کچھ باتیں کچھ سوالات

آج بہت دنوں کے بعد کچھ لکھنے کا موقع مِل رہا ہے۔ زندگی کے جھمیلوں میں ہی زندگی اتنی مصروف ہوجاتی ہے کہ ذہن میں پکنے والی سوچوں کی کھچڑی کو بلاگ کی زینت بنانے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ سیاست ہو یا معاشرت ، آن لائن بلاگز نے ہمیں یہ سہولت دے دی ہے کہ ہم اپنی سوچوں کو اپنے سوالوں کو بلاگز کی صورت میں ڈھال کر دنیا کے سامنے پیش کردیتے ہیں اب یہ پڑھنے والو پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کسی کے لکھی گئی تحریر کو پڑھکر کیا تاثریا رائے قائم کرتا ہے۔ کم از کم میرا مقصد بلاگ لکھنے کا یہ ہوتا ہے کہ میں اپنا بلاگ پڑھنے والے کوکچھ سوچنے کا موقع دوں کہ آیا میری بات غلط ہے یا صحیح۔ سوال پیش کروں جن کے جوابات مجھے کہیں سے نہیں ملتے یا اگر ملتے بھی ہیں تومجھے منطقی طور پرمطمعئن نہیں کر پاتے ہیں۔ سیاست و معاشرت اور مذہب تو خیر اب آئے روز ہم سوشل میڈیا پر زیرِ بحث لاتے رہتے ہیں لٗہذا اب کچھ ایسے موضوعات کو اپنے بلاگ کا حصہ بنانا چاہتی ہوں جو انسانی سوچ کی وسعتوں کو جانچتے ہیں۔ میں فلسفی نہیں ہوں نہ ہی بہت زیادہ پڑھی لکھی لیکن سوچ اور اسکے ارتقاء پر بھی کسی قسم کا کنٹرول نہیں رکھتی ہوں۔ سوالات بے شُمار سوالات ہیں جو وقت بے وقت جنم لیتے رہتے ہیں دماغ کے نہاخانوں میں۔ کبھی توجوابات مل جاتے ہیں اور کبھی اُلجھ جاتی ہوں ۔ یہی سوچ کر کہ شاید مجھے میرے الجھے سوالات کے جوابات میرے قارئین و دوستو سے مل جائیں تو کیوں نا اپنے بلاگ “چائے گھر” کو چائے گھر بناتے اپنے سب دوستو کو دعوت دوں کہ میرے بلاگ پر بحث کرکے نا صرف میری بلکہ دوسرے پڑھنے والو کی بھی معلومات میں اضافہ کریں۔

جب کبھی مجھے زندگی کی رونقوں سے وقت ملتا ہے اپنے لئے جب میری پوری سوچ میری اپنی ذات کے محور کے اردگرد گھوم رہی ہوتی ہے تومیرے ذہن میں پہلا سوال آتا ہے کہ “میں” کون ہوں؟َ مطلب اس دنیا میں توبے شک میری ذات ، خاندان نام وغیرہ موجود ہے لیکن جب اس پوری کائنات کی بات کی جائے تو پھر سوال اُٹھتا ہے کہ “میں” کون ہوں؟ کیا ہوں؟ کیوں ہوں؟ کیا میں واقعی کوئی وجود رکھتی ہوں؟ جب مادی طور پر اس دنیا میں نہیں تھی تو کیا تب بھی میرا وجود موجود تھا؟ اگر تھا تو کس شکل میں اور کہاں؟ اگر عدم میں تھا تو یہ عدم کیا ہے؟ کب سے ہے؟

اگرچکہ یہ میرے سوالات بچکانہ ہیں لیکن انسانی سوچ بہت وسیع ہے جسکی کوئی حد نہیں ہے کبھی بھی کچھ بھی سوچ سکتی ہے کوئی بھی سوال اُٹھا سکتی ہے ۔ لٰہذا یہ بہتر ہوتا ہے کہ اُلجھنے کے بجائے ان سوالوں کے جوابات تلاش کئیے جائیں ۔

مجھے امید ہے کہ مجھے بھی جوابات ملیں گے۔ مذاق بھی اُڑایا جائے گا لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ سوالات کبھی نا کبھی آپ کے بھی ذہن میں آتے ہوں لیکن آپ انکو الفاظ کا جامہ نہ پہنا سکتے ہوں۔ ۔۔۔۔

ایس گل

Advertisements

About S.Gull

ایک عام انسان جو اس دنیا کے پل پل بدلتے رنگوںکو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے مادیت پرستی اورانسانیت کی تڑپتی سِسکتی موت کا تماش بہین ہے۔ جو اگرچہ کے خود بھی اس معاشرے کا ہی حصہ ہے مگرپھربھی چاہتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھوڑی سے روشنی مل جائے
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

11 Responses to کچھ باتیں کچھ سوالات

  1. Amna Suleiman says:

    اوّل تو اتنا عمدہ لکھنے پر آپ تعریف کی حقدار ہیں. رہی بات آپ کے سوالات کے جواب کی تو الله تعالیٰ نے انسان کو ایک مقصد سے دنیا میں بھیجا ہے. اور وہ ہے الله اور اس کے رسول (ص) کی اطاعت .یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اس حکم کو بجا لاتا ہے یا زندگی بیکار کرتا ہے. یہ بات زیر بحث ضرور آتی ہے کہ کیا صرف عبادات ہی ہیں الله کے حکم کی پاسداری؟ نہیں… اسلام ایک مذھب نہیں ہے یہ دین ہے مطلب کہ مکمل ضابطہ حیات. عبادات صرف الله اور اس کے بندے کے درمیان ایک تعلق ہے جس کی بنا پر بندے کو یاد رہتا ہے کہ اسکی زندگی کا مقصد کیا ہے.
    احادیث میں ہے کہ انسان کو الله نے بنایا تو اس نے زمین کا بوجھ اپنے سر لینے کی حامی بھری. سو فیصد الفاظ یاد نہیں فلحال مجھے.
    امید ہے آپکو کچھ سوالات کا جواب مل گیا ہو. 🙂

    Like

  2. Rashid says:

    Who Am I : I am a product of time, experience and my own thoughts. I am defined by my actions, that are based on time, experience and my independent thought. I can appear very different to different people. Their viewpoint is coloured/tainted by their own existence. I may be good, I may be bad and I might be indifferent. These are merely definitions that are adopted by society to slot me into a category. I was good yesterday, but my opinions today render me bad, as society can not cope with difference.

    Liked by 1 person

  3. Rashid says:

    Who am I : Part 2: There are two aspects the first the physical, I have addressed, the second is metaphysical.

    15:29 And when I have proportioned him and breathed into him of My [created] soul, then fall down to him in prostration.”

    Allah SWT (or at least a part of him) is in us. This Gives us the Ability to create. we are his deputies here on Earth. He did not say that we are Ashraf of entire Universe. Just the Makhlouq on Earth. So its possible that he has more advanced deputies elsewhere. So Who am I? I am Allah SWT deputy who has been enpowerd to think, and create within a limit. This may be the learning we need to progress to higher things, unknown, after our purpose is fulfilled here on earth.

    Biological Matter is characterized by DNA, a code that defines us. If our Ruh is Energy, than it also must have some coding, enabling Allah SWT to recreate us in the exact shape and form as we have here. We can therefore be recreated almost anywhere in any of the Universes. So my Knowledge and experiences can also be stored.

    So Who am I : I am part Physical, part Metaphysical entity on a mission of learning. We may be born on the same very planet many times over to continue to evolve and when the task is complete, we leave the planet for good.

    Liked by 1 person

    • Rashid says:

      19:17
      And she took, in seclusion from them, a screen. Then We sent to her Our
      Angel, and he represented himself to her as a well-proportioned man.

      This is LIGHT (Energy) to Matter conversion. If he Wills then he can recreate.

      Do they not see that Allah, Who created the heavens and Earth, has the power to create the like of them, and has appointed fixed terms for them of which there is no doubt? But the wrongdoers still spurn anything but unbelief. (Surat al-Isra’, 99)

      Do they not see that Allah—Who created the heavens and Earth and was not wearied by creating them—has the power to bring the dead to life? Yes indeed! He has power over all things. (Surat al-Ahqaf, 33)

      The events of the Day of Judgment will bring new heavens and a new world, for such is His will. People will be brought to His presence to account for all that they have done, for:

      On the Day Earth is changed to other than Earth, and the heavens likewise, and they parade before Allah, the One, the All-Conquering. (Surah Ibrahim, 48)

      Liked by 1 person

  4. S.Gull says:

    سر، آپ کے جواب میں سے میرا ایک سوال ہے، کہ اگر ہم کہیں بھی کسی بھی وقت دوبارہ تخلیق کئے جاتے ہیں یا جاسکتے ہیں اللہ کی طرف سے تو کیا ہمارے شعور و لاشعور میں گزری ہوئی شکل یا زندگی میں جو کچھ بھی معاملات تھے وہ فیڈ ہوتے ہیں؟ کیا یہ Deja vu اسی کے معنی ہیں؟

    Like

  5. Rashid says:

    Ji… our soul (made from Godly Soul/Energy) has all information/experience stored in it… All our good/bad deeds will be played back to us… that is only possible if energy can store information. which it must (we just dont know how that is possible)

    Sura Isra 17:13-14
    is the Proof.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s