مینا کی کہانی

mina story

اگرچہ کہ یہ ایک کہانی ہے اسی کہانی کی طرح جو صدیوں سے لکھاری اور کہانی کار لکھتے آئے اور کہتے آئے ہیں ، لیکن یہ چھوٹی سی کہانی اپنے اندر ایک بہت گہرے احساس، معاشرتی روئیے کی عکاسی کرتی ہے ۔ کہانی کارکوئی پروفیشنل نہیں ہے لیکن ہمارے ہی معاشرے کی ایک جیتی جاگتی عورت ہے جو ہر دوسرے انسان کی طرح احساسات، جذبات، قربانی، ایثار، غصہ، انا، بغاوت وغیرہ رکھتی ہے ، خود ماں بھی ہے اور اپنے شوہر سے محبت کرنے والی باوفا بیوی بھی ہے، ہو سکتا ہے کہ کہانی میں کہی گئی بات اُسکی اپنی ذات سے پیوستہ ہو یا ہوسکتا ہے کہ معاشرے میں کسی ایک یا کئی کرداروں میں سے کسی ایک یا کئیوں کی یہ کہانی ہو۔ لیکن بیا صاحبہ نے کُھل کرایک ایسی بات کہی ہے جسے کم از کم ہمارے خود ساختہ دقیانوسی کہہ لیں یا مردوں کے معاشرے میں ایک قبیح بات سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ اگر ہم غور کریں توہمارا مذہب اسلام جب پورے ضابطئہ اخلاق و زندگی کے لئے ہدایات و راستے مختص کرچکا ہے اور سوال کرنے کو پسند بھی کیا گیا ہے کہ اس طرح ایک مسلمان کو ہر اچھائی یا برائی کی مکمل آگاہی ہو تویہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم زمینی خدا بنتے ہوئے نازک مسائل کو صرف اس لئے بحث یا تذکرے کے قابل نا سمجھیں کہ کہیں ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا نا پڑجائے۔ بیا صاحبہ کی بیان کی گئی اس کہانی پرجو کہ ٹوئیٹر پرانہوں نے شئیر کی ملی جلی رائے کا شکار ہونا پڑا، یہ کہنا کہ صرف صنفِ نازک نے اس کہانی کو پسند کیا اور صنفِ کرخت نے مخالفت کی بہت غلط بات ہوگی بلکہ اس کہانی کو زیادہ پذیرائی صنفِ کرخت کی طرف سے ملی جب کہ جن حضرات نے مخالفت کی ان سے معذرت کے ساتھ کہ انکی مخالفت کم عقلی اور کم علمی کا ثبوت تھی * یہاں خدانخواستہ کسی کی تضحیک نہیں کی ہے میں نے *۔

کچھ لوگو نے اس کہانی کو سرسری طور پرپڑھا اور اپنی عقل و علم کے مطابق مینا کہ ایک فحاشہ قرار دے دیا جب کہ کچھ لوگو نے اس کو مذہبی ، انسانی اور معاشرتی روئیے کو مدنظر رکھتے ہوئے پڑھا اور تنقید کے بجائے اس بات کو سراہا کہ ہم عورت کو ماں بہن بیٹی بیوی کے رشتوں میں وفا، ایثار و محبت کا پیکر تو مانتے ہیں لیکن عورت کو ایک انسان ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جب عورت ان رشتوں میں ڈھلتی ہے تو بے شک وہ اپنے ان رشتوں کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے لیکن رہتی بہرحال ایک انسان ہی ہے۔

اسلام، ایک مکمل الہامی مذہب جو کہ تخلیق کے کائنات و انسان سے لے کر زندگی گزارنے کے چھوٹے سے چھوٹے ، بڑے سے بڑے مسلئے مسائل اور معاملات کا حل پیش کرکے ہدایات دے چکا ہے اس نسل انسانی کی بھلائی کے لئے۔ قرآن، اللہ کا کلام جو کہ اسلام کی تمام ہدایات کا منبہ ہے جسکی عملی تصویر ہمیں آپ جناب حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ پاک نے ہمیں دی ہے ۔ اس میں کہیں بھی عورت کو غیرانسانی مخلوق نہیں کہا گیا یا اُس کے حقوق سے روکا گیا ہے اور نا ہی سوائے چند ایک معمالات کے مرد سے کمتر کہا گیا ہے۔ اسی طرح اگر آپ جناب حضرت محمد مصطفٰی صلی کی حیات طیبہ کا جائزہ لیں توہمیں کہیں بھی ایک مثال نہیں ملتی ہے کہ قرآن میں اللہ کی طرف سے عورت کو دئیے گئے حقوق کی نفی ہو۔ لیکن کیا کہیے کہ جب خود غرض اور دشمنِ انسانیت لوگو کے ہاتھ مذہب کی کنجی آئی اور وہ خودساختہ مذہب کے ٹھیکیدار بنا بیٹھے تو سب سے پہلے اپنی انا اور شہوت زدہ طبیعت کی تسکین کی خاطر سب سے پہلے عورت کے حقوق کی بات کو سرے سے ہی دائرہ اسلام سے نکال دیا اپنے خطبوں تبلیغوں، مباحثوں وغیرہ میں عورت کو پاوّں کی جوتی، گندی اور حرام چیز وغیرہ وغیرہ قرار دے دیا اور ہمارے لوگ جو قرآن کو صرف سجے سجائے جزدانوں میں رکھ کر پوجنے کے عادی اس بات کو درگوراعتناء ہی سمجھتے رہے اور سمجھتے ہیں کہ خود قرآن پڑھ لیں اور سمجھ لیں کہ کیا اللہ کا حکم ہے ، بس بے عقل بھینس کی طرح شاطر وعیار اسلام دشمن مذہبی ٹھیکیداروں کے پیچھے جگالی کرتے چلتے رہے یا چل رہے ہیں۔ صرف اپنی “میں” کی تسکین کی خاطر عورت کو اس کے بینادی حق یعنی حقِ رائے دہی سے بھی دُور کردینا ان کے لئے عین عبادت ہے اور اسلام کے اصول کے عین مطابق ہے ۔ یعنی اگر لڑکی کی رائے جو سب سے زیادہ اس وقت مقدم ہوجاتی ہے جب اسکا رشتہ ہونے لگے کسی سے اس وقت اس لڑکی کو ایک انسان نہیں بلکہ بے زبان بکری یا موم کی گڑیا کی طرح مرضی پوچھنے کے قابل بھی سمجھا نہیں جاتا ہے اور اگر کوئی لڑکی چاہے بھی رائے دینا تو پھر اس لڑکی کے ساتھ وہ سلوک ہوتا ہے کہ وہ شاید موت کو گلے لگانا ہی سب سے بہتر سمجھتی ہے۔ میرا ایسے لوگو سے سوال ہے ایک۔۔۔ جب آپ جناب رسول اللہ ص جنہیں ہمارے لئے اللہ نے رحمت بنا کے بھِیجا جن کے ہم اُمتی ہیں ، وہ اپنی صاحبزادی بی بی فاطمہ الزاہرۃ رض سے انکی رائے و مرضی پوچھ رہے ہیں انکی پسند پوچھ رہیں تو کیا آپ ، رحمتِ دو جہاں آپ جناب رسول اللہ ص سے نعوذ باللہ بڑھ کے ہیں؟ کیا آپ کی ذات برادری ، انا ، خاندان، ناک ، اللہ اور اللہ کے رسول ص سے بڑھ کے ہے؟ جب اللہ نے اپنی تخلیق کردہ مخلوق کو یہ حق دے دیا ہے کہ اس کا رشتہ جو اس نے ساری زندگی نبھانا ہے اسکی مرضی سے جوڑا جائے تو آپ کو کس نے حق دیا ہے کہ آپ اس کا یہ حق سلب کریں؟ کبھی سوچا بھی ہے کہ یہ حق اللہ نے کیوں دیا ہے عورت کو کہ اسکا رشتہ جس مرد سے جوڑا جارہا ہے وہ اسکی پسند کا ہو؟ میری ناقص رائے میں جو کہ غلط بھی ہوسکتی ہے صرف اس لئے کہ عورت شوہر کی عزت کے پہرے دار ہوتی ہے اسکی آنے والی نسلوں کی ماں ہوتی ہے جب شوہر اسکی پسند کا ہوگا تو وہ زیادہ خوشی سے اپنے حقوق و فرائض کی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونے کی کوشش کرے گی اور کسی کو پسند توکرنا دور کی بات کسی سے لگاوٹ سے بات کرنا بھی اپنے لئے حرام سمجھے گی۔ لیکن چونکہ ہم زمینی خدا ہیں، ہم نے توزمانہ دیکھا ہوتا ہے، ہم تو ماں باپ ہیں اس دنیا میں لائے ہیں ہمارا حق ہے ہم جو چاہیں اپنی بیٹیوں سے کریں ہمیں کون روک سکتا ہے۔ چلیں آپ ایسا کرلیں ہم مان لیتے ہیں آپ کی سب باتیں لیکن کیا آپ نے اپنی بیٹی کی تربیت ایسے کی ہوتی ہے کہ اسے کبھی یہ احساس نا ہو کہ اس کے سینے میں دل ہے وہ احساسات و جذبات رکھتی ہے؟

ایک لڑکی اگر اپنے جذبات و احساسات جو کہ اللہ کی دین ہیں ہرانسان کوجس پر کسی کا اختیار نہیں مار کراپنے والدین کی مرضی کے آگے سرجُھکا دیتی ہے اور اپنے وہ تمام جملہ حقوق و فرائض جو ایک بیوی اور ماں کے طور پر اسکو اللہ نے اسکو تفویض کئیے اور اسکی گُھٹی میں رکھے ہیں سے بہت احسن طریقے سے عہدہ براہ ہوتی ہے لیکن پھر بھی زندگی کے کسی موڑ پر اُسے کوئی اچھا لگنے لگتا ہے لیکن وہ اپنے اس احساس کو نشر نہیں کرتی اپنے ہی سینے میں دفن رکھتی ہے اور اپنے شوہر کی ہی وفا شعار رہتی ہے تو کیا یہ لڑکی فحاشہ و وحشیہ کے خطاب کی حقدار ہے؟

ہم نے لڑکی کی یہ بات تو دیکھ لی کہ اوہ شوہر کے ہوتے کسی اور کو پسند ۔۔ لیکن کیا ہم نے اس لڑکی کے اس احساس کے پسِ منظر کودیکھنے کی کوشش کی؟ جو لڑکی پہلے اپنے والدین کی عزت کی خاطر اپنے احساسات مارسکتی ہے توبعد میں کیوں نہیں؟ لیکن ان احساسات کو دوبارہ زندہ کرنے کی کیا وجوہات ظہور پذیر ہوئیں کبھی سوچا؟ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے لیکن ہمارے مردوں کے معاشرے میں تالی صرف ایک ہاتھ سے بجائی جاتی ہے جو بجانے والا صرف مرد ہوتا ہے جب کہ عورت صرف تالی کی ضرب کھانے والی ہوتی ہے * عموما” ، سو فیصد کہیں نہیں ہوتا* ۔۔۔ بے شک شادی عورت کی پسند کی نا ہو لیکن اگر شوہر کا رویہ اس کے ساتھ محبت ، شفیق اور دوستانہ ہے اور عورت کو عورت ہی نہیں ایک انسان سمجھنے والا ہے تو وہ عورت کبھی بھی کسی کو اپنے دل تو کیا سرسری نظر میں نہیں آنے دے گی۔

ایک ایسی عورت جسے نا صرف دنیا کی ہر آسائش، بہترین اولاد اور سب سے بڑھ کرشوہر کی مکمل محبت اور بہترین رویہ حاصل ہو تب بھی وہ کسی کو پسند کرے تو بے شک اس عورت کو سمجھایا جاسکتا ہے لیکن فحاشہ یا وحشیہ نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ کوئی اچھا لگنا لازمی نہیں کہ صرف ہم بستری یا دل لگی کے لئے ہو کسی کا رویہ ہوتا ہے کسی کا اخلاق ہوتا ہے جو پسند آسکتا ہے اور پھر عورت اس پسندیدگی کا عملی مظاہرہ تونہیں کررہی ہے ، گھرکی چاردیواری کو چھوڑ کراپنے شوہر کی عزت کو داغدار کرنے تونہیں جارہی ہے۔ اور اگر تب بھی عورت صرف اس بات پر فحاشہ یا وحشیہ کہلانے کے لائق ہے کہ شوہر ہوتے بچے ہوتے اوراپنے تمام حقوق و فرائض کی بجا آوری کے بعد اسکو کوئی اچھا لگنے کا احساس ہوا جو اسنے دل میں چھپایا ہوا ہے ظاہر کسی پر بھی نہیں کیا تو پھر معذرت کے ساتھ مرد بھی بہت بڑا زانی اورشہوت پرست ہے جو چوبیس گھنٹوں میں پتہ نہیں کتنی دفعہ زِنا کرتا ہے ۔ کیونکہ مرد توبیوی ہوتے ہوئے بھی دوسری خواتین کو دیکھتا ہے ، پسند کرتا ہے کسی سے شادی بھی کرلیتا ہے اورکسی سے ویسے ہی غیرشرعی تعلق قائم کرلیتا ہے، دوستوں کی محفلوں میں ماڈلز ہوں یا کوئی اور عورت انکی جسمانی ساخت و زاویوں کو زیرِبحث لاتا ہے ۔۔۔ اللہ نے ان باتوں کی اجازت مرد کوبھی نہیں دی ہے ۔۔۔ لیکن یہ بات تب سمجھ آئے جب ہم اپنی انا کے جھوٹے خول سے نکلیں، اپنی جاہل سوچ کو جسے چودہ سو سال پہلے آپ جناب رسول اللہ ص نے اللہ کے حکم سے باطل کردیا تھا اس کو بدلیں، اللہ کی طرف سے مختص کئے گئے حقوق و فرائض کی پاسداری کریں تو ہم اپنے عمومی رویوں کو بدلیں۔

ایس گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s