پاکستان کو اپناوّ توسہی

یہ تحریر اکیس نومبر دوہزار تیرہ میں اپنے ایک دوسرے بلاگ پر پبلش کی تھی ، سوچا کہ  اس عرصے میں کچھ بھی تونہیں بدلا ہے توکیوں نا پھر سے اس تحریر کوقرطاس کا حصہ بناوّں٫

جسطرح اللہ نے ماں باپ بہن بھائ جیسے رشتے ہمیں ڈفالٹ میں دیئۓ ہیں اسی طرح ہمیں رنگ نسل اور وطن بھی ڈفالٹ میں عطا کیا ہے۔ جسطرح ہم اپنے ڈفالٹ رشتے اپنا رنگ نسل کتنے بھی جتن کرلیں نہیں بدل سکتے اسی طرح ہم بے شک کسی اور ملک جا کر بس جائیں ہم کہلائیں گے وہیں کے جہاں ہم پیدا ہوۓ جہاں کی ہم نسل ہیں.

یہ قدرتی عمل ہے کہ انسان جہاں کا باسی ہوتا ہے وہاں کی محبت اپنے دل میں رکھتا ہے بےشک وقت  اسکو دنیا کے کسی بھی کونے میں لے جاۓ ، دنیا کی رنگینیوں میں کتنا ہی کھو جاۓ مگر جب جاب کہیں اسکو اپنے ملک اپنی سرزمین کا نام یا وہاں کا کوئی رہنے والا مل جاۓ تو قدرتی طور پر اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ یا اگر کوئی اسکی سرزمین کے بارے میں کچھ غلط کہ دے تو اسکی قومی حمعیت جاگ اٹھتی ہے۔ یہ قدرتی بات ہے کہ ہم بےشک اپنوں کو کچھ بھی کہ دیں مگر کوئی کچھ بولے تو سہی ، اسکو مزا چکھانے سے نیہں چوکتے۔  اگر ہم بات کریں پاکستان کی تو ہم اپنی قومی  حمعیت سے ایک اندیکھے طریقے سے محروم کیے جا رہے ہیں۔ تعلیم، ذہنی و معاشی ترقی کے راستے آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے محدود کیے جا رہے ہیں خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنکو اللہ نے ذہانت و عقل وافر دی ہے، نئی نسل کو بے راہ روی کی طرف راغب کرنے میں اب صرف ٹیلیوژن یا انٹرنیٹ کا ہاتھ نہیں رہا بلکے اسکول کالج کے لیول پر اس طرح سے روشناس کروایا جا رہا ہے کہ آپ حیران ہوتے ہیں کہ کسطرح نشاندہی کریں۔ والدین اپنے بچوں کی تربیت سے بلکل غافل ہوچکے ہیں۔ باپ اپنے بچوں کی ضروریات، آسائشوں اور بےجا ضدوں کو پورا کرنے کے لیے حرام حلال کی تمیز کھو بیٹھے ہیں۔ ماں جو بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اسکو بچے کی ابتدائی تربیت سے ہٹا کر غیرملکی بے تکے اور فحاش ڈراموں کیطرف غیر محسوس طریقے سے موڑ دیا گیا ہے۔ آج ماںباپ بچوں پر نظر رکھنے کے بجاۓ اپنی دنیا میں مگن ہوچکے ہیں۔ جب والدین ہی بچوں سے غافل ہونگے تو بچے تو خوردرو پودے کیطرح ہی بڑے ہونگے، کیونکہ انکی تربیت نہیں ہوئی ، انکو اپنے اسلاف کے کارناموں کا نہیں پتا ، انکو نا مذہب کی بنیاد پتا ہے نہ حب الوطنی کا۔ خیر اب ہم اس خطرناک روئیے کو یکدم بدل نہیں سکتے ہیں ھاں مگر ہم یہ ضرورکرسکتے ہیں کہ ہم اپنے خودکے روئیے ، عمل اور ایسے محرکات کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کی اسیطرح تربیت کی کوشش کریں جسطرح انکے والدین کو انکی تربیت سے غافل کیا گیا ہے۔

آج پاکستان کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتعمل ہے۔ جسطرح کی بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ ایک الگ بحث ہے مگر یہ بچے اپنی کم عمری اور ناتجربہ کاری کی وجھ سے غلط صحبت کا نا صرف شکار ہورہے ہیں بلکھ نشہ اور غیراخلاقی پستی کے ساتھ ساتھ اب دہشتگردوں کے ہاتھوں ہتھے چڑھکر نہ صرف اپنا ، اپنے خاندان بلکہ ملک کا بھی نقصان کر رہے ہیں۔ ہماری نسل جو ان بچوں کیلۓ انکے بڑے گردانے جاتے ہیں ، ہمارا فرض ہے کہ اب ہم اپنے خول سے نکلیں اور ان بچوں کی ناصرف راہنمائی کریں بلکہ ان سے اگر کچھ سکھنے کا موقع ملتا ہے تو سکھیں۔ ہر انسان میں کوئی نا کوئی خوبی ہوتی ہے،اگر وہ خوبی ایسی ہو کہ جسکا فائدہ نا صرف اس انسان کیلۓ فائدہ مند ہو بلکہ ملک و قوم کیلیے بھی فائدہ رکھتا ہو تو اس خوبی کو نا صرف ابھارا جاۓ بلکہ اس بچے کو ایسے مواقع دئیے جائیں کہ وہ اپنی خوبی کو مثبت انداز میں ابھارے۔ اس انٹرنیٹ کے زمانے میں جب ہر خبر تک ہر انسان کی رسائی ہے تو ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جھوٹ کی گولی نہیں کھلانی چاہیۓ ہے کیونکہ یہ نسل ہم سے زیادہ سچ جانتی ہے، لہزا اس نسل کو ملک سے متعلق ہر معاملے میں شامل کرکے انکی راۓ لینے کی ضرورت ہے، اسطرح نا صرف ہمیں نئے لیڈر میسر آئیں گے بلکہ انکے زرخیز دماغوں سے نئے نئے ایسے منصوبے ہمیں ملینگے جو ملک و قوم کی ترقی کیلئے فائدےمند ہونگے۔ یہ نسل پاکستان سے تعلق رکھنے والی ہر بات پر نظر رکھے ہوۓ ہے، یہ بچے پاکستان سے شائد وہ محبت کرتے ہیں جو پاکستان بنانے والے کرتے تھے، اگرچھ کہ ہم میں سے کسی نے بھی تقسیم کے وقت کی تکلیف نہیں دیکھی ہے، کیونکہ جنہوں نے دیکھی انکی بھی شائد اب تیسری نسل اس پاکستان میں ہے، انکوصرف وہ پتا ہے جو انکو بتایا گیا ہے جو انکے بڑوں پر گزری ہے، مگر اب کوئی بھی ہو انٹرنیٹ کی وساطت سے تاریخ سے واقف ہوگیا ہے، اور یہ لوگ پاکستان کی تباہی پر جلتے کڑھتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان اور اس ملک کے کرتا دھرتاؤں کو  اب یہ بات ذہن نشین اجھی طرح کر لینی چاہیئے کہ آپ اب اس نسل سے جھوٹ نہیں بول سکتے ہیں، نا ہی انکو اب ملکی معاملات سے دور رکھ سکتے ہیں، بے شک اس نسل کی وہ تربیت نہیں ہوسکی، جو اسکا حق تھا، مگر یہ خوردرو پودے خودبخود اپنا ذہن سینچ رہے ہیں وہ وقت دور نہیں یہ انٹرنیٹ کی نسل کہلانے والے اپنے اندر دبے غصے، محرومی اور پاکستان کی تباہی پر جلنے والے لاوے کو نکال بیٹھں اور پھر اس نسل کو کوئی سمجھانے والا نا ہو۔ یہ وقت ہے کہ انکو لیپ ٹاپ ، قرضوں کی لالی پاپ کے بجاۓ انکے لیۓ ایسی اسکیمز بنائی جائیں جہاں یہ کسی بھی احساس کمتری کے بجاۓ اپنی صلاحیتوں کو برؤکارلا سکیں۔ یہ نئی نسل پاکستان کا مستقبل ہے، یہ اصل پاکستان ہیں ۔ پاکستان کے تمام سیاستدان چاہے جس پارٹی سے ہوں انکو اب بے ضمیری کی چادر کو اتارنا چاہیۓ ، کیونکہ ملک قوم سے بنتا ہے، اور اگرقوم ہی نہ ہو تو صرف ملک صرف ایک زمین کا قطعہ ہے۔ لہزا پاکستان کو اپنائیے یہ آپکا اپنا ملک ہے اسی طرح جس طرح آپکا گھر آپکا ہوتا ہے اور آپکو عزیز ہوتا ہے۔ اس ملک کے بچوں کیلۓ ویسا ہی سوچیے جیسے آپ اپنے بچوں کیلۓ سوچتے ہیں ۔ اس ملک میں بسنے والے لوگوں کی ویسے ہی حفاظت کریں جیسے آپ اپنے گھر کے لوگوں کی کرتے ہیں۔ آپ قدم تو اٹھائیں بہتری کیطرف کوئی وجھ نا ہوگی کہ ہم آپکے ساتھ متحد نا ہوں۔ صرف ایک دفعھ پاکستان کو اپنا کر دیکھیں۔

ایس گل 

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s