اردو

چیف جسٹس سپریم کورٹ، جناب جسٹس ایس خواجہ نے پاکستان کی عدلیہ کہہ لیں یا پاکستان کی تاریخ کہہ لیں اس میں ایک ایسا تاریخی فیصلہ دیا ہے جسے ہم جیسے وہ لوگ سراہا رہے ہیں جو چاہتے ہیں کہ اس ملک میں وہ تمام باتیں جو اس ملک کی شناخت ہیں رائج ہوں۔ اردو کو سرکاری سطح پر لازمی لاگو کرنے کے حکم کو عوام کی ایک بہت بڑی تعداد میں پذیرائی دی ہے ، کیونکہ یہ اس زبان کا حق ہے جو اس کو ملک کے قیام کی نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد ملا ہے۔

اگرچہ کہ اس فیصلے سے ایک طبقہ نالاں نظر آتا ہے لیکن وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ اس ملک کی آبادی زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے اور جو پڑھے لکھے ہیں بھی وہ نظام تعلیم کی وجہ سے انگریزی سے اتنے اچھی واقفیت نہیں رکھتے ہیں ۔ اردو زبان کو حکومت کے ہر ادارے میں لازمی قرار دینے سے یہ فائدہ ہوگا کہ وہ لوگ جو تھوڑا بہت بھی پڑھنا لکھنا جانتے ہیں انہیں اپنے حقوق کی صحیح سوجھ بوجھ ملے گی بلکہ جو لوگ قانونی گرہوں میں پھنس جاتے ہیں یا قانون کی سمجھ نہیں رکھتے ہیں انہیں بھی قوانین سمجھنے کی آسانی ہوگی۔ اس کے علاوہ ہمارا نظام تعلیم جو اردو اور انگریزی نظام تعلیم کے چکر میں پھنس کر چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے اورآبادی کے ایک بہت بڑے حصے کو طبقاتی فرق و احساسِ کمتری کا جزو لانیفیک بنا چکا ہے اس سے بھی کسی حد تک چھٹکارہ مل سکے گا۔

ہمارا یہ طبقہ جو سپریم کورٹ کے اس حکم سے ناراض نظر آتا ہے اسکا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ دنیا میں آج انگریزی بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے اردو اس طرح ہر سطح پر رائج کرنے کا حکم ملک کی ترقی میں ایک رکاوٹ ہوگا۔ ان سے میرا سوال ہے *میری کم علمی سمجھیں یا کم عقلی* کہ کس طرح سے رکاوٹ بن سکتا ہے؟ پچھلے 60 سال سے زیادہ کے عرصہ میں ملک میں انگریزی ہی رائج رہی ہے توملک نے سائنس کے کس میدان میں کونسا تیر مارا ہے؟ یا معیشت و معاشرت میں کونسے پہاڑ سرکرلیَے ہیں؟ معذرت کے ساتھ انگریزی کو ہم نے نعوذ باللہ الہامی زبان سمجھ کر سر پرچڑھا لیا جو ذرا سا بھی منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولے اسے ہم پڑھا لکھا عقلِ کُل سمجھ بیٹھے جبکہ جس نے اردو میں پڑھا یا اردو میں بات کرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی عاقل کیوں نا ہو دنیاوی طور پرپڑھا لکھا ہو اُسے ہم پوچھنا تک اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔

افسوس کا مقام ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے ترقی کے لئے انگریزی کو زینہ بنانا چاہ ہے یہ اور بات ہے کہ ہم نے اردو کو تو شائد طلاق دی تھی انگریزی کو توسرِبازار رُسوا ہونے بِٹھا دیا ہے ، اس میں قصور کسی زبان کا نہیں ہماری سوچ کا ہے ،اگر ہم سوچیں توکیا بات تھی کہ قائد اعٰظم محمد علی جناح جو شائد خود اردو ٹھیک سے نا بول سکتے ہوں انہوں نے اردو کو اس نومولد ملک کی سرکاری زبان قرار دیا جبکہ وہ جانتے تھے کہ بنگالی کبھی خوش نہیں ہونگے؟ کیا وجہ تھی کہ انہوں نے فارسی اور عربی پر اردو کو فوقیت دی؟ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس وقت پورے ہندوستان میں اردو ایک ایسی زبان تھی جو تھوڑی بہت علاقائی ردوبدل سے ہر کوبولتا ہے اور سمجھ بھی لیتا ہے اور پاکستان میں بسنے والی ہر قوم اگر بول نہیں سکتی تواردو سمجھ لیتی ہے اور یہ ایک ایسی زبان ہے جو تمام قوموں کو ایک لڑی میں پروکے رکھ سکتی ہے۔ کیا قائد اعٰظم کونہیں پتہ تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اگر اردو ہوئی توملک ترقی نہیں کرے گا؟ نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ وہ جانتے تھے کہ کسی بھی ملک کی ترقی ایمانداری، محنت اور آگے بڑھنے کی لگن سے ہوتی ہے۔ چلیں اس بات کو چھوڑیں ہم اگر پوری دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں توکیا یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دنیا کے ہر شعبے میں جو کتب لکھی گئیں ہیں وہ سب سے پہلے یونانیوں نے لکھیں ، کیا بتائیں گے کہ انکی زبان کونسی تھی؟ یقینا٘ یونانی ہی تھی کیا انہوں نے ترقی کرنے کے لئے کوئی اور غیر زبان مصطار لی کسی سے؟ جواب ہے کہ نہیں، آگے چلیں جب اسلام آیا اور عربوں نے علم کے ہر شعبے میں طبع آزمائی کی توکیا انہوں نے یونانی علم سے فائدہ اُٹھانے اور ترقی کرنے کے لئے عربی کو ترک اوریونانی زبان کا اپنایا؟ جواب ہے کہ نہیں، بلکہ انہوں نے یونانی زبان سیکھ کر سارے علم کو عربی میں ترجمہ کیا اور پھر اس علم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ترقی کی مزید منازل طے کیں اور دنیا میں کئی نئے علوم متعارف کروائے ایجادات کیں ہرشعبہء علوم کو جِلا بخشی ۔ مزید آگے بڑھتے ہیں جن لوگو کی زبان یعنی “انگریزی” جس کو ہم آج ترقی کا منبہ قرار دیتے ہیں جب اِنہوں نے عربوں کے علوم سے فائدہ اُٹھانا چاہا توکیا اِنہوں نے انگریزی کو ترک کرکے عربی کو اپنا اُوڑھنا بِچھونا بنایا؟ جی جواب وہی ہوگا کہ نہیں بلکہ اُنہوں نے عربی کو صرف ایک اضافی زبان یا علم سمجھا تاکہ اس زبان میں لکھے علوم سے فائدہ اُٹھا کر آگے بڑھا جائے۔ تو پِھر یہی اُصول اردو بولنے والے ملک میں کیوں ہو کہ اگر سرکاری سطح پر اردو بولی لکھی سمجھی جائے گی توترقی رُک جائے گی؟

آج ترقیافتہ ممالک کی ہی مثال لے لیں فرانس، جرمنی، جاپان، چین، کوریا وغیرہ یہ وہ ممالک ہیں جہاں پر ہر سطح پر ان ممالک میں بولی جانے والی ان ممالک کی سرکاری زبانیں ہیں کیا یہ ممالک کسی سے پیچھے ہیں؟ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے، آپ ان کے سربراہانِ مملکت کو دیکھیں دنیا میں ہونے والی کسی بھی طرح کی تقریبات میں اپنی زُبان کو ترجیح دیتے ہیں ، دُور کیوں جائیں انڈیا کی ہی بات کرتے ہیں جہاں پرہماری ہی طرح انگریزی کو سب کچھ سمجھا جاتا ہے انکا وزیر اعٰظم جس ملک کے دورے پر گیا اپنی ہندی میں ہی بات کی کیا اس سے اس کی عزت میں کوئی کمی ہوئی ؟

غلط سلط انگریزی بول کر اپنا مذاق بنوانے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی اردو کو بہتر کرلیں ، چھوٹی سی بات ہے کہ جب کوئی گورا ٹوٹی پھوٹی اردو میں بات کرتا ہے تو ہمیں خوشی ہوتی لیکن جب ہم میں سے کوئی غلط انگریزی میں بات کرتا ہے تو ہم اس کا مذاق اُڑاتے ہیں ، ہم گورے کو توکچھ نہیں کہتے بلکہ فخر کرتے ہیں کہ ہماری زبان بول رہا ہے جبکہ جب کوئی ہمارا اپنا گورے کی زبان غلط بولتا ہے توہم شرمندہ ہوتے ہیں ۔۔یہ ہمارا احساس کمتری ہے جو آزادی کے 70 سال کے بعد بھی ہم میں سے ختم نہیں ہوا ہے جس طرح ہم انگریز کے غلط اردو بولنے پر یہ فخر کرتے ہیں کہ غلط ہی سہی ہماری زبان بول رہا ہے تو اس “ہماری زبان” پر خود بول کرفخر کرنا بھی شروع کریں

اپنے اندر سے احساس کمتری کا پھنِیر سانپ ماریں کہ اردو بولنے سے ہم جاہل سمجھے جائیں گے، اپنی چیزوں کی قدر کرنا سیکھیں کیونکہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنی چیزوں کی قدر کرتی ہیں اورانکی ترقی و ترویج کی تگ و دو کرتی ہیں۔ انگریزی سیکھیں بے شک بولیں لیکن اس کو اپنا ایمان یا زندگی نا بنا لیں لازمی نہیں ہے کہ ہر انگریزی بولنے والا پڑھا لکھا عقلِ کُل ہو اور اردو بولنے والا جاہل گنوار ہو۔۔ اپنی زبان پر فخرکریں ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے اپنے ذہن کو وسعت دیں محنت لگن اور ایمانداری کو اپنا شعار بنائیں ۔

ایس گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s