اس کا سدباب کیا ہے

پھر ایک اور حوا کی بیٹی پہلے ہوس کی آگ کا نشانہ بنی اورپھر سچ مچ کی آگ میں جلا کرماردی گئی۔ یہ اس ملک یا دنیا میں کوئی پہلا یا انوکھا واقعہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ہر سیکنڈ میں پتہ نہیں کہاں کہاں عورت ذات ہوس کا نشانہ بنتی ہے کبھی تو جان بچ جاتی ہے توکبھی بے دردی سے مار دی جاتی ہے۔ ملک ترقیافتہ ہو یا ترقی پذیر ایسے واقعات ہر جگہ ہوتے ہیں ۔ یہ قصہ آج کا نہیں بلکہ جب سے دنیا پر انسان نام کا جانور پیدا کیا گیا ہے تب سے یہ سلسلہ جاری ہے اور شاید قیامت کے وقت تک جاری رہے۔ زمانہء جنگ میں تو دشمن کی عورتوں کو تو خیر مال مفت دلِ بے رحم کی طرح نوچا کھسوٹا جاتا ہے اور قدیم مصر کے بازار کی طرح بازار سجا کر مول لگایا جاتا ہے لیکن زمانہء امن میں دشمن نہیں بلکہ آپ کے اپنے پہلے آپ کو نوچتے کھسوٹتے ہیں پھر عورت کو جنس کے بازار میں تول کر بیچتے ہیں ایک دفعہ نہیں ہر دفعہ ۔ آج کل جب ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے تو پہلے عورت کی پامالی کی ویڈیو بنائی جاتی ہے بلیک میل کرکے اپنا اور اپنے دوستوں کا خوب جی بہلایا جاتا ہے اورپھریہ ویڈیوز انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرکے دنیا بھر میں اس زخم زخم عورت کو بار بار ننگا کیا جاتا ہے بار بار بیچا جاتا ہے۔ اگرچہ کہ میری بات بھی عورت دشمنی گردانی جائے گی لیکن میں سوال ضرور کروں گی کہ دوسروں کی عزتوں سے کھیلنے والے کیا اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں بھی روز ایسے ہی اپنے ہاتھوں پامال کرتے ہیں؟ کیا ایسے ہی اپنی بہنوں بیٹیوں کو اپنے دوستوں کا جی بہلانے کے لئے پیش کرتے ہیں؟ کیا ایسے ہی اپنی بہنوں بیٹیوں کی عزت تار تار ہونے کی ویڈیوز بنا کر پوری دنیا میں پھیلا کر اپنی مردانگی کا ثبوت دیتے ہیں؟ ویسے مجھے امید تو نہیں ہے کہ کبھی نماز پڑھتے ہوں تو کیا نماز پڑھتے ہوئے جب اُس پاک و بابرکت رب ذوالجلال کے آگے سر بسجود ہوتے ہیں توذرا بھی دل لرزتا ہے اس خیال سے کہ شرک کہ بعد سب سے بڑا گناہ زِنا کے مرتکب ہوئے ہیں اور ایک ایک انسان جسے اللہ نے آزاد پیدا کیا اسکو جنسی غلام بنانے کے مرتکب ہورہے ہیں؟ کیا کبھی سوچا ہے کہ روزِ محشر توچھوڑو بڑھاپے میں جب زندگی کے میلے ٹھیلے پھیکے پڑجائیں گے اور موت سامنے نظر آئے گی توضمیر اگر کہیں سے اُدھار مل گیا تو کیا آئینے میں اپنا منہ دیکھ سکیں گے؟ مجھے معلوم ہے کہ کئی لوگ کہیں گے کہ “اللہ نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے” بے شک اللہ نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے لیکن مرد کو بھی نظر کے پردے کا حکم دیا ہے کیا مرد اس حکم کو پورا کرتے ہیں؟ اغوا ہونے والی اور ہوس کا نشانہ بننے والی لڑکی ہمیشہ بے پردہ یا آوارہ لڑکی نہیں ہوتی ہے جو اپنے جرم پر یہ کہہ کر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے کہ لڑکی بے پردہ اور آوارہ تھی۔ میں یہ بھی مانتی ہوں کہ اللہ نے فطری ضرورتیں رکھی ہیں تو اللہ نے ان ضرورتوں کے حل کے لئے نکاح کی خوبصورت و پاک سنت بھی رکھی ہے اور تو اور مرد کو اسکی فطری ضرورت کےلئے چار شادیوں کی بھی اجازت دی ہے تو پھر دوسروں کی بیٹیوں کی عزت سے کھیلنا ۔۔یہ آپ کو درندے سے بھی بدتر نہیں بناتا ہے؟ میں سارا الزام ادھر مردوں کو بھی نہیں دونگی بلکہ عورت کو بھی دونگی خاص طور پر ماں کو کیونکہ بچہ کوئی ماں کے پیٹ سے بُرا پیدا نہیں ہوتا ہے لیکن اس کی پہلی تربیت گاہ اسکی ماں ہوتی ہے جب ماں ہی اپنے بچے کے ذہن میں یہ ڈالے گی کہ وہ مرد ہے اور اسے حق حاصل ہے عورت پر چاہے وہ اسکی بہن بیٹی کیوں نا ہو اس پر تشدد کرنے اس سے بہتر چیز استعمال کرنے یا اس کا حق مارنے کا تو یہ سوچ اس بچے کی عمر کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتی جاتی ہے اور یہ تو حقیقت ہے کہ ماں کو اللہ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو نظروں اور شکل سے اسکی حالت یا اسکی عادات کا اندازہ لگا لیتی ہے جب پہلی دفعہ آپ کا بیٹا غلط حرکت کرتا ہے تو آپ اس حرکت پر منع کرنے سمجھانے کے اسکی پردہ داری کرتی ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ کا بیٹے کی کچھ فطری ضروریات ہیں اسکے سدباب کے لئے اسکی شادی کردینے کے بجائے یہ ڈرامہ کرتی ہیں کہ لڑکی چاند کا ٹکڑا ہو اور اتنا جہیز لائے جس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ لڑکے کی غلط عادات اتنی پختہ ہوجاتی ہیں کہ وہ شادی کے بعد بھی گندی عادت سے نکل نہیں پاتا اور گناہ کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے ۔ اگر ماں سب سے پہلے بیٹے کو روک لے تو باپ بھی بیٹے کو شے دینے کا قابل نہیں رہتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ دیہات میں تو خیر عورت نے ہی عورت کو پیر کی جوتی بنانے کی روایت ڈالی ہوئی ہے لیکن شہروں کی پڑھی لکھی مائیں بھی دیہات کی خواتین کی طرح کی سوچ ہی رکھتی ہیں۔ جب کہ اگر ہم حکومتی سطح پر دیکھیں تو سر شرمندگی سے ہی جھکتا ہے کیونکہ جس کے پاس جتنا پیسہ اور طاقت ہے وہ دوسروں کی بیٹیوں کو راہ چلتے اغوا کرنے اور پھر عزت خراب کرنے کو اپنی طاقت کا مظاہرہ سمجھتا ہے کیونکہ حرام کے کمائی نے ان کے خون کا ایک ایک قطرہ حرام کردیا ہوتا ہے لہٰذا یہ حلال و حرام کی تمیز بھول کر صرف طاقت کے نشے میں ہر حرام کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمیں زنا بالجبر یا زنا بالرضا کی روک تھام کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضروت نہیں ہے ہمیں چوداں سو سال پہلے قرآن میں اسکی روک تھام کے لئے سزائیں بتا دی گئی تھیں ہمیں صرف ان سزاوّں پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ جس دن حکومت نے یہ سزائیں سرعام دینا شروع کردیں بلا کسی تخصیص کے اس دن سے یہ گھناوّنا کام اگر مکمل ختم نہیں ہوگا تو کم ضرور ہونا شروع ہوجائے گا۔ یہ ایک گندی بیماری ہے اس کو ختم کرنے کے لئے سب کو کام کرنا پڑے گا ورنہ اس گندگی کے جراثیم ہم سب تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایس گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

One Response to اس کا سدباب کیا ہے

  1. Ejaz Rashid says:

    Great read….

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s