کیوں

انڈیا میں اصلی گائے کے بعد اب نقلی گائے والا غبارہ اڑانے پر مقدمہ درج۔

انڈیا میں صرف شک کی بنیاد پر کہ گائے کا گوشت کھایا ہے مجمعے نے موت کی بھینٹ اتار دیا۔

انڈیا میں شک کے ہی بنیاد پر کہ گائے اسمگل کی جارہی ہے مجمعے نے ایک مسلمان ڈرائیور کو تشدد کرکے موت کی گھاٹ اتار دیا۔

برما میں روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم۔

ایک طویل فہرست ہے جو ہمیں آئے روز اخباروں، الیکٹرونک میڈیا یا سوشل میڈیا پر ایسے واقعات کی پڑھنی پڑتی ہے جس پر ہم اپنے غم و غصہ کےا ظہار کبھی الفاظ میں تو کبھی احتجاج سے کرتے ہیں۔ بہت تکلیف ہوتی ہے جب ہم دنیا کے کسی بھی حصے  میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی داستان پڑھتے ہیں۔ ہمارے علماء کرام بڑے بڑے جلسوں میں انسانیت اور مذہبی رواداری کے بیان دیتے نظر آتے ہیں۔ جمعہ کے خطبے میں امام صاحب اتنے رقت آمیز انداز میں مسلمانوں پر روا مظالم کے قصے بیان کرتے ہیں کہ سخت سے سخت جان بھی رو پڑے۔ سوشل میڈیا پر مذہبی جماعتوں کے متحرک سوشل میڈیا سیلز ایسی ایسی باتیں بذریعہ تصاویر ہم تک پہنچاتے ہیں کہ نا صرف ہمارے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں بلکہ جذبہء ایمانی بھی جوش مارنے لگتا ہے۔ مناسب۔

اب چلیں تصویر کا دوسرا رُخ دیکھتے ہیں، پاکستان ایک اسلامی ملک ہے چاہے کوئی کچھ بھی بولے قائد اعٰظم اور دوسرے رفقاء نے یہ ملک مسلمانوں کے لئے ہی بنایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہم اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں اُسے لاگوُ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن پتہ ہے یہ نظام کیوں لاگوُ نہیں ہوسکا یا ہوسکتا کیونکہ ہم دوغلے لوگ ہیں۔  ہمارے مذہبی رہنماء ، علماء کرام،مفتیانِ کرام آئے روز اسلامی نظام رائج کرنے کے بیانات داغتے رہتے ہیں کبھی اپنی سیاست چمکانے کے لئے تو کبھی انتخابات میں مذہب کا چورن بیچ کر نشستیں حاصل کرنے کے لئے۔ اس کے علاوہ اسلامی قوانین پر مزید بات کریں تو ان تمام علماء کرام، مفتیانِ کرام اور رہنماؤں کا اسلام صرف عورت کے پردے اور انکی سیاست چمکانے کی حد تک ہیں ورنہ ان لوگو کے نزدیک باقی کوئی قانون اسلام میں نہیں ہے جیسے اقلیتوں کے حقوق وغیرہ۔

میں ایک سُنی مسلم ہوں مجھے یہ تونہیں پتہ کہ میرا فرقہ کیا ہے یہ بات مجھے کہنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ہم فتوہٰ ساز فیکٹری میں بھی ماشاء اللہ سے خود کفیل ہیں۔ لہٰذا اپنا مذہب اور فرقہ بتانا لازمی ہے۔ اب میں کونسی سُنی ہوں یہ مجھےنہیں پتا کیونکہ میرے نزدیک بریلوی ہوں یا دیوبندی یا اہل حدیث ہر کوئی اپنے اپنے فرقے میں کچھ نا کچھ بدعات یا فضولیات رکھتا ہے جس کا اسلام سے دُور دُور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ میری اس بات سے اگر کسی کی دل آزاری ہوتی ہے تومیں کیا کہہ سکتی ہوں کیونکہ میرا مذہب “اسلام” مجھے سچ اور حق بولنے کی تلقین کرتا ہے اور جو صرف اللہ سے ڈرتا ہے وہ تلوار کی نوک پر بھی سچ بولتا ہے۔ مجھے آج اپنے مذہب یا اپنے فرقے کی بات کرنا کیوں سوجھی اسکی بھی ایک وجہ ہے اور وہ وجہ ہے ظلم۔ جو اس ملک خاص طور پر پنجاب میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے۔

ابھی دو تین دن پہلے جہلم میں ایک قادیانی/احمدی کی چیپ بورڈ کی فیکٹری کو آگ لگا دی گئی مجمعے کی طرف سے ۔اسی مشتعل مجمعے نے تین لوگ جن میں دو عدد معصوم بچیاں بھی شامل تھیں جن میں سے ایک بچی کی عمر سات سال اور ایک کی چار سال تھی۔ وجہ یہ پتہ چلی کہ پاس کی مسجد سے امام صاحب نے اعلان کرکے لوگو کو اُکسایا کہ فیکٹری میں قرآن کریم کے اوراق کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اور ہمارے ماشاءاللہ پکے سچے مسلمان بھائیوں نے بِنا تحقیق آؤ دیکھا نا تاؤ فیکٹری کو آگ لگا دی اور فیکٹری میں پھنسے لوگو کو باہر نکلنے کی بھی اجازت نا دی گئی۔ وہ تو خیر ہوئی کہ کاروائی ہوئی اور لوگو کو بچایا گیا ورنہ کافی نقصان ہوجاتا۔

اب بات ہوتی ہے کہ میں تو سُنی ہوں اور قادیانیوں کو مٗسلمان نہیں سمجھتی ہوں بے شک یہ میری سوچ ہی نہیں میرے ایمان کا تقاضہ بھی ہے تو پھرمیں کیوں آج انکی حمایت کررہی ہوں۔ میں حمایت نہیں کررہی میں صرف اپنے پکے سچے مسلمان بہن بھائیوں سے اپنے کُند ذہنی، اسلام سے بے خبری، ایمان کی کمزوری دُور کرنے کے لئے کچھ سوال کرنا چاہ رہی ہوں۔ کچھ سوالات ہیں اگرجوابات دے دیں تو یقین کریں آپ روزِمحشر کیا اللہ سے اسی دُنیا میں جزا پالیں گے۔

میرے سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. کیا وجہ ہے کہ صرف پنجاب میں ہی اقلیتوں کو مارا جلایا جاتا ہے؟

  2. اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق میں قادیانیوں کو مسلمان نہیں مانتی لہٰذا میرے لئے یہ اقلیت ہیں۔ تو مجھے یہ بتایا جائے کہ کیا اسلام میں اقلیتوں کو جلانے مارنے یا انکی عزت و مال کو برباد کرنے کا حکم ہے؟ ب

  3. کیا اقلیتوں کو اپنے مذہب پر پوری طرح عملدرآمد کرنے کی اجازت ہے ایک مسلمان ملک میں؟ 

  4. کیا اقلیتوں کو اسلامی ریاست میں اجازت ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کریں؟

  5. کیا اسلام میں اجازت ہےکہ بِنا تحقیق کے مسلمان اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں کےعزت جان و مال کو نقصان پہنچائیں؟

  6. کیا اسلام میں اجازت ہے کہ اگر ایک انتہائی قیمتی زمین جو کہ کسی اقلیتی فرد کی ملکیت ہے اس کو اگر وہ نہیں بیچ رہا ہے تو پھر مسلمان قرآن، یا آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کا نام لیکر تہمت لگوا کر نا صرف اس اقلیتی فرد کی جان کو خطرے میں ڈالیں بلکہ اسکی املاک کو نقصان پہنچا کر اس زمین پر قبضہ کریں؟َ

  7. کیا وہ بچے جو کہ اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں جنکی عمریں اسلام کی رُو سے نماز تک پڑھنے بلکہ مذہب تک کو سمجھنے کی نہیں ہیں ان کو صرف اس بناء پر موت کا سزاوار قرار دے دیا جائے کہ وہ اقلیت   تعلق رکھتے ہیں؟

  8. کیا ایک مسجد کے امام کو یہ حق اسلام دیتا ہے کہ وہ اقلیتوں کے خلاف جھوٹ اور تہمت گھڑنے کے لئے مسجد کے مقدس منبر کو استعمال کرے وہ بھی صرف اپنی ذاتی عناد کے لئے یا علاقے کے مقتدر حلقوں کو خوش کرنے کے لئے؟

  9. کیا اسلام مسلمانوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ جزا سزا زندگی اور موت کو اپنے وصف سمجھیں اور جس کو چاہے اللہ کے نام پر موت کی بھینٹ اُتار دیں؟

  10. اللہ اور رسول ص سے محبت صرف اقلیتوں کو مارنے جلانے کے لئے ہی کیوں یاد آتی ہے کہ غیرتِ ایمانی اتنا جوش مارتی ہے کہ لوگوکوزندہ جلادیں؟ کیا یہ غیرت نماز قرآن روزہ زکٰواۃ ، اسوۃ حُسنیٰ یا اسلام کے مکمل نظام پر عمل درآمد کے وقت سُلا دینا جائز ہے؟

نوٹ: راہ مہربانی مجھے صرف قرآنِ کریم کی سورۃ اور آیات مکمل سپارے اور آیت نمبر کے ساتھ ثبوت دیں اس سلسلے میں۔

غلطی سے میں اسلامی تاریخ اور اسلامک اسٹڈیز کے طالبہ ہوں اور آج بھی میں کوشش کرتی ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اپنے دین کی معلومات رکھوں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کروں ۔ کیونکہ میں یہ بات جانتی بھی ہوں اور ایمان بھی رکھتی ہوں کہ روزِمحشر مجھ سے یہ سوال ضرور پوچھا جائے گا کہ اگر فلاں معاملے پر علم نہیں تھا توکوشش کیوں نا کی جاننے کی یا اگر سچ پتہ تھا تو کیوں اپنے خالق سے تو  نا ڈری لیکن خالق کی مخلوق سے ڈر کر سچ نا بولیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں نے یہ کچھ سوالات جو ابھی میرے ذہن میں تھے پوچھے ہیں۔ اگر آپ کے پاس جوابات ہیں تو مکمل ریفرنس کے ساتھ دیجئیے گا۔

 

CUcGHBzWcAARqdk

ان ننھی بچیوں کا صرف یہ قصور تھا کہ یہ ایک قادیانی گھر میں پیدا ہوئیں، کیا یہ قصور انہوں نے جان کر کیا تھا؟

ایس گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s