ہنی ٹریپ “حصہ دوم”

قصہ مختصر، ریحام اورعمران خان کی شادی لالچ، شخصی کمزوریوں، سازشوں کا شاخسانہ تو تھی لیکن محبت کی بنیاد پر نہیں تھی۔ جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ میں اس معاملے میں عمران خان کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دونگی،کیونکہ عمران خان کوئی ٹین ایجر نہیں دنیا دیکھا عمر والا انسان ہے۔ ایسی کیا مجبوری تھی جو عمران خان نے ان لوگوں کی بات کونہیں مانا جو عمران خان کی ریحام سے شادی کے خلاف تھے جنہیں بعد میں ریحام نے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکنے کی حتٰی الامکان کوشش کی؟ عمران کو شادی سے پہلے ہی ایجنسیز نے آگاہ کردیا تھا کہ ریحام سے شادی نا کریں لیکن ایسا کیا ہوا کہ عمران بضد رہا شادی کرنے پر؟ کیا عمران کی وضع داری تھی یا پھر عمران خان کو کسی بات پر اتنا ذہنی طور پر پریشان کیا گیا کہ وہ بادل نخواستہ شادی پر راضی ہوگیا؟ شادی کے بعد یکے بعد دیگرے واقعات کو دیکھیں تو عمران خان کی سوشل میڈیا یا میڈیا پر باتوں کو نوٹ کیا جائے تو ان میں وہ قطعیت ناپید رہی ہے جو عمران خان کا خاصہ ہے، مثلا” ریحام کی جعلی ڈگری کا واقعہ ہو یا ہری پور کی کمپین پر عوامی ردعمل پر عمران خان کی ٹوئیٹ ۔۔کون تھا جو عمران خان کو مجبور کررہا تھا کہ وہ ایسی باتوں پر اپنا ردعمل ایسے الفاظ میں دے جو اس کے چاہنے والے سمجھ جائیں کہ یہ کن حالات میں کہے گئے ہیں؟ عمران خان جو کنٹینر پر کہتا تھا کہ سچ بولو توکس نے اس کو کہا کہ شادی کو چھپا جاؤ اور پھر خبر بھی لیک کروا دی گئی؟ اس ایک سال میں عمران خان جو کبھی لاہور سے اسلام آباد تک کا سفر گاڑی پر کرتا تھا اب ہیلی کاپٹر کے بنا کہیں بھی جانے سے انکاری ہوا؟ کیا وجہ تھی کون تھا جو ریحام کو بیس بیس باڈی گارڈ اور فُل پروٹوکول دیا جارہا تھا، جب کہ عمران خان ان سب باتوں کا مخالف تھا لیکن ریحام پر چپ تھا؟ ایسی کیا وجوہات تھیں کہ عمران اتنا بے بس ہوگیا تھا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی اپنی مرضی سے بھی گزارنے کا قابل نہیں رہا تھا؟ ریحام بے شک لالچی اور خراب عورت ہوگی، سازشی بھی ہوگی لیکن اتنا بڑا گیم کھیلنا ریحام کے بس کی بات نہیں ہے۔ اگر ہم دنیا کی تاریخ پڑھیں تو ایسی عورتوں کی مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے لیڈروں سے شادی کی اور انکو مروا تک دیا لیکن ان کی تمام ترسازشوں میں خالی انکا ذہن نہیں بلکہ وہ ہاتھ ہوتے ہیں جو ان عورتوں کو کٹھ پتلی کی طرح چلاتے ہیں۔ لہٰذا ریحام صرف ایک مہرہ تھی لیکن اس کے ذریعے چال کوئی اور چل رہا تھا۔ 

ایک ایسی سازش چلی گئی کہ تحریک انصاف میں دھڑے بندیاں ہوگئیں، شاہ محمود قریشی ، اسدعمر، عارف علوی، علی زیدی ، جسٹس وجیہہ الدین جیسے لوگوں کو سوشل میڈیا پر تختہ ء مشق بنایا جانے لگا جبکہ دوسری طرف جہانگیر ترین، چوہدری سرور، ڈار برادران ، علیم خان کی تعریفوں کے ڈونگرے برسائے جانے لگے ۔کیا یہ تقسیم بھی کسی سازش کا حصہ تھی یا ہے؟ تاکے دونوں دھڑے یا تو دل برداشتہ ہو کر پارٹی چھوڑ دیں یا پارٹی میں رہ کر ہی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچیں۔۔۔ دوسرا والا معاملہ ہم نے دیکھا کہ کیسے پے در پے ضمنی الیکشن ہارے ، بلدیاتی الیکشنز میں منہ کی کھائی ۔ پوری پارٹی کو آپس میں لڑادیا صرف ایک عورت کو اپنی شطرنچ کی چال کا مہرہ بنا کر۔

اگرچہ کہ ویسے ہم دیکھیں تو ہمیں جہانگیر ترین اور گروپ لگتے ہیں کہ وہ مفاد پرست ٹولہ ہیں کیونکہ ریحام سے شادی کے بعد یہ لوگ زیادہ آگے رہے لیکن اگر ہم غور کریں توریحام نے اپنے ہینڈلر کے اشارے پر اس گروپ سے زیادہ راہ و رسم اس لئے بڑھائی کہ یہ مالدار پارٹی تھی لاکھوں کروڑوں ان کے لئے پانی کی حیثیت رکھتے تھے ریحام کی لالچ اپنی جگہ لیکن اس راہ و رسم سے عوام میں یہ تاثر قائم کرنے میں کافی حد تک کامیابی ملی کہ عمران خان بھی صرف پیسے کا پجاری ہے جو کہ ایک لغو بات ہے۔ جبکہ شاہ محمود، اسد عمر جیسے لوگوں کے گروپ کو دور اس لئے کردیا گیا کہ یہ لوگ سیاست کو سمجھتے تھے اور عمران کو غلط فیصلوں سے روکتے تھے اگر یہ لوگ عمران کے قریب رہتے تو ریحام اور اسکے ہینڈلرز کو کامیابیاں نا ملتیں۔

معاملات شاید یوںہی چلتے رہتے اگر سازش رچنے والوں یا ریحام نے جلد بازی بلکہ اوچھے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے برطانوی اخبار میں جمائما پر الزام نا لگایا ہوتا۔ الزام لگانے والے بھول گئے کہ آپ کتنے بھی بڑے ہوجائیں کتنے ہی آپ کے برطانوی خفیہ ایجنسی سے تعلقات ہوجائیں جمائما وہاں کی نواب خاندان کی ہے اور شاہی خاندان سے کافی اچھے مراسم رکھتی ہے اس کے لئے اس لغو بات کی جڑ تک پہنچنا مشکل نہیں، اور وہی ہوا کہ اس آرٹیکل کے بعد عمران کو لندن جانا پڑا جہاں پر سب ثبوت عمران کے سامنے پیش کردیے گیۓ۔ بات یہیں تک ہوتی تو شائد عمران اتنا بڑا قدم نہیں اٹھاتا ہینڈلرز نے ریحام کے ذریعے زہر دلوانے کی جو سازش کی وہ بھی اللہ نے ایک لمحے میں افشاء کردی ، عمران کی زندگی تھی تبھی وہ بچ گیا ورنہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کیا ہوتا۔ اور بہت سے اسباب تھے جنہوں نے عمران کے صبر کا پیمانہ شاید لبریز کردیا تھا کہ تبھی عمران نے طلاق کا فیصلہ بنا کسی کو بتائے لیا اور وقت ضائع کئے بغیر طلاق دے دی۔ 

عمران کی شہرت، ساکھ اور پارٹی کو جو تباہی ہونی تھی وہ تو ہوئی وہ الگ بات ہے لیکن ریحام کو کیا ملا؟ پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے کیا؟ پاکستان میں ریحام کو کون پسند کرتا ہے مشکل سے چند لوگ یا پھر وہ جو عمران کی وجہ سے اسکو عزت دیتے تھے ۔۔سوچے اگر عمران خان کی موت ہوجاتی زہر سے اورپتہ چل جاتا کہ زہر دیا گیا ہے اور یہ بھی ثابت ہوجاتا کہ کس نے دیا ہے تو کیا ریحام کے ہینڈلرز اسکو بچاتے ؟ جواب ہے نہیں کیونکہ ریحام صرف ایک پیادہ تھی ان کے لئے کچھ پتہ نہیں اس کو بھی مروا دیتے۔

اس سازش کے تانے بانے پارٹی کے کسی دھڑے سے نہیں ملتے ہیں بلکہ یہ سازش رچنے والے کوئی اور ہیں جن کا لندن اصل گھر ہے جنہوں نے ہر ہر طریقے سے خان کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے ابھی بھی یہ ہینڈلر اپنے ایجنٹ کے ذریعے صلاح صفائی کروانے کی کوششوں میں ہیں افواہیں اڑوا کے عمران خان کو پریشر میں لانا چاہتے ہیں ۔ مائنس عمران فارمولے پر اب عمل کروایا جائے گا کیونکہ محلاتی سازش فیل ہوچکی ہے گندی سوچ کے گندے لوگ اب جب ٹیڑھی انگلی سے بھی گھی نا نکال سکے تو اب چمچ استعمال کررہے ہیں۔ افسوس سازشوں چالوں میں بھول رہے ہیں کہ خود بھی موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اور ریحام بی بی تم دو بیٹیوں کی ماں ہو کیوں ان بچیوں کے نصیب تباہ کرنے پر تُلی ہوئی ہو، تمہارے ہینڈلرز کی تو بات شروع عورت سے ہوتی ہے اور عورت پر ختم ہوتی ہے۔

 

Advertisements
Posted in Uncategorized | Leave a comment

ہنی ٹریپ – حصہ اول

ریحام آئی اور ریحام چلی گئی۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ کہانی اب شروع ہوئی ہے۔ ریحام کو کون لایا ؟ کیوں لایا؟ کس مقصد کے لئیے لایا؟ اور جب بھیج دی گئی توکون ہے جس کے مقاصد تقریبا” حل ہوچکے ہیں؟ یہ وہ باتیں ہیں جو ریحام کے لائے جانے اور اس کے چلے جانے کے درمیان ہونے والے واقعات سے تعلق رکھتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ جب آپ پر عزت شہرت کی دیوی مہربان ہوتی ہے تو پھر بہت سے طفیلیے بھی آپ سے دوستی کے دعوے کرنے لگتے ہیں یہی کچھ عمران خان کے ساتھ بھی ہوا، جب اکتوبر دوہزار  گیارہ میں عمران خان نے تحریک انصاف کا لاہور میں جلسہ منعقد کیا تو عوام کی پزیرائی نے بہت سے قوتوں کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ، یہ لوگ جسے کل تک معمولی کھلاڑی سمجھ رہے تھے اس کی مقبولیت نے انکو دن میں تارے دکھا دئیے اس جلسے کے بعد عوام کی جہاں حمایت میں اضافہ ہوا وہیں بہت سے سیاستدان اور دوسرے لوگ تحریک انصاف کو جوائن کرنے لگے۔کچھ لوگ جو پہلے سے تھے تحریک انصاف میں ان کے نام بھی عوام کو پتہ لگنے لگے۔ جن لوگوں نے اس وقت جوائن کیا ان میں شاہ محمود قریشی، مخدوم جاوید ہاشمی ، جہانگیر ترین جیسے لوگ شامل ہیں جبکہ اسد عمر ایک ایسا اضافہ تھے جسے عوام میں بہت پزیرائی ملی۔ تحریک انصاف جہاں جلسہ کرتی وہاں لوگوں کی بھیڑ ، الامان الحفیظ کہنا پڑتا کہ تل دھرنے کی جگہ نا ہوتی۔ یہ بات ملک کی دو بڑی جماعتوں کے لیے لمحہء فکریہ تھی۔ تحریک انصاف ملک کی سب سے مشہور جماعت بن کرابھری، ہر عمر کے لوگ خاص کر نوجوان نسل جس نے سیاست کے نام سے نفرت کی تھی وہ تحریک انصاف کی وجہ سے ملکی سیاست میں دلچسپی لینے لگی، الغرض ہر طبقہ ء فکر نے تحریک انصاف کا کھلی بانہوں سے استقبال کیا۔ تحریک انصاف میں بہت سے لوگ ایسے بھی شامل ہوئے جن کا اپنا ایجنڈا تھا کیونکہ وہ عمران خان کی سولہ سترہ سال کی محنت کو ناصرف کیش کروانا چاہتے تھے بلکہ اس محنت کی سیڑھی پر چڑھکر وہ مقام حاصل کرنا چاہتے تھے جو اگر وہ ویسے کوشش کریں تو انکو نا ملے۔ دوہزار بارہ میں تحریک انصاف عروج پر ہے، میڈیا میں ایک لندن پلٹ خاتون کی انٹری ہوتی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ بی بی سی پر کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں ، سوشل میڈیا پر انکی باقاعدہ پلاننگ سے ہائپ بنائی گئی وہ خاتون چینل پر چینل بدل رہی ہیں آہستہ آہستہ غیرمحسوس طور پر انکو سینئر اینکر بنایا جارہا ہے اور پھر باقاعدہ ان کو عمران خان سے متعارف کروایا جاتا ہے اور انٹرویو دلوایا جاتا ہے۔ دو ہزار بارہ میں ان خاتون کو لندن سے بلوا کر میڈیا میں اینٹر کروانے سے پہلے خاتون کو مکمل طور پر بریف کیا گیا ہے کہ عمران خان کی کمزوریاں کیا کیا ہیں کہ کیسے بات کی جائے کیا ڈریسنگ کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ اگرچہ کہ خاتون جو کہ سیاست کی ابجد سے بھی واقف نہیں لیکن بہت شوق رکھتی ہیں سیاست میں نام کمانے کا وہ اپے پروگرامز میں تحریک انصاف پر خوب تنقید کرتی ہیں لیکن پس پردہ پرائیوٹ طور پر تحریک انصاف کے حلقوں میں کافی متحرک ہیں۔ دوہزار تیرہ کے الیکشن ہوتے ہیں تحریک انصاف عروج پر ہے، خان زخمی ہوکرپھر سے سیاست میں ایکٹیو ہے جب کہیں انصاف نہیں مل رہا ہے تو خان لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان کرتا ہے ، اگست دو ہزار چودہ میں لانگ مارچ شروع ہوتا ہے، پورا ملک ایک اپنے حقوق کے لیۓ خان کے ہم آواز ہے اسلام آباد میں دھرنا شروع ہوتا ہے ایک طرف عمران خان ہے اور دوسری طرف طاہر القادری ، اچھنبے کی بات ہے کہ عمران خان نے جس دن لانگ مارچ کا اعلان کیا اسی دن کے لئے طاہر القادری بھی اعلان کردیتے ہیں۔ دھرنا جاری ہے عوام اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہے، مفاد پرست ٹولہ چونکہ سازش کا بیج بوچکا ہے تو اس کو اپنا کھیل کھل کر کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے خاتون اب تقریبا” روزانہ دھرنے میں جارہی ہیں ، انٹرویو بھی لے رہی ہیں جبکہ مفاد پرست ٹولہ خاتون کو مستقل مواقع فراہم کررہا ہے عمران خان سے قریب کرنے کے۔ جاوید ہاشمی اپنا کام کرکے تحریک انصاف چھوڑ کے جاچکا ہے ، عمران خان ایک دن اچانک دھرنے میں شادی کرنے کا اعلان کرتا ہے ۔ ہرطرف چہ مگوئیاں شروع ہیں ، مفاد پرست ٹولہ آہستہ آہستہ عمران خان کی آںکھ اور کان بن رہا ہے ۔ کہتے ہیں کہ اگر پتھر پر مسلسل پانی قطرہ قطرہ گرے تو اس میں بھی سوراخ ہوجاتا ہے یہ حال عمران خان کے ساتھ ہوا، جو لوگ ریحام خان کو لندن سے تربیت دے کر لائے تھے وہ مسلسل خان کو حیلے بہانوں سے شادی پر مجبور کرتے رہے  پھر اے پی ایس کے واقعہ ہوا اور دھرنے کو ختم کرنا پڑا۔

جنوری میں عمران خان کی ریحام نئیر سے شادی کا باقاعدہ طور پراعلان ہوجاتا ہے اگرچہ کہ شادی اکتوبر کے آخر میں ہوچکی ہے اور ریحام بنی گالہ شفٹ ہوچکی ہے۔ یہاں سے کہانی مزید بڑھتی ہے ریحام کے ذریعے سب سے پہلے بنی گالہ کے وفادار ملازمین کی چھٹی کروائی جاتی ہے اور دوسری طرف سوشل میڈیا جسے پوری دنیا میں اب اظہار رائے اور عوام کی رائے عامہ کو جاننے کے لیۓ ہر حکومت توجہ دیتی ہے، وہاں پر باقاعدہ سے ریحام اور کچھ رہنماؤں کے فین کلبز بنائے گئے جہاں پر کرائے کے لوگ رکھ کر چوبیس گھنٹے تعریفوں کے پُل باندھنا کی ذمہ داری دی گئی۔ جیسے ہر خاتون شادی کے بعد اپنے گھر کا کنٹرول سنبھالتی ہیں ویسے ہی ریحام نے بنی گالہ کا کنٹرول سنبھال لیا پرانا عملہ تو فارغ کرہی دیا تھا نیا عملہ ریحام نے اپنی مرضی یا جو اس کو کہاگیا اس کو منتخب کرکے رکھا۔ چونکہ ریحام شروع سے سیاست میں آکر شہرت ، پیسہ اور طاقت کے خواب دیکھ رہی تھی اسنے شادی کے بعد سے ہی تحریک انصاف کے معاملات میں دخل اندازی شروع کردی اگرچہ کہ عمران خان کئی دفعہ کہہ چکا تھا کہ فیملی پالیٹکس ہم پسند نہیں کرتے لیکن ریحام کا عمل دخل روز بروز بڑھتا جارہا تھا تنقید پر عمران کو مجبور کیا جاتا کہ وہ ریحام کو ڈیفینڈ کرے۔ اب چونکہ یہ مفاد پرست ٹولہ باقاعدہ اپنا مہرہ عمران خان کا شریک ہمسفر بنا چکا تھا جو ناصرف عمران کی بلکہ ریحام کی کمزوریوں سے بدرجہ اتم واقف تھا اسنے اب ریحام کی ڈوریاں ہلانا شروع کردیں عمران کے کئی ساتھی جن میں اسد عمر، شاہ محمود قریشی پس منظر میں جاتے چلے گئے۔ اب ہر جگہ جہانگیر ترین نظر آنے لگا۔سوشل میڈیا پر پیڈ ٹیم نے کراچی سے تعلق رکھنے والے عارف علوی اور علی زیدی کو نشانہ بنانا شروع کردیا ، شیرین مزاری کو بھی آئے روز گالیوں سے واسطہ پڑنے لگا ۔ پھر اینٹری ہوئی چوہدری سرور کی اب تحریک انصاف کی لیڈر شپ میں عمران خان کے بعد صرف جہانگیر ترین یا چوہدری صفدر نظر آتے ، شاہ محمود، عارف علوی ، شیرین مزاری یا اسد عمر شاذ ونادر ہی تحریک انصاف کی لیڈرشپ پلیٹ فارم کی زینت بنتے ۔ سوشل میڈیا ، میڈیا پر ان لوگوں کے بارے میں طرح طرح کی خبریں اڑائی گئیں۔ ایک طرح سے ان لوگوں کا رابطہ عمران خان سے ختم کردیا گیا جو انڈراسٹینڈنگ تھی اسکی ختم کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔

کراچی کے این اے دوسوچھیالس کی کمپین میں جب عمران خان اکیلا یہاں آیا تھا توایم کیو ایم کے الطاف حسین نے ریحام کو بھابھی کہہ کر عروسی جوڑے اور سونے کے زیورات تحفے میں دینے کا اعلان کیا، ادھر اعلان ہوا دوسرے دن صبح ریحام خان کراچی میں تھی۔ ریحام کو کس نے مجبور کیا یا مشورہ دیا کہ وہ کراچی آئے وہ بھی اس اعلان کے بعد؟ کیا ریحام خود آئی یا بھیجی گئی؟ عمران کو بات بنانی پڑی کہ کراچی کی خواتین کو خوف کے احساس سے نکالنے کے لئیے میں اپنی بیوی کو لایا ہوں کمپین کرنے کے لئے۔ میڈیا کا توکام تھا کہ وہ مرچ مصالحے والی اسٹوری چلائے لیکن ریحام بھی شہرت کی بھوکی تھی لیکن اس کو کون اکسا رہا تھا وہ تمام باتیں کرنے کو جو وہ کررہی تھی؟ وہ لوگ کون تھے جنہوں نے اسد عمر جیسے رہنما کو پریس کانفرینس میں تیسری صف میں کھڑے ہونے پر مجبور کیا جبکہ فیصل واڈوا جیسے بندے کو جو کوئی رہنما نہیں جسکو تحریک انصاف کے اپنے حلقوں میں پسند نہیں کیا جاتا وہ اسد عمر سے آگے کھڑا تھا؟ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے ووٹرز سپورٹرز جنکی تقسیم تو عمران کی ریحام سے شادی پر ہی واضح ہوچکی تھی وہ کراچی کمپین پر مزید گہری ہوگئی جب وہ لوگ جو اس شادی کے مخالف تھے انہوں نے اس بات پر برا منایا کہ کیوں سیاست میں ریحام حصہ لے رہی ہے۔ اسی طرح کئی مواقع پر ریحام کی مسلسل سیاست میں مداخلت نے پارٹی کو بیک فُٹ پرکھیلنے پر مجبور کردیا تھا۔ پارٹی کا ایک بہت بڑا گروپ جو ریحام سے شادی کا مخالف تھا اور جسے عمران خان سے ملنے اور تحریک انصاف کی فیصلہ سازی سے الگ کیا جارہا تھا وہ مجبور ایک طرف ہوکر بیٹھ گیا اور اس کا کام صرف یہ رہ گیا کہ وہ عمران خان کے ہر فیصلے کی تائید کرے یا صفائی دیتا پھرے۔ تحریک انصاف میں ہی نہیں بلکہ اسکی سپورٹ کے رضاکار بھی دھڑہ بندی کا شکار ہوچکے تھے۔ پھر ہری پور کے ضمنی الیکشن ہوا تو ریحام وہاں کمپین کرنے پہنچ گئی۔ خان کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ ہری پورجیسے علاقے میں اپنی بیوی کو کمپین کرنے بھیجے؟ کیا ریحام وہاں خود گئی تھی یا بھیجی گئی تھی؟ اور پھر جو کچھ ریحام نے کہا اور اس پر جو ہا ہا کار مچی وہ دنیا جانتی ہے جب الیکشن میں بری طرح شکست ہوئی تو عوامی ردعمل نے عمران خان کو مجبور کردیا کہ وہ کسی جگہ اپنا فیصلہ لے لہٰذا اس نے ریحام پر پابندی لگادی سیاست میں حصہ لینے کی۔ اس پر بھی اگرچہ کافی بحث ہوئی ۔ پھر برطانوی اخبار میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں جس میں عمران خان کی سابقہ بیوی پر عمران کا گھر توڑنے اور حسد کا شکار ہونے کا الزام لگایا گیا اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا عمران خان کو پوری دنیا کے سامنے اپنی سابقہ بیوی کی حمایت کا اعلان کرنا پڑا۔ ادھر ریحام جھوٹی عوامی حمایت کے لئے اپنے سابقہ شوہر پر الزام در الزام میں الجھ پڑی جس میں اس کا جواں سال بیٹا بھی شامل ہوگیا۔ تحریک انصاف کے سپورٹرز جو ان تمام باتوں اور اپنا غصہ نکالنے کے باوجود تحریک انصاف سے محبت کرتے تھے وہ ذہنی کوفت میں مبتلا ہوگئے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ کون تھا جو ریحام کو برطانوی اخبار کو خبریں لیک کرنے پر اکسا کر اپنا کام نکلوا رہا تھا؟ عمران خان اپنے عائلی مسائل میں اتنا الجھ گیا تھا کہ اس کی توجہ پارٹی معملات سے یکسر ختم ہوگئی تھی، کے پی حکومت کیا کررہی ہے کیا نہیں کچھ پتہ نہیں تھا، کچھ بھی ہوجائے عمران خان بنی گالہ میں قید ہوکررہ گیا تھا ایک وقت تو یہ آیا کہ بنی گالہ کو لوگوں نے فنی گالا کہنا شروع کردیا۔ بہت سے لوگ لندن سے واپسی پر اس بات سے واقف ہوچکے تھے کہ طلاق اب آخری حل ہے کیونکہ ریحام کی تمام حرکتوں سے خان واقف ہوچکا تھا اور سب سے بڑا جھٹکا جمائما پر بے جا الزام تھا۔ یوں یہ شادی ایک سال چل سکی اور خان نے اکتوبر کے آخر میں ریحام کو طلاق دے دی۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

 

Posted in Uncategorized | Leave a comment

اس کا سدباب کیا ہے

پھر ایک اور حوا کی بیٹی پہلے ہوس کی آگ کا نشانہ بنی اورپھر سچ مچ کی آگ میں جلا کرماردی گئی۔ یہ اس ملک یا دنیا میں کوئی پہلا یا انوکھا واقعہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ہر سیکنڈ میں پتہ نہیں کہاں کہاں عورت ذات ہوس کا نشانہ بنتی ہے کبھی تو جان بچ جاتی ہے توکبھی بے دردی سے مار دی جاتی ہے۔ ملک ترقیافتہ ہو یا ترقی پذیر ایسے واقعات ہر جگہ ہوتے ہیں ۔ یہ قصہ آج کا نہیں بلکہ جب سے دنیا پر انسان نام کا جانور پیدا کیا گیا ہے تب سے یہ سلسلہ جاری ہے اور شاید قیامت کے وقت تک جاری رہے۔ زمانہء جنگ میں تو دشمن کی عورتوں کو تو خیر مال مفت دلِ بے رحم کی طرح نوچا کھسوٹا جاتا ہے اور قدیم مصر کے بازار کی طرح بازار سجا کر مول لگایا جاتا ہے لیکن زمانہء امن میں دشمن نہیں بلکہ آپ کے اپنے پہلے آپ کو نوچتے کھسوٹتے ہیں پھر عورت کو جنس کے بازار میں تول کر بیچتے ہیں ایک دفعہ نہیں ہر دفعہ ۔ آج کل جب ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے تو پہلے عورت کی پامالی کی ویڈیو بنائی جاتی ہے بلیک میل کرکے اپنا اور اپنے دوستوں کا خوب جی بہلایا جاتا ہے اورپھریہ ویڈیوز انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرکے دنیا بھر میں اس زخم زخم عورت کو بار بار ننگا کیا جاتا ہے بار بار بیچا جاتا ہے۔ اگرچہ کہ میری بات بھی عورت دشمنی گردانی جائے گی لیکن میں سوال ضرور کروں گی کہ دوسروں کی عزتوں سے کھیلنے والے کیا اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں بھی روز ایسے ہی اپنے ہاتھوں پامال کرتے ہیں؟ کیا ایسے ہی اپنی بہنوں بیٹیوں کو اپنے دوستوں کا جی بہلانے کے لئے پیش کرتے ہیں؟ کیا ایسے ہی اپنی بہنوں بیٹیوں کی عزت تار تار ہونے کی ویڈیوز بنا کر پوری دنیا میں پھیلا کر اپنی مردانگی کا ثبوت دیتے ہیں؟ ویسے مجھے امید تو نہیں ہے کہ کبھی نماز پڑھتے ہوں تو کیا نماز پڑھتے ہوئے جب اُس پاک و بابرکت رب ذوالجلال کے آگے سر بسجود ہوتے ہیں توذرا بھی دل لرزتا ہے اس خیال سے کہ شرک کہ بعد سب سے بڑا گناہ زِنا کے مرتکب ہوئے ہیں اور ایک ایک انسان جسے اللہ نے آزاد پیدا کیا اسکو جنسی غلام بنانے کے مرتکب ہورہے ہیں؟ کیا کبھی سوچا ہے کہ روزِ محشر توچھوڑو بڑھاپے میں جب زندگی کے میلے ٹھیلے پھیکے پڑجائیں گے اور موت سامنے نظر آئے گی توضمیر اگر کہیں سے اُدھار مل گیا تو کیا آئینے میں اپنا منہ دیکھ سکیں گے؟ مجھے معلوم ہے کہ کئی لوگ کہیں گے کہ “اللہ نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے” بے شک اللہ نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے لیکن مرد کو بھی نظر کے پردے کا حکم دیا ہے کیا مرد اس حکم کو پورا کرتے ہیں؟ اغوا ہونے والی اور ہوس کا نشانہ بننے والی لڑکی ہمیشہ بے پردہ یا آوارہ لڑکی نہیں ہوتی ہے جو اپنے جرم پر یہ کہہ کر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے کہ لڑکی بے پردہ اور آوارہ تھی۔ میں یہ بھی مانتی ہوں کہ اللہ نے فطری ضرورتیں رکھی ہیں تو اللہ نے ان ضرورتوں کے حل کے لئے نکاح کی خوبصورت و پاک سنت بھی رکھی ہے اور تو اور مرد کو اسکی فطری ضرورت کےلئے چار شادیوں کی بھی اجازت دی ہے تو پھر دوسروں کی بیٹیوں کی عزت سے کھیلنا ۔۔یہ آپ کو درندے سے بھی بدتر نہیں بناتا ہے؟ میں سارا الزام ادھر مردوں کو بھی نہیں دونگی بلکہ عورت کو بھی دونگی خاص طور پر ماں کو کیونکہ بچہ کوئی ماں کے پیٹ سے بُرا پیدا نہیں ہوتا ہے لیکن اس کی پہلی تربیت گاہ اسکی ماں ہوتی ہے جب ماں ہی اپنے بچے کے ذہن میں یہ ڈالے گی کہ وہ مرد ہے اور اسے حق حاصل ہے عورت پر چاہے وہ اسکی بہن بیٹی کیوں نا ہو اس پر تشدد کرنے اس سے بہتر چیز استعمال کرنے یا اس کا حق مارنے کا تو یہ سوچ اس بچے کی عمر کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتی جاتی ہے اور یہ تو حقیقت ہے کہ ماں کو اللہ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو نظروں اور شکل سے اسکی حالت یا اسکی عادات کا اندازہ لگا لیتی ہے جب پہلی دفعہ آپ کا بیٹا غلط حرکت کرتا ہے تو آپ اس حرکت پر منع کرنے سمجھانے کے اسکی پردہ داری کرتی ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ کا بیٹے کی کچھ فطری ضروریات ہیں اسکے سدباب کے لئے اسکی شادی کردینے کے بجائے یہ ڈرامہ کرتی ہیں کہ لڑکی چاند کا ٹکڑا ہو اور اتنا جہیز لائے جس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ لڑکے کی غلط عادات اتنی پختہ ہوجاتی ہیں کہ وہ شادی کے بعد بھی گندی عادت سے نکل نہیں پاتا اور گناہ کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے ۔ اگر ماں سب سے پہلے بیٹے کو روک لے تو باپ بھی بیٹے کو شے دینے کا قابل نہیں رہتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ دیہات میں تو خیر عورت نے ہی عورت کو پیر کی جوتی بنانے کی روایت ڈالی ہوئی ہے لیکن شہروں کی پڑھی لکھی مائیں بھی دیہات کی خواتین کی طرح کی سوچ ہی رکھتی ہیں۔ جب کہ اگر ہم حکومتی سطح پر دیکھیں تو سر شرمندگی سے ہی جھکتا ہے کیونکہ جس کے پاس جتنا پیسہ اور طاقت ہے وہ دوسروں کی بیٹیوں کو راہ چلتے اغوا کرنے اور پھر عزت خراب کرنے کو اپنی طاقت کا مظاہرہ سمجھتا ہے کیونکہ حرام کے کمائی نے ان کے خون کا ایک ایک قطرہ حرام کردیا ہوتا ہے لہٰذا یہ حلال و حرام کی تمیز بھول کر صرف طاقت کے نشے میں ہر حرام کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمیں زنا بالجبر یا زنا بالرضا کی روک تھام کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضروت نہیں ہے ہمیں چوداں سو سال پہلے قرآن میں اسکی روک تھام کے لئے سزائیں بتا دی گئی تھیں ہمیں صرف ان سزاوّں پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ جس دن حکومت نے یہ سزائیں سرعام دینا شروع کردیں بلا کسی تخصیص کے اس دن سے یہ گھناوّنا کام اگر مکمل ختم نہیں ہوگا تو کم ضرور ہونا شروع ہوجائے گا۔ یہ ایک گندی بیماری ہے اس کو ختم کرنے کے لئے سب کو کام کرنا پڑے گا ورنہ اس گندگی کے جراثیم ہم سب تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | 1 Comment

بلاعنوان

ایک دو دن سے سوشل میڈیا پر ایک خبر پڑھنے کو مل رہی تھی جو کہ زیادہ تر وہ لوگ شئیر کررہے تھے جو عرف العام میں لبرلز کہلاتے ہیں، ایک لڑکی کی آپ بیتی ہے جو کہ اگرچہ ہے ڈاکٹر ہے لیکن سات آٹھ سال کی عمر سے اپنے سگے باپ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوتی رہی ہے جبکہ اسکی ماں اپنے شوہر کے اس فعل سے بخوبی واقف بھی ہے اور سارا الزام اپنی سگی بیٹی کوہی دیتی ہے۔ والدین دونوں شہر کے مشہور ڈاکٹروں میں شمار بھی ہوتے ہے معاشرے میں ایک مقام بھی رکھتے ہیں جبکہ لڑکی خود بھی ڈاکٹر ہے ۔ کہانی کے شروع میں لڑکی نے خود کو اپنے والدین کے لئے بھائی کے مقابلے میں کمتر پایا ہے ۔۔تمام مظالم سہنے کے باوجود وہ ایک ڈاکٹر بن چکی ہے ۔ میں اس بات کو یہاں اپنے بلاگ کا حصہ نہیں بنانا چاہوں گی کہ آیا یہ سچی آپ بیتی ہے یا خودساختہ گھڑی ہوئی کہانی۔ کیونکہ ہونے کو تو اس دنیا میں سب کچھ ہوسکتا ہے کئی ایسے سچے قصے بھی پڑھے ہیں جو رشتوں کی اہمیت و مقصدیت کی نفی کرتے ہیں ۔۔میرا بلاگ ان قصوں کے لئے نہیں ہے بلکہ اسکو لکھنے کی وجہ ہے کہ ایسی کیا وجہ ہوئی کہ ان باتوں کواتنا اُچھالا جائے کہ ہم رشتوں کی قدر کھوبیٹھیں؟ مجھے بتائیں اس قصے کو ایکسپریس ٹریبیون پڑھنے والے تقریبا” ہر فرد نے پڑھا ہوگا جس طرح سوشل میڈیا پرڈسکس ہورہا ہے وہ بھی ہرکوئی پڑھ رہا ہے۔ پڑھنے والو میں باپ بھی ہونگے اور بیٹیاں بھی خود بتائیں کہ یہ خبرجب ایک ہی گھر میں باپ اور بیٹی پڑھیں گے توکیا باپ اپنی بیٹی کے آگے شرمندہ نہیں محسوس کررہا ہوگا؟ کیا بیٹی کے دل میں کوئی سوچ نہیں آئی ہوگی؟ مجھے انگریزوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے انہوں نے توآزادی کی نام پرتو ہر رشتے کوپتہ نہیں کیا کیا بنادیا ہے لیکن ہمارے اپنے ملک میں کیا حرکت کررہے ہیں ہم آزادی رائے کے نام پر۔ پہلی بات کوئی بھی لڑکی جس کے ساتھ کسی شخص نے یہ ظلم کیا ہوچاہے وہ کتنی بھی آزاد خیال نا ہوجائے ایسے کھلے عام گلا پھاڑ پھاڑ کرایک ایک تفصیل بیان کرے گی کہ لوگ اس کے ساتھ ہونے والے واقعے پر ظاہرا” ہمدردی کریں لیکن اندر ہی اندر مزے لیں، دوسری بات سوشل میڈیا ہی کیوں؟ ایسی کیا وجہ ہوئی کہ جب کہ لڑکی خود بھی ڈاکٹر ہے وہ اپنی کہانی سوشل میڈیا پرتوشئیر کررہی ہے لیکن ان لوگوکو بتا نہیں رہی ہے جو اسکی صحیح سے مدد کرسکیں۔ کیا سوشل میڈیا پر کہانی شائع کروا کے لڑکی کو انصاف مل جائے گا؟ کیا ایسے واقعات جو کہ یقینا” ہوتے ہونگے رُک جائیں گے؟ کیا اس طرح تفصیل سے مزے لے لے کرکہ کس وقت کیا ہوا کیسے ہوا بتانے سے آپ اپنی یا معاشرے کی مدد کررہے ہیں؟ اور چلیں مان لیں ایسا ہوا یہ بھی مان لیں کہ باپ کو اسکے کئے کی سزا مل گئی اب لڑکی کیا کرنا چاہتی ہے؟ کسی یورپی ملک یا امریکہ کی شہریت؟ اپنے باپ کا کئے دھرے کا جو سراسر اسکا ذاتی فعل ہے ملک کے سارے مردوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر ملک و مذہب دونوں کی بدنام کرنا چاہے گی؟ ۔ اور اگر یہ کہانی غلط ہے توپھر جھوٹ گھڑنے والو اوراس کو پھیلانے والو کی کیا سزا ہوگی؟ جس طرح سے اس لڑکی کے والد کا نام سوشل میڈیا پر لیا گیا ہے کیا انکی جو جگ ہنسائی ہوئی ہوگی وہ واپس ہوجائے گی؟ جن لوگو نے یہ کہانی پڑھی ہے کیا ان لوگو کے ذہنوں سے رشتوں سے متعلق شکوک و شہبات مٹ جائیں گے؟

انصاف کے لئے لازمی نہیں ہے کہ اپنے کپڑے پوری دنیا کے سامنے اتارے جائیں خاص طورپر اس دنیا کے سامنے جو صرف آپ کی تکلیف کا حال سن کرمزے لیتی ہو ۔۔۔

آخر میں جن صاحب نے یہ قصہ اپنے بلاگ کا حصہ بنایا ہے اورجس فیس بک پیج سے لیا ہے وہ اس قصے میں کتنی سچائی ہے اسکو جانچنے کے لئے کافی ہیں۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | Leave a comment

مینا کی کہانی

mina story

اگرچہ کہ یہ ایک کہانی ہے اسی کہانی کی طرح جو صدیوں سے لکھاری اور کہانی کار لکھتے آئے اور کہتے آئے ہیں ، لیکن یہ چھوٹی سی کہانی اپنے اندر ایک بہت گہرے احساس، معاشرتی روئیے کی عکاسی کرتی ہے ۔ کہانی کارکوئی پروفیشنل نہیں ہے لیکن ہمارے ہی معاشرے کی ایک جیتی جاگتی عورت ہے جو ہر دوسرے انسان کی طرح احساسات، جذبات، قربانی، ایثار، غصہ، انا، بغاوت وغیرہ رکھتی ہے ، خود ماں بھی ہے اور اپنے شوہر سے محبت کرنے والی باوفا بیوی بھی ہے، ہو سکتا ہے کہ کہانی میں کہی گئی بات اُسکی اپنی ذات سے پیوستہ ہو یا ہوسکتا ہے کہ معاشرے میں کسی ایک یا کئی کرداروں میں سے کسی ایک یا کئیوں کی یہ کہانی ہو۔ لیکن بیا صاحبہ نے کُھل کرایک ایسی بات کہی ہے جسے کم از کم ہمارے خود ساختہ دقیانوسی کہہ لیں یا مردوں کے معاشرے میں ایک قبیح بات سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ اگر ہم غور کریں توہمارا مذہب اسلام جب پورے ضابطئہ اخلاق و زندگی کے لئے ہدایات و راستے مختص کرچکا ہے اور سوال کرنے کو پسند بھی کیا گیا ہے کہ اس طرح ایک مسلمان کو ہر اچھائی یا برائی کی مکمل آگاہی ہو تویہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم زمینی خدا بنتے ہوئے نازک مسائل کو صرف اس لئے بحث یا تذکرے کے قابل نا سمجھیں کہ کہیں ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا نا پڑجائے۔ بیا صاحبہ کی بیان کی گئی اس کہانی پرجو کہ ٹوئیٹر پرانہوں نے شئیر کی ملی جلی رائے کا شکار ہونا پڑا، یہ کہنا کہ صرف صنفِ نازک نے اس کہانی کو پسند کیا اور صنفِ کرخت نے مخالفت کی بہت غلط بات ہوگی بلکہ اس کہانی کو زیادہ پذیرائی صنفِ کرخت کی طرف سے ملی جب کہ جن حضرات نے مخالفت کی ان سے معذرت کے ساتھ کہ انکی مخالفت کم عقلی اور کم علمی کا ثبوت تھی * یہاں خدانخواستہ کسی کی تضحیک نہیں کی ہے میں نے *۔

کچھ لوگو نے اس کہانی کو سرسری طور پرپڑھا اور اپنی عقل و علم کے مطابق مینا کہ ایک فحاشہ قرار دے دیا جب کہ کچھ لوگو نے اس کو مذہبی ، انسانی اور معاشرتی روئیے کو مدنظر رکھتے ہوئے پڑھا اور تنقید کے بجائے اس بات کو سراہا کہ ہم عورت کو ماں بہن بیٹی بیوی کے رشتوں میں وفا، ایثار و محبت کا پیکر تو مانتے ہیں لیکن عورت کو ایک انسان ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جب عورت ان رشتوں میں ڈھلتی ہے تو بے شک وہ اپنے ان رشتوں کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے لیکن رہتی بہرحال ایک انسان ہی ہے۔

اسلام، ایک مکمل الہامی مذہب جو کہ تخلیق کے کائنات و انسان سے لے کر زندگی گزارنے کے چھوٹے سے چھوٹے ، بڑے سے بڑے مسلئے مسائل اور معاملات کا حل پیش کرکے ہدایات دے چکا ہے اس نسل انسانی کی بھلائی کے لئے۔ قرآن، اللہ کا کلام جو کہ اسلام کی تمام ہدایات کا منبہ ہے جسکی عملی تصویر ہمیں آپ جناب حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ پاک نے ہمیں دی ہے ۔ اس میں کہیں بھی عورت کو غیرانسانی مخلوق نہیں کہا گیا یا اُس کے حقوق سے روکا گیا ہے اور نا ہی سوائے چند ایک معمالات کے مرد سے کمتر کہا گیا ہے۔ اسی طرح اگر آپ جناب حضرت محمد مصطفٰی صلی کی حیات طیبہ کا جائزہ لیں توہمیں کہیں بھی ایک مثال نہیں ملتی ہے کہ قرآن میں اللہ کی طرف سے عورت کو دئیے گئے حقوق کی نفی ہو۔ لیکن کیا کہیے کہ جب خود غرض اور دشمنِ انسانیت لوگو کے ہاتھ مذہب کی کنجی آئی اور وہ خودساختہ مذہب کے ٹھیکیدار بنا بیٹھے تو سب سے پہلے اپنی انا اور شہوت زدہ طبیعت کی تسکین کی خاطر سب سے پہلے عورت کے حقوق کی بات کو سرے سے ہی دائرہ اسلام سے نکال دیا اپنے خطبوں تبلیغوں، مباحثوں وغیرہ میں عورت کو پاوّں کی جوتی، گندی اور حرام چیز وغیرہ وغیرہ قرار دے دیا اور ہمارے لوگ جو قرآن کو صرف سجے سجائے جزدانوں میں رکھ کر پوجنے کے عادی اس بات کو درگوراعتناء ہی سمجھتے رہے اور سمجھتے ہیں کہ خود قرآن پڑھ لیں اور سمجھ لیں کہ کیا اللہ کا حکم ہے ، بس بے عقل بھینس کی طرح شاطر وعیار اسلام دشمن مذہبی ٹھیکیداروں کے پیچھے جگالی کرتے چلتے رہے یا چل رہے ہیں۔ صرف اپنی “میں” کی تسکین کی خاطر عورت کو اس کے بینادی حق یعنی حقِ رائے دہی سے بھی دُور کردینا ان کے لئے عین عبادت ہے اور اسلام کے اصول کے عین مطابق ہے ۔ یعنی اگر لڑکی کی رائے جو سب سے زیادہ اس وقت مقدم ہوجاتی ہے جب اسکا رشتہ ہونے لگے کسی سے اس وقت اس لڑکی کو ایک انسان نہیں بلکہ بے زبان بکری یا موم کی گڑیا کی طرح مرضی پوچھنے کے قابل بھی سمجھا نہیں جاتا ہے اور اگر کوئی لڑکی چاہے بھی رائے دینا تو پھر اس لڑکی کے ساتھ وہ سلوک ہوتا ہے کہ وہ شاید موت کو گلے لگانا ہی سب سے بہتر سمجھتی ہے۔ میرا ایسے لوگو سے سوال ہے ایک۔۔۔ جب آپ جناب رسول اللہ ص جنہیں ہمارے لئے اللہ نے رحمت بنا کے بھِیجا جن کے ہم اُمتی ہیں ، وہ اپنی صاحبزادی بی بی فاطمہ الزاہرۃ رض سے انکی رائے و مرضی پوچھ رہے ہیں انکی پسند پوچھ رہیں تو کیا آپ ، رحمتِ دو جہاں آپ جناب رسول اللہ ص سے نعوذ باللہ بڑھ کے ہیں؟ کیا آپ کی ذات برادری ، انا ، خاندان، ناک ، اللہ اور اللہ کے رسول ص سے بڑھ کے ہے؟ جب اللہ نے اپنی تخلیق کردہ مخلوق کو یہ حق دے دیا ہے کہ اس کا رشتہ جو اس نے ساری زندگی نبھانا ہے اسکی مرضی سے جوڑا جائے تو آپ کو کس نے حق دیا ہے کہ آپ اس کا یہ حق سلب کریں؟ کبھی سوچا بھی ہے کہ یہ حق اللہ نے کیوں دیا ہے عورت کو کہ اسکا رشتہ جس مرد سے جوڑا جارہا ہے وہ اسکی پسند کا ہو؟ میری ناقص رائے میں جو کہ غلط بھی ہوسکتی ہے صرف اس لئے کہ عورت شوہر کی عزت کے پہرے دار ہوتی ہے اسکی آنے والی نسلوں کی ماں ہوتی ہے جب شوہر اسکی پسند کا ہوگا تو وہ زیادہ خوشی سے اپنے حقوق و فرائض کی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونے کی کوشش کرے گی اور کسی کو پسند توکرنا دور کی بات کسی سے لگاوٹ سے بات کرنا بھی اپنے لئے حرام سمجھے گی۔ لیکن چونکہ ہم زمینی خدا ہیں، ہم نے توزمانہ دیکھا ہوتا ہے، ہم تو ماں باپ ہیں اس دنیا میں لائے ہیں ہمارا حق ہے ہم جو چاہیں اپنی بیٹیوں سے کریں ہمیں کون روک سکتا ہے۔ چلیں آپ ایسا کرلیں ہم مان لیتے ہیں آپ کی سب باتیں لیکن کیا آپ نے اپنی بیٹی کی تربیت ایسے کی ہوتی ہے کہ اسے کبھی یہ احساس نا ہو کہ اس کے سینے میں دل ہے وہ احساسات و جذبات رکھتی ہے؟

ایک لڑکی اگر اپنے جذبات و احساسات جو کہ اللہ کی دین ہیں ہرانسان کوجس پر کسی کا اختیار نہیں مار کراپنے والدین کی مرضی کے آگے سرجُھکا دیتی ہے اور اپنے وہ تمام جملہ حقوق و فرائض جو ایک بیوی اور ماں کے طور پر اسکو اللہ نے اسکو تفویض کئیے اور اسکی گُھٹی میں رکھے ہیں سے بہت احسن طریقے سے عہدہ براہ ہوتی ہے لیکن پھر بھی زندگی کے کسی موڑ پر اُسے کوئی اچھا لگنے لگتا ہے لیکن وہ اپنے اس احساس کو نشر نہیں کرتی اپنے ہی سینے میں دفن رکھتی ہے اور اپنے شوہر کی ہی وفا شعار رہتی ہے تو کیا یہ لڑکی فحاشہ و وحشیہ کے خطاب کی حقدار ہے؟

ہم نے لڑکی کی یہ بات تو دیکھ لی کہ اوہ شوہر کے ہوتے کسی اور کو پسند ۔۔ لیکن کیا ہم نے اس لڑکی کے اس احساس کے پسِ منظر کودیکھنے کی کوشش کی؟ جو لڑکی پہلے اپنے والدین کی عزت کی خاطر اپنے احساسات مارسکتی ہے توبعد میں کیوں نہیں؟ لیکن ان احساسات کو دوبارہ زندہ کرنے کی کیا وجوہات ظہور پذیر ہوئیں کبھی سوچا؟ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے لیکن ہمارے مردوں کے معاشرے میں تالی صرف ایک ہاتھ سے بجائی جاتی ہے جو بجانے والا صرف مرد ہوتا ہے جب کہ عورت صرف تالی کی ضرب کھانے والی ہوتی ہے * عموما” ، سو فیصد کہیں نہیں ہوتا* ۔۔۔ بے شک شادی عورت کی پسند کی نا ہو لیکن اگر شوہر کا رویہ اس کے ساتھ محبت ، شفیق اور دوستانہ ہے اور عورت کو عورت ہی نہیں ایک انسان سمجھنے والا ہے تو وہ عورت کبھی بھی کسی کو اپنے دل تو کیا سرسری نظر میں نہیں آنے دے گی۔

ایک ایسی عورت جسے نا صرف دنیا کی ہر آسائش، بہترین اولاد اور سب سے بڑھ کرشوہر کی مکمل محبت اور بہترین رویہ حاصل ہو تب بھی وہ کسی کو پسند کرے تو بے شک اس عورت کو سمجھایا جاسکتا ہے لیکن فحاشہ یا وحشیہ نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ کوئی اچھا لگنا لازمی نہیں کہ صرف ہم بستری یا دل لگی کے لئے ہو کسی کا رویہ ہوتا ہے کسی کا اخلاق ہوتا ہے جو پسند آسکتا ہے اور پھر عورت اس پسندیدگی کا عملی مظاہرہ تونہیں کررہی ہے ، گھرکی چاردیواری کو چھوڑ کراپنے شوہر کی عزت کو داغدار کرنے تونہیں جارہی ہے۔ اور اگر تب بھی عورت صرف اس بات پر فحاشہ یا وحشیہ کہلانے کے لائق ہے کہ شوہر ہوتے بچے ہوتے اوراپنے تمام حقوق و فرائض کی بجا آوری کے بعد اسکو کوئی اچھا لگنے کا احساس ہوا جو اسنے دل میں چھپایا ہوا ہے ظاہر کسی پر بھی نہیں کیا تو پھر معذرت کے ساتھ مرد بھی بہت بڑا زانی اورشہوت پرست ہے جو چوبیس گھنٹوں میں پتہ نہیں کتنی دفعہ زِنا کرتا ہے ۔ کیونکہ مرد توبیوی ہوتے ہوئے بھی دوسری خواتین کو دیکھتا ہے ، پسند کرتا ہے کسی سے شادی بھی کرلیتا ہے اورکسی سے ویسے ہی غیرشرعی تعلق قائم کرلیتا ہے، دوستوں کی محفلوں میں ماڈلز ہوں یا کوئی اور عورت انکی جسمانی ساخت و زاویوں کو زیرِبحث لاتا ہے ۔۔۔ اللہ نے ان باتوں کی اجازت مرد کوبھی نہیں دی ہے ۔۔۔ لیکن یہ بات تب سمجھ آئے جب ہم اپنی انا کے جھوٹے خول سے نکلیں، اپنی جاہل سوچ کو جسے چودہ سو سال پہلے آپ جناب رسول اللہ ص نے اللہ کے حکم سے باطل کردیا تھا اس کو بدلیں، اللہ کی طرف سے مختص کئے گئے حقوق و فرائض کی پاسداری کریں تو ہم اپنے عمومی رویوں کو بدلیں۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | Leave a comment

اردو

چیف جسٹس سپریم کورٹ، جناب جسٹس ایس خواجہ نے پاکستان کی عدلیہ کہہ لیں یا پاکستان کی تاریخ کہہ لیں اس میں ایک ایسا تاریخی فیصلہ دیا ہے جسے ہم جیسے وہ لوگ سراہا رہے ہیں جو چاہتے ہیں کہ اس ملک میں وہ تمام باتیں جو اس ملک کی شناخت ہیں رائج ہوں۔ اردو کو سرکاری سطح پر لازمی لاگو کرنے کے حکم کو عوام کی ایک بہت بڑی تعداد میں پذیرائی دی ہے ، کیونکہ یہ اس زبان کا حق ہے جو اس کو ملک کے قیام کی نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد ملا ہے۔

اگرچہ کہ اس فیصلے سے ایک طبقہ نالاں نظر آتا ہے لیکن وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ اس ملک کی آبادی زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے اور جو پڑھے لکھے ہیں بھی وہ نظام تعلیم کی وجہ سے انگریزی سے اتنے اچھی واقفیت نہیں رکھتے ہیں ۔ اردو زبان کو حکومت کے ہر ادارے میں لازمی قرار دینے سے یہ فائدہ ہوگا کہ وہ لوگ جو تھوڑا بہت بھی پڑھنا لکھنا جانتے ہیں انہیں اپنے حقوق کی صحیح سوجھ بوجھ ملے گی بلکہ جو لوگ قانونی گرہوں میں پھنس جاتے ہیں یا قانون کی سمجھ نہیں رکھتے ہیں انہیں بھی قوانین سمجھنے کی آسانی ہوگی۔ اس کے علاوہ ہمارا نظام تعلیم جو اردو اور انگریزی نظام تعلیم کے چکر میں پھنس کر چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے اورآبادی کے ایک بہت بڑے حصے کو طبقاتی فرق و احساسِ کمتری کا جزو لانیفیک بنا چکا ہے اس سے بھی کسی حد تک چھٹکارہ مل سکے گا۔

ہمارا یہ طبقہ جو سپریم کورٹ کے اس حکم سے ناراض نظر آتا ہے اسکا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ دنیا میں آج انگریزی بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے اردو اس طرح ہر سطح پر رائج کرنے کا حکم ملک کی ترقی میں ایک رکاوٹ ہوگا۔ ان سے میرا سوال ہے *میری کم علمی سمجھیں یا کم عقلی* کہ کس طرح سے رکاوٹ بن سکتا ہے؟ پچھلے 60 سال سے زیادہ کے عرصہ میں ملک میں انگریزی ہی رائج رہی ہے توملک نے سائنس کے کس میدان میں کونسا تیر مارا ہے؟ یا معیشت و معاشرت میں کونسے پہاڑ سرکرلیَے ہیں؟ معذرت کے ساتھ انگریزی کو ہم نے نعوذ باللہ الہامی زبان سمجھ کر سر پرچڑھا لیا جو ذرا سا بھی منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولے اسے ہم پڑھا لکھا عقلِ کُل سمجھ بیٹھے جبکہ جس نے اردو میں پڑھا یا اردو میں بات کرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی عاقل کیوں نا ہو دنیاوی طور پرپڑھا لکھا ہو اُسے ہم پوچھنا تک اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔

افسوس کا مقام ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے ترقی کے لئے انگریزی کو زینہ بنانا چاہ ہے یہ اور بات ہے کہ ہم نے اردو کو تو شائد طلاق دی تھی انگریزی کو توسرِبازار رُسوا ہونے بِٹھا دیا ہے ، اس میں قصور کسی زبان کا نہیں ہماری سوچ کا ہے ،اگر ہم سوچیں توکیا بات تھی کہ قائد اعٰظم محمد علی جناح جو شائد خود اردو ٹھیک سے نا بول سکتے ہوں انہوں نے اردو کو اس نومولد ملک کی سرکاری زبان قرار دیا جبکہ وہ جانتے تھے کہ بنگالی کبھی خوش نہیں ہونگے؟ کیا وجہ تھی کہ انہوں نے فارسی اور عربی پر اردو کو فوقیت دی؟ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس وقت پورے ہندوستان میں اردو ایک ایسی زبان تھی جو تھوڑی بہت علاقائی ردوبدل سے ہر کوبولتا ہے اور سمجھ بھی لیتا ہے اور پاکستان میں بسنے والی ہر قوم اگر بول نہیں سکتی تواردو سمجھ لیتی ہے اور یہ ایک ایسی زبان ہے جو تمام قوموں کو ایک لڑی میں پروکے رکھ سکتی ہے۔ کیا قائد اعٰظم کونہیں پتہ تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اگر اردو ہوئی توملک ترقی نہیں کرے گا؟ نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ وہ جانتے تھے کہ کسی بھی ملک کی ترقی ایمانداری، محنت اور آگے بڑھنے کی لگن سے ہوتی ہے۔ چلیں اس بات کو چھوڑیں ہم اگر پوری دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں توکیا یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دنیا کے ہر شعبے میں جو کتب لکھی گئیں ہیں وہ سب سے پہلے یونانیوں نے لکھیں ، کیا بتائیں گے کہ انکی زبان کونسی تھی؟ یقینا٘ یونانی ہی تھی کیا انہوں نے ترقی کرنے کے لئے کوئی اور غیر زبان مصطار لی کسی سے؟ جواب ہے کہ نہیں، آگے چلیں جب اسلام آیا اور عربوں نے علم کے ہر شعبے میں طبع آزمائی کی توکیا انہوں نے یونانی علم سے فائدہ اُٹھانے اور ترقی کرنے کے لئے عربی کو ترک اوریونانی زبان کا اپنایا؟ جواب ہے کہ نہیں، بلکہ انہوں نے یونانی زبان سیکھ کر سارے علم کو عربی میں ترجمہ کیا اور پھر اس علم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ترقی کی مزید منازل طے کیں اور دنیا میں کئی نئے علوم متعارف کروائے ایجادات کیں ہرشعبہء علوم کو جِلا بخشی ۔ مزید آگے بڑھتے ہیں جن لوگو کی زبان یعنی “انگریزی” جس کو ہم آج ترقی کا منبہ قرار دیتے ہیں جب اِنہوں نے عربوں کے علوم سے فائدہ اُٹھانا چاہا توکیا اِنہوں نے انگریزی کو ترک کرکے عربی کو اپنا اُوڑھنا بِچھونا بنایا؟ جی جواب وہی ہوگا کہ نہیں بلکہ اُنہوں نے عربی کو صرف ایک اضافی زبان یا علم سمجھا تاکہ اس زبان میں لکھے علوم سے فائدہ اُٹھا کر آگے بڑھا جائے۔ تو پِھر یہی اُصول اردو بولنے والے ملک میں کیوں ہو کہ اگر سرکاری سطح پر اردو بولی لکھی سمجھی جائے گی توترقی رُک جائے گی؟

آج ترقیافتہ ممالک کی ہی مثال لے لیں فرانس، جرمنی، جاپان، چین، کوریا وغیرہ یہ وہ ممالک ہیں جہاں پر ہر سطح پر ان ممالک میں بولی جانے والی ان ممالک کی سرکاری زبانیں ہیں کیا یہ ممالک کسی سے پیچھے ہیں؟ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے، آپ ان کے سربراہانِ مملکت کو دیکھیں دنیا میں ہونے والی کسی بھی طرح کی تقریبات میں اپنی زُبان کو ترجیح دیتے ہیں ، دُور کیوں جائیں انڈیا کی ہی بات کرتے ہیں جہاں پرہماری ہی طرح انگریزی کو سب کچھ سمجھا جاتا ہے انکا وزیر اعٰظم جس ملک کے دورے پر گیا اپنی ہندی میں ہی بات کی کیا اس سے اس کی عزت میں کوئی کمی ہوئی ؟

غلط سلط انگریزی بول کر اپنا مذاق بنوانے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی اردو کو بہتر کرلیں ، چھوٹی سی بات ہے کہ جب کوئی گورا ٹوٹی پھوٹی اردو میں بات کرتا ہے تو ہمیں خوشی ہوتی لیکن جب ہم میں سے کوئی غلط انگریزی میں بات کرتا ہے تو ہم اس کا مذاق اُڑاتے ہیں ، ہم گورے کو توکچھ نہیں کہتے بلکہ فخر کرتے ہیں کہ ہماری زبان بول رہا ہے جبکہ جب کوئی ہمارا اپنا گورے کی زبان غلط بولتا ہے توہم شرمندہ ہوتے ہیں ۔۔یہ ہمارا احساس کمتری ہے جو آزادی کے 70 سال کے بعد بھی ہم میں سے ختم نہیں ہوا ہے جس طرح ہم انگریز کے غلط اردو بولنے پر یہ فخر کرتے ہیں کہ غلط ہی سہی ہماری زبان بول رہا ہے تو اس “ہماری زبان” پر خود بول کرفخر کرنا بھی شروع کریں

اپنے اندر سے احساس کمتری کا پھنِیر سانپ ماریں کہ اردو بولنے سے ہم جاہل سمجھے جائیں گے، اپنی چیزوں کی قدر کرنا سیکھیں کیونکہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنی چیزوں کی قدر کرتی ہیں اورانکی ترقی و ترویج کی تگ و دو کرتی ہیں۔ انگریزی سیکھیں بے شک بولیں لیکن اس کو اپنا ایمان یا زندگی نا بنا لیں لازمی نہیں ہے کہ ہر انگریزی بولنے والا پڑھا لکھا عقلِ کُل ہو اور اردو بولنے والا جاہل گنوار ہو۔۔ اپنی زبان پر فخرکریں ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے اپنے ذہن کو وسعت دیں محنت لگن اور ایمانداری کو اپنا شعار بنائیں ۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | Leave a comment

یومِ تکبیر

یوم تکبیر.. آج کا دن جب پاکستان جس ک تخلیق اللہ کے نام پر ہوئی نے اپنے ارد گرد اپنی لال لال پھنکارتی زبانوں والے ناگوں کو نا صرف سکتے میں ڈال دیا بلکہ انکے پھنوں پر چوبیس گھنٹے لٹکتی تلوار سایہ تن کردی کہ پاکستان ترنوالہ نہیں جسے صرف ایک ہی سانس مین حلق سے اتار لوگے بلکہ پاکستان وہ ہڈی ہے جو حلقوم کو چیر کے تمہاری موت کا سامان کردے. اللہ اپنی کتاب قرآنمیں مسلمانوں کو ہتھیار رکھنے کی اجازت اس طرح دیتا ہے کہ ہتھیار مسلمان کا زیور ہے مگر ساتھ ہی ہمیں ہتھیار کو کن کن مواقع پر اٹھانا چاہیے اسکی بھی شرائط و ضوابط بتاتا ہے جس میں سب سے پہلے اپنی حفاظت اور پھر امت مسلمہ کی حفاظت شامل ہے.

ایسی کیا وجوہات ہوئیں کہ پاکستان جو کہ ایک امن پسند ملک ہے اور دنیا کے ہر ملک سے امن و دوستی کا خواہشمند ہے وہ نیوکلیئر بم جیسی انسانیت دشمن ہتھیار کو حصول کی نا صرف کوشش کرے بلکہ اسکو بنانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لائے؟ تقسیم سے لیکر آج تک انڈیا نے پاکستان کے وجود کو قبول نہیں کیا اگرچہ کے اب ستر سال ہونے والے ہیں اس تقسیم کو لیکن انڈیا کی اکھنڈ بھارت کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے لہذا چوبیس گھنٹوں میں کوئی ایسا پل نہیں گزرتا جس میں انڈیا کے پیٹ میں پاکستان کے خلاف مڑوڑ نا پڑیں. تقسیم کے وقت انڈیا کے بڑے بڑے رہنما اس خوش فہمی میں اتنے آگے جاچکی تھے کہ ہذیان کا شک پڑجائے کہ پاکستانایک دو سالوں کی مار ہے واپس الحاق ہوجائے گا لیکن تمام تر شرانگیزی اور تقسیم کے فورابعد کشمیر کے محاذ پر جنگ کے باوجود پاکستان قائم رہا تو انڈیا کے خوش فہم بڑ بولے رہنماء بھی ہوش میں آئے کہ اب حقیقت سے آنکھ نا چرائی جائے بلکہ کچھ ایسا کیا جائے کہ پاکستان کا شیرازہ بکھر جائے. لیاقت علی خان کی شہادت ہو یا سرحدوں پر چھیڑ خانی، اساسوں کی تقسیم پر حق تلفی ہو یا بین الاقوامی سطح پر ہرزہ سرائی انڈیا نے پاکستان کو زچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی.. اسی پر بس نہیں کیا بلکہ پچاس کی دہائی کے اواخر میں بدنام زمانہ ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ راکی بنیاد رکھ کر پاکستان میں مسلسل دہشتگردی کی داغ بیل ڈالی گئی. یہی وجہ رہی کہ مسلسل کسی نا کسی حوالے سے راکی طرف سے کی گئی دہشتگردانہ سرگرمیوں اور پھر انڈیا کی ایٹمی طاقت کے اندھے حصول نے پاکستان جیسے امن پسند ملک کو بھی مجبور کیا کہ وہ اپنی سالمیت اور خطے میں طاقت کے توازن کے لیے ایٹمی پروگرام پر عمل درآمد کے لئے تگ دو کرے، ستر کی دہائی کے اوائل میں مشرقی پاکستان کا سانحے نے اس سوچ کو پتھر پر لکیر بنادیا کہ اب صرف سفارتکار ی ہی نہیں بلکہ ہر اس عمل کا جواب اسی ہی پیرائے میں دیا جائے گا جو انڈیا ہمارے ساتھ روا رکھے گا.

اگرچہ کے ستر کی دھائی کے وسط میں انڈیا نے ایٹمی دھماکے کیے مگر کبھی ان دھماکوں کو سرکاری طور پر دنیا نے جان بوجھ کر قبول نہیں کیا، پاکستان ایٹمی توانائی کے حصول پر تیزی سے عمل پیرا ء تھا اس سلسلے میں اگر ہم یہ کہیں کہ اس وقت کی سیاسی اور عسکری قوتیں حب الوطنی کے جذبے سے جس طرح سرشار تھیں وہ بھی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے ۔ ذولفقار بھٹو، ڈاکٹرعبدلقدیر خان اگرچہ کہ وہ چہرے تھے جو دنیا کے سامنے پاکستان کوایٹمی قوت بنانے والوکے طورپرنظر آئے مگر ایسے پتا نہیں کتنے گمنام ہیروز ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوتوں کی صف میں لاکرکھڑا کرنے کے لئے اپنا آپ دن ورات صرف ملک و ملت کی سلامتی کے لئے وقف کردیا۔ ہم ان لوگوکو فردافرداتشکرادا نہیں کرسکتے کیونکہ انکے اس احسان کی جزا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

ستر کی دہائی کے آخرمیں روس افغان جنگ نے اس خطے میں جنگی فضاء قائم کی ہوئی تھی، انڈیا کی دہائیوں اورمغرب کی ریشہ دوانیوں کے باوجود حالت جنگ میں بھی ملکہ سلامتی کے لئے ضروری اس توانائی کے حصول اورحفاظت پر انتہائی رازداری سے جُٹا ہوا تھا ، اسی کی دہائی اسی حصول و حفاظت اور سازشوں، دھمکیوں اورراز کوپانے کی سرتوڑ کوششوں میں گُزرگیا، کیا کیا جتن ناہوئے کہ کسی طرح سے بھی پاکستان کے ایٹمی راز کوپاکرپاکستان کی ہڈی پسلی ایک کردی جائے مگر سلام ہے ان شیر بہادرلوگوکوجنہوں نے اس راز کی حفاظت کو اپنی جان سے بھی زیادہ مقدم رکھا۔ پھرچاہئے کوئی مغربی صحافی ہویاکوئی را کا ایجنٹ وہ کبھی اس جگہ کا راز نا پاسکا جہاں پریہ سب کام ہورہا تھا۔ اسی چیز نے انڈیا کوچیں بہ چیں کیا ہوا تھا، انڈیا اس بلی کی طرح تھا جس کے پاوّں جلے ہوئے تھے اوروہ مزید جل رہے تھے ، را اس وقت بھی دوسری پاکستان مخالف ایجینسیوں کے ساتھ مل کر منظم دہشتگردیوں کی کاروائیاں کررہی تھی ، اسی کی دہائی کے آخرمیں جنرل ضیاء کی پلین کریش میں انتقال اورپھر نوے کی دہائی کے وسط تک ملک میں جمہوریت کے نام پر سیاستدانوں کی آپس کی کھینچا تانی جاری رہی مگر پاکستان کا ایٹمی پروگرام پرعملدرآمد نہیں رکا، ہمارے عسکری ادارے چونکہ سیاستدانوں کی طاقت کے حصول میں جائز وناجائز حرکتوں اورسازشی ریشہ دوانیوں سے کُلی طور پرواقف تھے لہذا پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طورپر عسکری قوتوں کے زیرسائیہ پروان چڑھتا رہا۔ نوے کی دہائی کے آخرمیں جب انڈیا کے پاوّں مکمل طورپرجل گئے اوران میں مزید جلنے کا یارا نارہا تو اس نے دنیا کے سامنے کُھل کرایٹمی دھماکے کردئیے۔۔۔ دھماکے کرنے کے بعد انڈیا نے حسب سابق محلے کا غنڈہ بننے کی بھونڈی حرکت کرتے ہوئے بڑکیں مارنا شروع کردیں۔۔ ہماری سیاسی قیادت جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ کتنی انڈیا نواز تھی اور ہے کیونکہ ان کے ذاتی کاروبار انڈیا میں تھے وہ انڈیا کوناراض نہیں کرسکتے تھے لہذا اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف پس وپیش سے کام لینے لگے کہ جواب دیا جائے مگر ملک کی نا صرف عسکری قیادت بلکہ اس سے بھی زیادہ قوم کے صبر کاپیمانہ لبریز ہورہا تھا وہ انڈیا کوجواب دینے کے لئے بے تاب تھے ، عسکری قیادت اس امر سے واقف تھی کہ اب نہیں توکبھی نہیںکی پالیسی اپنانی پڑے گی نا صرف ملکی سالمیت کے لئے بلکہ قوم کے مورال کومزید بلند کرنے کے لئے۔ لہذا عسکری قیادت کے دباوّ پر نوازشریف نے دھماکوں کی اجازت دے دی، اور اس طرح اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے کے دن ہمارے سب سے بڑے صوبے کے علاقے چاغینے اپنا سینہ اس ارضِ پاک کے دفاع میں کئے گئے اقدام کے لئے وا کردیا ۔ چاغی نے اپنے پہاڑوں کوپانچ ایٹمی دھماکوں سے سنہرا کرکرے اس قوم پر تاقیامت کے لئے احساسِ تشکرکے جذبے سے سرشاررہنے کا سدباب کردیا۔ ان دھماکوں کی گونج نے انڈیا و مغربی طاقتوں کے ایوانوں میں ایک ہلچل بپا کردی ،وہ انڈیا جو کل تک بندروں کی طرح اچھل اچھل کے ایٹمی قوت بننے پر چھچھوری حرکتیں کررہا تھا وہاں پر موت کے سوگ کا سماہوگیا ، انڈیا کے ہرپاکستان دشمن گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی، امریکہ بہادر اوراسکے طفیلیوں نے پاکستان پر دھماکوں سے پہلے ایڑی چوٹی کا زورلگا لیا تھا کہ پاکستان دھماکے نا کرے ، معاشی پابندیوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں مگر پاکستان کواپنی بقاء کے لئے یہ دھماکے کرنے تھے سواُسنے کئے، لہزا پاکستان پر دنیا کی طرف سے اقتصادی پابندیاں لگادی گئیں مگر پاکستان کی قوم نے ان پابندیوں کوبھی خندہ پیسشانی سے برداشت کیا کیونکہ یہ قوم ذہنی طورپرتیار تھی کہ گھاس کھا لیں گے مگر ایٹمی قوت بنیں گے ۔ خطے میں طاقت کا توازن قائم ہوچکا تھا، مسلمان دنیا میں خوشی و اطمنیان کی لہردوڑ چکی تھی ، مگر دشمنوں کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے تھے وہ جلن و حسد میں پاکستان کے ایٹم قوت کو اسلامک بمکہہ کر تضحیک کانشانہ بنا رہے تھے مگر ہمارے جانباز اس تضحیک کو بھی خاطرمیں نہیں لارہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قوت توحاصل کرلی مگر اب اسکی حفاظت کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے ۔ ابھی تک تودشمن اس شش وپنج میں تھا کہ آیا پاکستان ایٹمی توانائی پر کام کررہا ہے کہ نہیں مگر اب تودنیا کہ نقشے پرپاکستان ایٹمی قوت کے طور پر ابھرا تھا اور دشمن اب جوسازشی جال بُنتا وہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتا ۔

پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد وہ تمام بین الاقوامی قوتیں پاکستان کے وجود کی دشمن تھیں انہوں نے پینترا بدلہ اور آئے دن افواہ سازی کا بازار گرم کرکے رکھ دیا اور رکھا ہوا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے اتنے زیادہ غیر محفوظ ہیں کہ دہشت گرد کسی بھی وقت انکو قبضہ میں لے کر دنیا کو تباہ کر سکتے ہیں، کبھی یہ شُرلی چھوڑی جاتی کہ پاکستان کے ایٹمی آثاثے خاطرخواہ نتائج حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں ، الغرض وہ کونسی افواہ نہیں ہے جو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں نا پھیلائی گئِ ہو دنیا کے ہر فورم پر پاکستان کو دھمکیاں دی گئیں توکبھی مذاق اڑایا گیا ، اگر پاکستان نے ملکی توانائی کو پورا کرنے کے لئے ایٹمی گھرچین کے مدد سے لگائے توبھی انڈیا نے شیر شیر آیا کی مصداق شور مچانا شروع کردیا ۔ یہاں تک کہ پاکستان کی تھال سے کھانے والے حلال کو حرام کرنے والے لبرلز کو بھی میدان میں اتارا گیا جو شراب، ڈالرز اور مادرپدر آزادی کی لالچ میں اپنے ہی ملک کے خلاف سینہ سِپر ہوگئے ۔ اپنے ٹھنڈے ٹھار ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر وہی بولی بولنے لگے جو انکے مائِ باپ انڈیا اور مغربی قوتیں انکو اسکرپٹ لکھ کردیتیں۔ بنا سوچے سمجھے بنا تحقیق کے یہ لوگ ائے دن پاکستان اور اسکی اساس پر تابڑ توڑ کھوکھلے حملے کرتے ہیں ، ان لوگوکے لئے اٹھائیس مئی یومِ سوگ کی حیثیت رکھتا ہے جب یہ لوگ کھولتے تیل کا اشنانکرتے ہیں اپنے بھارت مہان کی چاہ میں۔ اپنے مائی باپ کی طرح یہ لوگ بھی بلاوجہ میں ہروقت اسی چاہ میں رہتے ہیں کہ انکو کوئی موقعہ ملے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت یا اسکی حفاظت ہر طرح کے دنیاوی اسٹینڈرڈز پر پوری نہیں اترتی ہے مگر وہ کہتے ہیں نا جسے اللہ کی رحمتیں اپنے سائے میں رکھیں اسے کوئی چھو نہیں سکتا ہے اور دوسرے کے لئے گڑا کھودنے والا خود گڑے میں گرتا ہے تو یہی حال پاکستان دشمن قوتوں اور انکے حواریوں کا ہے۔

آج کے سائبر ورلڈ میں جہاں معلومات تک رسائی صرف کچھ کلکس میں ہوجاتی ہے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ ایٹمی توانائی کے والدِ گرامی امریکہ ہو یا والدہ ماجدہ روس یا پھر انکی لے پالک ناجائز اولد انڈیا سب کی ایٹمی توانائی نا صرف ملکی بلکہ دنیا کے لئے حفاظتی طور پر کتنی کمزور ہے۔ کہیں چھتیس گھنٹے کے لئے ایکٹیو ایٹمی مواد چوری ہوجاتا ہے تو کہیں انتہائی حفاظتی مقامات پرعوامی تنظیمیں پہونچ جاتی ہیں، کسی کے ایٹمی اداروں میں ریڈیوایکٹیو لیکیج ہوجاتی ہے توکہیں ایٹمی ادارے اتنے غیرمحفوظ ہیں کہ وہاں کام کرنے والے کینسرجیسے خطرناک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اورحکومتی مدد نا ملنے کی وجہ سے خودکشیاں کرلیتے ہیں۔ مگر آپ کو کبھی ایسی خبر نہیں ملے گی کہ پاکستان میں ایٹمی گھروں یا اداروں میں کسی بھی قسم کی سب اسٹینڈڈ حفاظتی اقدامات کی حوصلہ افزائی کی گئی ہو، یا کسی ایٹمی سائنسدان نے ریڈی ایشن سے متاثر ہوکرکسی بیماری سے تنگ آکر خودکشی کی ہو۔ یا کچھ گھنٹوں یا دنوں کے لئے ایٹمی مواد چوری ہوا ہو۔ کیونکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کام کرنے والے لوگ اس ایمانی قوت پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان اللہ اور اسلام کے نام پر قاِئم ہوا ہے ہم اسے مضبوط بنائیں گے توشائد آنے والے وقتوں میں عالم ِاسلام کی حفاظت بھی ممکن ہوسکے گی، اللہ پر ایمان اور اللہ کے دین کی خدمت میں انکے اسی جذبے نے نا صرف پاکستان کو مختصر وقت میں ایٹمی قوت بنایا بلکہ اس قوت ،کو مزید موّثر بنانے اور اسکو ملکی خدمت میں بھی کارآمد کرنے پر کام کیا جارہا ہے۔ جولوگ اس پروگرام کے خلاف صرف اس لئے ہیں کہ انکے آقا ایسا سمجھتے ہیں تو ان کےلئے صرف ایک جواب ہے کہ ، کتے بھونکتے رہتے ہیں اور قافلہ چلتا رہتا ہے.میرا مطلب توآپ لوگ سمجھ ہی گئے ہونگے

ایس۔ گل

Posted in Uncategorized | Leave a comment