بلاعنوان

ایک دو دن سے سوشل میڈیا پر ایک خبر پڑھنے کو مل رہی تھی جو کہ زیادہ تر وہ لوگ شئیر کررہے تھے جو عرف العام میں لبرلز کہلاتے ہیں، ایک لڑکی کی آپ بیتی ہے جو کہ اگرچہ ہے ڈاکٹر ہے لیکن سات آٹھ سال کی عمر سے اپنے سگے باپ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوتی رہی ہے جبکہ اسکی ماں اپنے شوہر کے اس فعل سے بخوبی واقف بھی ہے اور سارا الزام اپنی سگی بیٹی کوہی دیتی ہے۔ والدین دونوں شہر کے مشہور ڈاکٹروں میں شمار بھی ہوتے ہے معاشرے میں ایک مقام بھی رکھتے ہیں جبکہ لڑکی خود بھی ڈاکٹر ہے ۔ کہانی کے شروع میں لڑکی نے خود کو اپنے والدین کے لئے بھائی کے مقابلے میں کمتر پایا ہے ۔۔تمام مظالم سہنے کے باوجود وہ ایک ڈاکٹر بن چکی ہے ۔ میں اس بات کو یہاں اپنے بلاگ کا حصہ نہیں بنانا چاہوں گی کہ آیا یہ سچی آپ بیتی ہے یا خودساختہ گھڑی ہوئی کہانی۔ کیونکہ ہونے کو تو اس دنیا میں سب کچھ ہوسکتا ہے کئی ایسے سچے قصے بھی پڑھے ہیں جو رشتوں کی اہمیت و مقصدیت کی نفی کرتے ہیں ۔۔میرا بلاگ ان قصوں کے لئے نہیں ہے بلکہ اسکو لکھنے کی وجہ ہے کہ ایسی کیا وجہ ہوئی کہ ان باتوں کواتنا اُچھالا جائے کہ ہم رشتوں کی قدر کھوبیٹھیں؟ مجھے بتائیں اس قصے کو ایکسپریس ٹریبیون پڑھنے والے تقریبا” ہر فرد نے پڑھا ہوگا جس طرح سوشل میڈیا پرڈسکس ہورہا ہے وہ بھی ہرکوئی پڑھ رہا ہے۔ پڑھنے والو میں باپ بھی ہونگے اور بیٹیاں بھی خود بتائیں کہ یہ خبرجب ایک ہی گھر میں باپ اور بیٹی پڑھیں گے توکیا باپ اپنی بیٹی کے آگے شرمندہ نہیں محسوس کررہا ہوگا؟ کیا بیٹی کے دل میں کوئی سوچ نہیں آئی ہوگی؟ مجھے انگریزوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے انہوں نے توآزادی کی نام پرتو ہر رشتے کوپتہ نہیں کیا کیا بنادیا ہے لیکن ہمارے اپنے ملک میں کیا حرکت کررہے ہیں ہم آزادی رائے کے نام پر۔ پہلی بات کوئی بھی لڑکی جس کے ساتھ کسی شخص نے یہ ظلم کیا ہوچاہے وہ کتنی بھی آزاد خیال نا ہوجائے ایسے کھلے عام گلا پھاڑ پھاڑ کرایک ایک تفصیل بیان کرے گی کہ لوگ اس کے ساتھ ہونے والے واقعے پر ظاہرا” ہمدردی کریں لیکن اندر ہی اندر مزے لیں، دوسری بات سوشل میڈیا ہی کیوں؟ ایسی کیا وجہ ہوئی کہ جب کہ لڑکی خود بھی ڈاکٹر ہے وہ اپنی کہانی سوشل میڈیا پرتوشئیر کررہی ہے لیکن ان لوگوکو بتا نہیں رہی ہے جو اسکی صحیح سے مدد کرسکیں۔ کیا سوشل میڈیا پر کہانی شائع کروا کے لڑکی کو انصاف مل جائے گا؟ کیا ایسے واقعات جو کہ یقینا” ہوتے ہونگے رُک جائیں گے؟ کیا اس طرح تفصیل سے مزے لے لے کرکہ کس وقت کیا ہوا کیسے ہوا بتانے سے آپ اپنی یا معاشرے کی مدد کررہے ہیں؟ اور چلیں مان لیں ایسا ہوا یہ بھی مان لیں کہ باپ کو اسکے کئے کی سزا مل گئی اب لڑکی کیا کرنا چاہتی ہے؟ کسی یورپی ملک یا امریکہ کی شہریت؟ اپنے باپ کا کئے دھرے کا جو سراسر اسکا ذاتی فعل ہے ملک کے سارے مردوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر ملک و مذہب دونوں کی بدنام کرنا چاہے گی؟ ۔ اور اگر یہ کہانی غلط ہے توپھر جھوٹ گھڑنے والو اوراس کو پھیلانے والو کی کیا سزا ہوگی؟ جس طرح سے اس لڑکی کے والد کا نام سوشل میڈیا پر لیا گیا ہے کیا انکی جو جگ ہنسائی ہوئی ہوگی وہ واپس ہوجائے گی؟ جن لوگو نے یہ کہانی پڑھی ہے کیا ان لوگو کے ذہنوں سے رشتوں سے متعلق شکوک و شہبات مٹ جائیں گے؟

انصاف کے لئے لازمی نہیں ہے کہ اپنے کپڑے پوری دنیا کے سامنے اتارے جائیں خاص طورپر اس دنیا کے سامنے جو صرف آپ کی تکلیف کا حال سن کرمزے لیتی ہو ۔۔۔

آخر میں جن صاحب نے یہ قصہ اپنے بلاگ کا حصہ بنایا ہے اورجس فیس بک پیج سے لیا ہے وہ اس قصے میں کتنی سچائی ہے اسکو جانچنے کے لئے کافی ہیں۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | Leave a comment

مینا کی کہانی

mina story

اگرچہ کہ یہ ایک کہانی ہے اسی کہانی کی طرح جو صدیوں سے لکھاری اور کہانی کار لکھتے آئے اور کہتے آئے ہیں ، لیکن یہ چھوٹی سی کہانی اپنے اندر ایک بہت گہرے احساس، معاشرتی روئیے کی عکاسی کرتی ہے ۔ کہانی کارکوئی پروفیشنل نہیں ہے لیکن ہمارے ہی معاشرے کی ایک جیتی جاگتی عورت ہے جو ہر دوسرے انسان کی طرح احساسات، جذبات، قربانی، ایثار، غصہ، انا، بغاوت وغیرہ رکھتی ہے ، خود ماں بھی ہے اور اپنے شوہر سے محبت کرنے والی باوفا بیوی بھی ہے، ہو سکتا ہے کہ کہانی میں کہی گئی بات اُسکی اپنی ذات سے پیوستہ ہو یا ہوسکتا ہے کہ معاشرے میں کسی ایک یا کئی کرداروں میں سے کسی ایک یا کئیوں کی یہ کہانی ہو۔ لیکن بیا صاحبہ نے کُھل کرایک ایسی بات کہی ہے جسے کم از کم ہمارے خود ساختہ دقیانوسی کہہ لیں یا مردوں کے معاشرے میں ایک قبیح بات سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ اگر ہم غور کریں توہمارا مذہب اسلام جب پورے ضابطئہ اخلاق و زندگی کے لئے ہدایات و راستے مختص کرچکا ہے اور سوال کرنے کو پسند بھی کیا گیا ہے کہ اس طرح ایک مسلمان کو ہر اچھائی یا برائی کی مکمل آگاہی ہو تویہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم زمینی خدا بنتے ہوئے نازک مسائل کو صرف اس لئے بحث یا تذکرے کے قابل نا سمجھیں کہ کہیں ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا نا پڑجائے۔ بیا صاحبہ کی بیان کی گئی اس کہانی پرجو کہ ٹوئیٹر پرانہوں نے شئیر کی ملی جلی رائے کا شکار ہونا پڑا، یہ کہنا کہ صرف صنفِ نازک نے اس کہانی کو پسند کیا اور صنفِ کرخت نے مخالفت کی بہت غلط بات ہوگی بلکہ اس کہانی کو زیادہ پذیرائی صنفِ کرخت کی طرف سے ملی جب کہ جن حضرات نے مخالفت کی ان سے معذرت کے ساتھ کہ انکی مخالفت کم عقلی اور کم علمی کا ثبوت تھی * یہاں خدانخواستہ کسی کی تضحیک نہیں کی ہے میں نے *۔

کچھ لوگو نے اس کہانی کو سرسری طور پرپڑھا اور اپنی عقل و علم کے مطابق مینا کہ ایک فحاشہ قرار دے دیا جب کہ کچھ لوگو نے اس کو مذہبی ، انسانی اور معاشرتی روئیے کو مدنظر رکھتے ہوئے پڑھا اور تنقید کے بجائے اس بات کو سراہا کہ ہم عورت کو ماں بہن بیٹی بیوی کے رشتوں میں وفا، ایثار و محبت کا پیکر تو مانتے ہیں لیکن عورت کو ایک انسان ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جب عورت ان رشتوں میں ڈھلتی ہے تو بے شک وہ اپنے ان رشتوں کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے لیکن رہتی بہرحال ایک انسان ہی ہے۔

اسلام، ایک مکمل الہامی مذہب جو کہ تخلیق کے کائنات و انسان سے لے کر زندگی گزارنے کے چھوٹے سے چھوٹے ، بڑے سے بڑے مسلئے مسائل اور معاملات کا حل پیش کرکے ہدایات دے چکا ہے اس نسل انسانی کی بھلائی کے لئے۔ قرآن، اللہ کا کلام جو کہ اسلام کی تمام ہدایات کا منبہ ہے جسکی عملی تصویر ہمیں آپ جناب حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ پاک نے ہمیں دی ہے ۔ اس میں کہیں بھی عورت کو غیرانسانی مخلوق نہیں کہا گیا یا اُس کے حقوق سے روکا گیا ہے اور نا ہی سوائے چند ایک معمالات کے مرد سے کمتر کہا گیا ہے۔ اسی طرح اگر آپ جناب حضرت محمد مصطفٰی صلی کی حیات طیبہ کا جائزہ لیں توہمیں کہیں بھی ایک مثال نہیں ملتی ہے کہ قرآن میں اللہ کی طرف سے عورت کو دئیے گئے حقوق کی نفی ہو۔ لیکن کیا کہیے کہ جب خود غرض اور دشمنِ انسانیت لوگو کے ہاتھ مذہب کی کنجی آئی اور وہ خودساختہ مذہب کے ٹھیکیدار بنا بیٹھے تو سب سے پہلے اپنی انا اور شہوت زدہ طبیعت کی تسکین کی خاطر سب سے پہلے عورت کے حقوق کی بات کو سرے سے ہی دائرہ اسلام سے نکال دیا اپنے خطبوں تبلیغوں، مباحثوں وغیرہ میں عورت کو پاوّں کی جوتی، گندی اور حرام چیز وغیرہ وغیرہ قرار دے دیا اور ہمارے لوگ جو قرآن کو صرف سجے سجائے جزدانوں میں رکھ کر پوجنے کے عادی اس بات کو درگوراعتناء ہی سمجھتے رہے اور سمجھتے ہیں کہ خود قرآن پڑھ لیں اور سمجھ لیں کہ کیا اللہ کا حکم ہے ، بس بے عقل بھینس کی طرح شاطر وعیار اسلام دشمن مذہبی ٹھیکیداروں کے پیچھے جگالی کرتے چلتے رہے یا چل رہے ہیں۔ صرف اپنی “میں” کی تسکین کی خاطر عورت کو اس کے بینادی حق یعنی حقِ رائے دہی سے بھی دُور کردینا ان کے لئے عین عبادت ہے اور اسلام کے اصول کے عین مطابق ہے ۔ یعنی اگر لڑکی کی رائے جو سب سے زیادہ اس وقت مقدم ہوجاتی ہے جب اسکا رشتہ ہونے لگے کسی سے اس وقت اس لڑکی کو ایک انسان نہیں بلکہ بے زبان بکری یا موم کی گڑیا کی طرح مرضی پوچھنے کے قابل بھی سمجھا نہیں جاتا ہے اور اگر کوئی لڑکی چاہے بھی رائے دینا تو پھر اس لڑکی کے ساتھ وہ سلوک ہوتا ہے کہ وہ شاید موت کو گلے لگانا ہی سب سے بہتر سمجھتی ہے۔ میرا ایسے لوگو سے سوال ہے ایک۔۔۔ جب آپ جناب رسول اللہ ص جنہیں ہمارے لئے اللہ نے رحمت بنا کے بھِیجا جن کے ہم اُمتی ہیں ، وہ اپنی صاحبزادی بی بی فاطمہ الزاہرۃ رض سے انکی رائے و مرضی پوچھ رہے ہیں انکی پسند پوچھ رہیں تو کیا آپ ، رحمتِ دو جہاں آپ جناب رسول اللہ ص سے نعوذ باللہ بڑھ کے ہیں؟ کیا آپ کی ذات برادری ، انا ، خاندان، ناک ، اللہ اور اللہ کے رسول ص سے بڑھ کے ہے؟ جب اللہ نے اپنی تخلیق کردہ مخلوق کو یہ حق دے دیا ہے کہ اس کا رشتہ جو اس نے ساری زندگی نبھانا ہے اسکی مرضی سے جوڑا جائے تو آپ کو کس نے حق دیا ہے کہ آپ اس کا یہ حق سلب کریں؟ کبھی سوچا بھی ہے کہ یہ حق اللہ نے کیوں دیا ہے عورت کو کہ اسکا رشتہ جس مرد سے جوڑا جارہا ہے وہ اسکی پسند کا ہو؟ میری ناقص رائے میں جو کہ غلط بھی ہوسکتی ہے صرف اس لئے کہ عورت شوہر کی عزت کے پہرے دار ہوتی ہے اسکی آنے والی نسلوں کی ماں ہوتی ہے جب شوہر اسکی پسند کا ہوگا تو وہ زیادہ خوشی سے اپنے حقوق و فرائض کی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونے کی کوشش کرے گی اور کسی کو پسند توکرنا دور کی بات کسی سے لگاوٹ سے بات کرنا بھی اپنے لئے حرام سمجھے گی۔ لیکن چونکہ ہم زمینی خدا ہیں، ہم نے توزمانہ دیکھا ہوتا ہے، ہم تو ماں باپ ہیں اس دنیا میں لائے ہیں ہمارا حق ہے ہم جو چاہیں اپنی بیٹیوں سے کریں ہمیں کون روک سکتا ہے۔ چلیں آپ ایسا کرلیں ہم مان لیتے ہیں آپ کی سب باتیں لیکن کیا آپ نے اپنی بیٹی کی تربیت ایسے کی ہوتی ہے کہ اسے کبھی یہ احساس نا ہو کہ اس کے سینے میں دل ہے وہ احساسات و جذبات رکھتی ہے؟

ایک لڑکی اگر اپنے جذبات و احساسات جو کہ اللہ کی دین ہیں ہرانسان کوجس پر کسی کا اختیار نہیں مار کراپنے والدین کی مرضی کے آگے سرجُھکا دیتی ہے اور اپنے وہ تمام جملہ حقوق و فرائض جو ایک بیوی اور ماں کے طور پر اسکو اللہ نے اسکو تفویض کئیے اور اسکی گُھٹی میں رکھے ہیں سے بہت احسن طریقے سے عہدہ براہ ہوتی ہے لیکن پھر بھی زندگی کے کسی موڑ پر اُسے کوئی اچھا لگنے لگتا ہے لیکن وہ اپنے اس احساس کو نشر نہیں کرتی اپنے ہی سینے میں دفن رکھتی ہے اور اپنے شوہر کی ہی وفا شعار رہتی ہے تو کیا یہ لڑکی فحاشہ و وحشیہ کے خطاب کی حقدار ہے؟

ہم نے لڑکی کی یہ بات تو دیکھ لی کہ اوہ شوہر کے ہوتے کسی اور کو پسند ۔۔ لیکن کیا ہم نے اس لڑکی کے اس احساس کے پسِ منظر کودیکھنے کی کوشش کی؟ جو لڑکی پہلے اپنے والدین کی عزت کی خاطر اپنے احساسات مارسکتی ہے توبعد میں کیوں نہیں؟ لیکن ان احساسات کو دوبارہ زندہ کرنے کی کیا وجوہات ظہور پذیر ہوئیں کبھی سوچا؟ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے لیکن ہمارے مردوں کے معاشرے میں تالی صرف ایک ہاتھ سے بجائی جاتی ہے جو بجانے والا صرف مرد ہوتا ہے جب کہ عورت صرف تالی کی ضرب کھانے والی ہوتی ہے * عموما” ، سو فیصد کہیں نہیں ہوتا* ۔۔۔ بے شک شادی عورت کی پسند کی نا ہو لیکن اگر شوہر کا رویہ اس کے ساتھ محبت ، شفیق اور دوستانہ ہے اور عورت کو عورت ہی نہیں ایک انسان سمجھنے والا ہے تو وہ عورت کبھی بھی کسی کو اپنے دل تو کیا سرسری نظر میں نہیں آنے دے گی۔

ایک ایسی عورت جسے نا صرف دنیا کی ہر آسائش، بہترین اولاد اور سب سے بڑھ کرشوہر کی مکمل محبت اور بہترین رویہ حاصل ہو تب بھی وہ کسی کو پسند کرے تو بے شک اس عورت کو سمجھایا جاسکتا ہے لیکن فحاشہ یا وحشیہ نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ کوئی اچھا لگنا لازمی نہیں کہ صرف ہم بستری یا دل لگی کے لئے ہو کسی کا رویہ ہوتا ہے کسی کا اخلاق ہوتا ہے جو پسند آسکتا ہے اور پھر عورت اس پسندیدگی کا عملی مظاہرہ تونہیں کررہی ہے ، گھرکی چاردیواری کو چھوڑ کراپنے شوہر کی عزت کو داغدار کرنے تونہیں جارہی ہے۔ اور اگر تب بھی عورت صرف اس بات پر فحاشہ یا وحشیہ کہلانے کے لائق ہے کہ شوہر ہوتے بچے ہوتے اوراپنے تمام حقوق و فرائض کی بجا آوری کے بعد اسکو کوئی اچھا لگنے کا احساس ہوا جو اسنے دل میں چھپایا ہوا ہے ظاہر کسی پر بھی نہیں کیا تو پھر معذرت کے ساتھ مرد بھی بہت بڑا زانی اورشہوت پرست ہے جو چوبیس گھنٹوں میں پتہ نہیں کتنی دفعہ زِنا کرتا ہے ۔ کیونکہ مرد توبیوی ہوتے ہوئے بھی دوسری خواتین کو دیکھتا ہے ، پسند کرتا ہے کسی سے شادی بھی کرلیتا ہے اورکسی سے ویسے ہی غیرشرعی تعلق قائم کرلیتا ہے، دوستوں کی محفلوں میں ماڈلز ہوں یا کوئی اور عورت انکی جسمانی ساخت و زاویوں کو زیرِبحث لاتا ہے ۔۔۔ اللہ نے ان باتوں کی اجازت مرد کوبھی نہیں دی ہے ۔۔۔ لیکن یہ بات تب سمجھ آئے جب ہم اپنی انا کے جھوٹے خول سے نکلیں، اپنی جاہل سوچ کو جسے چودہ سو سال پہلے آپ جناب رسول اللہ ص نے اللہ کے حکم سے باطل کردیا تھا اس کو بدلیں، اللہ کی طرف سے مختص کئے گئے حقوق و فرائض کی پاسداری کریں تو ہم اپنے عمومی رویوں کو بدلیں۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | Leave a comment

اردو

چیف جسٹس سپریم کورٹ، جناب جسٹس ایس خواجہ نے پاکستان کی عدلیہ کہہ لیں یا پاکستان کی تاریخ کہہ لیں اس میں ایک ایسا تاریخی فیصلہ دیا ہے جسے ہم جیسے وہ لوگ سراہا رہے ہیں جو چاہتے ہیں کہ اس ملک میں وہ تمام باتیں جو اس ملک کی شناخت ہیں رائج ہوں۔ اردو کو سرکاری سطح پر لازمی لاگو کرنے کے حکم کو عوام کی ایک بہت بڑی تعداد میں پذیرائی دی ہے ، کیونکہ یہ اس زبان کا حق ہے جو اس کو ملک کے قیام کی نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد ملا ہے۔

اگرچہ کہ اس فیصلے سے ایک طبقہ نالاں نظر آتا ہے لیکن وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ اس ملک کی آبادی زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے اور جو پڑھے لکھے ہیں بھی وہ نظام تعلیم کی وجہ سے انگریزی سے اتنے اچھی واقفیت نہیں رکھتے ہیں ۔ اردو زبان کو حکومت کے ہر ادارے میں لازمی قرار دینے سے یہ فائدہ ہوگا کہ وہ لوگ جو تھوڑا بہت بھی پڑھنا لکھنا جانتے ہیں انہیں اپنے حقوق کی صحیح سوجھ بوجھ ملے گی بلکہ جو لوگ قانونی گرہوں میں پھنس جاتے ہیں یا قانون کی سمجھ نہیں رکھتے ہیں انہیں بھی قوانین سمجھنے کی آسانی ہوگی۔ اس کے علاوہ ہمارا نظام تعلیم جو اردو اور انگریزی نظام تعلیم کے چکر میں پھنس کر چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے اورآبادی کے ایک بہت بڑے حصے کو طبقاتی فرق و احساسِ کمتری کا جزو لانیفیک بنا چکا ہے اس سے بھی کسی حد تک چھٹکارہ مل سکے گا۔

ہمارا یہ طبقہ جو سپریم کورٹ کے اس حکم سے ناراض نظر آتا ہے اسکا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ دنیا میں آج انگریزی بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے اردو اس طرح ہر سطح پر رائج کرنے کا حکم ملک کی ترقی میں ایک رکاوٹ ہوگا۔ ان سے میرا سوال ہے *میری کم علمی سمجھیں یا کم عقلی* کہ کس طرح سے رکاوٹ بن سکتا ہے؟ پچھلے 60 سال سے زیادہ کے عرصہ میں ملک میں انگریزی ہی رائج رہی ہے توملک نے سائنس کے کس میدان میں کونسا تیر مارا ہے؟ یا معیشت و معاشرت میں کونسے پہاڑ سرکرلیَے ہیں؟ معذرت کے ساتھ انگریزی کو ہم نے نعوذ باللہ الہامی زبان سمجھ کر سر پرچڑھا لیا جو ذرا سا بھی منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولے اسے ہم پڑھا لکھا عقلِ کُل سمجھ بیٹھے جبکہ جس نے اردو میں پڑھا یا اردو میں بات کرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی عاقل کیوں نا ہو دنیاوی طور پرپڑھا لکھا ہو اُسے ہم پوچھنا تک اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔

افسوس کا مقام ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے ترقی کے لئے انگریزی کو زینہ بنانا چاہ ہے یہ اور بات ہے کہ ہم نے اردو کو تو شائد طلاق دی تھی انگریزی کو توسرِبازار رُسوا ہونے بِٹھا دیا ہے ، اس میں قصور کسی زبان کا نہیں ہماری سوچ کا ہے ،اگر ہم سوچیں توکیا بات تھی کہ قائد اعٰظم محمد علی جناح جو شائد خود اردو ٹھیک سے نا بول سکتے ہوں انہوں نے اردو کو اس نومولد ملک کی سرکاری زبان قرار دیا جبکہ وہ جانتے تھے کہ بنگالی کبھی خوش نہیں ہونگے؟ کیا وجہ تھی کہ انہوں نے فارسی اور عربی پر اردو کو فوقیت دی؟ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس وقت پورے ہندوستان میں اردو ایک ایسی زبان تھی جو تھوڑی بہت علاقائی ردوبدل سے ہر کوبولتا ہے اور سمجھ بھی لیتا ہے اور پاکستان میں بسنے والی ہر قوم اگر بول نہیں سکتی تواردو سمجھ لیتی ہے اور یہ ایک ایسی زبان ہے جو تمام قوموں کو ایک لڑی میں پروکے رکھ سکتی ہے۔ کیا قائد اعٰظم کونہیں پتہ تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اگر اردو ہوئی توملک ترقی نہیں کرے گا؟ نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ وہ جانتے تھے کہ کسی بھی ملک کی ترقی ایمانداری، محنت اور آگے بڑھنے کی لگن سے ہوتی ہے۔ چلیں اس بات کو چھوڑیں ہم اگر پوری دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں توکیا یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دنیا کے ہر شعبے میں جو کتب لکھی گئیں ہیں وہ سب سے پہلے یونانیوں نے لکھیں ، کیا بتائیں گے کہ انکی زبان کونسی تھی؟ یقینا٘ یونانی ہی تھی کیا انہوں نے ترقی کرنے کے لئے کوئی اور غیر زبان مصطار لی کسی سے؟ جواب ہے کہ نہیں، آگے چلیں جب اسلام آیا اور عربوں نے علم کے ہر شعبے میں طبع آزمائی کی توکیا انہوں نے یونانی علم سے فائدہ اُٹھانے اور ترقی کرنے کے لئے عربی کو ترک اوریونانی زبان کا اپنایا؟ جواب ہے کہ نہیں، بلکہ انہوں نے یونانی زبان سیکھ کر سارے علم کو عربی میں ترجمہ کیا اور پھر اس علم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ترقی کی مزید منازل طے کیں اور دنیا میں کئی نئے علوم متعارف کروائے ایجادات کیں ہرشعبہء علوم کو جِلا بخشی ۔ مزید آگے بڑھتے ہیں جن لوگو کی زبان یعنی “انگریزی” جس کو ہم آج ترقی کا منبہ قرار دیتے ہیں جب اِنہوں نے عربوں کے علوم سے فائدہ اُٹھانا چاہا توکیا اِنہوں نے انگریزی کو ترک کرکے عربی کو اپنا اُوڑھنا بِچھونا بنایا؟ جی جواب وہی ہوگا کہ نہیں بلکہ اُنہوں نے عربی کو صرف ایک اضافی زبان یا علم سمجھا تاکہ اس زبان میں لکھے علوم سے فائدہ اُٹھا کر آگے بڑھا جائے۔ تو پِھر یہی اُصول اردو بولنے والے ملک میں کیوں ہو کہ اگر سرکاری سطح پر اردو بولی لکھی سمجھی جائے گی توترقی رُک جائے گی؟

آج ترقیافتہ ممالک کی ہی مثال لے لیں فرانس، جرمنی، جاپان، چین، کوریا وغیرہ یہ وہ ممالک ہیں جہاں پر ہر سطح پر ان ممالک میں بولی جانے والی ان ممالک کی سرکاری زبانیں ہیں کیا یہ ممالک کسی سے پیچھے ہیں؟ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے، آپ ان کے سربراہانِ مملکت کو دیکھیں دنیا میں ہونے والی کسی بھی طرح کی تقریبات میں اپنی زُبان کو ترجیح دیتے ہیں ، دُور کیوں جائیں انڈیا کی ہی بات کرتے ہیں جہاں پرہماری ہی طرح انگریزی کو سب کچھ سمجھا جاتا ہے انکا وزیر اعٰظم جس ملک کے دورے پر گیا اپنی ہندی میں ہی بات کی کیا اس سے اس کی عزت میں کوئی کمی ہوئی ؟

غلط سلط انگریزی بول کر اپنا مذاق بنوانے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی اردو کو بہتر کرلیں ، چھوٹی سی بات ہے کہ جب کوئی گورا ٹوٹی پھوٹی اردو میں بات کرتا ہے تو ہمیں خوشی ہوتی لیکن جب ہم میں سے کوئی غلط انگریزی میں بات کرتا ہے تو ہم اس کا مذاق اُڑاتے ہیں ، ہم گورے کو توکچھ نہیں کہتے بلکہ فخر کرتے ہیں کہ ہماری زبان بول رہا ہے جبکہ جب کوئی ہمارا اپنا گورے کی زبان غلط بولتا ہے توہم شرمندہ ہوتے ہیں ۔۔یہ ہمارا احساس کمتری ہے جو آزادی کے 70 سال کے بعد بھی ہم میں سے ختم نہیں ہوا ہے جس طرح ہم انگریز کے غلط اردو بولنے پر یہ فخر کرتے ہیں کہ غلط ہی سہی ہماری زبان بول رہا ہے تو اس “ہماری زبان” پر خود بول کرفخر کرنا بھی شروع کریں

اپنے اندر سے احساس کمتری کا پھنِیر سانپ ماریں کہ اردو بولنے سے ہم جاہل سمجھے جائیں گے، اپنی چیزوں کی قدر کرنا سیکھیں کیونکہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنی چیزوں کی قدر کرتی ہیں اورانکی ترقی و ترویج کی تگ و دو کرتی ہیں۔ انگریزی سیکھیں بے شک بولیں لیکن اس کو اپنا ایمان یا زندگی نا بنا لیں لازمی نہیں ہے کہ ہر انگریزی بولنے والا پڑھا لکھا عقلِ کُل ہو اور اردو بولنے والا جاہل گنوار ہو۔۔ اپنی زبان پر فخرکریں ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے اپنے ذہن کو وسعت دیں محنت لگن اور ایمانداری کو اپنا شعار بنائیں ۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | Leave a comment

یومِ تکبیر

یوم تکبیر.. آج کا دن جب پاکستان جس ک تخلیق اللہ کے نام پر ہوئی نے اپنے ارد گرد اپنی لال لال پھنکارتی زبانوں والے ناگوں کو نا صرف سکتے میں ڈال دیا بلکہ انکے پھنوں پر چوبیس گھنٹے لٹکتی تلوار سایہ تن کردی کہ پاکستان ترنوالہ نہیں جسے صرف ایک ہی سانس مین حلق سے اتار لوگے بلکہ پاکستان وہ ہڈی ہے جو حلقوم کو چیر کے تمہاری موت کا سامان کردے. اللہ اپنی کتاب قرآنمیں مسلمانوں کو ہتھیار رکھنے کی اجازت اس طرح دیتا ہے کہ ہتھیار مسلمان کا زیور ہے مگر ساتھ ہی ہمیں ہتھیار کو کن کن مواقع پر اٹھانا چاہیے اسکی بھی شرائط و ضوابط بتاتا ہے جس میں سب سے پہلے اپنی حفاظت اور پھر امت مسلمہ کی حفاظت شامل ہے.

ایسی کیا وجوہات ہوئیں کہ پاکستان جو کہ ایک امن پسند ملک ہے اور دنیا کے ہر ملک سے امن و دوستی کا خواہشمند ہے وہ نیوکلیئر بم جیسی انسانیت دشمن ہتھیار کو حصول کی نا صرف کوشش کرے بلکہ اسکو بنانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لائے؟ تقسیم سے لیکر آج تک انڈیا نے پاکستان کے وجود کو قبول نہیں کیا اگرچہ کے اب ستر سال ہونے والے ہیں اس تقسیم کو لیکن انڈیا کی اکھنڈ بھارت کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے لہذا چوبیس گھنٹوں میں کوئی ایسا پل نہیں گزرتا جس میں انڈیا کے پیٹ میں پاکستان کے خلاف مڑوڑ نا پڑیں. تقسیم کے وقت انڈیا کے بڑے بڑے رہنما اس خوش فہمی میں اتنے آگے جاچکی تھے کہ ہذیان کا شک پڑجائے کہ پاکستانایک دو سالوں کی مار ہے واپس الحاق ہوجائے گا لیکن تمام تر شرانگیزی اور تقسیم کے فورابعد کشمیر کے محاذ پر جنگ کے باوجود پاکستان قائم رہا تو انڈیا کے خوش فہم بڑ بولے رہنماء بھی ہوش میں آئے کہ اب حقیقت سے آنکھ نا چرائی جائے بلکہ کچھ ایسا کیا جائے کہ پاکستان کا شیرازہ بکھر جائے. لیاقت علی خان کی شہادت ہو یا سرحدوں پر چھیڑ خانی، اساسوں کی تقسیم پر حق تلفی ہو یا بین الاقوامی سطح پر ہرزہ سرائی انڈیا نے پاکستان کو زچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی.. اسی پر بس نہیں کیا بلکہ پچاس کی دہائی کے اواخر میں بدنام زمانہ ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ راکی بنیاد رکھ کر پاکستان میں مسلسل دہشتگردی کی داغ بیل ڈالی گئی. یہی وجہ رہی کہ مسلسل کسی نا کسی حوالے سے راکی طرف سے کی گئی دہشتگردانہ سرگرمیوں اور پھر انڈیا کی ایٹمی طاقت کے اندھے حصول نے پاکستان جیسے امن پسند ملک کو بھی مجبور کیا کہ وہ اپنی سالمیت اور خطے میں طاقت کے توازن کے لیے ایٹمی پروگرام پر عمل درآمد کے لئے تگ دو کرے، ستر کی دہائی کے اوائل میں مشرقی پاکستان کا سانحے نے اس سوچ کو پتھر پر لکیر بنادیا کہ اب صرف سفارتکار ی ہی نہیں بلکہ ہر اس عمل کا جواب اسی ہی پیرائے میں دیا جائے گا جو انڈیا ہمارے ساتھ روا رکھے گا.

اگرچہ کے ستر کی دھائی کے وسط میں انڈیا نے ایٹمی دھماکے کیے مگر کبھی ان دھماکوں کو سرکاری طور پر دنیا نے جان بوجھ کر قبول نہیں کیا، پاکستان ایٹمی توانائی کے حصول پر تیزی سے عمل پیرا ء تھا اس سلسلے میں اگر ہم یہ کہیں کہ اس وقت کی سیاسی اور عسکری قوتیں حب الوطنی کے جذبے سے جس طرح سرشار تھیں وہ بھی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے ۔ ذولفقار بھٹو، ڈاکٹرعبدلقدیر خان اگرچہ کہ وہ چہرے تھے جو دنیا کے سامنے پاکستان کوایٹمی قوت بنانے والوکے طورپرنظر آئے مگر ایسے پتا نہیں کتنے گمنام ہیروز ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوتوں کی صف میں لاکرکھڑا کرنے کے لئے اپنا آپ دن ورات صرف ملک و ملت کی سلامتی کے لئے وقف کردیا۔ ہم ان لوگوکو فردافرداتشکرادا نہیں کرسکتے کیونکہ انکے اس احسان کی جزا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

ستر کی دہائی کے آخرمیں روس افغان جنگ نے اس خطے میں جنگی فضاء قائم کی ہوئی تھی، انڈیا کی دہائیوں اورمغرب کی ریشہ دوانیوں کے باوجود حالت جنگ میں بھی ملکہ سلامتی کے لئے ضروری اس توانائی کے حصول اورحفاظت پر انتہائی رازداری سے جُٹا ہوا تھا ، اسی کی دہائی اسی حصول و حفاظت اور سازشوں، دھمکیوں اورراز کوپانے کی سرتوڑ کوششوں میں گُزرگیا، کیا کیا جتن ناہوئے کہ کسی طرح سے بھی پاکستان کے ایٹمی راز کوپاکرپاکستان کی ہڈی پسلی ایک کردی جائے مگر سلام ہے ان شیر بہادرلوگوکوجنہوں نے اس راز کی حفاظت کو اپنی جان سے بھی زیادہ مقدم رکھا۔ پھرچاہئے کوئی مغربی صحافی ہویاکوئی را کا ایجنٹ وہ کبھی اس جگہ کا راز نا پاسکا جہاں پریہ سب کام ہورہا تھا۔ اسی چیز نے انڈیا کوچیں بہ چیں کیا ہوا تھا، انڈیا اس بلی کی طرح تھا جس کے پاوّں جلے ہوئے تھے اوروہ مزید جل رہے تھے ، را اس وقت بھی دوسری پاکستان مخالف ایجینسیوں کے ساتھ مل کر منظم دہشتگردیوں کی کاروائیاں کررہی تھی ، اسی کی دہائی کے آخرمیں جنرل ضیاء کی پلین کریش میں انتقال اورپھر نوے کی دہائی کے وسط تک ملک میں جمہوریت کے نام پر سیاستدانوں کی آپس کی کھینچا تانی جاری رہی مگر پاکستان کا ایٹمی پروگرام پرعملدرآمد نہیں رکا، ہمارے عسکری ادارے چونکہ سیاستدانوں کی طاقت کے حصول میں جائز وناجائز حرکتوں اورسازشی ریشہ دوانیوں سے کُلی طور پرواقف تھے لہذا پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طورپر عسکری قوتوں کے زیرسائیہ پروان چڑھتا رہا۔ نوے کی دہائی کے آخرمیں جب انڈیا کے پاوّں مکمل طورپرجل گئے اوران میں مزید جلنے کا یارا نارہا تو اس نے دنیا کے سامنے کُھل کرایٹمی دھماکے کردئیے۔۔۔ دھماکے کرنے کے بعد انڈیا نے حسب سابق محلے کا غنڈہ بننے کی بھونڈی حرکت کرتے ہوئے بڑکیں مارنا شروع کردیں۔۔ ہماری سیاسی قیادت جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ کتنی انڈیا نواز تھی اور ہے کیونکہ ان کے ذاتی کاروبار انڈیا میں تھے وہ انڈیا کوناراض نہیں کرسکتے تھے لہذا اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف پس وپیش سے کام لینے لگے کہ جواب دیا جائے مگر ملک کی نا صرف عسکری قیادت بلکہ اس سے بھی زیادہ قوم کے صبر کاپیمانہ لبریز ہورہا تھا وہ انڈیا کوجواب دینے کے لئے بے تاب تھے ، عسکری قیادت اس امر سے واقف تھی کہ اب نہیں توکبھی نہیںکی پالیسی اپنانی پڑے گی نا صرف ملکی سالمیت کے لئے بلکہ قوم کے مورال کومزید بلند کرنے کے لئے۔ لہذا عسکری قیادت کے دباوّ پر نوازشریف نے دھماکوں کی اجازت دے دی، اور اس طرح اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے کے دن ہمارے سب سے بڑے صوبے کے علاقے چاغینے اپنا سینہ اس ارضِ پاک کے دفاع میں کئے گئے اقدام کے لئے وا کردیا ۔ چاغی نے اپنے پہاڑوں کوپانچ ایٹمی دھماکوں سے سنہرا کرکرے اس قوم پر تاقیامت کے لئے احساسِ تشکرکے جذبے سے سرشاررہنے کا سدباب کردیا۔ ان دھماکوں کی گونج نے انڈیا و مغربی طاقتوں کے ایوانوں میں ایک ہلچل بپا کردی ،وہ انڈیا جو کل تک بندروں کی طرح اچھل اچھل کے ایٹمی قوت بننے پر چھچھوری حرکتیں کررہا تھا وہاں پر موت کے سوگ کا سماہوگیا ، انڈیا کے ہرپاکستان دشمن گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی، امریکہ بہادر اوراسکے طفیلیوں نے پاکستان پر دھماکوں سے پہلے ایڑی چوٹی کا زورلگا لیا تھا کہ پاکستان دھماکے نا کرے ، معاشی پابندیوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں مگر پاکستان کواپنی بقاء کے لئے یہ دھماکے کرنے تھے سواُسنے کئے، لہزا پاکستان پر دنیا کی طرف سے اقتصادی پابندیاں لگادی گئیں مگر پاکستان کی قوم نے ان پابندیوں کوبھی خندہ پیسشانی سے برداشت کیا کیونکہ یہ قوم ذہنی طورپرتیار تھی کہ گھاس کھا لیں گے مگر ایٹمی قوت بنیں گے ۔ خطے میں طاقت کا توازن قائم ہوچکا تھا، مسلمان دنیا میں خوشی و اطمنیان کی لہردوڑ چکی تھی ، مگر دشمنوں کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے تھے وہ جلن و حسد میں پاکستان کے ایٹم قوت کو اسلامک بمکہہ کر تضحیک کانشانہ بنا رہے تھے مگر ہمارے جانباز اس تضحیک کو بھی خاطرمیں نہیں لارہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قوت توحاصل کرلی مگر اب اسکی حفاظت کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے ۔ ابھی تک تودشمن اس شش وپنج میں تھا کہ آیا پاکستان ایٹمی توانائی پر کام کررہا ہے کہ نہیں مگر اب تودنیا کہ نقشے پرپاکستان ایٹمی قوت کے طور پر ابھرا تھا اور دشمن اب جوسازشی جال بُنتا وہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتا ۔

پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد وہ تمام بین الاقوامی قوتیں پاکستان کے وجود کی دشمن تھیں انہوں نے پینترا بدلہ اور آئے دن افواہ سازی کا بازار گرم کرکے رکھ دیا اور رکھا ہوا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے اتنے زیادہ غیر محفوظ ہیں کہ دہشت گرد کسی بھی وقت انکو قبضہ میں لے کر دنیا کو تباہ کر سکتے ہیں، کبھی یہ شُرلی چھوڑی جاتی کہ پاکستان کے ایٹمی آثاثے خاطرخواہ نتائج حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں ، الغرض وہ کونسی افواہ نہیں ہے جو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں نا پھیلائی گئِ ہو دنیا کے ہر فورم پر پاکستان کو دھمکیاں دی گئیں توکبھی مذاق اڑایا گیا ، اگر پاکستان نے ملکی توانائی کو پورا کرنے کے لئے ایٹمی گھرچین کے مدد سے لگائے توبھی انڈیا نے شیر شیر آیا کی مصداق شور مچانا شروع کردیا ۔ یہاں تک کہ پاکستان کی تھال سے کھانے والے حلال کو حرام کرنے والے لبرلز کو بھی میدان میں اتارا گیا جو شراب، ڈالرز اور مادرپدر آزادی کی لالچ میں اپنے ہی ملک کے خلاف سینہ سِپر ہوگئے ۔ اپنے ٹھنڈے ٹھار ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر وہی بولی بولنے لگے جو انکے مائِ باپ انڈیا اور مغربی قوتیں انکو اسکرپٹ لکھ کردیتیں۔ بنا سوچے سمجھے بنا تحقیق کے یہ لوگ ائے دن پاکستان اور اسکی اساس پر تابڑ توڑ کھوکھلے حملے کرتے ہیں ، ان لوگوکے لئے اٹھائیس مئی یومِ سوگ کی حیثیت رکھتا ہے جب یہ لوگ کھولتے تیل کا اشنانکرتے ہیں اپنے بھارت مہان کی چاہ میں۔ اپنے مائی باپ کی طرح یہ لوگ بھی بلاوجہ میں ہروقت اسی چاہ میں رہتے ہیں کہ انکو کوئی موقعہ ملے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت یا اسکی حفاظت ہر طرح کے دنیاوی اسٹینڈرڈز پر پوری نہیں اترتی ہے مگر وہ کہتے ہیں نا جسے اللہ کی رحمتیں اپنے سائے میں رکھیں اسے کوئی چھو نہیں سکتا ہے اور دوسرے کے لئے گڑا کھودنے والا خود گڑے میں گرتا ہے تو یہی حال پاکستان دشمن قوتوں اور انکے حواریوں کا ہے۔

آج کے سائبر ورلڈ میں جہاں معلومات تک رسائی صرف کچھ کلکس میں ہوجاتی ہے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ ایٹمی توانائی کے والدِ گرامی امریکہ ہو یا والدہ ماجدہ روس یا پھر انکی لے پالک ناجائز اولد انڈیا سب کی ایٹمی توانائی نا صرف ملکی بلکہ دنیا کے لئے حفاظتی طور پر کتنی کمزور ہے۔ کہیں چھتیس گھنٹے کے لئے ایکٹیو ایٹمی مواد چوری ہوجاتا ہے تو کہیں انتہائی حفاظتی مقامات پرعوامی تنظیمیں پہونچ جاتی ہیں، کسی کے ایٹمی اداروں میں ریڈیوایکٹیو لیکیج ہوجاتی ہے توکہیں ایٹمی ادارے اتنے غیرمحفوظ ہیں کہ وہاں کام کرنے والے کینسرجیسے خطرناک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اورحکومتی مدد نا ملنے کی وجہ سے خودکشیاں کرلیتے ہیں۔ مگر آپ کو کبھی ایسی خبر نہیں ملے گی کہ پاکستان میں ایٹمی گھروں یا اداروں میں کسی بھی قسم کی سب اسٹینڈڈ حفاظتی اقدامات کی حوصلہ افزائی کی گئی ہو، یا کسی ایٹمی سائنسدان نے ریڈی ایشن سے متاثر ہوکرکسی بیماری سے تنگ آکر خودکشی کی ہو۔ یا کچھ گھنٹوں یا دنوں کے لئے ایٹمی مواد چوری ہوا ہو۔ کیونکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کام کرنے والے لوگ اس ایمانی قوت پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان اللہ اور اسلام کے نام پر قاِئم ہوا ہے ہم اسے مضبوط بنائیں گے توشائد آنے والے وقتوں میں عالم ِاسلام کی حفاظت بھی ممکن ہوسکے گی، اللہ پر ایمان اور اللہ کے دین کی خدمت میں انکے اسی جذبے نے نا صرف پاکستان کو مختصر وقت میں ایٹمی قوت بنایا بلکہ اس قوت ،کو مزید موّثر بنانے اور اسکو ملکی خدمت میں بھی کارآمد کرنے پر کام کیا جارہا ہے۔ جولوگ اس پروگرام کے خلاف صرف اس لئے ہیں کہ انکے آقا ایسا سمجھتے ہیں تو ان کےلئے صرف ایک جواب ہے کہ ، کتے بھونکتے رہتے ہیں اور قافلہ چلتا رہتا ہے.میرا مطلب توآپ لوگ سمجھ ہی گئے ہونگے

ایس۔ گل

Posted in Uncategorized | Leave a comment

محلے کے کُتے

پاکستان میں جب سے میڈیا کوبے لگام آزادی ملی ہے تب سے نا صرف اس قوم کی اخلاقی پستگی کی رفتار تیز ہوئی ہے وہیں ملک میں ایک بے جا ہیجان کی بھی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔ اگر آپ ٹی وی جسے “ایڈیٹ باکس” بھی کہا جاتا ہے اس کو ایک دن کے لئے بند کردیں تو یقین کریں دنیا آپ کو پُرسکون لگتی ہے ، آپ کا بڑھا ہوابلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے، آپ کا موڈ جواگرچہ کی دن کے آغاز پر نارمل ہوتا ہے مگر جیسے جیسے دن گزرتا جاتا ہے ٹی وی کے نیوز چینلز کی وجہ سے ہائپر ہونا شروع ہوجاتا ہے، وہ پورا دن پُرسکون اور ٹھنڈا رہتا ہے، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اغواء، آبروریزی جیسی خبروں کو نا سننے سے آپ مسلسل ڈپریشن اورپھر بے حسی کا شکارجو ہوجاتے ہیں کم از کم اس سے بچ جاتے ہیں۔۔۔۔ مگر آج جلد از جلد بدلتے ملکی و بیروںی حالات سے واقف رہنے کے لئے ہم ٹی وی چلانے پر مجبور ہیں۔۔۔

چلیں مان لیتے ہیں کہ ٹی وی دیکھنا بھی لازمی ہے خاص طورپرنیوز چینلز کے ہمیں اورکچھ نہیں تواپنے شہرکے حالات سے واقفیت رہے مگر جوکچھ ہمارا میڈیا پیش کررہا ہے اور جس طریقے سے پیش کررہا ہے کیا وہ واقعی صحافتی، اخلاقی ، معاشرتی اور ملکی حمیت کے مطابق ہے؟ بریکنگ نیوز کے نام پر جس بے ہودہ انداز میں چیخ چیخ کرخبرسنائی جاتی ہے اور پھر یہ راگ الاپا جاتا ہے کہ “ہم سب نیوز چینلز پربازی لے گئے”” یہ خبرسب سے پہلے ہمارے چینل نے بریک کی” وغیرہ وغیرہ کیا واقعی یہ اندازِ صحافت کسی بھی تہذیبیافتہ معاشرے کی عکاسی کرتا ہے؟ بم بلاسٹ یا کسی اور آفت کے نتیجے میں ہونے والی اموات پر مرنے والوکے پیاروں سے پوچھنا کہ “آپ کیسا محسوس کررہے ہیں” کیا واقعی یہ اگر صحافتی نہیں تواخلاقی اور معاشرتی پہلو کی نشاندہی کرتا ہے؟ جس طرح ایسی ناگہانی آفات پر بیک گراوّنڈ میوزک چلایا جاتا ہے یا بڑے بڑے قومی حادثوں پربھی خبروں میں بے ہودہ و فحاش ناچ گانوں اور وقفے میں چلنے والے اشہتاروں کو چلاکر پیسے بٹورنا بھی ہمارے قومی و مذہبی روئیے کی تصویر کشی کرتا ہے؟

کچھ عرصے سے ایک بڑے میڈیا ہاوّس کے قیام کا شوروغوغا تھا جس کے آنے سے ان میڈیا کے ٹھیکیداروں کو اپنی کشتی ڈولتی نظرآرہی تھی اس میڈیا ہاوّس کے لانچ ہونے سے پہلے ہی جس طرح سے اس کے خلاف پراپیگینڈہ کی کمپین یہ سب میڈیا ہاوّسز کررہے ہیں اور جس انداز میں کررہے ہیں اس کو دیکھ کرتو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے محلے کے کتے نئے آنے والے اجنبی پربھونک رہے ہوں۔۔۔ مانا کہ شائد اس میڈیا ہاوّس کےپیرنٹ کمپنی جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں شامل ہوگی مگر کیا یہ سارے میڈیا ہاوّسز دودھ کے دُھلے ہیں؟ کوئی تعلیم کے نام پر کچرا بچوں کے دماغوں میں ٹھُنس رہا ہے توکوئی سونے کے اسمگلنگ کے کیس میں مبتلا ہے کوئی سگریٹ بیچ کرملک کی نسلوں کو بگاڑرہا اور توکوئی مذہب و ملکی سالمیت کی ذمہ دار اداروں پر کیچڑ اچھال رہا ہے، اگر قالین اٹھا کردیکھا جائے تویہ سب سچائی کے ٹھیکیدار خود اپنے ہی ٹیکنیکل اور نچلے اسٹاف کا مالی وذہنی استحصال کرنے کے جرم میں مبتلا ہیں۔ الغرض یہ سب محلے کےخارش زدہ کتَے جنکے اپنے جسموں پر ناسور ہیں جنکے اپنے جسم گندے و نجس ہیں وہ نئے اجنبی پربھونک رہے ہیں۔۔۔ بھونکئیے کیونکہ آپ کوفی الحال محلے کے خودساختہ مامے چاچوں کی سرپرستی حاصل ہے،اس لئے آپ بھونک سکتے ہیں مگر یاد رکھیے آپ کا مقدر بھی گولی یا کُچلہ ہے کیونکہ مکافات ِعمل اسی دنیا میں ہوتا ہے اور جوکچھ آپ اپنے عمل سے اس ملک کی نسلوں کوتباہ کررہے ہیں ، جس طرح سے آپ غریب ٹیکنیکل اسٹاف کا استحصال کررہے ہیں وہ آپ کے آگے آئے گا کیونکہ اس کائنات کا خالق بہت بڑا منصف ہے اوروہ اسکا انصاف بہت سچا اور کھرا ہوتا ہے۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | 2 Comments

پاکستان کو اپناوّ توسہی

یہ تحریر اکیس نومبر دوہزار تیرہ میں اپنے ایک دوسرے بلاگ پر پبلش کی تھی ، سوچا کہ  اس عرصے میں کچھ بھی تونہیں بدلا ہے توکیوں نا پھر سے اس تحریر کوقرطاس کا حصہ بناوّں٫

جسطرح اللہ نے ماں باپ بہن بھائ جیسے رشتے ہمیں ڈفالٹ میں دیئۓ ہیں اسی طرح ہمیں رنگ نسل اور وطن بھی ڈفالٹ میں عطا کیا ہے۔ جسطرح ہم اپنے ڈفالٹ رشتے اپنا رنگ نسل کتنے بھی جتن کرلیں نہیں بدل سکتے اسی طرح ہم بے شک کسی اور ملک جا کر بس جائیں ہم کہلائیں گے وہیں کے جہاں ہم پیدا ہوۓ جہاں کی ہم نسل ہیں.

یہ قدرتی عمل ہے کہ انسان جہاں کا باسی ہوتا ہے وہاں کی محبت اپنے دل میں رکھتا ہے بےشک وقت  اسکو دنیا کے کسی بھی کونے میں لے جاۓ ، دنیا کی رنگینیوں میں کتنا ہی کھو جاۓ مگر جب جاب کہیں اسکو اپنے ملک اپنی سرزمین کا نام یا وہاں کا کوئی رہنے والا مل جاۓ تو قدرتی طور پر اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ یا اگر کوئی اسکی سرزمین کے بارے میں کچھ غلط کہ دے تو اسکی قومی حمعیت جاگ اٹھتی ہے۔ یہ قدرتی بات ہے کہ ہم بےشک اپنوں کو کچھ بھی کہ دیں مگر کوئی کچھ بولے تو سہی ، اسکو مزا چکھانے سے نیہں چوکتے۔  اگر ہم بات کریں پاکستان کی تو ہم اپنی قومی  حمعیت سے ایک اندیکھے طریقے سے محروم کیے جا رہے ہیں۔ تعلیم، ذہنی و معاشی ترقی کے راستے آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے محدود کیے جا رہے ہیں خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنکو اللہ نے ذہانت و عقل وافر دی ہے، نئی نسل کو بے راہ روی کی طرف راغب کرنے میں اب صرف ٹیلیوژن یا انٹرنیٹ کا ہاتھ نہیں رہا بلکے اسکول کالج کے لیول پر اس طرح سے روشناس کروایا جا رہا ہے کہ آپ حیران ہوتے ہیں کہ کسطرح نشاندہی کریں۔ والدین اپنے بچوں کی تربیت سے بلکل غافل ہوچکے ہیں۔ باپ اپنے بچوں کی ضروریات، آسائشوں اور بےجا ضدوں کو پورا کرنے کے لیے حرام حلال کی تمیز کھو بیٹھے ہیں۔ ماں جو بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اسکو بچے کی ابتدائی تربیت سے ہٹا کر غیرملکی بے تکے اور فحاش ڈراموں کیطرف غیر محسوس طریقے سے موڑ دیا گیا ہے۔ آج ماںباپ بچوں پر نظر رکھنے کے بجاۓ اپنی دنیا میں مگن ہوچکے ہیں۔ جب والدین ہی بچوں سے غافل ہونگے تو بچے تو خوردرو پودے کیطرح ہی بڑے ہونگے، کیونکہ انکی تربیت نہیں ہوئی ، انکو اپنے اسلاف کے کارناموں کا نہیں پتا ، انکو نا مذہب کی بنیاد پتا ہے نہ حب الوطنی کا۔ خیر اب ہم اس خطرناک روئیے کو یکدم بدل نہیں سکتے ہیں ھاں مگر ہم یہ ضرورکرسکتے ہیں کہ ہم اپنے خودکے روئیے ، عمل اور ایسے محرکات کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کی اسیطرح تربیت کی کوشش کریں جسطرح انکے والدین کو انکی تربیت سے غافل کیا گیا ہے۔

آج پاکستان کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتعمل ہے۔ جسطرح کی بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ ایک الگ بحث ہے مگر یہ بچے اپنی کم عمری اور ناتجربہ کاری کی وجھ سے غلط صحبت کا نا صرف شکار ہورہے ہیں بلکھ نشہ اور غیراخلاقی پستی کے ساتھ ساتھ اب دہشتگردوں کے ہاتھوں ہتھے چڑھکر نہ صرف اپنا ، اپنے خاندان بلکہ ملک کا بھی نقصان کر رہے ہیں۔ ہماری نسل جو ان بچوں کیلۓ انکے بڑے گردانے جاتے ہیں ، ہمارا فرض ہے کہ اب ہم اپنے خول سے نکلیں اور ان بچوں کی ناصرف راہنمائی کریں بلکہ ان سے اگر کچھ سکھنے کا موقع ملتا ہے تو سکھیں۔ ہر انسان میں کوئی نا کوئی خوبی ہوتی ہے،اگر وہ خوبی ایسی ہو کہ جسکا فائدہ نا صرف اس انسان کیلۓ فائدہ مند ہو بلکہ ملک و قوم کیلیے بھی فائدہ رکھتا ہو تو اس خوبی کو نا صرف ابھارا جاۓ بلکہ اس بچے کو ایسے مواقع دئیے جائیں کہ وہ اپنی خوبی کو مثبت انداز میں ابھارے۔ اس انٹرنیٹ کے زمانے میں جب ہر خبر تک ہر انسان کی رسائی ہے تو ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جھوٹ کی گولی نہیں کھلانی چاہیۓ ہے کیونکہ یہ نسل ہم سے زیادہ سچ جانتی ہے، لہزا اس نسل کو ملک سے متعلق ہر معاملے میں شامل کرکے انکی راۓ لینے کی ضرورت ہے، اسطرح نا صرف ہمیں نئے لیڈر میسر آئیں گے بلکہ انکے زرخیز دماغوں سے نئے نئے ایسے منصوبے ہمیں ملینگے جو ملک و قوم کی ترقی کیلئے فائدےمند ہونگے۔ یہ نسل پاکستان سے تعلق رکھنے والی ہر بات پر نظر رکھے ہوۓ ہے، یہ بچے پاکستان سے شائد وہ محبت کرتے ہیں جو پاکستان بنانے والے کرتے تھے، اگرچھ کہ ہم میں سے کسی نے بھی تقسیم کے وقت کی تکلیف نہیں دیکھی ہے، کیونکہ جنہوں نے دیکھی انکی بھی شائد اب تیسری نسل اس پاکستان میں ہے، انکوصرف وہ پتا ہے جو انکو بتایا گیا ہے جو انکے بڑوں پر گزری ہے، مگر اب کوئی بھی ہو انٹرنیٹ کی وساطت سے تاریخ سے واقف ہوگیا ہے، اور یہ لوگ پاکستان کی تباہی پر جلتے کڑھتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان اور اس ملک کے کرتا دھرتاؤں کو  اب یہ بات ذہن نشین اجھی طرح کر لینی چاہیئے کہ آپ اب اس نسل سے جھوٹ نہیں بول سکتے ہیں، نا ہی انکو اب ملکی معاملات سے دور رکھ سکتے ہیں، بے شک اس نسل کی وہ تربیت نہیں ہوسکی، جو اسکا حق تھا، مگر یہ خوردرو پودے خودبخود اپنا ذہن سینچ رہے ہیں وہ وقت دور نہیں یہ انٹرنیٹ کی نسل کہلانے والے اپنے اندر دبے غصے، محرومی اور پاکستان کی تباہی پر جلنے والے لاوے کو نکال بیٹھں اور پھر اس نسل کو کوئی سمجھانے والا نا ہو۔ یہ وقت ہے کہ انکو لیپ ٹاپ ، قرضوں کی لالی پاپ کے بجاۓ انکے لیۓ ایسی اسکیمز بنائی جائیں جہاں یہ کسی بھی احساس کمتری کے بجاۓ اپنی صلاحیتوں کو برؤکارلا سکیں۔ یہ نئی نسل پاکستان کا مستقبل ہے، یہ اصل پاکستان ہیں ۔ پاکستان کے تمام سیاستدان چاہے جس پارٹی سے ہوں انکو اب بے ضمیری کی چادر کو اتارنا چاہیۓ ، کیونکہ ملک قوم سے بنتا ہے، اور اگرقوم ہی نہ ہو تو صرف ملک صرف ایک زمین کا قطعہ ہے۔ لہزا پاکستان کو اپنائیے یہ آپکا اپنا ملک ہے اسی طرح جس طرح آپکا گھر آپکا ہوتا ہے اور آپکو عزیز ہوتا ہے۔ اس ملک کے بچوں کیلۓ ویسا ہی سوچیے جیسے آپ اپنے بچوں کیلۓ سوچتے ہیں ۔ اس ملک میں بسنے والے لوگوں کی ویسے ہی حفاظت کریں جیسے آپ اپنے گھر کے لوگوں کی کرتے ہیں۔ آپ قدم تو اٹھائیں بہتری کیطرف کوئی وجھ نا ہوگی کہ ہم آپکے ساتھ متحد نا ہوں۔ صرف ایک دفعھ پاکستان کو اپنا کر دیکھیں۔

ایس گل 

Posted in Uncategorized | Leave a comment

خاکی

کچھ دن پہلے مجھے سپہر کی تپتی گرمی اور چلچلاتی دھوپ مین شاہراہ فیصل سے گزرنے کا اتفاق ہوا،  ٹریفک کی روانی دفاتر میں آنے جانے والو کی موجودگی مین مجھے رینجرز اور پاک فوج کے جوان تھوڑے تھوڑے فاصلے سے سیکیورٹی کی انجام دہی کرتے نظر آئے جن کو تھوڑا بہت سایہ میسر تھا وہ سائے میں تھے مگر ایک کثیر تعداد بنا کسی سائے کے اپنے فرض کی ادائیگی کرتے نظر آئی جتنی گرمی اور دھوپ تھی اس میں تو چرندپرند بھی سر چھپاتے پھررہے تھے مگر یہ لوگ اپنے اپنے یونیفارم میں اسلحہ تھامے چوکس اپنی ڈیوٹی دے رہے تھے،  انکو دیکھ کر مجھے وہ تمام باتیں صلواتیں یاد آنے لگیں جو میرے جیسے کی بورڈ جہادی،  سوشل میڈیا پر الفاظ کے غازی،  اپنے اییرکنڈیشنڈ ڈرائنگ رومز میں ایک ہاتھ میں  ولایتی وہسکی کا گلاس تھامے ولایتی سگریٹ کے مرغولے فضا میں اڑاتے فلسفیانہ انداز میں ان یونیفارم والو کو اس کائنات کی تخلیق کا ذمےدار گردانتے ہوئے٫٫٫ ان سیکیورٹی والو کو دیتے ہیں یا دیتے رہے ہیں.  بات یہی پرختم نہیں ہوجاتی ہے بلکہ ہمارے عوام کے غم میں گھُلنے والے حرام خور سیاستدان اپنی سیاست چمکانے ٫حرام خوری اور بدکاری سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے  اپنے ہی ملک کے سرحدوں کے محافظوں کے خلاف نا صرف اپنی تقریروں میں نازیبا الفاظ میں ہرزاہ سرائی کرتے ہیں بلکہ عوام کوبھی ذہنی طور پر اُکساتے ہیں کہ ان محافظوں کوہر اُس پلیٹ فارم سے ذلیل کروجہاں تمہیں پہنچ میسر ہو۔ بلکہ جسمانی تربیت بھی حاصل کروکہ اگر تمہارے لیڈر کے خلاف اسکی غداری پرکوئی ایکشن ہو تو تم ان محافظوں کے خلاف ہی ہتھیار اٹھا لو۔ اسی پر بس نہیں ان سیاستدانوں کی ذہنی گندگی ، طاقت اور مال کی ہوس پرستی کا یہ عالم ہے کہ اپنے ہی سیاسی ایوان میں کھڑے ہوکر اپنے ہی محافظوں کے خلاف وہ زبان استعمال کی جارہی ہے جوکسی بھی مہذب معاشرے میں ناپسند کی جاتی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ہم جمہوری سیاستدان ہیں ہم عوام کی آواز بلند کرتے ہیں۔ ان سیاستدان کی گیدڑصفتی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ویسے جب مسلح افواج کو نقصان نہیں پہنچا سکتے کسی بہانے سے تو میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے اس افواج کے خلاف اتنی زیادہ دشنام طرازی کرتے ہیں کہ دشمن بھی مذاق اڑاتے ہیں کہ ہمیں کیا ضرورت اس فوج سے لڑنے کی جب اسکے دشمن ہی اسکے اپنے ہوں۔

ہم عوام صرف وہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو ہمیں ہمارے نام نہاد سیاسی لیڈر ،میڈیا یا ان سیاسی لیڈروں کے کہنے پر لکھی گئی تاریخی کُتب میں بتایا جاتا ہے۔۔ہمیں ان سب عناصر نے ذہنی طور پراتنا مفلوج کردیا ہے کہ ہم اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں جب بات مسلح افواج کی آئے تو۔ ہم تحقیق کے بجائے ہمارے ذہنوں میں دوسروں کے ٹھونسے گئے زہریلے افکارو ارشادات کو ہی کامل یقین سمجھتے ہیں ہاں مگر، اگر ہمارے پیارے نام نہاد سیاسی رہنما پرکوئی ابرو بھی اٹھائے توہم اسکی نسلوں کی نسلوں کو بھی کھود کرنکال لیں گے۔

اگر ہم مسلم تاریخ پرنظر ڈالیں توسب سے پہلے ہمارے پیارے نبی، آپ جناب حضرت محمد مصطفیٰ ص ، مسلم فوج کے سپہ سالار نظر آتے ہیں غزوات و سریہ آپ ص کی ذاتِ اقدس کے ہی زِیر لڑی گئیں ، آپ ص کے بعد عمرفاروق رض کی سپہ سالاری کی مثال بھی مسلم تاریخ میں رقم ہے ان مقدس ہستیوں کےبعد کئی ایسے مسلم حکمران آئے جو بایک وقت نا صرف حکمران تھے بلکہ فوج کے سپہ سالار بھی تھے اور انہوں نے دونوں شعبے بخوبی نبھائے اگرچہ کہ انکے ادوار میں بھی اس وقت کے سیاستدانوں نے ہرزاہ سرائیاں کیں مگر ایسے نہیں جیسے آج کے دورمیں ہمارے سیاستدان کررہے ہیں۔

ہماری نوجوان نسل جو پیدا ہی اسی نوے کی دہائی میں ہوئی ہے مگر مسلح افواج کے خلاف بولتے ہوئے ایسے لگتی ہے جیسے اٹھاون میں بننے والی فوجی حکومت کے تانے بانے بنتے ہوئے وہ وہیں کسی غیر مرئی شکل میں سب کچھ ہوتا دیکھ رہی تھی یا ستر کی دہائی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ اور بنگلہ دیش کی تخلیق میں بھی آسمان پر بیٹھ کرسب سُن اور دیکھ رہے تھے ، اگر ان سے کہوکہ تحقیق کرو پڑھو تو کہتے ہیں کہ جی ساری تاریخ فوج نے لکھی توغلط ہی ہوگی جب کہوکہ بھئِ جسے تم سچ سمجھتے ہوتواسکی لکھی سچائی کوتوپڑھ لو تو پھر بغلیں جھانکنا شروع کردیتے ہیں۔ قصور اس نسل کا بھی نہیں کیونکہ ان سے پہلے کی نسل ہی ہے جوچند کتابیں پڑھ کر خود کوپروگریسو ظاہر کرتے ہوئے افواج کے خلاف لفاظی کا وہ جال بُنتی ہے کہ آپ حقیقت و سچائی جانتے ہوئے بھی انکے آگے بحث نہیں کر پاتے ہیں۔ یہ الفاظ کے غازی ایسے ایسے دلائل و واقعات جمع کرکے لاتے ہیں کہ ان کی سچائی پر خود دلائل و واقعات اگر مادی وجود رکھتے ہوتے تو حیرانی و پریشانی کے سمندر میں غوطہ زن رہتے ، انہی دلائل و واقعات کے گھڑت پن پر ہماری نئی نسل جو کیوں کیا کیسے کے مقولے پر عمل کرتی ہے الجھ کر اصلیت کی کھوج سے دُور نکل جاتی ہے۔

آج جس طرح سے ہمارے سیاستدان ، این جی او طبقہ  اور خودساختہ مادرپدر آزاد پروگریسو طبقہ ، آزادیِ رائے کے نام پر نا صرف مذہب اور ملک کوبدنام کررہے ہیں بلکہ ایک ایسے ادارے کو بھی بدنام کرنے میں پیش پیش ہیں جو اس ملک کی سالمیت کے لئے خدائے بُزرگ وبرتر کی طرف سے حفاظت کا وسیلہ ہے ۔ ان سب نے ملکر ایجنسیوں نے کروایا ہے کا ہسٹیریہ اس قوم میں پیدا کردیا ہے ، اگر گلی کا کتا بھی مرجائے تو انکا واویلہ شروع ہوجاتا ہے کہ ایجنسیوں نے آزادیِ رائے کا حق سلب کرتے ہوئے ہمارا کتا ماردیا ہے۔ اگر آپ کسی غریب سے پوچھیں گے تووہ کبھی اسے مسلح افواج کے خلاف اول فول بولتے نہیں سنیں گے مگر یہ اشرافیہ کا طبقہ جنکا مقصد صرف طاقت کا میزان اپنے حق میں رکھنا، تجوریاں ڈالرز سے بھرنا ، یورپ امریکہ کے فری فنڈ ٹورز کرنا اور وہاں جائیدادیں خریدنا ہے آپ انکو اپنے آقاوّں کے حکم پر مذہب، ملکی اساس اور افواج پر ہمیشہ طعنہ زن دیکھیں گے آپ کبھی انکے منہ سے نعرہ خیر بلند ہوتے نہیں سنیں گے۔ آج یہ سب اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے نوجوان نسل کو افواج کے خلاف تعصب کا جوزہر پِلارہے ہیں وہ اس ملک کی بنیادوں کوکھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔

میرا افواج کے خلاف سب زہر اُگلنے والوسے سوال ہے کیا آپ کی ماں میں اتنی ہمت ہے کہ وہ آپ کو سرحد کی حفاظت کے لئے بھِجے اورپھر ایک دن آپ کے گولیوں سے چھلنی یا سربریدہ لاش کو وصول کرے اورکہے کہ میرے اگر دس بیٹے بھی ہوتے تواس ملک پرقربان کردیتی؟ سرحدوں کی حفاظت چھوڑئیے کیا اتنی آپ میں ہمت ہے کہ تپتی گرمی میں بنا کسی سائے کہ دوسروں کی حفاظت کے لئے اپنی جان کوداوّ پرلگاتے ہوئے پہرہ دیں؟ کیا آپ منفی پچاس ،ساٹھ پر جب سب اپنے اپنے گرم گھروں میں سکون سے سورہے ہوں ، سرحدوں پرکھڑے ہوکردشمن کے سامنے سینہ سپر ہوں؟ یہ مت کہیئے گاکہ انکو پیسہ کس بات کا ملتا ہے، کیونکہ ایسا ہی ہے تواس ملک میں بہت لوگ ہیں جو آپ کو پیسہ دیکر کہیں گے کہ میری جگہ موت کوتم گلے لگاوّ توکیا آپ ایسا کرسکیں گے؟ اور اگرپیسے کی بات ہے تووہ توپھر اپنے روزی اور اس ملک سے کیا گیا وعدہ حلال کررہے ہیں اپنے خون کی قربانی دیکر تو آپ کیا کررہے یہں؟ کیا اپنے ہی ملک کے ایک ایسے ادارے کوجوآپ کی حفاظت پر معمور ہے اسکو گالیاں دے کر آپ اس ملک سے کیا نمک حلالی کررہے ہیں یا نمک حرامی؟ فیصلہ آپ کا ہے

جاتے جاتے ۔۔مجھے “بوُٹ لِکر” کے خطاب پرفخر ہے کیونکہ دشمنوں کے گندے کپڑے چاٹنے سے بہتر ہے کہ میں اپنے ملک کے اپنے ادارے کے میرے اپنے محافظوں کے جوتے چاٹ لوں۔

ایس گل

Posted in Uncategorized | 2 Comments