محلے کے کُتے

پاکستان میں جب سے میڈیا کوبے لگام آزادی ملی ہے تب سے نا صرف اس قوم کی اخلاقی پستگی کی رفتار تیز ہوئی ہے وہیں ملک میں ایک بے جا ہیجان کی بھی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔ اگر آپ ٹی وی جسے “ایڈیٹ باکس” بھی کہا جاتا ہے اس کو ایک دن کے لئے بند کردیں تو یقین کریں دنیا آپ کو پُرسکون لگتی ہے ، آپ کا بڑھا ہوابلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے، آپ کا موڈ جواگرچہ کی دن کے آغاز پر نارمل ہوتا ہے مگر جیسے جیسے دن گزرتا جاتا ہے ٹی وی کے نیوز چینلز کی وجہ سے ہائپر ہونا شروع ہوجاتا ہے، وہ پورا دن پُرسکون اور ٹھنڈا رہتا ہے، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اغواء، آبروریزی جیسی خبروں کو نا سننے سے آپ مسلسل ڈپریشن اورپھر بے حسی کا شکارجو ہوجاتے ہیں کم از کم اس سے بچ جاتے ہیں۔۔۔۔ مگر آج جلد از جلد بدلتے ملکی و بیروںی حالات سے واقف رہنے کے لئے ہم ٹی وی چلانے پر مجبور ہیں۔۔۔

چلیں مان لیتے ہیں کہ ٹی وی دیکھنا بھی لازمی ہے خاص طورپرنیوز چینلز کے ہمیں اورکچھ نہیں تواپنے شہرکے حالات سے واقفیت رہے مگر جوکچھ ہمارا میڈیا پیش کررہا ہے اور جس طریقے سے پیش کررہا ہے کیا وہ واقعی صحافتی، اخلاقی ، معاشرتی اور ملکی حمیت کے مطابق ہے؟ بریکنگ نیوز کے نام پر جس بے ہودہ انداز میں چیخ چیخ کرخبرسنائی جاتی ہے اور پھر یہ راگ الاپا جاتا ہے کہ “ہم سب نیوز چینلز پربازی لے گئے”” یہ خبرسب سے پہلے ہمارے چینل نے بریک کی” وغیرہ وغیرہ کیا واقعی یہ اندازِ صحافت کسی بھی تہذیبیافتہ معاشرے کی عکاسی کرتا ہے؟ بم بلاسٹ یا کسی اور آفت کے نتیجے میں ہونے والی اموات پر مرنے والوکے پیاروں سے پوچھنا کہ “آپ کیسا محسوس کررہے ہیں” کیا واقعی یہ اگر صحافتی نہیں تواخلاقی اور معاشرتی پہلو کی نشاندہی کرتا ہے؟ جس طرح ایسی ناگہانی آفات پر بیک گراوّنڈ میوزک چلایا جاتا ہے یا بڑے بڑے قومی حادثوں پربھی خبروں میں بے ہودہ و فحاش ناچ گانوں اور وقفے میں چلنے والے اشہتاروں کو چلاکر پیسے بٹورنا بھی ہمارے قومی و مذہبی روئیے کی تصویر کشی کرتا ہے؟

کچھ عرصے سے ایک بڑے میڈیا ہاوّس کے قیام کا شوروغوغا تھا جس کے آنے سے ان میڈیا کے ٹھیکیداروں کو اپنی کشتی ڈولتی نظرآرہی تھی اس میڈیا ہاوّس کے لانچ ہونے سے پہلے ہی جس طرح سے اس کے خلاف پراپیگینڈہ کی کمپین یہ سب میڈیا ہاوّسز کررہے ہیں اور جس انداز میں کررہے ہیں اس کو دیکھ کرتو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے محلے کے کتے نئے آنے والے اجنبی پربھونک رہے ہوں۔۔۔ مانا کہ شائد اس میڈیا ہاوّس کےپیرنٹ کمپنی جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں شامل ہوگی مگر کیا یہ سارے میڈیا ہاوّسز دودھ کے دُھلے ہیں؟ کوئی تعلیم کے نام پر کچرا بچوں کے دماغوں میں ٹھُنس رہا ہے توکوئی سونے کے اسمگلنگ کے کیس میں مبتلا ہے کوئی سگریٹ بیچ کرملک کی نسلوں کو بگاڑرہا اور توکوئی مذہب و ملکی سالمیت کی ذمہ دار اداروں پر کیچڑ اچھال رہا ہے، اگر قالین اٹھا کردیکھا جائے تویہ سب سچائی کے ٹھیکیدار خود اپنے ہی ٹیکنیکل اور نچلے اسٹاف کا مالی وذہنی استحصال کرنے کے جرم میں مبتلا ہیں۔ الغرض یہ سب محلے کےخارش زدہ کتَے جنکے اپنے جسموں پر ناسور ہیں جنکے اپنے جسم گندے و نجس ہیں وہ نئے اجنبی پربھونک رہے ہیں۔۔۔ بھونکئیے کیونکہ آپ کوفی الحال محلے کے خودساختہ مامے چاچوں کی سرپرستی حاصل ہے،اس لئے آپ بھونک سکتے ہیں مگر یاد رکھیے آپ کا مقدر بھی گولی یا کُچلہ ہے کیونکہ مکافات ِعمل اسی دنیا میں ہوتا ہے اور جوکچھ آپ اپنے عمل سے اس ملک کی نسلوں کوتباہ کررہے ہیں ، جس طرح سے آپ غریب ٹیکنیکل اسٹاف کا استحصال کررہے ہیں وہ آپ کے آگے آئے گا کیونکہ اس کائنات کا خالق بہت بڑا منصف ہے اوروہ اسکا انصاف بہت سچا اور کھرا ہوتا ہے۔

ایس گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

2 Responses to محلے کے کُتے

  1. imranitman says:

    عمدہ تحریر۔۔۔۔واقعی یہ میڈیا ایسا ہی ہے۔۔بے لگام آوارہ کتا۔ جو ہڈی ڈالے اسکے آگے دم ہلانے لگتا ہے اور مالک کے اشارے پر کاٹنے کو دوڑتا ہے

    Like

  2. ایک اچھی تحریر ہے
    اللہ پاک اپکے قلم کو مذید طاقت دے
    آمین

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s