این سی سی

ابھی ہم سولہ دسمبر 2014 کے سانحے کی پہلی برسی گزرنے کے دکھ سے نہیں نکلے تھے کہ دشمن نے پھر وہیں وار کیا جہاں ہم کمزور تھے یعنی ہمارے مستقبل کے معماروں۔ 20 جنوری 2016 تقریبا” ٹھیک ایک ماہ اور کچھ دن کے بعد اُسی گروپ نے جِس نے اے پی ایس میں ہمارے بچوں کا قتلِ عام کیا تھا اُسی دشمن نے چارسدہ یونیورسٹی کے طالبعلموں پر وار کیا۔ عجب بات ہے کہ موسم بھی شدید سردی کا کہ دُھند کے لپیٹے میں ہاتھ کو ہاتھ سُجائی نا دے اور وقت بھی صُبح کا جب انسان نیند سے بیدار ہوکر اپنے دن کا آغاز کرتا ہے۔ اس دفعہ دُشمن نے لڑکوں کے ہوسٹل کا نشانہ بنایا جہاں پر اس وقت کافی طالبعلم موجود تھے کچھ اپنی اپنی کلاسسز لینے کی تیاری کررہے تھے تو کچھ چھٹی منا رہے تھے ۔ حملہ سخت تھا لیکن یہ بچے اے پی ایس کے بچوں سے عمر میں بڑے اور سمجھدار تھے ان میں سے کچھ نے تو بہادری کا تاریخ رقم کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا تو کوئی شدید زخمی ہوکر اسپتال پہنچایا گیا۔ ایک جواں سال استاد جو کہ آرگینک کیمسٹری میں پی ایچ ڈی تھا جس کے پاس اس وقت پستول موجود تھی اُس نے کافی دیر صرف اس ایک پستول کے بل بوتے پر اپنے طالبعلموں کو دہشتگردوں سے نا صرف دُوررکھا بلکہ بہت سے طالبعلموں کو اپنی جان بچانے کا موقع دیا اور پھر دہشت گردوں کی فائرنگ سے یہ جوان سال بہادر استاد جس نے پتہ نہیں کتنی نسلوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا اس نے اپنی جان اپنے طالبعلموں پر نثار کردی۔ اس حملے میں یونیورسٹی کے اپنے سیکیورٹی گارڈز، مالی، کینٹین والا، الغرض سب نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق طالبعلموں کی جانوں کو دہشتگردوں سے بچانے کی سعی کی اور وہ بہت حد تک کامیاب رہے، پولیس اور پھر فوج کے کمانڈو ایکشن نے تقریبا” حملے کے ڈھائی گھنٹے کے اندر اندر نا صرف طلبعلموں ، استادوں اور دوسرے اسٹاف کے مدد سے دہشتگردوں کو مار گرایا بلکہ آپریشن کلین اپ بھی کرکے یونیورسٹی کو سیکیور کیا۔

یہ سانحہ کیوں ہوا کیسے ہوا کس نے کیا، وہ سب کچھ میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچ رہا ہے۔ میرا آج یہ بلاگ لکھنے کا مقصد نیشنل ایکشن پلان یا ضربِ عضب کے افادیت یا عمل درآمد نہیں ہے بلکہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ایک تجویز دینا اور اپنے قارئین کی مدد سے ایک رائے عامہ تیار کرنا ہے۔ کسی زمانے میں ہمارے کالجز میں این سی سی کی ٹریننگ دی جاتی تھی جس کے باقاعدہ امتحانوں کی طرح نمبرز بھی ہوتے تھے جو کہ طُلبہ کے سالانہ امتحانات کے نمبروں میں شامل کئیے جاتے تھے۔ بہت سے طُلبہ اس ٹریننگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے لیکن پِھر 1994 میں یہ ٹریننگ پورے ملک میں بند کردی گئی مجھے نہیں پتہ کہ اس افادیت والی ٹریننگ جو نا صرف بچوں کو کسی بھی حادثاتی حالات میں مددگار ثابت ہوتی بلکہ اُنکی ذہنی و جسمانی نشورنُما کے لئیے بہترین ورزش اور امتحانات میں اضافی نمبروں کا باعث بنتی تھی ، اُسکو کس کے اشارے پر اور کیوں بند کیا گیا۔ آج ہم حالاتِ جنگ میں ہیں، اُس جنگ کو اپنی جنگ بنا چُکے ہیں جو کبھی ہماری تھی ہی نہیں، اگرچہ کہ شائد پہلے میری سوچ یہ تھی کہ نہیں ہم اگر شامل نا ہوتے تو ہم بھی امریکہ کے غصے کا شِکار ہوتے لیکن 2001 سے لے کر آج کے دن تک جو کچھ ہمارے مُلک میں ہوچُکا ہے اُس نے میری سوچ کو یکسر بدل دیا ہے۔ یہ جنگ ہماری نہیں تھی ہم پر مسلط کی گئی۔ اگر ہم حصہ نا بنتے توتب اگرچہ کہ یہی حالات ہوتے یا نا ہوتے اور جب بنے تو آہستہ آہستہ جس طرح سے اس جنگ میں ہمیں جھونکا گیا وہ دُنیا دیکھ رہی ہے۔ زخم بھی ہم نے کھائے ، جانیں بھی ہم نے دیں آپ کے لئے تب بھی ہم موردِ الزام ہی ٹھہرے۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ بحثیتِ قوم ہم بھی کُچھ اپنے لئے سوچیں کیونکہ جب تک یہ حکمران چاہے فوجی ڈکٹیٹر ہوں یا جمہوری ڈکٹیٹر یہ ہمارلے لئے فیصلے کرتے رہیں گے تب تک ہم اندھے کنوئیں میں ہی سڑتے مرتے رہیں گے۔

یہ وقت ہے کہ ہم عوام ان حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ ہمارے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ این سی سی کی لازمی ٹریننگ کو کالجز اور یونیورسٹیز کے نصاب کا حصہ بنائیں۔ مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ یہ اعتراض کریں گے کہ جی یہ علمی درسگاہیں ہیں یہاں سے علم بانٹنا چاہئے ، درست بات ہے یہ لیکن آپ کس کو علم بانٹیں گے جب ہمارے مستقبل ہماری نسلیں اس طرح سے دہشتگردی کا شکار ہوتی رہیں گی؟ ہم کب تک اپنے بچوں کے قتال کو شہادت کا نام دے کر دل کو تسلی دیتے رہیں گے؟ کب تک وہ مائیں جو اپنے بچوں کو اسکول پڑھنے بھیجتی ہیں اپنے بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں پر شہادت کا ٹیگ لگا کر اپنا دُکھ سینے میں دفن رکھیں گی؟ کب تک ہمارے باپ جو دن و رات ایک کرکے اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے اپنا آج ختم کر دیتے ہیں وہ اپنے بچوں کے لاشے کاندھوں پر اُٹھاتے رہیں گے؟ یہ بات یاد رکھیں کہ چیونٹی کی بھی جب جان پر بنتی ہے تو کاٹتی ہے۔ ہم اس وقت جنگی حالات میں زندگی گُزار رہے ہیں اور ہمیں ہرحال میں اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی بچانی ہے۔ اور یہ کام خالی آرمڈ فورسز یا سیکیورٹی ایجینسیز و اداروں کا نہیں ہے بلکہ عوام کا بھی ہے کہ وہ ان اداروں کی بھی مدد کرے۔ اگر ایسا نا ہوتا تو اس جدید دور میں اسرائیل اور ترکی جیسے ملکوں میں طالبعلموں کے لئے فوجی ٹریننگ لازمی قرار نا دی جاتی۔ ہمیں ہر بات کو منفی انداز میں سوچنے اور دیکھنے کی عادت ہوچکی ہے۔ ہم صرف یہ کیوں سمجھیں کہ این سی سی کی لازمی ٹریننگ بچوں کو کوئی غلط چیز سکھائے گی؟ سیلف ڈیفنس ، فرسٹ اید وغیرہ جیسی ٹریننگز تو امن کے حالات میں بھی بہت کارآمد ہوتی ہیں۔ زیادہ دُور کی بات نہیں کرتی یہی دیکھ لیں کہ اگر ہمارے گھر میں خُدانخواستہ آگ لگ جائے یا کسی کو فرسٹ ایڈ کی ضرورت پڑجائے تو ہم تب تک انتظار کرتے ہیں جب تک کوئی آئے اور ہماری مدد کرے، اگر ہمارے بچے ایسی ٹریننگز لئے ہوئے ہوں جو انسانی جانیں بچانے کے لئے ابتدائی طور پر مدد کرسکتی ہوں تو کیا بُرائی ہے اس میں؟ ہم ان ٹریننگز کو نصاب یا علم کا حصہ کیوں نہیں سمجھنے پر تیار ہیں؟ آج اگر ہماری بچیاں سیلف ڈیفنس کے علاوہ اسلحہ استعمال کرنے کی ٹریننگ بھی لی ہوئی ہوں تو وہ نا صرف اپنا دفاع کرسکتی ہیں بلکہ اپنے ساتھ موجود لوگوکا بھی دفاع کرسکتی ہیں۔ ایسی ٹریننگز میں ریفلیکسز کااستعمال سکھایا جاتا ہے جو اپنے دفاع میں انسان کا سب سے پہلا ہتھیار ہوتا ہے۔

اپنے ذہن کو وسعت دیجئیے اپنے ملک کے لئے ہی نا سہی ، اپنے بچوں کے لئے ہی سہی ان کو ایسی ٹریننگز کے لئے حکومت پر زور دیں ۔۔زرا سوچئیے۔

ایس گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

2 Responses to این سی سی

  1. Zafar Saeed says:

    very nice
    keep it up

    Like

  2. انگریزی کا محاورہ ہے کہ امن کی کونپل بندوق کی نالی سے پھوٹتی ہے۔ درست کہا گیا ہے کہ ہم سب کچھ دوسروں پر چھوڑ بیٹھے ہیں؛ دین ملا پر، تحفظ پولیس پر، حادثات ہنگامی اداروں پر، ملکی سلامتی عسکری اداروں پر اور مادر وطن لٹیروں پر۔ ضرورت ہے کہ نوجوان آگے بڑھ کر زمام اپنے ہاتھ میں لیں۔
    کچھ کر لو نوجوانو، چڑھتی جوانیاں ہیں
    ایک خوبصورت تحریر، اور صائب مشورہ

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s