یومِ تکبیر

یوم تکبیر.. آج کا دن جب پاکستان جس ک تخلیق اللہ کے نام پر ہوئی نے اپنے ارد گرد اپنی لال لال پھنکارتی زبانوں والے ناگوں کو نا صرف سکتے میں ڈال دیا بلکہ انکے پھنوں پر چوبیس گھنٹے لٹکتی تلوار سایہ تن کردی کہ پاکستان ترنوالہ نہیں جسے صرف ایک ہی سانس مین حلق سے اتار لوگے بلکہ پاکستان وہ ہڈی ہے جو حلقوم کو چیر کے تمہاری موت کا سامان کردے. اللہ اپنی کتاب قرآنمیں مسلمانوں کو ہتھیار رکھنے کی اجازت اس طرح دیتا ہے کہ ہتھیار مسلمان کا زیور ہے مگر ساتھ ہی ہمیں ہتھیار کو کن کن مواقع پر اٹھانا چاہیے اسکی بھی شرائط و ضوابط بتاتا ہے جس میں سب سے پہلے اپنی حفاظت اور پھر امت مسلمہ کی حفاظت شامل ہے.

ایسی کیا وجوہات ہوئیں کہ پاکستان جو کہ ایک امن پسند ملک ہے اور دنیا کے ہر ملک سے امن و دوستی کا خواہشمند ہے وہ نیوکلیئر بم جیسی انسانیت دشمن ہتھیار کو حصول کی نا صرف کوشش کرے بلکہ اسکو بنانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لائے؟ تقسیم سے لیکر آج تک انڈیا نے پاکستان کے وجود کو قبول نہیں کیا اگرچہ کے اب ستر سال ہونے والے ہیں اس تقسیم کو لیکن انڈیا کی اکھنڈ بھارت کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے لہذا چوبیس گھنٹوں میں کوئی ایسا پل نہیں گزرتا جس میں انڈیا کے پیٹ میں پاکستان کے خلاف مڑوڑ نا پڑیں. تقسیم کے وقت انڈیا کے بڑے بڑے رہنما اس خوش فہمی میں اتنے آگے جاچکی تھے کہ ہذیان کا شک پڑجائے کہ پاکستانایک دو سالوں کی مار ہے واپس الحاق ہوجائے گا لیکن تمام تر شرانگیزی اور تقسیم کے فورابعد کشمیر کے محاذ پر جنگ کے باوجود پاکستان قائم رہا تو انڈیا کے خوش فہم بڑ بولے رہنماء بھی ہوش میں آئے کہ اب حقیقت سے آنکھ نا چرائی جائے بلکہ کچھ ایسا کیا جائے کہ پاکستان کا شیرازہ بکھر جائے. لیاقت علی خان کی شہادت ہو یا سرحدوں پر چھیڑ خانی، اساسوں کی تقسیم پر حق تلفی ہو یا بین الاقوامی سطح پر ہرزہ سرائی انڈیا نے پاکستان کو زچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی.. اسی پر بس نہیں کیا بلکہ پچاس کی دہائی کے اواخر میں بدنام زمانہ ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ راکی بنیاد رکھ کر پاکستان میں مسلسل دہشتگردی کی داغ بیل ڈالی گئی. یہی وجہ رہی کہ مسلسل کسی نا کسی حوالے سے راکی طرف سے کی گئی دہشتگردانہ سرگرمیوں اور پھر انڈیا کی ایٹمی طاقت کے اندھے حصول نے پاکستان جیسے امن پسند ملک کو بھی مجبور کیا کہ وہ اپنی سالمیت اور خطے میں طاقت کے توازن کے لیے ایٹمی پروگرام پر عمل درآمد کے لئے تگ دو کرے، ستر کی دہائی کے اوائل میں مشرقی پاکستان کا سانحے نے اس سوچ کو پتھر پر لکیر بنادیا کہ اب صرف سفارتکار ی ہی نہیں بلکہ ہر اس عمل کا جواب اسی ہی پیرائے میں دیا جائے گا جو انڈیا ہمارے ساتھ روا رکھے گا.

اگرچہ کے ستر کی دھائی کے وسط میں انڈیا نے ایٹمی دھماکے کیے مگر کبھی ان دھماکوں کو سرکاری طور پر دنیا نے جان بوجھ کر قبول نہیں کیا، پاکستان ایٹمی توانائی کے حصول پر تیزی سے عمل پیرا ء تھا اس سلسلے میں اگر ہم یہ کہیں کہ اس وقت کی سیاسی اور عسکری قوتیں حب الوطنی کے جذبے سے جس طرح سرشار تھیں وہ بھی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے ۔ ذولفقار بھٹو، ڈاکٹرعبدلقدیر خان اگرچہ کہ وہ چہرے تھے جو دنیا کے سامنے پاکستان کوایٹمی قوت بنانے والوکے طورپرنظر آئے مگر ایسے پتا نہیں کتنے گمنام ہیروز ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوتوں کی صف میں لاکرکھڑا کرنے کے لئے اپنا آپ دن ورات صرف ملک و ملت کی سلامتی کے لئے وقف کردیا۔ ہم ان لوگوکو فردافرداتشکرادا نہیں کرسکتے کیونکہ انکے اس احسان کی جزا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

ستر کی دہائی کے آخرمیں روس افغان جنگ نے اس خطے میں جنگی فضاء قائم کی ہوئی تھی، انڈیا کی دہائیوں اورمغرب کی ریشہ دوانیوں کے باوجود حالت جنگ میں بھی ملکہ سلامتی کے لئے ضروری اس توانائی کے حصول اورحفاظت پر انتہائی رازداری سے جُٹا ہوا تھا ، اسی کی دہائی اسی حصول و حفاظت اور سازشوں، دھمکیوں اورراز کوپانے کی سرتوڑ کوششوں میں گُزرگیا، کیا کیا جتن ناہوئے کہ کسی طرح سے بھی پاکستان کے ایٹمی راز کوپاکرپاکستان کی ہڈی پسلی ایک کردی جائے مگر سلام ہے ان شیر بہادرلوگوکوجنہوں نے اس راز کی حفاظت کو اپنی جان سے بھی زیادہ مقدم رکھا۔ پھرچاہئے کوئی مغربی صحافی ہویاکوئی را کا ایجنٹ وہ کبھی اس جگہ کا راز نا پاسکا جہاں پریہ سب کام ہورہا تھا۔ اسی چیز نے انڈیا کوچیں بہ چیں کیا ہوا تھا، انڈیا اس بلی کی طرح تھا جس کے پاوّں جلے ہوئے تھے اوروہ مزید جل رہے تھے ، را اس وقت بھی دوسری پاکستان مخالف ایجینسیوں کے ساتھ مل کر منظم دہشتگردیوں کی کاروائیاں کررہی تھی ، اسی کی دہائی کے آخرمیں جنرل ضیاء کی پلین کریش میں انتقال اورپھر نوے کی دہائی کے وسط تک ملک میں جمہوریت کے نام پر سیاستدانوں کی آپس کی کھینچا تانی جاری رہی مگر پاکستان کا ایٹمی پروگرام پرعملدرآمد نہیں رکا، ہمارے عسکری ادارے چونکہ سیاستدانوں کی طاقت کے حصول میں جائز وناجائز حرکتوں اورسازشی ریشہ دوانیوں سے کُلی طور پرواقف تھے لہذا پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طورپر عسکری قوتوں کے زیرسائیہ پروان چڑھتا رہا۔ نوے کی دہائی کے آخرمیں جب انڈیا کے پاوّں مکمل طورپرجل گئے اوران میں مزید جلنے کا یارا نارہا تو اس نے دنیا کے سامنے کُھل کرایٹمی دھماکے کردئیے۔۔۔ دھماکے کرنے کے بعد انڈیا نے حسب سابق محلے کا غنڈہ بننے کی بھونڈی حرکت کرتے ہوئے بڑکیں مارنا شروع کردیں۔۔ ہماری سیاسی قیادت جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ کتنی انڈیا نواز تھی اور ہے کیونکہ ان کے ذاتی کاروبار انڈیا میں تھے وہ انڈیا کوناراض نہیں کرسکتے تھے لہذا اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف پس وپیش سے کام لینے لگے کہ جواب دیا جائے مگر ملک کی نا صرف عسکری قیادت بلکہ اس سے بھی زیادہ قوم کے صبر کاپیمانہ لبریز ہورہا تھا وہ انڈیا کوجواب دینے کے لئے بے تاب تھے ، عسکری قیادت اس امر سے واقف تھی کہ اب نہیں توکبھی نہیںکی پالیسی اپنانی پڑے گی نا صرف ملکی سالمیت کے لئے بلکہ قوم کے مورال کومزید بلند کرنے کے لئے۔ لہذا عسکری قیادت کے دباوّ پر نوازشریف نے دھماکوں کی اجازت دے دی، اور اس طرح اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے کے دن ہمارے سب سے بڑے صوبے کے علاقے چاغینے اپنا سینہ اس ارضِ پاک کے دفاع میں کئے گئے اقدام کے لئے وا کردیا ۔ چاغی نے اپنے پہاڑوں کوپانچ ایٹمی دھماکوں سے سنہرا کرکرے اس قوم پر تاقیامت کے لئے احساسِ تشکرکے جذبے سے سرشاررہنے کا سدباب کردیا۔ ان دھماکوں کی گونج نے انڈیا و مغربی طاقتوں کے ایوانوں میں ایک ہلچل بپا کردی ،وہ انڈیا جو کل تک بندروں کی طرح اچھل اچھل کے ایٹمی قوت بننے پر چھچھوری حرکتیں کررہا تھا وہاں پر موت کے سوگ کا سماہوگیا ، انڈیا کے ہرپاکستان دشمن گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی، امریکہ بہادر اوراسکے طفیلیوں نے پاکستان پر دھماکوں سے پہلے ایڑی چوٹی کا زورلگا لیا تھا کہ پاکستان دھماکے نا کرے ، معاشی پابندیوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں مگر پاکستان کواپنی بقاء کے لئے یہ دھماکے کرنے تھے سواُسنے کئے، لہزا پاکستان پر دنیا کی طرف سے اقتصادی پابندیاں لگادی گئیں مگر پاکستان کی قوم نے ان پابندیوں کوبھی خندہ پیسشانی سے برداشت کیا کیونکہ یہ قوم ذہنی طورپرتیار تھی کہ گھاس کھا لیں گے مگر ایٹمی قوت بنیں گے ۔ خطے میں طاقت کا توازن قائم ہوچکا تھا، مسلمان دنیا میں خوشی و اطمنیان کی لہردوڑ چکی تھی ، مگر دشمنوں کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے تھے وہ جلن و حسد میں پاکستان کے ایٹم قوت کو اسلامک بمکہہ کر تضحیک کانشانہ بنا رہے تھے مگر ہمارے جانباز اس تضحیک کو بھی خاطرمیں نہیں لارہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قوت توحاصل کرلی مگر اب اسکی حفاظت کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے ۔ ابھی تک تودشمن اس شش وپنج میں تھا کہ آیا پاکستان ایٹمی توانائی پر کام کررہا ہے کہ نہیں مگر اب تودنیا کہ نقشے پرپاکستان ایٹمی قوت کے طور پر ابھرا تھا اور دشمن اب جوسازشی جال بُنتا وہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتا ۔

پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد وہ تمام بین الاقوامی قوتیں پاکستان کے وجود کی دشمن تھیں انہوں نے پینترا بدلہ اور آئے دن افواہ سازی کا بازار گرم کرکے رکھ دیا اور رکھا ہوا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے اتنے زیادہ غیر محفوظ ہیں کہ دہشت گرد کسی بھی وقت انکو قبضہ میں لے کر دنیا کو تباہ کر سکتے ہیں، کبھی یہ شُرلی چھوڑی جاتی کہ پاکستان کے ایٹمی آثاثے خاطرخواہ نتائج حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں ، الغرض وہ کونسی افواہ نہیں ہے جو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں نا پھیلائی گئِ ہو دنیا کے ہر فورم پر پاکستان کو دھمکیاں دی گئیں توکبھی مذاق اڑایا گیا ، اگر پاکستان نے ملکی توانائی کو پورا کرنے کے لئے ایٹمی گھرچین کے مدد سے لگائے توبھی انڈیا نے شیر شیر آیا کی مصداق شور مچانا شروع کردیا ۔ یہاں تک کہ پاکستان کی تھال سے کھانے والے حلال کو حرام کرنے والے لبرلز کو بھی میدان میں اتارا گیا جو شراب، ڈالرز اور مادرپدر آزادی کی لالچ میں اپنے ہی ملک کے خلاف سینہ سِپر ہوگئے ۔ اپنے ٹھنڈے ٹھار ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر وہی بولی بولنے لگے جو انکے مائِ باپ انڈیا اور مغربی قوتیں انکو اسکرپٹ لکھ کردیتیں۔ بنا سوچے سمجھے بنا تحقیق کے یہ لوگ ائے دن پاکستان اور اسکی اساس پر تابڑ توڑ کھوکھلے حملے کرتے ہیں ، ان لوگوکے لئے اٹھائیس مئی یومِ سوگ کی حیثیت رکھتا ہے جب یہ لوگ کھولتے تیل کا اشنانکرتے ہیں اپنے بھارت مہان کی چاہ میں۔ اپنے مائی باپ کی طرح یہ لوگ بھی بلاوجہ میں ہروقت اسی چاہ میں رہتے ہیں کہ انکو کوئی موقعہ ملے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت یا اسکی حفاظت ہر طرح کے دنیاوی اسٹینڈرڈز پر پوری نہیں اترتی ہے مگر وہ کہتے ہیں نا جسے اللہ کی رحمتیں اپنے سائے میں رکھیں اسے کوئی چھو نہیں سکتا ہے اور دوسرے کے لئے گڑا کھودنے والا خود گڑے میں گرتا ہے تو یہی حال پاکستان دشمن قوتوں اور انکے حواریوں کا ہے۔

آج کے سائبر ورلڈ میں جہاں معلومات تک رسائی صرف کچھ کلکس میں ہوجاتی ہے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ ایٹمی توانائی کے والدِ گرامی امریکہ ہو یا والدہ ماجدہ روس یا پھر انکی لے پالک ناجائز اولد انڈیا سب کی ایٹمی توانائی نا صرف ملکی بلکہ دنیا کے لئے حفاظتی طور پر کتنی کمزور ہے۔ کہیں چھتیس گھنٹے کے لئے ایکٹیو ایٹمی مواد چوری ہوجاتا ہے تو کہیں انتہائی حفاظتی مقامات پرعوامی تنظیمیں پہونچ جاتی ہیں، کسی کے ایٹمی اداروں میں ریڈیوایکٹیو لیکیج ہوجاتی ہے توکہیں ایٹمی ادارے اتنے غیرمحفوظ ہیں کہ وہاں کام کرنے والے کینسرجیسے خطرناک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اورحکومتی مدد نا ملنے کی وجہ سے خودکشیاں کرلیتے ہیں۔ مگر آپ کو کبھی ایسی خبر نہیں ملے گی کہ پاکستان میں ایٹمی گھروں یا اداروں میں کسی بھی قسم کی سب اسٹینڈڈ حفاظتی اقدامات کی حوصلہ افزائی کی گئی ہو، یا کسی ایٹمی سائنسدان نے ریڈی ایشن سے متاثر ہوکرکسی بیماری سے تنگ آکر خودکشی کی ہو۔ یا کچھ گھنٹوں یا دنوں کے لئے ایٹمی مواد چوری ہوا ہو۔ کیونکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کام کرنے والے لوگ اس ایمانی قوت پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان اللہ اور اسلام کے نام پر قاِئم ہوا ہے ہم اسے مضبوط بنائیں گے توشائد آنے والے وقتوں میں عالم ِاسلام کی حفاظت بھی ممکن ہوسکے گی، اللہ پر ایمان اور اللہ کے دین کی خدمت میں انکے اسی جذبے نے نا صرف پاکستان کو مختصر وقت میں ایٹمی قوت بنایا بلکہ اس قوت ،کو مزید موّثر بنانے اور اسکو ملکی خدمت میں بھی کارآمد کرنے پر کام کیا جارہا ہے۔ جولوگ اس پروگرام کے خلاف صرف اس لئے ہیں کہ انکے آقا ایسا سمجھتے ہیں تو ان کےلئے صرف ایک جواب ہے کہ ، کتے بھونکتے رہتے ہیں اور قافلہ چلتا رہتا ہے.میرا مطلب توآپ لوگ سمجھ ہی گئے ہونگے

ایس۔ گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s