ہنی ٹریپ – حصہ اول

ریحام آئی اور ریحام چلی گئی۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ کہانی اب شروع ہوئی ہے۔ ریحام کو کون لایا ؟ کیوں لایا؟ کس مقصد کے لئیے لایا؟ اور جب بھیج دی گئی توکون ہے جس کے مقاصد تقریبا” حل ہوچکے ہیں؟ یہ وہ باتیں ہیں جو ریحام کے لائے جانے اور اس کے چلے جانے کے درمیان ہونے والے واقعات سے تعلق رکھتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ جب آپ پر عزت شہرت کی دیوی مہربان ہوتی ہے تو پھر بہت سے طفیلیے بھی آپ سے دوستی کے دعوے کرنے لگتے ہیں یہی کچھ عمران خان کے ساتھ بھی ہوا، جب اکتوبر دوہزار  گیارہ میں عمران خان نے تحریک انصاف کا لاہور میں جلسہ منعقد کیا تو عوام کی پزیرائی نے بہت سے قوتوں کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ، یہ لوگ جسے کل تک معمولی کھلاڑی سمجھ رہے تھے اس کی مقبولیت نے انکو دن میں تارے دکھا دئیے اس جلسے کے بعد عوام کی جہاں حمایت میں اضافہ ہوا وہیں بہت سے سیاستدان اور دوسرے لوگ تحریک انصاف کو جوائن کرنے لگے۔کچھ لوگ جو پہلے سے تھے تحریک انصاف میں ان کے نام بھی عوام کو پتہ لگنے لگے۔ جن لوگوں نے اس وقت جوائن کیا ان میں شاہ محمود قریشی، مخدوم جاوید ہاشمی ، جہانگیر ترین جیسے لوگ شامل ہیں جبکہ اسد عمر ایک ایسا اضافہ تھے جسے عوام میں بہت پزیرائی ملی۔ تحریک انصاف جہاں جلسہ کرتی وہاں لوگوں کی بھیڑ ، الامان الحفیظ کہنا پڑتا کہ تل دھرنے کی جگہ نا ہوتی۔ یہ بات ملک کی دو بڑی جماعتوں کے لیے لمحہء فکریہ تھی۔ تحریک انصاف ملک کی سب سے مشہور جماعت بن کرابھری، ہر عمر کے لوگ خاص کر نوجوان نسل جس نے سیاست کے نام سے نفرت کی تھی وہ تحریک انصاف کی وجہ سے ملکی سیاست میں دلچسپی لینے لگی، الغرض ہر طبقہ ء فکر نے تحریک انصاف کا کھلی بانہوں سے استقبال کیا۔ تحریک انصاف میں بہت سے لوگ ایسے بھی شامل ہوئے جن کا اپنا ایجنڈا تھا کیونکہ وہ عمران خان کی سولہ سترہ سال کی محنت کو ناصرف کیش کروانا چاہتے تھے بلکہ اس محنت کی سیڑھی پر چڑھکر وہ مقام حاصل کرنا چاہتے تھے جو اگر وہ ویسے کوشش کریں تو انکو نا ملے۔ دوہزار بارہ میں تحریک انصاف عروج پر ہے، میڈیا میں ایک لندن پلٹ خاتون کی انٹری ہوتی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ بی بی سی پر کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں ، سوشل میڈیا پر انکی باقاعدہ پلاننگ سے ہائپ بنائی گئی وہ خاتون چینل پر چینل بدل رہی ہیں آہستہ آہستہ غیرمحسوس طور پر انکو سینئر اینکر بنایا جارہا ہے اور پھر باقاعدہ ان کو عمران خان سے متعارف کروایا جاتا ہے اور انٹرویو دلوایا جاتا ہے۔ دو ہزار بارہ میں ان خاتون کو لندن سے بلوا کر میڈیا میں اینٹر کروانے سے پہلے خاتون کو مکمل طور پر بریف کیا گیا ہے کہ عمران خان کی کمزوریاں کیا کیا ہیں کہ کیسے بات کی جائے کیا ڈریسنگ کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ اگرچہ کہ خاتون جو کہ سیاست کی ابجد سے بھی واقف نہیں لیکن بہت شوق رکھتی ہیں سیاست میں نام کمانے کا وہ اپے پروگرامز میں تحریک انصاف پر خوب تنقید کرتی ہیں لیکن پس پردہ پرائیوٹ طور پر تحریک انصاف کے حلقوں میں کافی متحرک ہیں۔ دوہزار تیرہ کے الیکشن ہوتے ہیں تحریک انصاف عروج پر ہے، خان زخمی ہوکرپھر سے سیاست میں ایکٹیو ہے جب کہیں انصاف نہیں مل رہا ہے تو خان لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان کرتا ہے ، اگست دو ہزار چودہ میں لانگ مارچ شروع ہوتا ہے، پورا ملک ایک اپنے حقوق کے لیۓ خان کے ہم آواز ہے اسلام آباد میں دھرنا شروع ہوتا ہے ایک طرف عمران خان ہے اور دوسری طرف طاہر القادری ، اچھنبے کی بات ہے کہ عمران خان نے جس دن لانگ مارچ کا اعلان کیا اسی دن کے لئے طاہر القادری بھی اعلان کردیتے ہیں۔ دھرنا جاری ہے عوام اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہے، مفاد پرست ٹولہ چونکہ سازش کا بیج بوچکا ہے تو اس کو اپنا کھیل کھل کر کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے خاتون اب تقریبا” روزانہ دھرنے میں جارہی ہیں ، انٹرویو بھی لے رہی ہیں جبکہ مفاد پرست ٹولہ خاتون کو مستقل مواقع فراہم کررہا ہے عمران خان سے قریب کرنے کے۔ جاوید ہاشمی اپنا کام کرکے تحریک انصاف چھوڑ کے جاچکا ہے ، عمران خان ایک دن اچانک دھرنے میں شادی کرنے کا اعلان کرتا ہے ۔ ہرطرف چہ مگوئیاں شروع ہیں ، مفاد پرست ٹولہ آہستہ آہستہ عمران خان کی آںکھ اور کان بن رہا ہے ۔ کہتے ہیں کہ اگر پتھر پر مسلسل پانی قطرہ قطرہ گرے تو اس میں بھی سوراخ ہوجاتا ہے یہ حال عمران خان کے ساتھ ہوا، جو لوگ ریحام خان کو لندن سے تربیت دے کر لائے تھے وہ مسلسل خان کو حیلے بہانوں سے شادی پر مجبور کرتے رہے  پھر اے پی ایس کے واقعہ ہوا اور دھرنے کو ختم کرنا پڑا۔

جنوری میں عمران خان کی ریحام نئیر سے شادی کا باقاعدہ طور پراعلان ہوجاتا ہے اگرچہ کہ شادی اکتوبر کے آخر میں ہوچکی ہے اور ریحام بنی گالہ شفٹ ہوچکی ہے۔ یہاں سے کہانی مزید بڑھتی ہے ریحام کے ذریعے سب سے پہلے بنی گالہ کے وفادار ملازمین کی چھٹی کروائی جاتی ہے اور دوسری طرف سوشل میڈیا جسے پوری دنیا میں اب اظہار رائے اور عوام کی رائے عامہ کو جاننے کے لیۓ ہر حکومت توجہ دیتی ہے، وہاں پر باقاعدہ سے ریحام اور کچھ رہنماؤں کے فین کلبز بنائے گئے جہاں پر کرائے کے لوگ رکھ کر چوبیس گھنٹے تعریفوں کے پُل باندھنا کی ذمہ داری دی گئی۔ جیسے ہر خاتون شادی کے بعد اپنے گھر کا کنٹرول سنبھالتی ہیں ویسے ہی ریحام نے بنی گالہ کا کنٹرول سنبھال لیا پرانا عملہ تو فارغ کرہی دیا تھا نیا عملہ ریحام نے اپنی مرضی یا جو اس کو کہاگیا اس کو منتخب کرکے رکھا۔ چونکہ ریحام شروع سے سیاست میں آکر شہرت ، پیسہ اور طاقت کے خواب دیکھ رہی تھی اسنے شادی کے بعد سے ہی تحریک انصاف کے معاملات میں دخل اندازی شروع کردی اگرچہ کہ عمران خان کئی دفعہ کہہ چکا تھا کہ فیملی پالیٹکس ہم پسند نہیں کرتے لیکن ریحام کا عمل دخل روز بروز بڑھتا جارہا تھا تنقید پر عمران کو مجبور کیا جاتا کہ وہ ریحام کو ڈیفینڈ کرے۔ اب چونکہ یہ مفاد پرست ٹولہ باقاعدہ اپنا مہرہ عمران خان کا شریک ہمسفر بنا چکا تھا جو ناصرف عمران کی بلکہ ریحام کی کمزوریوں سے بدرجہ اتم واقف تھا اسنے اب ریحام کی ڈوریاں ہلانا شروع کردیں عمران کے کئی ساتھی جن میں اسد عمر، شاہ محمود قریشی پس منظر میں جاتے چلے گئے۔ اب ہر جگہ جہانگیر ترین نظر آنے لگا۔سوشل میڈیا پر پیڈ ٹیم نے کراچی سے تعلق رکھنے والے عارف علوی اور علی زیدی کو نشانہ بنانا شروع کردیا ، شیرین مزاری کو بھی آئے روز گالیوں سے واسطہ پڑنے لگا ۔ پھر اینٹری ہوئی چوہدری سرور کی اب تحریک انصاف کی لیڈر شپ میں عمران خان کے بعد صرف جہانگیر ترین یا چوہدری صفدر نظر آتے ، شاہ محمود، عارف علوی ، شیرین مزاری یا اسد عمر شاذ ونادر ہی تحریک انصاف کی لیڈرشپ پلیٹ فارم کی زینت بنتے ۔ سوشل میڈیا ، میڈیا پر ان لوگوں کے بارے میں طرح طرح کی خبریں اڑائی گئیں۔ ایک طرح سے ان لوگوں کا رابطہ عمران خان سے ختم کردیا گیا جو انڈراسٹینڈنگ تھی اسکی ختم کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔

کراچی کے این اے دوسوچھیالس کی کمپین میں جب عمران خان اکیلا یہاں آیا تھا توایم کیو ایم کے الطاف حسین نے ریحام کو بھابھی کہہ کر عروسی جوڑے اور سونے کے زیورات تحفے میں دینے کا اعلان کیا، ادھر اعلان ہوا دوسرے دن صبح ریحام خان کراچی میں تھی۔ ریحام کو کس نے مجبور کیا یا مشورہ دیا کہ وہ کراچی آئے وہ بھی اس اعلان کے بعد؟ کیا ریحام خود آئی یا بھیجی گئی؟ عمران کو بات بنانی پڑی کہ کراچی کی خواتین کو خوف کے احساس سے نکالنے کے لئیے میں اپنی بیوی کو لایا ہوں کمپین کرنے کے لئے۔ میڈیا کا توکام تھا کہ وہ مرچ مصالحے والی اسٹوری چلائے لیکن ریحام بھی شہرت کی بھوکی تھی لیکن اس کو کون اکسا رہا تھا وہ تمام باتیں کرنے کو جو وہ کررہی تھی؟ وہ لوگ کون تھے جنہوں نے اسد عمر جیسے رہنما کو پریس کانفرینس میں تیسری صف میں کھڑے ہونے پر مجبور کیا جبکہ فیصل واڈوا جیسے بندے کو جو کوئی رہنما نہیں جسکو تحریک انصاف کے اپنے حلقوں میں پسند نہیں کیا جاتا وہ اسد عمر سے آگے کھڑا تھا؟ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے ووٹرز سپورٹرز جنکی تقسیم تو عمران کی ریحام سے شادی پر ہی واضح ہوچکی تھی وہ کراچی کمپین پر مزید گہری ہوگئی جب وہ لوگ جو اس شادی کے مخالف تھے انہوں نے اس بات پر برا منایا کہ کیوں سیاست میں ریحام حصہ لے رہی ہے۔ اسی طرح کئی مواقع پر ریحام کی مسلسل سیاست میں مداخلت نے پارٹی کو بیک فُٹ پرکھیلنے پر مجبور کردیا تھا۔ پارٹی کا ایک بہت بڑا گروپ جو ریحام سے شادی کا مخالف تھا اور جسے عمران خان سے ملنے اور تحریک انصاف کی فیصلہ سازی سے الگ کیا جارہا تھا وہ مجبور ایک طرف ہوکر بیٹھ گیا اور اس کا کام صرف یہ رہ گیا کہ وہ عمران خان کے ہر فیصلے کی تائید کرے یا صفائی دیتا پھرے۔ تحریک انصاف میں ہی نہیں بلکہ اسکی سپورٹ کے رضاکار بھی دھڑہ بندی کا شکار ہوچکے تھے۔ پھر ہری پور کے ضمنی الیکشن ہوا تو ریحام وہاں کمپین کرنے پہنچ گئی۔ خان کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ ہری پورجیسے علاقے میں اپنی بیوی کو کمپین کرنے بھیجے؟ کیا ریحام وہاں خود گئی تھی یا بھیجی گئی تھی؟ اور پھر جو کچھ ریحام نے کہا اور اس پر جو ہا ہا کار مچی وہ دنیا جانتی ہے جب الیکشن میں بری طرح شکست ہوئی تو عوامی ردعمل نے عمران خان کو مجبور کردیا کہ وہ کسی جگہ اپنا فیصلہ لے لہٰذا اس نے ریحام پر پابندی لگادی سیاست میں حصہ لینے کی۔ اس پر بھی اگرچہ کافی بحث ہوئی ۔ پھر برطانوی اخبار میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں جس میں عمران خان کی سابقہ بیوی پر عمران کا گھر توڑنے اور حسد کا شکار ہونے کا الزام لگایا گیا اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا عمران خان کو پوری دنیا کے سامنے اپنی سابقہ بیوی کی حمایت کا اعلان کرنا پڑا۔ ادھر ریحام جھوٹی عوامی حمایت کے لئے اپنے سابقہ شوہر پر الزام در الزام میں الجھ پڑی جس میں اس کا جواں سال بیٹا بھی شامل ہوگیا۔ تحریک انصاف کے سپورٹرز جو ان تمام باتوں اور اپنا غصہ نکالنے کے باوجود تحریک انصاف سے محبت کرتے تھے وہ ذہنی کوفت میں مبتلا ہوگئے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ کون تھا جو ریحام کو برطانوی اخبار کو خبریں لیک کرنے پر اکسا کر اپنا کام نکلوا رہا تھا؟ عمران خان اپنے عائلی مسائل میں اتنا الجھ گیا تھا کہ اس کی توجہ پارٹی معملات سے یکسر ختم ہوگئی تھی، کے پی حکومت کیا کررہی ہے کیا نہیں کچھ پتہ نہیں تھا، کچھ بھی ہوجائے عمران خان بنی گالہ میں قید ہوکررہ گیا تھا ایک وقت تو یہ آیا کہ بنی گالہ کو لوگوں نے فنی گالا کہنا شروع کردیا۔ بہت سے لوگ لندن سے واپسی پر اس بات سے واقف ہوچکے تھے کہ طلاق اب آخری حل ہے کیونکہ ریحام کی تمام حرکتوں سے خان واقف ہوچکا تھا اور سب سے بڑا جھٹکا جمائما پر بے جا الزام تھا۔ یوں یہ شادی ایک سال چل سکی اور خان نے اکتوبر کے آخر میں ریحام کو طلاق دے دی۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

 

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s