S.Gull says:

      بلکل ، ہم انکی کارکردگی اور کرپشن وغیرہ پر تو بہت باتیں کرتے ہیں مگر کبھی انکے سروسز کے بارے میں یا انکو ملنے والی سہولتوں کے فُقدان پر بات کرتے ہماری زبان کو سکتہ ہوجاتا ہے ہم یہ نہیں سوچتے کہ اگر یہ لوگ نا ہوں تو کتنی انارکی ملک کے ہر شعبے میں ہو۔

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s