بلاعنوان

ایک دو دن سے سوشل میڈیا پر ایک خبر پڑھنے کو مل رہی تھی جو کہ زیادہ تر وہ لوگ شئیر کررہے تھے جو عرف العام میں لبرلز کہلاتے ہیں، ایک لڑکی کی آپ بیتی ہے جو کہ اگرچہ ہے ڈاکٹر ہے لیکن سات آٹھ سال کی عمر سے اپنے سگے باپ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوتی رہی ہے جبکہ اسکی ماں اپنے شوہر کے اس فعل سے بخوبی واقف بھی ہے اور سارا الزام اپنی سگی بیٹی کوہی دیتی ہے۔ والدین دونوں شہر کے مشہور ڈاکٹروں میں شمار بھی ہوتے ہے معاشرے میں ایک مقام بھی رکھتے ہیں جبکہ لڑکی خود بھی ڈاکٹر ہے ۔ کہانی کے شروع میں لڑکی نے خود کو اپنے والدین کے لئے بھائی کے مقابلے میں کمتر پایا ہے ۔۔تمام مظالم سہنے کے باوجود وہ ایک ڈاکٹر بن چکی ہے ۔ میں اس بات کو یہاں اپنے بلاگ کا حصہ نہیں بنانا چاہوں گی کہ آیا یہ سچی آپ بیتی ہے یا خودساختہ گھڑی ہوئی کہانی۔ کیونکہ ہونے کو تو اس دنیا میں سب کچھ ہوسکتا ہے کئی ایسے سچے قصے بھی پڑھے ہیں جو رشتوں کی اہمیت و مقصدیت کی نفی کرتے ہیں ۔۔میرا بلاگ ان قصوں کے لئے نہیں ہے بلکہ اسکو لکھنے کی وجہ ہے کہ ایسی کیا وجہ ہوئی کہ ان باتوں کواتنا اُچھالا جائے کہ ہم رشتوں کی قدر کھوبیٹھیں؟ مجھے بتائیں اس قصے کو ایکسپریس ٹریبیون پڑھنے والے تقریبا” ہر فرد نے پڑھا ہوگا جس طرح سوشل میڈیا پرڈسکس ہورہا ہے وہ بھی ہرکوئی پڑھ رہا ہے۔ پڑھنے والو میں باپ بھی ہونگے اور بیٹیاں بھی خود بتائیں کہ یہ خبرجب ایک ہی گھر میں باپ اور بیٹی پڑھیں گے توکیا باپ اپنی بیٹی کے آگے شرمندہ نہیں محسوس کررہا ہوگا؟ کیا بیٹی کے دل میں کوئی سوچ نہیں آئی ہوگی؟ مجھے انگریزوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے انہوں نے توآزادی کی نام پرتو ہر رشتے کوپتہ نہیں کیا کیا بنادیا ہے لیکن ہمارے اپنے ملک میں کیا حرکت کررہے ہیں ہم آزادی رائے کے نام پر۔ پہلی بات کوئی بھی لڑکی جس کے ساتھ کسی شخص نے یہ ظلم کیا ہوچاہے وہ کتنی بھی آزاد خیال نا ہوجائے ایسے کھلے عام گلا پھاڑ پھاڑ کرایک ایک تفصیل بیان کرے گی کہ لوگ اس کے ساتھ ہونے والے واقعے پر ظاہرا” ہمدردی کریں لیکن اندر ہی اندر مزے لیں، دوسری بات سوشل میڈیا ہی کیوں؟ ایسی کیا وجہ ہوئی کہ جب کہ لڑکی خود بھی ڈاکٹر ہے وہ اپنی کہانی سوشل میڈیا پرتوشئیر کررہی ہے لیکن ان لوگوکو بتا نہیں رہی ہے جو اسکی صحیح سے مدد کرسکیں۔ کیا سوشل میڈیا پر کہانی شائع کروا کے لڑکی کو انصاف مل جائے گا؟ کیا ایسے واقعات جو کہ یقینا” ہوتے ہونگے رُک جائیں گے؟ کیا اس طرح تفصیل سے مزے لے لے کرکہ کس وقت کیا ہوا کیسے ہوا بتانے سے آپ اپنی یا معاشرے کی مدد کررہے ہیں؟ اور چلیں مان لیں ایسا ہوا یہ بھی مان لیں کہ باپ کو اسکے کئے کی سزا مل گئی اب لڑکی کیا کرنا چاہتی ہے؟ کسی یورپی ملک یا امریکہ کی شہریت؟ اپنے باپ کا کئے دھرے کا جو سراسر اسکا ذاتی فعل ہے ملک کے سارے مردوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر ملک و مذہب دونوں کی بدنام کرنا چاہے گی؟ ۔ اور اگر یہ کہانی غلط ہے توپھر جھوٹ گھڑنے والو اوراس کو پھیلانے والو کی کیا سزا ہوگی؟ جس طرح سے اس لڑکی کے والد کا نام سوشل میڈیا پر لیا گیا ہے کیا انکی جو جگ ہنسائی ہوئی ہوگی وہ واپس ہوجائے گی؟ جن لوگو نے یہ کہانی پڑھی ہے کیا ان لوگو کے ذہنوں سے رشتوں سے متعلق شکوک و شہبات مٹ جائیں گے؟

انصاف کے لئے لازمی نہیں ہے کہ اپنے کپڑے پوری دنیا کے سامنے اتارے جائیں خاص طورپر اس دنیا کے سامنے جو صرف آپ کی تکلیف کا حال سن کرمزے لیتی ہو ۔۔۔

آخر میں جن صاحب نے یہ قصہ اپنے بلاگ کا حصہ بنایا ہے اورجس فیس بک پیج سے لیا ہے وہ اس قصے میں کتنی سچائی ہے اسکو جانچنے کے لئے کافی ہیں۔

ایس گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s